Rate this Novel
Episode 36
وہ سر جھکائے ڈاکٹر کو اسٹیچز لگاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔
ڈاکٹر نے بینڈیج کر نے کے بعد گلوز اتارے اور میڈیسن لکھ کر پرچا میر سبطین کی جانب بڑھایا ۔
میر سائیں ! میڈیسن لکھ دی ہیں ، زخم کافی گہرا ہے ۔کچھ دن احتیاط کرنا ہوگی ۔ پراپر میڈیسن لیں گے تو جلد زخم بھر جائے گا ۔ڈاکٹر صاحب ہدایات دے رہے تھے ۔میر سجاول بیزاری سے اٹھ کر باہر نکلا اور گاڑی میں بیٹھ گیا ۔
کتنا سجمھایا تھا ، پھراوور ری ایکٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ تم بھی عجیب انسان ہو۔ میر سبطین اس کے برابر بیٹھتے ہوئے خفگی سے بولا ۔
طعنے تشنے کی حد تک تو ٹھیک ہے مگر وہ شادی کے دوسرے ہی دن طلاق کی باتیں کر رہی ہے ،میرا دماغ خراب نہیں ہوگا ۔ میر نےاکھڑ لہجے میں کہا ۔
وہ کہے گی ، ظاہر ہے اپنی فرسٹریشن کو کسی طرح تو نکالے گی ۔تمھیں زک پہنچانے کے لئے یہی سب کچھ کرے گی مگر تمھیں صبر و تحمل سے کام لینا ہوگا ۔ میر سبطین نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی ۔
مجھے سب کچھ گوارہ ہے لیکن یہ طلاق والی بات اگر اس نے دوبارہ کی میں اس کو شوٹ کردوں گا اور خود کو بھی ۔ وہ بگڑ کر بولا ۔
تمھیں سمجھانا جوئے شیر لانے کے برابر ہے ۔اب جلدی سے تیار ہوکر نیچے آجاؤ ۔ وہ لوگ حویلی پہنچ چکے تھے ۔
ہوں ۔۔۔۔۔۔۔میر نے ہنکارہ بھرا اور گاڑی سے اتر کر تیزی سے اندر چلا گیا ۔میر کو زرتاج کی فکر ستا رہی تھی جو اس کے جارہانہ روئیے پر خوفذ دہ ہوگئی تھی ۔
وہ روم میں پہنچا تو زرتاج صوفے پر سرجھکائے بیٹھی تھی ۔اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ میر دھیرے قدموں سے چل کر اس کے پاس آیا اور دو زانوں زمین پر بیٹھ گیا ۔
آئم سوری ! مجھے معاف کر دو ،قسم سے بہت شدید غصہ آگیا تھا ۔ وہ شرمسار ہورہا تھا ۔
زرتاج نے نم پلکیں اٹھا کر اس کی طرف دیکھاپھر چہرہ دوسری جانب موڑ لیا ۔زرتاج نے خود کو کچھ بھی غلط کہنے سے روکنے کی حتی الامکان کوشش کی ۔
پلیز ! جلدی سے موڈ ٹھیک کرو۔پرامس ،اب کبھی غصہ نہیں کروں گا۔
اس نے زرتاج کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کے رخساروں پر پھسلتے آنسؤوں کو لبوں سے چن لیا ۔ زرتاج نے خفگی سے اسے دیکھا۔
مائے پرنسز! آپ نے تو آنسؤوں کی بارش میں میک اوور کا ستیا ناس کر دیا ۔اس طرح روئی ہو جیسے میں مر گیا تھا ۔میر اس کے پھیلتے ہوئے شیڈز پر افسوس کرتے ہوئے بولا ۔ زرتاج نے دہل کر اس کی طرف دیکھا ۔
دلبر سائیں ! ایسے نا دیکھو ، کہیں پھر سے پیار نا ہوجائے ۔میر شرارت سے اس کے چہرے پر جھکا ۔زرتاج نے گھبرا کر پلکیں جھکا لیں ۔
میں اس الو کی پٹھی بیوٹیشن کو بلاتا ہوں ،میرے تیار ہونے تک وہ ٹچنگ کر دے گی ۔ اس نے عجلت میں کہہ کر کال ملائی ۔
زرتاج تاسف سے اس کے خون آلود کپڑوں کو دیکھ رہی تھی ۔
“””””””””””❤️”””””””””””
وہ دونوں فوٹو سیشن کے بعد جب پنڈال میں پہنچے تو ان پر اٹھنے والی ہر ایک نگاہ ستائشی تھی ۔ ان دونوں کی جوڑی کمال لگ رہی تھی ۔
ہر نگاہ میں حسرت اور رشک تھا ۔
میر سجاول نےزرتاج کے ساتھ چلتے ہوئےاس کی کمر کےگرد بازو حمائل کیا ہوا تھا ۔زرینہ اور دین محمد کے چہرے خوشی سے جگمگا رہے تھے جبکہ فائزہ بیگم کے لئے یہ منظر انتہائی ناگوار تھا ۔
وہ دونوں ایک ساتھ چلتے ہوئے اسٹیج تک پہنچ گئے ، میر سجاول نے زرتاج کا ہاتھ تھام کر اسٹیج کا اسٹیپ چڑھنے میں مدد دی ۔بلیک شلوار سوٹ پر فان کوٹ پہنے ،نفاست سے سیٹ کئے گئے سلکی بالوں میں اپنی جگر جگر کرتی آنکھوں سے میر سجاول اس کے خواب سجانے والی کئی خواہش مند دلوں کی دھڑکنوں کو متشر کرگیا تھا ۔
وسیع و عریض اسٹیج پر لوگوں کا ہجوم لگنے لگا مگر فوراً ہی فائزہ بیگم کی ہدایات پر وی آئی پی شخصیات کی بیگمات کے لئے اسٹیج پر سے سب کو ہٹا دیا گیا ۔ ایک کے بعد ایک سب نے دلہا دلہن کو مبارک باد دی اور تحائف دئیے ۔ سبھی کے جملوں میں دونوں کے لئے تعریفی کلمات تھے ۔
میر سجاول کی والہانہ نظریں گاہے بگاہے زرتاج کے چہرے کا طواف کر رہیں تھیں ۔
دلبر سائیں ! میرے معصوم دل پر سادگی میں اتنا ستم ڈھاتی تھیں ، یہ جلوے تو اس پر بجلیاں گرا رہے ہیں ۔میر نے زرتاج کے بے حد قریب سرگوشی کی ۔ زرتاج نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا ۔
کل رات تو میرا انتظار نہیں کیا تھا اور پہلی غلطی سمجھ کر میں نے معاف بھی کردیا تھا مگر دوبارہ معافی نہیں ملے گی ۔اس نے پھرشرارت سے گمبھیر سرگوشی کی ۔ زرتاج کی پلکیں لرزنے لگیں ۔
میر سائیں ! تمھارے ہاتھ کو کیا ہوا ، چوٹ کب لگی ۔ انٹری کے وقت ہی انہوں نے میرکا ہاتھ دیکھ لیا تھا ۔ اسٹیج پر پہنچ کر فکرمندی سے استفسار کیا ۔ رانیہ بھی ان کے پیچھے حیران پریشان کھڑی تھی ۔
آپ کی بہو نے منہ دکھائی کا تحفہ دیا ہے ، اس کابھی تو حق بنتا تھا ناں ۔میرمسکراہٹ دبا کر بولا ۔
حد ہوگئی ، ماں کو کتنا ستاؤگے ۔ اس کے پیچھے خود تو پاگل ہورہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔ساتھ ہمیں بھی کر رہے ہو ۔ فائزہ بیگم نے شعلہ بار نگاہوں سے زرتاج کو گھورا ۔
خیر ہے ، اماں ۔ معمولی زخم ہے ۔ صبح تک ٹھیک ہوجائے گا ۔آپ پریشان مت ہوں ۔ میں جینٹس کی طرف جارہا ہوں ۔ وہ لاپرواہی سے بولا ۔
رانیہ ! تم میری دلبر کا خیال رکھنا ۔اس نے رانیہ کو تنبیہہ کی ۔
اوکے بھائی ۔ رانیہ اس کی فکر مندی پر بے ساختہ ہنس پڑی ۔
ہونہہ ۔۔۔۔۔ میر کی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی دیوانگی پر فائزہ بیگم کی جان جل گئی ۔
مجھے واپسی میں دیر ہوجائے گی لیکن پورا یقین ہے ، تم آج میرا انتظار ضرورکروگی ۔میر سجاول نے براہ راست کہا ۔
میر سجاول کی التجا آمیز فرمائش پر زتاج کی ہتھیلیاں تر ہونے لگیں ۔
وہ دلکش مسکراہٹ اچھالتا اسٹیج سے اتر کر جینٹس سائیڈ پر چلا گیا ۔
“”””””””””””❤️””””””””””””
پنڈال کے سامنے کھڑی رخسانہ بیگم اور ثمینہ بیگم کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔ ماضی کے کئی خوشگوار اور تلخ منظر ایک ساتھ نظروں میں گھوم گئے ۔ صفدر شاہ انہیں انٹرینس پر چھوڑ لر خود جینٹس پورشن کی طرف بڑھ گئے تھے ۔
وہ دونوں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتیں پنڈال میں داخل ہوگئیں ۔ مہمانوں کی طرح چئیرسنبھالنے کی بجائے ان کا رخ اسٹیج کی جانب تھا۔
وہ جیسے ہی اسٹیج کے نزدیک پہنچیں،فائزہ بیگم کی نظران دونوں پر پڑی۔
اپنے مزاج کے خلاف فائزہ طویل عرصے بعد انہیں دیکھ کر والہانہ ان کی طرف لپکیں ۔
رخسانہ ! ثمینہ ! کیسی ہو،بیس سال بعد مل کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔
فائزہ بیگم خوشگوار حیرت سے ان کے گلے ملیں ۔
فائزہ ! تم ابھی بھی اتنی ہی خوبصورت ہو ، مجھے تو کہیں سے بھی نہیں لگ رہا ،ہم بیس سال بعد مل رہے ہیں ۔ ثمینہ بیگم کا انداز ستائشی تھا ۔
بس زرا سی موٹی ہوگئی ہوں ۔ فائزہ بیگم ہنس پڑیں ۔
اتنا تو چلتا ہے ، خیر سے بیٹا شادی شدہ ہوگیا ہے ۔ رخسانہ بیگم نے حصہ لیا ۔
آجائیں ، بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔ فائزہ انہیں اسپیشل گیسٹس کے لئے بطورِ خاص سیٹ کئے گئے حصے کی طرف بڑھیں ۔
زینب نہیں آئی ، اس کو بھی لے آتیں ۔ فائزہ بیگم نے صوفہ سنبھالتے ہی زینب کے بارے میں پوچھا ۔
وہ کہیں نہیں جاتی ، وجہ تو تم جانتی ہی ہو۔رخسانہ دھیمے لہجے میں بولیں۔
تم لوگوں نے دوبارہ اس کی شادی کی کوشش کیوں نہیں کی ۔
تمھیں کیا لگتا ہے ، ہم نے کوشش نہیں کی ہوگی ۔ معظم شاہ کے بابا نے بہت کوشش کی تھی ، کئی رشتے بھی آئے مگر وہ مانی ہی نہیں ۔رخسانہ بیگم نے افسردگی سے کہا ۔
وہ بے وقوف ہے ، نکاح ہی تو تھا ۔۔۔۔۔چاہتی تو دوبارہ گھر بسا کر نئی ذندگی کا آغاز کر لیتی خواہ مخواہ روگ لگا کر بیٹھی ہے ۔ فائزہ بیگم تاسف سے بولیں اور سامنے کھڑی رانی کو سر کے اشارے سے اپنے پاس بلایا ۔
رخسانہ ! یہ رانیہ ہے ، غضنفر بھائی کی بیٹی ۔ رانیہ نے دونوں کو سلام کر کے ہاتھ ملایا ۔
ماشااللہ ، بہت پیاری ہے ۔ادھر بیٹھو بیٹا ، میرے پاس ۔ رخسانہ نے پر شوق نظروں سے اس کا جائزہ لیا ۔ رانیہ ان کے برابر میں بیٹھ گئی ۔
بلکل اپنی ماں جیسی ہے ۔ اللہ اس کے نصیب اچھے کرے ۔ رخسانہ بیگم اسے تصور کی آنکھ سے مکتوم شاہ کے برابر کھڑا دیکھ رہیں تھیں ۔
رانیہ ! یہ شاپور سے آئی ہیں ، صفدر شاہ کی بیگم ہیں ۔ فائزہ بیگم نے اس کا تعارف کروایا ۔
مکتوم شاہ کی والدہ ۔ رانیہ نے چونک کے ان کی طرف دیکھا ۔
اسے گریس فل رخسانہ بہت اچھی لگیں ۔ رانیہ کو ان کے لمس میں ممتا کا بھرپور احساس ہوا ۔
میں نے سنا ہے ، تم نے معظم شاہ کی شادی سندس کی بیٹی سے کی ہے ۔ فائزہ بیگم کا انداز سرسری مگر تجسس سے بھرپور تھا ۔
ہاں ، وہ میرے لئے سندس کی بیٹی نہیں ، میری بہن کی بیٹی ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ معظم شاہ کی پسند بھی ۔رخسانہ بیگم بولیں۔
ویسے بڑی بات ہے ثمینہ ، تم نے بھی مثال قائم کردی دیور کی اولاد کو سگی اولاد کی طرح دل سے لگا کے رکھا ۔فائزہ بیگم مزید بولیں ۔
میں نے کبھی اسے دیور کی اولاد سمجھا ہی نہیں ، تیمور بھی میرے لئے میری اولاد جیسا ہی تھا تو اس کی بیٹی مجھے کیوں نا عزیز از جان ہوتی۔
ثمینہ بیگم دھیرے سے نم ہوتے لہجے میں بولیں ۔
فائزہ بیگم ہنکارہ بھر کر رہ گئیں ۔
“”””””””””””””❤️””””””””””””
مجھے میر سائیں جیسے پاگل جذباتی انسان کے ساتھ مس بی ہیو نہیں کرنا چاہئے تھا ۔ اس طرح تو وہ بار بار خود کو نقصان پہنچائیں گے اور میں سب کی نظروں میں قصور وار بن جاؤں گی ۔ اس نے فکر مندی سے سوچا ۔
مگر جب میں اپنےلئے کچھ بھی نہیں کر سکی تو میر سائیں کو بھی اپنی جیت کا جشن کیوں منانے دوں ، جب تک ممکن ہوگا ۔۔۔۔۔۔ایسے ہی ستاؤں گی ۔ بگڑے امیر زادے کی یہی سزا ہے کہ میرے وجود سے انہیں کوئی خوشی نا ملے ذندگی بھر میری وہی محبت پانے کے لئے تڑپتے رہیں۔
یااللہ ! کیسے گزرے گی ذندگی۔میرا رویہ ان کے ساتھ پہلے جیسا ہو نہیں سکتا اور بے رخی ان سے برداشت نہیں ہورہی۔ان کی تکلیف سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے،میں جاؤں توکہاں جاؤں۔ اس نے بے بسی سے سوچا ۔
وہ نیند سے بوجھل آنکھوں سے چت لیٹی چھت کو گھور رہی تھی ۔صبح کے پانچ بجے تھے ۔ میر اب تک نہیں لوٹا تھا مگر وہ لاشعوری طور پر اب تک اس کا انتظار کر رہی تھی ۔
آج کے دن میں رونما ہونے والے دونوں ناخوشگوار واقعوں کو سوچ سوچ کر اس کی جان ہلکان ہوگئی تھی تبھی میر سجاول آہستگی سے دروازہ کھول کر اندر آگیا ۔
چلو بیٹھ کر نا سہی ، لیٹ کر ہی سہی ۔۔۔۔۔۔بیگم صاحبہ نے ہمارا انتظار تو کیا ۔میر نے روم میں قدم رکھتے ہی بھرپور قہقہہ لگایا ۔
دلبر سائیں ! اب تک جاگ کر آپ نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے ۔ وہ دونوں ہاتھ دائیں بائیں تکیے پر جما کر جھکا ہوا تھا ۔ اس کی گرم سانسوں سے زرتاج کا چہرہ جھلسنے لگا ۔
میر کی سانسوں سے اٹھتی کڑوی ناگوار بو پر زرتاج نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ناک پر جمایا۔
زہریلی بو میر سجاول کے مخصوص پرفیوم کی دلفریب خوشبو پر حاوی ہورہی تھی ۔
جو دل کے قریب ہوں ، بے حد عزیز ہوں ،ان کی برائیاں بھی چاہنے والوں کی نظروں میں اچھائیاں بن جاتی ہیں ۔ میر نے اس کی ناگواری سے منہ پہ ہاتھ رکھنے پر چوٹ کی ۔
میر صاحب ! اب تو نا آپ عزیز ہیں نا آپکی برائیاں اس لئے مجھ سے امیدیں وابستہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔میں وہ پرانی زرتاج نہیں جو آپ کی برائیوں کو بھی خندہ پیشانی سے قبول کر لیتی تھی ۔ناپسندیدہ ہونے کے باوجود بھی آپ کے گندے شوق کو دل سے لگایا ہوا تھا ۔زرتاج تنک کر بولی۔
جب مجھے قبول کرلیا ہے تو میری برائیوں کو بھی قبول کرو ، منہ کیوں بنا رہی ہو ؟ میر اس کے برابر میں لیٹتے ہوئے بولا ۔وہ کہنی تکیے پر ٹکائے ہتھیلی پر سر رکھ کر زرتاج کے ناگوارتاثرات دلچسپی سے بغور دیکھ رہا تھا ۔
آپ کو قبول کرنا میری مجبوری تھی ، آپ کی برائیاں قبول کرنا میری مجبوریوں میں شامل نہیں ۔ اب آپ فوراً مجھ سے دور ہوجائیں ورنہ میں اس کمرے سے چلی جاؤں گی ۔ زرتاج نے دو ٹوک کہا ۔
اور میں تمھیں جانے دوں گا ۔ میر کا قہقہہ برجستہ تھا ۔
زرتاج چند لمحے کے توقف کے بعد ایک ہی جست میں پلٹ کر بیڈ سے اتر گئی ۔ میر سجاول حیران ہوتا ہوا بیڈ سے اترا مگر بری طرح لڑکھڑا گیا ۔اس پر مدہوشی طاری ہو رہی تھی اور زرتاج کا گریز اسے شدید جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر رہا تھا ۔وہ غصے کو کنٹرول کرتا ہوا آگے بڑھا ۔
زرتاج گھبرائی ہوئی کھڑی تھی مگر آج وہ میر کو موقع نہیں دینا چاہتی تھی اس لئے میرکواپنی جانب بڑھتا دیکھ کرڈریسنگ روم کی طرف دوڑلگائی ۔
میر نے اس کا ارادہ بھانپ لیا ، وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا پھرتی سے اس تک پہنچا اور جھٹکے سے اس کی کلائی پکڑ کر اپنی طرف موڑ لیا ۔
جب میرا کوئی شرعی حق نہیں تھا ، تب بھی مجھے کوئی روک نہیں سکا تھا۔اب تو تم میری جائز اور قانونی بیوی ہو ، مر کے بھی تمھیں دور رہنے کی اجازت نہیں دوں گا ۔اسپیشلی اپنے ولیمے کی رات ۔۔۔۔۔امپاسبل میری دلبر ۔اس نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے زرتاج کی دونوں کلائیاں موڑ کر پشت سے لگائیں پھراس کے ہونٹوں پر استحقاق سے بھرپور مہر ثبت کی ۔
میر سجاول اسے بازؤں میں بھر کر بیڈ تک لایا ۔وہ دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ زرتاج کے بگڑتے تاثرات دیکھ رہا تھا ۔میر نے اسے احتیاط سے بیڈ پر لٹا دیا ۔
نکاح سے لے کر چوبیس گھنٹوں کے درمیان تم نے میرے صبر کا اس قدر امتحان لیا ہے ، تمھاری جگہ کوئی اور ہوتی تو اب تک اسے موت کے گھاٹ اتار چکا ہوتا ۔ وہ بے بسی سے غرایا۔
موت کے گھاٹ اتارنے کی ہمت نہیں ہے تو اپنی ذندگی سے نکال کر باہر پھینک دیں ۔ وہ ترکی بہ ترکی بولی ۔وہ اٹک لڑائی لے رہی تھی کہ کسی طرح میر سجاول کو باز رکھے ۔
ایسی کی تیسی باہر پھینکتا ہوں ۔ اس نے مخمور لہجے میں کہتے ہوئے زرتاج کو اپنی مضبوط گرفت میں لیا ۔
“””””””””❤️”””””””””
خیریت ،اتنی صبح کیسے آنا ہوا ۔ کیا رات کوئی مسئلہ ہوا تھا ؟ میر جعفر ڈرائینگ روم میں قدم رکھتے ہوئے بولے ۔
ملازم نے صفدر شاہ کی آمد کے متعلق پیغام دیا تو وہ جو صبح کا اخبار تھامے چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے ، بوکھلا کر ڈرائینگ روم تک پہنچے ۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے ، میر غضنفر سے ضروری بات کر نی تھی ۔۔۔۔۔ سوچا ان کی شہر روانگی سے پہلے ملاقات کر لی جائے ۔رات میر سبطین نے ذکر کیا تھا کہ وہ لوگ آج ہی شہر واپس چلے جائیں گے ۔
جی ، وہ بزنس کے سلسلے میں جارہے ہیں ۔ ہم نے تو بہت کہا کچھ دن مزید رک جائیں مگر رانیہ بیٹی کی پڑھائی کا بھی حرج ہورہا ہے ۔میر جعفر نے ملازم کو اشارے سے میر غضنفر کو بلوانے کے لئے بھیجا ۔
بس یہی سوچ کر میں صبح ہوتے ہی چلا آیا کہ جو بات میں کرنے آیا ہوں ، حویلی میں ہی سب کی موجودگی میں کی جائے تو ذیادہ بہتر ہے ۔صفدر شاہ پرسوچ نظریں سینٹرل ٹیبل پر مرکوز کرتے ہوئے بولے ۔
میر جعفر ان کے سنجیدہ چہرے کو کھوج رہے تھے کہ آخر ایسی بھی کیا بات ہے جو صفدر شاہ بغیر اطلاع کئے صبح سویرے ہی چلے آئے ۔
چند لمحے گزرنے کے بعد میر سبطین اور میر غضنفر ڈرائینگ روم میں داخل ہوئے ۔
صفدر شاہ نے فوراً اپنی جگہ سے اٹھ کر ان سے مصافحہ کیا ۔ میر سبطین لمحےمیں ان کی آمد کےمقصد سے با خبرہوگیا تھا۔اس کےچہرے پر جاندار مسکراہٹ ابھری ۔
صفدر ! کہو کیسے آنا ہوا ، سب خیریت ہے ناں ۔۔۔۔؟ میر غضنفر نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے استفسار کیا ۔
میر غضنفر ! آج میں تم سے کچھ مانگنے آیا ہوں ۔مجھے پوری امید ہے تم انکار نہیں کروگے مگر پھر بھی فیصلے کا پورا اختیار تمھارے پاس ہے ۔
صفدر شاہ نے تہمید باندھی ۔
تم بولو ، میں سن رہا ہوں ۔جو بھی تم مانگو گے اگر میرے بس میں ہوا تو ضرور دوں گا ۔میر غضنفر صاف گوئی سے بولے ۔
میں اپنے بیٹے مکتوم شاہ کے لئے رانیہ بیٹی کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں ۔یہ میری ہی نہیں رخسانہ کی بھی خواہش ہے ۔
دراصل کل رخسانہ نے رانیہ بیٹی کو دیکھا تو وہ انہیں بہت پسند آئی ۔ وہ کہہ رہیں تھیں بہت پیاری بچی ہے ۔ میں جلد از جلد آپ لوگوں سے بات کروں ۔صفدر شاہ نے مدعا بیان کیا ۔
میر غضنفر اور میر جعفر ان کی غیر متوقع بات پر ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے جبکہ میر سبطین مطمئین تھا ۔
وہ دراصل بات یہ ہے کہ ابھی ہم نے رانیہ کی شادی کے بارے میں سوچا نہیں ہے اور اس کی تعلیم کا سلسلہ بھی ابھی جاری ہے ۔
ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے ۔ آپ لوگ سوچ سمجھ لیں ۔آپس میں مشورہ کرلیں پھر جواب دیں ۔
پڑھائی کا تو یہ ہے کہ وہ شادی کے بعد بھی جاری رکھی جائے تو ہمیں
کوئی اعتراض نہیں ہے اور یقیناً مکتوم شاہ کو بھی نہیں ہوگا ۔وہ مختلف سوچ کا انسان ہے ۔ صفدر شاہ بولے۔
ٹھیک ہے ، ہم سوچ لیں ۔ رانیہ کی رضامندی بھی ضروری ہےمشاورت کے بعد ہی پھر تمھیں کوئی جواب دے سکیں گے ۔ میر غضنفر کو رانیہ کے لئے مکتوم شاہ کا رشتہ ہر لحاظ سے موزوں لگا ۔
ٹیک یور ٹائم ۔ کوئی جلدی نہیں ہے ۔صفدر شاہ خوشگواری سے بولے۔
اب میں چلتا ہوں ، مجھے اسلام آباد کے لئے نکلنا ہے ۔ انشاءاللہ بہت جلد دوبارہ ملاقات ہوگی ۔صفدر شاہ چائے کا کپ رکھ کر عجلت میں بولے ۔
یار ! ناشتہ تو کر کے جاؤ ۔ سب کچھ تیار ہے ، دو منٹ میں لگواتا ہوں ۔ میر غضنفر نے ملازم کو اشارہ کیا ۔
ابھی وقت کم ہے اگلی بار سہی ۔صفدر شاہ نے سہولت سے انکار کیا۔
میر جعفر اور میر سبطین انہیں گاڑی تک چھوڑنے گئے تھے ۔
ڈیڈی ! کیا سوچ رہے ہیں ؟ میر سبطین واپس لوٹا تو میر غضنفر کو ڈائینگ روم میں سوچ میں ڈوبا ہوا پایا ۔
یہی کہ رانیہ کے لئے مکتوم شاہ کا رشتہ بلکل مناسب ہے مگر دل ڈر رہا ہے ۔میر غضنفر پرسوچ لہجے میں بولے ۔
ڈر کس بات کا ہے ، اب سب کچھ سورٹ آؤٹ ہوچکا ہے ۔ میں مکتوم شاہ کو پرسنلی جانتا ہوں ۔وہ بہت اچھا انسان ہے ۔رانیہ اس کے ساتھ خوش رہے گی ۔ میر سبطین نے چئیر سنبھالی ۔
میر سبطین ! ان کا ڈر سہی ہے ۔ یہ ان لوگوں کی کوئی چال ہے ۔ معظم شاہ کتنا ٹیڑھا انسان ہے ، میں اس کی نس نس سے واقف ہوں ۔سب جانتا ہوں ۔وہ اتنی جلدی سدھرنے والا نہیں ۔ اپنی شکست کا بدلا وہ ضرور لے گا ۔
اس بار اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے وہ یہ پینترا کھیل رہا ہے ۔ہماری کمزوری ہاتھ کرنا چاہتا ہے مگر میں اسے اس کوشش میں کامیاب نہیں ہونے دوں گا ۔میر سجاول مشتعل ہو کر بلند آواز میں بولا ۔
وہ بھی ناشتے کے لئے زرتاج کا ہاتھ تھامے ڈائیننگ روم میں پہنچا تھا ۔اس نے دروازے پر رک کر ان کی باتیں سن لیں تھیں ۔
جاری ہے
