59.5K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

دروازہ کھلنے پر تیز روشنی سے اس کی آنکھیں چندھیا گئیں تھیں ،اس نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں پھر یکدم پورا کمرہ روشنی سے نہا گیا ۔
کچھ دیر بعد اس نے بمشکل اپنی آنکھیں کھولیں تو شاہ اپنے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ سجائے صوفے پر براجمان تھا ۔
حماد بندھے ہاتھ پیروں سمیت زمین پر پڑا ہوا تھا ۔شاہ کو دیکھ کر حماد کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہونے لگے ۔رات بھر اس کے بندوں نے حماد کو اذیت کے ایسے مراحلوں سے گزارا تھا کہ اب اس کے جسم میں جان نا ہونے کے برابر تھی ۔شاہ صوفے سے اٹھا اور چل کر اس نذدیک آیا پھر پنجوں کے بل اس کے پاس بیٹھ کر حماد کے بال
مٹھی میں جکڑ لئے ۔
دیکھو! تم نے مجھے میرے گناہ سے بڑھ کر مجھے سزا دے دی ہے ،اب میری جان بخش دو ۔ میں نے عروش کے ساتھ عزت و احترام سے رشتہ جوڑنا چا ہا تھا ۔عروش کے نام پر شاہ نے ایک زناٹے دار تھپڑ اس کے زخمی چہرے پر مارا۔حماد اس کے ہاتھ میں گن دیکھ کر طوطے کی طرح بولنا شروع ہو گیا تھا ۔
جب ان لوگوں نے انکار کر دیا اور میں نے عروش کو اس کے باس کے ساتھ گھومتے پھرتے دیکھا توجلن اور غصے میں یہ قدم اٹھایا مگر تم جو کوئی بھی ہو اب مجھے معاف کردو ،میں جاب اور یہ شہر ہی چھوڑ کر چلا جاؤں گا ۔وہ باقاعدہ روتے ہوئے گڑگڑا رہا تھا ۔
میری ہونے والی بیوی ہے میری عزت ہے وہ ،جس کو تو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے جارہا تھا ۔تجھے معاف کر دیا تو میں خود کو کیسے معاف کر سکوں گا ۔ تو نے میری عزت پر ہاتھ ڈال کر میری مردانگی کو للکارا ہے۔سبطین کے ذکر پر شاہ کا پارہ مزید ہائی ہوگیا تھا۔
اب تجھے یہ شہر چھوڑ کر نہیں یہ دنیا چھوڑ کر جانا ہوگا کیونکہ شاہ تو غیروں کی لڑکیوں کی عزت کو بھی اپنی عزت مانتا ہے یہاں تو سوال میری بیوی کی عزت ہے ۔وہ سرد اورخوفناک لہجے میں غرایا۔
شاہ نے حماد کے جسم سے بے حد نذدیک فائر کئے تھے ۔حمادکی آنکھیں کھلیں رہ گئیں تھیں مگر اس کے خون کے چھینٹوں سے شاہ کے بے داغ کپڑے رنگ چکے تھے ۔
~~~~~

حال

لرزتے ہاتھوں سے اس نے نکاح کے کاغذات پر سائین کئے تھے۔نکاح کے کاغذات پر سائین کر تے ہوئے سارے خواب آنکھوں سے ٹوٹ کر اس کے دامن میں جذب ہورہے تھے ۔نکاح کے دو بول نے اسے عروش غزینی سے عروش معظم شاہ بنا دیا تھا اور میر سبطین اس کی ذندگی سے ہمیشہ کے لئے دور ہو گیا تھا۔مگر دل آج بھی اسی کے نام کی صدا لگا رہا تھا۔مہمانوں کے شور میں اس کے دل کی آواز دب کر رہ گئی تھی ۔
وہ بت بنی اسٹیج پر بیٹھی ہوئی تھی ۔بیش قیمت عروسی جوڑے میں ملبوس زیورات سے لدی پھندی وہ کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔اسے تیار کرنے کے لئے شاہ نے شہر کی سب سے ماہر بیوٹیشن کو بلوایا تھا ۔اس کے ہاتھ کی مہارت سے ذیادہ عروش کا قدرتی حسن دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ کررہا تھا۔
شاہ اس سب کے باوجود بھی عروش سے مکمل لا تعلقی اختیار کئے ہوئے تھا۔آج ان دونوں کا ولیمہ تھا مگراس دن شاہ کے گھر پہنچنے کے بعد سے اب تک معظم شاہ ایک بار بھی سامنے نہیں آیا تھا ۔نکاح کی رات جب رخسانہ اسے شاہ کے کمرے میں اس کے بیڈ پر بٹھا گئیں تھیں ،وہیں بیٹھے بیٹھے وہ کب سو گئی اسے پتا بھی نہیں چلا ۔
صبح جب اس کی آنکھ کھلی وہ تب بھی کمرے میں موجود نہیں تھا ۔ہاں مگر واش روم کا دروازہ کھولتے ہی اسے یہ معلوم ہوگیا تھا کہ وہ رات کمرے میں آیا ضرور تھا ۔اپنی اس قدر بے قدری پر اس کے دل کو کچھ ہوا ضرور مگر وہ مطمئین بھی تھی کہ شاہ کا سامنا فی الحال کرنے کی ہمت اس میں نہیں تھی ۔
ماشااللہ ! بہت پیاری لگ رہی ہو ،اللہ تمھیں ذندگی کی تمام خوشیاں دیکھنا نصیب کرے، میرے معظم کی ذندگی میں تم ایک مثبت تبدیلی ثابت ہو ۔رخسانہ نے نم آنکھوں سے دعا دیتے ہوئے عروش کو خود سے لگا لیا۔
شاہ جینٹس میں مصروف ہے ،تمھارے خالو نے مہمان بھی تو اتنے ذیادہ اکھٹے کئے ہیں حالانکہ ابھی شہر میں ہونے والا ولیمہ باقی ہے مگر ان کا اور شاہ کا حلقہ احباب بہت وسیع ہے ،اب دیکھو ! صبح سے ایک بار بھی اسے حویلی کے اندر آنے کی فرصت نہیں ملی ہے ۔
رخسانہ بیگم کو شاہ کی مسلسل غیر موجودگی اور سرد مہری کا احساس ہو چکا تھا اس لئے عروش کے سامنے جھینپ مٹانے کی کوشش کر رہی تھیں ۔عروش خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی تھی ۔
عروش ! معظم شاہ بہت مشکل اور کٹھور انسان ہے ،تمھیں ہمت سے کام لینا ہوگا ۔کبھی اپنا دل چھوٹا مت کرنا اور نا ہمت ٹوٹنے دینا ۔مسلسل چوٹ سے پتھر بھی ٹوٹ جاتا ہے وہ تو پھر بھی انسان ہے۔
رخسانہ جانتی تھیں وہ جو کچھ بھی کہہ رہیں غلط ہے کیونکہ خود وہ بھی پچھلے پچیس سالوں سے صفدر شاہ جیسے سرد مہر انسان کے بدلنے کا انتظار کر رہیں تھیں مگر اب تک انہیں صرف مایوسی ہی ہوئی تھی وہ ان کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی ان کے نہیں تھے لیکن پھر بھی وہ عروش کو حوصلہ دے رہی تھیں ،اس کی اداسی ان سے برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔
ولیمے کی تقریب اختتام پزیر ہو چکی تھی ،ثمینہ اسے شاہ کے کمرے میں پہنچا کر خود بھی آرام کرنے کی نیت سے اپنے میں چلی گئیں ۔
عروش بیڈ کے کنارے پر ٹکی اپنی چوڑیاں اتار رہی تھی ،جب ہلکی سی کلک کی آواز ہوئی اور شاہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا ۔
چوڑیاں اتارتے عروش کے ہاتھ اور اس کی سانسیں یکدم تھم گئیں ۔
وہ بھاری قدم اٹھاتا ہوا اس کی طرف ہی آرہا تھا مگر اس کے سامنے سے گزر کر وہ صوفے پر بیٹھ گیا ۔وہ بڑی خاموش نظروں سے عروش کی طرف دیکھ رہا تھا ۔مگر دلہناپے کے روپ میں عروش کا ہوش ربا حسن بھی اس کے احساسات پر جمی برف پگھلانے میں ناکام ہوگیا ۔ وہ دھیرے سے کھنکھارتے ہوئے بے تاثر آواز میں بولا۔
تم میری ذندگی میں میری مرضی سے شامل ہوئی ہوتیں تو اب تک میرے گھر کے ساتھ میرے دل ،میری روح پر بھی تمھاری حکمرانی ہوتی مگر اب تم میری مرضی نہیں صرف میری ضد بن کر میری ذندگی میں آئی ہو اور معظم شاہ اپنی ضد ہر قیمت پر پوری کر کے رہتاہے چاہے اس کے لئے مجھے کسی کی بھی جان ہی کیوں نا لینی پڑے۔
وہ نہایت سفاکی سے کہہ رہا تھا ۔
عروش پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔شاہ کے چہرے پر خطرناک حد تک سنجیدگی اور آنکھوں سے چھلکتی نفرت نے اسے فوراً نگاہیں جھکانے پر مجبور کردیا تھا۔
عروش!میرے دل سے تم اسی دن اتر گئیں تھیں ،جس دن تم نے میرےمنع کرنے کے باوجود گھر سے باہر قدم نکالا تھا ۔یہ جرأت تمھیں کس کی شہہ نے دی تھی ،یہ بھی میں جانتا ہوں ۔جتنی شدت سے میں نے تمھیں چاہا تھا اب اتنی ہی شدت کے ساتھ تم سے نفرت کرتا ہوں۔
ایک اغوا شدہ لڑکی کے لئے میری ضد کے بدولت میرے کمرے میں تو جگہ ہو سکتی ہے مگر میرے دل میں کبھی نہیں ہوگی ۔اس لئے کبھی اپنی اوقات بھولنے کی کوشش مت کرنا۔شاہ نے بے رحمی کی انتہا کر دی تھی ۔
اس کمرے میں ہمارے بیچ جو بھی تعلقات رہیں اس کی زرا سی بھی بھنک اس کمرے سے نکل کر گھر میں رہنے والے کسی بھی فرد تک پہنچی یا تم نے اپنے دکھ میری ماں یا اپنی ماں سے رونے کی کوشش کی تو میں ذندگی تم پر اتنی تنگ کردوں گا کہ تم موت کی بھیک مانگو گی اور میں تمھیں وہ بھی نہیں دوں گا ۔وہ لفظوں سے عروش کو چھلنی کرنے کے بعد وہاں رکا نہیں تھا فوراً ہی اٹھ کر مضبوط قدموں اٹھاتا کمرے سے باہر نکل گیا تھا ۔ان قدموں کے نیچے اس نے اپنے دل اور دل کے سارے ارمانوں کو بھی کچل ڈالا تھا ۔
ریلنگ پر دونوں ہاتھ جمائے نیچے دیکھتے ہوئے اس نے فضا میں ایک گہرا سانس خارج کیا۔ دل میں جلنے والی آگ کسی طور نہیں بجھ رہی تھی ۔ عروش کی ایک غلطی نے شاہ کے سارے ارمان مٹی میں ملا دئیے تھے ۔اس دن کی تمنا اس کے دل نے بڑی شدت سے کی تھی ۔
بڑی چاہت سے وہ عروش کو بیاہ کر لانا چاہتا تھا مگر اب جی بھر کر اسے دلہن بنا دیکھنے کی خواہش بھی دل کے کسی کونے میں جا سوئی تھی ۔
~~~
میر سجاول ذندہ سلامت ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ سجائے اس کے سامنے بانہیں پھیلائے کھڑا تھا ۔زرتاج پر تو شادئ مرگ کی کیفیت طاری ہوگئی ۔وہ بے ساختہ اس کے چوڑے مگر زخمی سینے سے لپٹ گئی ،پہلی بار اس نے یہ جسارت خود سے کی تھی ۔
درد کی ایک شدید لہر میر سجاول کے سینے سے اٹھی تھی مگر اس نے لاپرواہی سے زرتاج کے گرد اپنے مضبوط بازؤں کا گھیرا تنگ کر لیا ۔
میر سائیں ! مجھے لگا تھا اب میں آپ کو کبھی نہیں دیکھ سکوں گی ۔
آپ مجھ سے ہمیشہ کے لئے دور چلے گئے ہیں ،ایک پل بھی سکون نہیں مل رہا تھا ۔میں نے آپ کو بہت یاد کیا ہے ۔وہ میر کے گلے سے لگے ہچکیوں سے روتے ہوئےبولے چلی جا رہی تھی اور میر خاموشی و حیرانی سے اسےسن رہا تھا ۔آج سے پہلے کبھی زرتاج نے اس طرح اپنی احساسات کا اظہارنہیں کیا تھا ۔
میں نے آپ کے ذندہ سلامت لوٹ آنے کی جتنی دعائیں مانگی تھیں ، اللہ سائیں نے سب پوری کردیں ،اگر میری دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو میں بھی ہر گز ذندہ نہیں رہتی ۔ اس نے سر اٹھا کر جھرجھر بہتی آنکھوں سےمیرکو دیکھا ۔
صدقے ! مجھے اتنا سا بھی اندازہ ہوتا کہ میری یہ زرا سی تکلیف تمھیں مجھ سے اتنا نذدیک اور یوں اظہار کرنے پر مجبور کر دے گی ۔۔۔تو تمھاری قسم !میں خود ہی اپنے لئے اس حملے کا بندوبست کر لیتا۔یہ آئیڈیا مجھے پہلے کیوں نہیں سوجھا ۔
میر سجاول نے ناخن سے شیو اسکریچ کی جو اتنے عرصے کی لاپرواہی سے خاصی بڑھ چکی تھی اور پرسوچ انداز میں اس کے یوں خود سے لپٹ جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شرارت سے کہا ۔ زرتاج نے فوراً سنبھل کر دور ہونا چاہا مگر میر نے گھیرا اور تنگ کر دیا مگر اب زرتاج کے انداز سے خفگی چھلک رہی تھی ۔
اچھا یار ! سوری۔۔۔سوری ۔۔۔سوری۔۔۔کان پکڑ کر ۔۔۔لیکن میرے نہیں تمھارے ۔
میر نے شرارت سے اس کے کان پکڑ لئے ۔ زرتاج بے ساختہ مسکرادی ۔
میر نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر اس کی پیشانی پر پیار کیا ۔
زری! میں نے بھی تمھیں بہت مس کیا ۔ہوش میں آنے کے بعد سب سے پہلے تمھارا ہی سوہنا مکھڑا یاد آیا تھا ۔ہاسپٹل شہر میں تھا اور اماں ہر وقت وہاں موجود تھیں ورنہ اڑ کر یہاں پہنچ جاتا ۔ابھی بھی اتنی دیر تمھاری وجہ سے ہوئی ہے کیونکہ تمھارا دیدار بھی اماوس کے چاند کی طرح آدھی رات کے بعد ہی نصیب ہوتا ہے ۔وہ یوں وضاحتیں دے رہا تھا جیسے کسی گناہ کا اعتراف کر رہا ہو یا وہ کسی ضروری کام کی وجہ سے زرتاج سے ملاقات نہیں کر سکا۔
تم جانتی ہو بھلا! اتنے دن میں تم سے دور رہ سکتا ہو ۔وہ جذبوں سے بھر پور نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔زرتاج بھی بے خودی کے عالم میں اسے دیکھے گئی ۔اس کو دیکھتے ہوئے بار باراس کی آنکھیں بھرآرہی تھیں ۔
زری ! تم نے اپنی یہ کیا حالت بنا لی ہے ،میں مر تو نہیں گیا تھا ۔ میرے ذندہ بچ جانے کی خبر تو تمھیں گاؤں والوں سے مل گئی ہوگی پھر خود کو کیوں اجاڑ بنایا ہوا ہے ۔میر نے اس کے شکن ذدہ لباس اور آنکھوں کے گرد پڑتے سیاہ ہلکوں کی طرف اشارہ کیا پھر اس کی آنکھوں کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے چھوتے ہوئے بولا ۔
تمھاری آنکھوں سے مجھے کتنا پیار ہے اور میرے پیچھے تم نے انکا کیا حشر کر لیا ہے ۔دل تو کرتا ہے تمھارا گلا دبا کے مار دوں تمھیں۔اسنے زرتاج پر آنکھیں نکالیں بہت جلد ہی وہ اپنے ڈیول والے اسٹائل میں لوٹ آیا تھا مگر اس بار بجائے ڈرنے کے زرتاج کھلکھلا کر مدھم ساہنس پڑی ۔
آپ واپس آگئے ہیں ،اب ان آنکھوں کی رونق بھی لوٹ آئے گی ۔ان میں چمک اور روشنی آپ کے ہونے سے ہے۔زرتاج دھیمی آواز میں اس کے چہرے پر نظریں جمائے بولی ۔
اس نے ایک پل کے لئے بھی میر کے چہرے سے نظر نہیں ہٹائی تھی یوں جیسے وہ پلکیں جھپکے گی اور وہ غائب ہوجائے گا ۔ وہ اندر سے اب تک خوف ذدہ تھی ۔
میر سجاول اس کے انداز پر اب حیران ہونے سے ذیادہ نثار ہوا جا رہا تھا۔
اس نے جھٹ زرتاج کو دونوں بازؤں سے پکڑ کر فٹا فٹ اس کے دونوں گالوں پر باری باری پیار کیا ۔
مائی سوئیٹ پرنسز ! میں نے تو سوچا تھا میں یہاں اچانک پہنچ کر سرپرائز دوں گا مگر تم تو مجھے سرپرائزز پر سرپرائزز دئیے جا رہی ہو ۔وہ خوشی سے سرشار آواز میں بولا ۔زرتاج نے جلدی سے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ
دیا خوشی میں میر کی آواز قدرے بلند ہو گئی تھی ۔ماں باپ کے بیدار ہوجانے کے ڈر سے اس نے صحن میں کھلنے والی کھڑکی میں سے جھانک کر جائزہ لیا ۔
ڈونٹ وری سوئیٹی !بے خبر سورہے ہیں وہ دونوں ،تم یہ بتاؤ ،ہاسپٹل میں مجھ سے ملنے کیوں نہیں آئی ۔۔۔؟تمھارا دل نہیں تڑپا مجھے دیکھنے
کے لئے ؟ میر نے پشت سے اس کے گرد حصار باندھتے ہوئے سوال کیا۔
دل تو بہت تڑپا تھا مگر میں شہر اکیلی کیسے جاتی ،شہر میں مجھے بہت ڈر لگتا ہے اور مجھے ہاسپٹل کا نام بھی نہیں پتا تھا ۔اس نے معصومیت سے جواب دیا۔
اچھا ! “معصوم شاہ” کے مزار پر اکیلی جا سکتی تھی ،مجھ سے ملنے کے لئے شہر جاتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا ۔میر سجاول نے مسکراتے ہوئے اس کے گال پر چٹکی بھری۔زرتاج نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
آپ کو کیسے پتا ، آپ تو ہاسپٹل میں تھے ۔۔۔؟بے وقوف سے زرتاج ہونق بنی پوچھ رہی تھی ۔
دلبر سائیں! ہم تو دشمنوں کی بھی خبر رکھتے ہیں ،آپ تو پھر بھی یہاں رہتی ہیں ۔میر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل پر رکھا ۔
زرتاج کے معصوم سے چہرے پر حیا کی سرخی دوڑ گئی پھر وہ زرا توقف سے بولی۔
میر سائیں ! اللہ سائیں نے میری مراد پوری کردی ہے، میں نے “معصوم شاہ “ کے مزار پر منت مانی تھی ،شادی کے بعد آپ میرے ساتھ وہاں چلیں گے ناں ؟زرتاج نے معصومیت سے استفسار کیا۔
ہاں ! کیوں نہیں ،میں تو ابھی اسی وقت چلنے کے لئے تیار ہوں بشرطیکہ تم اپنے اندر تھوڑی سی ہمت پیدا کرلو ۔وہ مسکراہٹ دبائے سنجیدگی سے بولا ۔
میں نے ابھی کے لئے نہیں بولا ،شادی کے بعد کے لئے بولا ہے ۔
اسے میر کا اس بات کو بھی مذاق میں اڑانا اچھا نہیں لگا۔منہ پھلائے گویا ہوئی ۔
اچھا ! مجھے لگا یہ حکم ابھی کے لئے ہے،آپریشن کے بعد میں زرا اونچا سننے لگا ہوں ۔ اس نے جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالتے ہوئے
سنجیدگی سے کہا ۔ اس وقت زرتاج کو تنگ کرنے میں اسے بہت مزہ آرہا تھا۔وہ بڑی دلچسپی سے اپنے جھوٹ پر زرتاج کے چہرے پر ابھرتے تاثرات دیکھ رہا تھا ۔
سائیں ! سویرے اماں کو سگریٹ کی بو محسوس ہوجائے گی پلیز ! آج
مت پئیں ۔زرتاج نے کچھ جھجکتے ہوئے التجا کی مبادا وہ اس گستاخی
پر بھڑک اٹھے مگر میر سجاول نے بڑی شرافت سے پیکٹ دوبارہ جیب
میں ڈال لیا اور اس کے سراپے پر ایک بھرپور نظر ڈالی ۔
یہاں آکر بیٹھو ،وہاں دور سے کھڑی رہ کر کیا حکم چلا رہی ہو۔اس
نےڈپٹ کر حکمیہ زرتاج کو اپنے پاس بلایا۔اس کے اندر کاعاشق یکدم
ہی انگڑائی لے کر جاگا تھا،اس لئے زرتاج کا دور کھڑے رہنا سخت
ناگوار گزرا ۔
وہ شاہانہ انداز میں پلنگ پر نیم دراز ہاتھ کا تکیہ بناکردیوار سے ٹیک لگائے ہوئے تھا۔ ٹانگیں پلنگ سے نیچے لٹکائے اور ایک ٹانگ دوسری پر رکھے
پاؤں جھلا رہا تھا ۔
اس بلاوے پر زرتاج کی جان پر بن گئی مگر حکم عدولی تو وہ کر نہیں
کرسکتی تھی خاص طور پر آج جب وہ اتنی منت مرادوں کے بعد
لوٹ کر آیا تھا ، اس لئے سر جھکائے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی
پلنگ تک پہنچ کر رک گئی ۔
میر سجاول نے ہاتھ بڑھا کر ایک جھٹکے سے اسے اپنے برابر گرا لیا۔
زرتاج نے میر کے سینے پر ہاتھ رکھ کر خود کو مکمل اس پر گرنے سے
بچایا تھا۔میر نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
یہ دوا اگر ہاسپٹل میں ہی دستیاب ہوجاتی تو یقیناً میرے زخم بہت
جلدی بھر چکے ہوتے ۔ وہ اس کا ہاتھ زور سے دباتے ہوئے بولا۔
زرتاج کی پلکیں جھکی ہوئی تھیں۔
میر نے اس کی جھولتی ہوئی لٹ انگشتِ شہادت پر لپیٹ کر دھیرےسے کھینچی پھر زرا سی کروٹ لےکر اسےاپنے بازؤں میں بھر لیا۔ وہ آج ہی کی رات میں مہینےبھرجدائی کسک کی مٹا لیناچاہتا تھامگر جلد ہی اس نے اپنے بپھرتے جذبات کو لگام ڈالی اور ایک جھٹکے سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔
میر سائیں ! آج جانے سے پہلے ایک وعدہ کریں گے ۔۔۔؟زرتاج نے
نے پر امید لہجے میں اسے مخاطب کیا ۔
حکم کرو ! وہ فوراً سے پیشتر بولا۔
آپ اب کبھی اپنی جان جوکھم میں ڈال کر مجھ سے ملنے یہاں نہیں آئیں گے ، میری وجہ سے آپ کو کوئی نقصان پہنچے یہ میں کبھی برداشت
نہیں کر سکوں گی ۔وہ اس کا ہاتھ تھام کر منت بھرے لہجے میں بولی۔
میر سجاول بے ساختہ ہنس پڑا ۔
تمھاری یہ دل نشین ادائیں دیکھنے کے لئے تو میں اپنی جان بھی دینے
کے لئے تیار ہوں مگر سوچ لو ، اگر میں یہاں نہیں آؤنگا تو پھر تمھیں
آنا پڑیگا ۔ رات کے اندھیرے میں کتوں کے بھونکنے سے تمھیں ہی
ڈر لگتا ہے پھر رونا مت اور نا ہی کوئی شکوہ کرنا کیونکہ میں بار باراپنی
ہونے والی بیوی کی بات ماننے کا عادی نہیں ہوں ۔ وہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے دونوں ہاتھ اٹھا کر صاف گوئی سے بولا ۔
مجھے منظور ہے بس آپ یہاں کسی بھی صورت نہیں آئیں گے ۔وہ
دوبدو بولی کیونکہ وہ جانتی تھی اگر معظم شاہ کو میر سجاول کے یہاں
اس سے ملنے کی بابت علم ہوگیا تو وہ جو حشر کرے گا اس سے سراسر
نقصان زرتاج کا ہی ہونا تھا۔
میر نے اس کے جواب پر کندھے اچکائے اور اس کا گال نرمی سے
کھینچتے ہوئے آہستگی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔
جاری ہے