59.5K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 02

اسلام و علیکم ۔۔۔سبطین شاور لے کر باتھ روم سے باہر نکلا تو میر غضنفر کو اپنے روم میں صوفے پر بیٹھا پایا۔
وعلیکم اسلام ،کیسے ہو ؟
میں ٹھیک ہوں ۔آپ کو کوئی کام تھا تو مجھے بلا لیا ہوتا،آپ نے زحمت کیوں کی ؟
ارے ایسی کوئی بات نہیں،میں نے سوچا تم ابھی آفس سے آئے ہو،چل کر خود ہی تم سے ملاقات کر لوں ۔انہوں نے نرمی سے جواب دیا۔
سبطین ! میں اور رانیہ کچھ دنوں کے لئے گاؤں جانا چاہ رہے ہیں اگر تم بھی ساتھ چلنا چاہو تو ہم تمھاری مصروفیت کے حساب سے پروگرام سیٹ کر لیتے ہیں۔
نہیں ڈیڈی !میں آجکل بہت ذیادہ مصروف ہوں ۔یہ بہت ہی امپورٹنٹ کانٹریکٹ ہے جس کے لئے کافی توجہ اور وقت درکار ہے۔ویسے بھی گاؤں جانے کا میرا دل نہیں کرتا۔اس جگہ نے ہمیں دیا ہی کیا ہے سوائے اپنوں کے بچھڑنے کا غم اور بے شمار تلخ یادیں ۔۔۔
سبطین نے سنجیدگی سے جواب دیا ۔
تمھاری بات ٹھیک ہے لیکن اپنے اصل سے جدا ہونا نا ممکن ہے۔اتنے برس پردیس میں گزارنے کے باوجود وطن کی مٹی واپس کھینچ ہی لائی ورنہ جب یہاں سے گیا تھا تب سوچا تھا پلٹ کر بھی نہیں دیکھوں گا۔
سبطین سر جھکائے خاموشی سے سنتا رہا ،کہنے کے لئے اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔
ذندگی میں آگے بڑھنا اور ترقی کرنا ضروری ہے مگر اسکا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ تم خود سے غافل ہو جاؤ۔میں چاہتا ہوں کے اب تمھاری اور رانیہ کی شادی ہو جانی چاہئے ۔رانیہ کے رشتے کے لئے میں نے اپنے کچھ پرانے دوستوں میں بات کی ہے،اب تم بتاؤ کے تمھارے لئے بھی مجھے ہی فیصلہ کرنا ہوگا یا اسکا اختیار تم اپنے پاس رکھنا چاہتے ہو ؟
سبطین نے اس ذکر پر یکدم چہرہ اٹھا کر باپ کی طرف دیکھا اور اسکی نگاہوں میں چھم سے عروش کا چہرہ اتر آیا ۔
میں ابھی فی الحال شادی نہیں کرنا چاہتا جب وقت آئے گا تو میں خود آپ کو آگاہ کر دونگا۔آپ بے فکر رہیں۔
چلو ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی ،لیکن دیکھو میں اس معاملے میں ذیادہ تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا اور طبیعت بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔انہوں نے سنجیدگی سے کہا۔
اوہ کم آن ڈیڈی !آپ بلکل فٹ ہیں،پلیز ایسا کچھ مت سوچیں۔ابھی
آپ کو ہم سب کے ساتھ بہت لمبی ذندگی جینی ہے۔
اس نے اپنی جگہ سے اٹھ کر میرغضنفر کے برابر بیٹھ کر ان کے ہاتھ تھام کر محبت سے کہا ۔
••••••••••••••••••
صفدرعلی شاہ شیرازی اس وقت غصے سے تلملا رہے تھے ۔شام کے پانچ بج رہے تھے اور اب تک اس کا کہیں پتا نہیں تھا ۔
معظم شاہ کسی بھی وقت انکو عین موقع پر دغا دے جاتا تھا اور باوجود شدید غصے کے وہ اس کا کچھ بھی نہیں کر پاتے تھے کیونکہ انکی سب سے لاڈلی اولاد ہونے کے ساتھ وہ انکی پوری جاگیر میں برابر کا وارث تھا ۔
اس کے اٹھارہ سال کا ہوتے ہی خود انہوں نے قانونی کاروائی کر کے اسے اپنی پوری جائیداد میں برابر کا حصے دار بنا دیا تھا۔
حالانکہ اس کے علاوہ انکا ایک بیٹا اور بھی تھا مکتوم علی شاہ شیرازی لیکن معظم شاہ ہمیشہ سے انکے دل کے قریب تھا شاید اسکی ایک وجہ
یہ بھی تھی کہ وہ اپنی عا دات و اطوار ،ضدی فطرت اور حاکمانہ طبیعت میں ان ہی کی پر چھائی تھا۔
انتہائی سخت اور ایک روایتی جاگیردار جو چھوٹی سے چھوٹی خطا پر بھی بڑی سے بڑی اور سخت سزا دینے کا عادی تھا۔
اس کے با نسبت مکتوم شاہ اپنی ماں کی طرح حلیم الطبع اوررحم دل شخصیت کا مالک تھا یہی وجہ تھی کے وہ بچپن ہی سے باپ کے دل کے قریب نہ ہو سکا ۔اور پھر جب میڈیکل کی پڑھائی کمپلیٹ کرنے کے بعد اس نے گاؤں میں ہی خدمت خلق کے جذبے کے ساتھ ہاسپٹل بنانے کی خواہش کا اظہار کیا تو اس بات پر صفدر علی شاہ شیرازی کی انا کو وہ ٹھیس پہنچی کے وہ تڑپ اٹھے۔وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے کے اتنی طویل و عریض زمینداری اور کئی شہروں پر پھیلے ہوئے بزنس کے مالک کا بیٹا یہ معمولی پیشہ اپنائے۔لیکن وہ بھی انکا ہی خون تھااپنی من مانی کرتے ہوئے اس نے ہسپتال کی بنیاد رکھ دی تھی اور اسی دن سے ان کے رشتے میں دراڑ سی پڑ گئی تھی ۔
آج اتنا اہم دن تھا مخالف پارٹی کے سابق ایم۔پی ۔اے کو وہ اپنی پارٹی میں شامل ہو نے کے لئے تیار کر چکے تھے اور آج کی الیکشن کیمپئین میں اس بات کا اعلان کرنے والے تھے لیکن معظم شاہ کا نمبر بھی آف تھا ۔
انہوں نے جھنجلا کر اس کے خاص محافط کو کال ملائی ۔
ہیلو ،خدا بخش ! معظم شاہ اس وقت کہاں ہیں ؟انہوں نے چھوٹتے کے ساتھ ہی اس کے بارے میں استفسار کیا۔
سرکار ! چھوٹے شاہ صاحب تو ہمیں شاہ ہاؤس پر چھوڑ کر اکیلے ہی ڈرائیو کر کے گئے ہیں۔
خدا بخش نے مکمل لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے رٹی رٹائی بات دہرائی ۔معظم علی شاہ کی نظریں اس پر جمی ہوئی تھیں۔
صفدر شاہ نے دانت پیستے ہوئے کال ڈسکنکٹ کردی۔
شاہ نے مسکراتے ہوئے اسٹئیرنگ پر رکھے اپنے خوبصورت ہاتھ پر سجی قیمتی گھڑی کی طرف دیکھا جو پانچ بجا رہی تھی۔ وہ ابھی ابھی اپنا ضروری کام نمٹا کر پی سی سے باہر نکلا تھا اور گاڑی مین روڈ پر ڈال دی تھی اب اسکا رخ اپنی “دلپسند “ہستی کے گھر کی طرف تھا جو پہلی ہی نظر میں اس جیسے بگڑے نواب کا دل چرا لے گئی تھی۔ایسا نہیں تھا کے اسکی ذندگی میں لڑکیوں کی کوئی کمی تھی وہ توان لوگوں میں سے تھا جو لباس کی طرح لڑکیاں بدلتے ہیں ۔
شہر میں بھی کافی لڑکیوں سے اس کی دوستی تھی لیکن یہ دوستی وہ صرف غرض کی حد تک ہی نبھانے کا قائل تھا جس دن اس کا دل بھر جاتا وہ پلٹ کر بھی نا دیکھتا یہ الگ بات تھی کے وہ اس دوستی کا حق معاوضے کی صورت میں اس طرح ادا کرتا تھا کہ وہ سب لڑکیاں کچھ دن اس کے عشق میں ماہی بے آب کی طرح تڑپنے کے بعد خود ہی اسکی دی ہوئی عنایتوں پر اکتفا کر لیتی تھیں ۔
عروش سے ہونے والی ملاقات کے بعد وہ خود اس بات پر حیران تھا کہ اس جیسی نازک اندام کم گو اور سادہ طبیعت کی لڑکی کیسے پہلی ہی ملاقات میں اس کے دل میں اتر گئی کہ اب اس کے بنا جینے کا تصور بھی محال تھا ۔وہ آٹھوں پہر اس کے حواسوں پر چھائی ہوئی تھی ۔انتہائی مصروفیت کے باوجود بھی وہ ایک پل بھی اسکی یاد ،اس کے خیال سے غافل نہیں تھا۔
یہ بھی سچ تھا کہ پہلے پہل اس کے بارے میں جاننے کے بعد اس کے ذہن میں پہلا خیال میروں سے بدلا چکانے کا ہی آیا تھا لیکن جس طرح کی فیلنگز آجکل وہ عروش کے لئے فیل کر رہا تھا ۔عروش کا خیال آتے ہی جس طرح کے جذبات اس کے اندر مچلے تھےاس سے یہی لگتا تھا کہ وہ پوری سچائی سے اسے اپنی ذندگی کا ساتھ بنانا چاہتا تھا۔
جو بھی تھا لیکن اب وہ عروش سے شادی کا فیصلہ کر چکا تھا اور بہت جلد یہ بات بابا سائیں تک پہنچانا چاہتا تھا۔
•••••••••••••••
دروازے پر ہونے والی دستک پر کچن میں چائے بنا تی عروش نے ایک پل کے لئے ہاتھ روک کر دروازے کی طرف دیکھا۔اس وقت کون آیا ہے۔
تم ٹھرو میں دیکھتی ہوں ۔ثمینہ کہتے ہو ئے آگے بڑھیں اور دروازہ کھول دیا ۔آنے والے کو دیکھ کر چند ثانیے کے لئے وہ ساکت رہ گئیں۔
وہائیٹ شلوار سوٹ میں ملبوس آنکھوں پر سیاہ گلاسز لگائے اپنے بھر پور سراپے کے ساتھ وہ سامنے کھڑا تھا۔
خدا بخش !سامان اندر لے آؤ۔اس نے اپنے محافظ کو حکم دیا۔
خدا بخش اس کے لائے ہوئے گفٹس کے بیگز ،فروٹس کے شاپر
گاڑی سے نکالنے کے لئے بھاگا۔
اسلام و علیکم !وہ اپنی بھاری گمبھیر آواز میں سلام کر کے آگے بڑھا تو ثمینہ اس کے اندر آنے کے لئے راستہ چھوڑ کر سائیڈ پر ہوگئیں۔
وعلیکم اسلام ،کیسے ہو بیٹا ؟آپا کیسی ہیں ؟ انہوں نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا۔
سب خیریت ہے ۔اس نے مختصر جواب دیا۔
اس کی بھٹکتی ہوئی نظریں عروش کو تلاش رہی تھیں اور ثمینہ سے یہ بات پوشیدہ نہیں رہ سکی۔
اسکی آواز سن کر ہاتھ میں ٹرے لئے کھڑی عروش کا دل پورے قوت سے دھڑکا تھا۔
عروش نظر نہیں آرہی ،کیا وہ گھر پر نہیں ہے؟شاہ نے گلاسز اتار کر جیب میں اٹکاتے ہوئے پوچھا۔
وہ کچن میں ہے ،چائے بنا رہی تھی۔
اوہ ۔۔۔اس کا مطلب ہے میں بلکل صحیح وقت پر آیا ہوں۔
ہاں کیوں نہیں۔میں عروش سے کہتی ہوں وہ چائے لے آئے ۔ثمینہ نے مسکراتے ہو ئے کہا۔اور اٹھ کر کچن کی طرف آگئیں ۔
عروش نے ماں کو دیکھ کر نظریں جھکا لیں۔
معظم شاہ آیا ہے،تم دیکھو اگر گھر میں کچھ ہے تو چائے کے ساتھ وہ بھی لے آؤ۔ثمینہ نے سرگوشی کے انداز میں بیٹی سے کہا۔
امی ہمارے گھر کا بہترین ریفریشمنٹ بھی ان کی شان کے آگے ہیچ لگے گا لیکن فی الوقت تو وہ بھی میسر نہیں ۔
عروش نے نا گواری سے جواب دیا۔
اچھا ٹھیک ہے تم چائے ہی لے آؤ۔ثمینہ مایوسی سے کہتے ہوئے واپس پلٹ گئیں۔
عروش اچھی طرح سر پر دوپٹہ جما کر ہاتھ میں ٹرے تھامےکچن سے بر آمد ہوئی ۔شاہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا جیسے اسی کی آمد کا منتظر تھا۔اسے دیکھتے ہی اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔لان کے لائیٹ پرپل کلر کے سستے سے سوٹ میں بھی وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی۔شاہ نے اسے سر تا پا بغور دیکھا۔
چودھویں کے چاند کی چٹکتی ہوئی چاندنی جیسا روپ شاہ کو مسحور کر گیا۔
اسلام و علیکم !عروش نے آہستگی سے سلام کیا اور ٹرے چھوٹی سی ٹیبل پر رکھ کر ثمینہ کے پیچھے جا کھڑی ہوئی۔
وعلیکم اسلام!کیسی ہو عروش ؟شاہ نے براہ راست اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
ٹھیک ہوں ۔عروش نے مختصراً جواب دیا اور نظریں جھکا لیں۔
شاہ کی روح تک میں جھانک لینے والی تیز اور آنچ دیتی ہوئی آنکھوں میں دیکھنے کا یارا اس میں نا تھا۔
میں نے آپ لوگوں سے کہابھی تھا کہ اب آپ ہمارے پاس ہی رہیں لیکن خالہ جان آپ نے یہاں وا پس آنے کو ترجیح دی تو میں نے آپ کے فیصلے کی تردید نہیں کی لیکن مجھے آپ لوگوں کا یہاں تنہا رہنا بلکل گوارا نہیں۔اگر آپ گاؤں میں رہنا نہیں چاہتیں تو ہمارے شہر والے بنگلے شفٹ ہو جائیں۔۔۔کم از کم آپ کو اس بات پر تو اعتراض نہیں ہونا چاہئے ؟شاہ نے اپنی بات مکمل کر کے سوالیا انداز میں پوچھا۔وہ سوال ثمینہ سے کر رہا تھا لیکن نظریں عروش کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔
یہ بھی ان دونوں کی خوش قسمتی تھی کہ معظم علی شاہ ان سے اجازت طلب کر رہا تھا۔ورنہ وہ تو حکم دینے کا عادی تھا اور اس کے سامنے جواب دینے کی جرات پورے گاؤں میں کسی کی نہ تھی حتی کہ صفدرعلی شاہ بھی اس سے اختلاف کرتے ہوئے دس بار سوچتے تھے۔
معظم بیٹا ! بات دراصل یہ ہے کہ تمھارے خالو کے گزر جانے کے بعد یہ واحد نشانی ہے انکی ،اس جگہ سے میں تعلق توڑنا نہیں چاہتی۔
محلے والوں سے تعلقات بہت اچھے ہیں اور ساتھ بھی کافی پرانا ہےاور پھر تم لوگوں کے ہوتے ہوئے کسی بات کا کوئی ڈر خوف نہیں۔ثمینہ نے بڑی مشکل سے یہ عزر تلاش کیا ورنہ انکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح شاہ کی تسلی کریں جو اسکی شان پر گراں بھی نہ گزرے اور ان کا بھرم بھی رہ جائے۔
شاہ نے گہری سانس لیتے ہو ئےبمشکل یہ بات حضم کی تھی ،آپ بے فکر رہیں،جب بھی ضرورت پڑے بلا جھجک یاد کیجئے گا۔
اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر زرا سا سر کو خم کیا۔
ٹھیک ہے ،اب میں چلتا ہوں ۔وہ گھڑی دیکھتے ہوئے بولا اور عروش پر ایک بھر پور نظر ڈال کر جانےکے لئے کھڑاہو گیا۔
اس کے گھر سے نکلتے ہی عروش نے ایک گہری سانس خارج کی ۔اسے شاہ کا اس طرح ان کے گھر آنا خطرے کی علامت
لگ رہا تھا۔
وہ ابھی تک معظم شاہ سے ہوئی پہلی ملاقات کے خوف سے پوری طرحباہر بھی نہیں نکل سکی تھی اس سے پہلی ملاقات آج بھی روزِ اول کی طرح اس کی یادداشت میں محفوظ تھی ۔
••••••••••••••••••
شوہر کی اچانک موت نے ثمینہ کو اتنا حواس باختہ کیا تھا کہ وہ اپنے دونوں بچوں کو لے کر گاؤں روانہ ہو گئیں تھیں۔
وہ گاؤں جس نے ان کے بہت سے پیاروں کو ان سےجدا کر دیا تھا،جہاں سے وہ ڈھیروں ملال اور غموں کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ لے کر رات کے اندھیرے میں نکلیں تھیں۔
انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ دوبارہ کبھی وہاں کا رخ کرینگی ۔لیکن قسمت انہیں ایک بار پھر ان ہی سنگلاخ راستوں پر لے آئی تھی۔
گاؤں کے جانے پہچانے راستوں پر قدم رکھتے ہی ان کی آنکھیں یکایک پانیوں سے بھر گئیں سے تھیں۔
ماضی کے تلخ منظر کسی فلم کی طرح ان کی آنکھوں کے سامنےچلنے لگے۔
حویلی کے دروازے پر پہنچ کر انہوں نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کے لئے کہا ۔ڈرائیور نے گاڑی فوراً روک دی۔
کرایہ ادا کر کے وہ تینوں گاڑی سی نیچے اتر آئے۔
داخلی دروازے کے باہر کھڑے پہرے داروں میں سے ایک نے استفسار کیا۔
کون ہیں آپ لوگ اور کس سے ملنا ہے ؟
ہم شہر سے آئے ہیں ،رخسانہ بی بی سے ملنا ہے۔
ان سے کہو ثمینہ غزینی آئی ہے۔
پہرے دار نے سر ہلاتے ہی دروازے پر دستک دی تو دروازے میں سے چھوٹی سی کھڑکی کھلی ،پہرے دار نےپیغام اندر پہنچانے کے لئے کہا ۔
ثمینہ نے گردن موڑ کر عروش کی طرف دیکھا اور تسلی رکھنےکا اشارہ کیا۔تھوڑی دیر گزرنے کے بعد حویلی کا داخلی دروازہ ان لوگوں کے لئےکھول دیا گیا۔
حویلی کی پر شکوہ عمارت دیکھ کر عروش اور ایان دنگ رہ گئے۔
امی کی بہن اتنے شاندار گھر میں رہتی ہیں آپی ! پھر ہم کیوں اتنے غریب ہیں۔ایان نے شرارت سے بہن کے کان میں کہاتو عروش نے گھور کر اسے دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے چپ رہنے کی تنبیہہ کی کیونکہ مسلح گارڈ ان کے پیچھے ہی چل رہا تھا۔
دائیں بائیں پھیلے ہوئے تا حد نگاہ پھیلے ہوئے وسیع و عریض لان اور اس سے آگے کار پورچ جس میں کم از کم پچاس گاڑیاں کھڑی کرنے کی گنجائش تھی ۔
ماربل کی چمکدار طویل روش عبور کر کے جب وہ اندرونی دروازے کی جانب بڑھے تو رخسانہ انہیں دور سے ہی کھڑی نظر آئیں۔
جیسے ہی انہیں ثمینہ کی آمد کی خبر ملی وہ بے قرار سی دروازے کی جانب بھاگی چلی آئیں ۔اگر حویلی کے اصولوں کی پاسداری کا خیال نہ ہوتا تو شاید وہ داخلی دروازے پر ہی پہنچ کر بہن کو گلے لگا لیتیں۔
وہ بہن جس کی ایک جھلک کے لئے وہ پچھلے بیس سال سے تڑپ رہی تھیں۔
ثمینہ آگے بڑھ کر ان سے لپٹ گئیں ۔رخسانہ دیوانہ وار انھیں چوم رہی تھیں۔دونوں کی آنکھوں سے زار و زار آنسو بہہ رہے تھے۔
ثمینہ اس ذندگی میں اگر تم نہ ملتی تو میں روز محشر تمھیں کبھی معاف نہ کرتی ۔رخسانہ نے بہن کو لپٹائے ہوئے شکوہ کیا۔
ثمینہ چپ رہیں لیکن انکی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
یہ تمھاری بیٹی ہے؟ انہوں نے نازک سی عروش کے گالوں کو چھوکر اسے گلے لگایا۔ثمینہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
ماشا اللہ بہت پیاری ہے ،بلکل۔۔۔۔وہ کچھ کہتے کہتے لب بھینچ کر خاموش ہو گئیں۔ اللہ سائیں عمر دراز کریں۔آمین۔
انہوں نے پیار سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو عروش کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی جس سےاسکے گال میں پڑنے والا ڈمپل نمایا ں ہوگیا۔
زینب بھی مہمانوں کی آمد کا سن کر اپنے کمرے سے باہر نکل آئیں تھیں ثمینہ اور ان کے بچوں کو دیکھ کر ان کے زخم پھر سے ہرے ہوگئے تھے۔وہ دوبارہ پلٹ کر اپنے کمرے میں چلی گئیں ۔
یہ میرا بیٹا ہے آپا ۔۔۔ایان غزینی۔
ثمینہ نے بتایا تو رخسانہ نے حیرت اور خوشی سے اسے دیکھتے ہوئے
اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔(جب ثمینہ اپنے شوہر اور بیٹی کے ساتھ گاؤں چھوڑ گئیں تھیں اس کے دس سال بعد ایان کی پیدائش ہوئی تھی)۔
بہنوئی کی موت کی خبر رخسانہ کو افسردہ کر گئی۔
ثمینہ تم خبر تو کرتیں اتنا بڑا حادثہ تم نے اکیلے ہی جھیل لیا۔رخسانہ نے تاسف سے کہا۔
کہاں جھیل سکی آپا۔۔۔اس لئے تو سب کچھ بھلائے یہاں چلی آئی ۔ورنہ بیس سال میں کبھی نہ سوچا تھا کہ ذندگی دوبارہ یہاں لے آئیگی ۔انکی اچانک موت نے مجھےبہت تنہا اور بےبس کردیا ۔یوں لگتا ہے جیسے میرے گھر کی دیواریں ڈھے گئی ہیں رات رات بھر نیند نہیں آتی یہ سوچ کر کہ میرے بعد ان بچوں کا کیا ہوگا۔ثمینہ آزردگی سے بولیں۔
تم پریشان مت ہو ۔اللہ بہت بڑا ہے وہ ہر مشکل آسان کر دے گا۔اس بہانے ہی سہی تمھیں اپنی بہن کا خیال تو آیا۔انہوں نے بہن کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
بھائی صاحب اور باقی سب کہاں ہیں ؟زینب کیسی ہے ؟ ثمینہ نے جھجکتے ہوئے زینب کے بارے میں استفسار کیا۔
وہ تو شہر ہی ہوتے ہیں،الیکشن کی وجہ سے بہت مصروف ہیں آجکل حویلی کم ہی آنا ہوتا ہے۔
خیر سے مکتوم شاہ ڈاکٹر بن گیاہے ،گاؤں میں ہی اس نے ہاسپٹل بنایا ہے۔
اللہ اسے کا میاب کرے۔ثمینہ نے دل سے دعا دی۔معظم شاہ کا تو تمھیں پتا ہے وہ اپنے باپ کی طرح من موجی ہے نہ اس کے جانے کی کسی کو خبر ہوتی ہے نہ آنے کا پتہ ،وہ اپنی ذندگی میں اپنی ماں کی بھی مداخلت بھی پسند نہیں کرتا۔
نا جانے دو دن سے کہاں ہے ۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میری موت کی خبر بھی اسے غیروں سے ملے گی۔
ارے آپا !مایوسی کی باتیں نہیں کریں ۔اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہوجائیگا۔ثمینہ نے انہیں تسلی دی۔
چلو ،تم لوگ فریش ہوجاؤ میں کھانا لگواتی ہوں۔رخسانہ آنسو پونچھتےہوئے بولیں۔
نسرین !انہیں گیسٹ روم لے جاؤ۔انہوں نے پاس کھڑی ملازمہ کو حکم دیا۔
وہ تینوں آگے پیچھے چلتے ہوئے ملازمہ کی رہنمائی میں گیسٹ روم کی طرف بڑھ گئے۔
•••••••••※•••••••••
رات کے تین بجے اچانک عروش کی آنکھ کھلی تو پیاس سے اسکا حلق خشک ہو رہا تھا۔
اس نے پانی کی تلاش میں ادھر ادھر نظر دوڑائی پھر مایوس ہو کر بے خبر سوئی ہوئی ماں کی طرف دیکھا اور دوپٹہ سنبھالتی ہوئی دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔اتنی بڑی حویلی میں اس وقت ہو کا عالم تھا۔
وہ دھیرے دھیرے سیڑھیاں اتر نے لگی اور جیسے ہی کچن کی طرف جانے والی راہ داری کی طرف مڑی بڑی زور سے کسی سے ٹکرائی آنکھوں کے آگے تارے ناچ گئے ۔
اس نے بڑے طیش کے عالم میں عروش کا بازو پکڑا اور دوسرے ہاتھ سےاسکی ٹھوڑی دبوچ کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر غرایا۔
کون ہوتم ؟اور یہاں کیسے آئی ۔۔۔بولو ؟وہ عروش پر جھکا ہوا تھا۔
وہ دن بعد آج ہی شکار سے واپس آیا تھااور اس وقت اپنے خاص مہمانوں سے فارغ ہوکر ڈیرے سے لوٹا تھا۔رات کے اس پہر عروش کی موجودگی اسے حیران کر گئی تھی۔
عروش کی جھیل جیسی آنکھوں سے موتیوں کی صورت ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے۔اس نے بھلا کب اتنی سختی جھیلی تھی۔ماں اور باپ دونوں نے ہی اسے کبھی پھول کی چھڑی بھی نا چھوائی تھی۔
اس کے منہ سے اٹھتی ناگوار بو سے عروش کے حواس معطل ہونےلگے ۔
یہ ڈرامہ بند کرو اور جواب دو۔۔۔؟کون ہو تم ،اور اس وقت یہاں کیا کررہی ہو ۔کس نے بھیجا ہے تمھیں ؟وہ آنکھوں سے عروش کے آنسوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بد لحاظی سے بولا۔
وہ ۔۔۔وہ میں۔۔۔ مس مسرور غزینی کی بیٹی ہوں ۔ہم آج ہی شہر سے آئے ہیں۔یہ میری خالہ جان کا گھر ہے۔عروش نے اٹکتے ہوئے رندھی ہوئی آواز میں جواب دیا۔
مسرور غزینی کا نام سنتے ہی معظم شاہ کی آنکھیں مزید سرخ ہوگئیں اور عروش پر اسکی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔رونے سے اسکا ڈمپل نمایا ہورہا تھا۔شاہ نے انگشت شہادت سے دھیرےسے اس کے ڈمپل کو چھوا اور اسے اپنی گرفت سے آزاد کردیا۔
موقع پاتے ہی عروش الٹے پاؤں سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے بھاگ گئی۔
شاہ کی نظروں نے اوپر تک اس کا پیچھا کیا پھر پیشانی مسلتے ہوئےاس نے مسرور غزینی کا نام دہرایا۔مسرور غزینی مطلب تیمور علی غزینی کی بیٹی۔۔۔
اس نام نے اسکا سارا نشہ ہرن کر دیا تھا۔میر نگر والوں سے بدلا چکانے کا ایک اہم اور نازک مہرہ خود چل کر اسکے گھر آگیا تھا یہ سوچ اسے اندر تک سرشار کر گئی تھی۔
اپنی دلکش موچھوں پر انگلیاں گھماتے ہوئے شاہ کے چہرے پر بڑی خوبصورت مگر خطرناک مسکراہٹ ابھری تھی۔
عشاہ کی اذان اس کے کانوں میں پڑی تو عروش ایک جھرجھری لے کر خیالوں کی دنیا سے باہر آگئی ۔
جاری ہے