59.5K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

اماں ! میں شادی صرف زرتاج سے کروں گا ۔”آپ بس اس کے گھر رشتہ لے کر جانے کی تیاری کریں ۔میر سجاول ان کے بیڈ پر دراز فائزہ بیگم سے مخاطب تھا ۔
میر سائیں ! تم سمجھتے کیوں نہیں ،وہ لڑکی تمھارے قابل نہیں ہے ۔کہاں وہ اور کہاں ہم ۔
چلو تمھاری خواہش کے خاطر تھوڑی دیر کے لئے ہم یہ بھی بھول جائیں کہ وہ کم ذات ہے مگر یہ بات تو نظر انداز نہیں کی جا سکتی ناں کہ وہ شاہ پور کی رہنے والی ہے ،بھلا صفدر شاہ اور معظم یہ شادی ہونے دیں گے ۔۔۔۔؟ وہ اپنے اندر غصے کی آنچ کو دبائے بظاہر نرمی و رسان سےگویا تھیں ۔
ورنہ دماغ میں تو آتش فشاں پھوٹ پڑا تھا ،بس نہیں چل رہا تھا کہ زرتاج سامنے آجائے اور فائزہ بیگم اسے سالم نگل جائیں ،جس نے ان کے ولی عہد پر ڈورے ڈال کر اسے شادی کے لئے اکسا لیا تھا ۔
ایسی کی تیسی معظم شاہ کی ، اس کی اتنی اوقات نہیں ہے کہ مجھے زرتاج سے شادی کرنے سے روک سکے ۔شادی تو میں اس سے کر کے رہوں گا چاہے اس کے لئے مجھے کوئی بھی قیمت چکانی پڑے ۔میر بھڑکتے ہوئے اٹھ بیٹھا ۔
میں پوری پلاننگ کر چکا ہوں ۔زرتاج کو اس کی فیملی سمیت فارم ہاؤس شفٹ کر دوں گا ،زرتاج کی طرف سے شادی کی ساری تیاریاں وہیں سے ہونگی ۔میرے فارم ہاؤس تک پہنچنے کی معظم شاہ جرأت بھی نہیں کر سکتا اگر اس نے ایسی کوئی کوشش بھی کی تو میں اس سے نمٹ لوں گا ۔اس کا بندوبست تو میں پہلے ہی کر چکا ہوں بس زرا موقع کے انتظار میں ہوں ۔کسی خیال کے تحت میر کی آنکھیں چمکیں ۔
اس کی پلاننگ سن کر فائزہ بیگم بیگم کا سر چکرا گیا ۔ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ پوری تیاری کئے بیٹھا ہے ۔
میر ! میرے چندا ! تم زرا سا تو سوچو ، تم زرتاج سے شادی کروگے تو سوسائیٹی میں ہماری کیا عزت رہ جائے گی ؟ لوگ طرح طرح کی باتیں
بنائیں گے کہ ہمارے لیے لڑکیوں کی کمی تھی کیا جو ہم نے گاؤں کے مزارعے سے رشتہ جوڑ لیا ۔
تمھارے بابا کا اسٹیٹس ، ہمارے خاندان کی پشتوں کی عزت ،سب کچھ مٹی میں مل جائے گا ۔تم ہماری اکلوتی اولاد ہو ،منت مرادوں سے میں نےتمھیں پایا ہے ۔میرے بہت ارمان ہیں ۔ اپنی پسند کی خاطر تم میرے ارمانوں کو روند رہے ہو ۔ فائزہ بیگم نے آنکھوں میں آنسو بھر کر اسے ایموشنلی بلیک میل کرنا چاہا ۔
یار اماں ! آپ کے لئے آپ کا اکلوتا بیٹا امپورٹنس رکھتا ہے یا دنیا والے ؟ رہی بات آپ کے ارمانوں کی وہ تو آپ پورے کر سکتی ہیں۔
میری شادی زرتاج سے ہو یا کسی اور سے ،آپ کو تو میری خوشی میں خوش ہونا چاہئے ۔
فائزہ بیگم کے منہ سے زرتاج کے لئے استعمال ہونے والے حقارت آمیز الفاظ اسے سخت گراں گزر رہے تھے مگر ماں کو بھی وہ سرزنش نہی کرسکتا تھا اس لئے بے زاری سے گویا ہوا۔
بحرحال دنیا ادھر سے ادھر کیوں ناں ہوجائے ،زرتاج کو میں اپنی بیوی بنا کر رہوں گا ۔اماں ! آپ نہیں جانتی وہ میرے لئے کتنی ضروری ہے ۔ساری دنیا کی خوشیاں ایک طرف ،زرتاج ایک طرف ۔
اس کی برابری کوئی بھی نہیں کر سکتا ۔اس کئے آپ خوشی خوشی راضی ہوجائیں اور بابا کو بھی راضی کرنے کی کوشش کریں ۔میں اب جلداز جلد زرتاج کو اس گھر میں دیکھنے چاہتا ہوں ۔
اس نےفیصلہ کن لہجے میں کہتے ہوئے شرٹ جھٹکی اور سلیپرز پاؤں میں ڈال کر روم سے نکل گیا ۔وہ مزید بحث میں نہیں الجھنا چاہتا تھا ۔
میر نے فائزہ بیگم کو جواب دینے کا موقع بھی نہیں دیا تھا ۔
فائزہ بیگم زخمی نگاہیں دروازے پر جمائے بیٹھی تھیں ۔ان کے دماغ نے کام کرنا بند کر دیا تھا ۔وہ تو سوچے بیٹھیں تھیں میر نے اپنے ہی جیسے کسی شان و شوکت والے گھرانے میں دل لگا لیا ہوگا اور اس کی من چاہی دلہن لانے پر انہیں کوئی اعتراض بھی نہیں تھا مگر وہ لڑکی
گاؤں کے کمیوں میں سے کسی کی ہوگی ،ایسا تو انہوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا ۔
اب اس مشکل سے کیسے جان چھڑائی جائے اور میر سجاول کے بڑھتے قدموں کو کیسے روکا جائے یہ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کیوں کہ وہ اس بار چاہ کر بھی کوئی سازش نہیں رچ سکتی تھیں کیونکہ سامنے نند یا کوئی سسرالی رشتے دار نہیں بلکہ ان کا اپنا ہی لختِ جگر تھا ۔
“””””””””””””””
میر سبطین لاؤنج میں داخل ہوا تو نگین کو ادھر سے ادھر ٹہلتے پایا ۔وہ سلام کر کے وہیں لاؤنج میں ہی صوفے پر بیٹھ گیا ۔
سبطین بھائی ! میں آپ کے لئے پانی لے کر آتی ہوں اور کافی بھی تیار کرواتی ہوں ۔ نگین اسے دیکھتے ہی پریشانی بھلائے سبطین کی جانب بڑھتے ہوئے بولی ۔
ہوں ۔۔۔بہت خاموشی ہے گھر میں ،رانیہ اور حنین کہاں ہیں ۔۔؟اس نے ہنکارہ بھرا پھر نگاہ دوڑاتے ہوئے اسفسار کیا ۔
حنین بھائی تو شام سے اپنے دوست کے ساتھ نکلے ہوئے ہیں اور رانیہ آپی ابھی تک یونیورسٹی سے واپس نہیں آئیں ۔ وہ جاتے جاتے رک گئی اور فوراً سے پیشتر سبطین کو آگاہ کیا ۔
واٹ ؟ رانیہ اب تک واپس نہیں آئی ، یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔وہ تو پانج بجے تک فری ہوجاتی ہے ۔اس نے گھڑی دیکھتے ہوئے پریشانی سے کہا۔
جی ۔۔۔ نگین نے مختصراً کہا اور سامنے ہی صوفے پر ٹک گئی ۔
سبطین نے رانیہ کا نمبر ٹرائے کیا تو وہ آف جارہا تھا ،اس نے فوراً ہی ڈرائیور کو کال کی مگر وہاں بھی سوئچڈ آف کی ٹیپ سنائی دی ۔یکدم ہی سبطین کے اندر وسوسے سر سرائے ۔
وہ بار بار نمبر ٹرائے کر رہا تھا مگر دونوں نمبر مسلسل آف تھے ۔بالآخر وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا ۔
نگین ! ڈیڈی کہاں ہیں ؟
وہ واک کے لئے گئے ہیں ۔۔۔اب تو واپس آنے والے ہونگے ۔
اوکے ۔۔۔میں رانیہ کو لینے یونیورسٹی جارہا ہوں ،ڈیڈی آجائیں اور میرے یا رانیہ کے بارے میں پوچھیں تو کہنا وہ میرے ساتھ کسی ضروری کام سے باہرگئی ہے اور ہم کچھ دیر میں واپس آجائیں گے لیکن ڈیڈی کو ہر گز بھی اس باپ کا علم نہ ہو کہ رانیہ اب تک یونی سے واپس نہیں آئی ہے ۔
میر سبطین اسے پوری بات سمجھاتے ہوئے پریشانی کے عالم میں لاؤنج سے نکل گیا ۔
نگین اثبات میں سر ہلا کر کار پورچ تک اس کے پیچھے آئی تھی ۔وہ دل ہی دل میں رانیہ کی سلامتی کی دعا مانگ رہی تھی ۔
“”””””””””””””””
میر سبطین سارا شہر چھان چکا تھامگر رانیہ کا پتا لگانے میں ناکام رہا تھا۔
یونیورسٹی پہنچنے پر بھی رانیہ اسے وہاں نہیں ملی ، اس نے رانیہ کی تقریباً سب دوستوں سے کانٹیکٹ کیا تھا مگر سب کا ایک ہی جواب تھا کہ یونی آف ہونے کے بعد وہ ان کے سامنے ہی گھر کے لئے روانہ ہوگئی تھی ۔
میر سبطین مایوس سا ہوکر لب بھینچے ڈرائیونگ کر رہا تھا ۔رانیہ کی گمشدگی سنگین رخ اختیار کر گئی تھی ۔
شکستہ خوردہ وہ گھر میں داخل ہوا ۔ اب وہ میر غضنفر علی کو رانیہ کی گمشدگی سے لا علم نہیں رکھ سکتا تھا ۔انہیں آگاہ کرنا اس کی مجبوری بن گئی تھی ۔
میر سبطین ! تم لوگ کہاں چلے گئے تھے ،میں واپس آیا تو نگین نے بتایا تم رانیہ کو لے کر کہیں گئے ہو ۔رانیہ کہاں ہے ۔۔۔؟میر غضنفر جو لاؤنج میں ہی بیٹھے ان دونوں کا انتظار کر رہے تھے ،اسے دیکھتے ہی بول پڑے ۔
ڈیڈی ! ایک مسئلہ ہو گیا ہے ،آپ کو صبر و تحمل سے میری بات سننا ہوگی ۔۔۔۔آپ وعدہ کریں بلکل بھی نہیں گھبرائیں گے ۔میر سبطین نے ان کی طبیعت کے پیش نظر تہمید باندھی ۔
ایسا بھی کیا مسئلہ ہو گیا ہے جو تم اتنے فکر مند ہو رہے ہو ،گاؤں میں تو سب خیریت ہے ناں ۔۔۔رانیہ کہاں ہے ؟ پل بھر میں میر غضنفر کے چہرے کی رنگت بدل گئی ۔حنین بھی سنجیدگی سے میر سبطین کی طرف متوجہ تھا ۔
بات دراصل یہ ہے کہ ڈرائیور رانیہ سمیت مسنگ ہے ،میں نے ہر اس جگہ پر پہنچ کر معلوم کیا ہے جہاں رانیہ کی موجودگی کے امکان تھے مگر وہ مجھے کہیں بھی نہیں ملی ۔
رانیہ اور ڈرائیور دونوں کے نمبرز بھی آف ہیں ۔ یقیناً رانیہ کی گمشدگی کے پیچھے ڈرائیور کا ہاتھ ہے ۔میر سبطین نے تفصیلاً پوری بات بیان کردی ۔
میرے خدا ! میر سبطین !یہ تم کیا کہہ رہے ہو ،ہم برباد ہو گئے ۔پتا نہیں کس نیت سے اس خبیث نے ہماری بچی کو اغوا کیا ہے ۔میر غضنفر کے پیروں تلے زمیں سرک گئی تھی ۔لمحوں میں ان کا چہرہ پسینے میں شرابور ہو گیا ۔
بھائی ! ہمیں جلد از جلد پولیس کو انفارم کرنا چاہئے ، اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے ۔حنین نے فکرمند ہو کر مشورہ دیا ۔
نہیں ،اس طرح پولیس کو بیچ میں لانے سے یہ بات میڈیا تک پہنچ جائے گی اور ہمارئ عزت کا تماشا بن جائے گا ۔میڈیا تو ایسی نیوز کی تلاش میں رہتا ہے ۔ہمیں خود ہی اسے ڈھونڈنا ہوگا ۔میر سبطین نے عقلمندی سے کام لیتے ہوئے اس کا مشورہ رد کردیا ۔
کچھ بھی کرو مگر رانیہ کو ڈھونڈو ،مجھے کسی بھی قیمت پر میری بچی صحیح سلامت واپس چاہئے ۔تم میر سجاول سے بات کرو وہ اس مسئلے کو ذیادہ بہتر طریقے سے نمٹ سکتا ہے ،اس وقت صرف وہی ہماری مدد کر سکتا ہے ۔
بھائی ! ڈیڈی بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ،آپ سجاول بھائی سے بات کریں وہ ضرور ہماری ہیلپ کریں گے ۔حنین باپ کے مشورے سے متفق تھا ۔سبطین نے فوراً سے پیشتر میر سجاول کو کال ملائی ۔
میر سبطین ! یار کیسے یاد کیا ، حکم کرو ۔میر سجاول کی گنبھیر آواز گونجی۔
میر سجاول ! ایک مسئلہ ہو گیا ہے ، تمھاری ہیلپ چاہئے ۔ سنجیدگی سے کہتے ہوئے میر سبطین نے ساری بات اس کے گوش گزار کردی ۔
اتنے گھنٹے گزر گئے اور تم مجھے اب بتا رہے ہو ،تمھیں سب سے پہلے مجھے انفارم کرنا چاہئے تھا ۔
خیر ، تم لوگ فکر مت کرو ،میں ابھی اس خبیث کا پتہ لگاتا ہوں کہ وہ رانیہ کو لے کر کہاں غائب ہوا ہے ۔میر سجاول کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔وہ اپنے دوستوں کے ساتھ فارم ہاؤس میں موجود منی سنیما میں بیٹھا مووی دیکھ رہا تھا ۔ایک جھٹکے سے اٹھ کر سنیما سے باہر نکل گیا ۔
تھینکس ! بس ہمیں بہت جلد رانیہ تک پہنچنا ہے ۔مجھے لگتا ہے یہ سب اس نے پیسوں کے لئے کیا ہے اور وہ ضرور ہم سے رابطہ کرے گا ۔
انشاء اللہ میں اسے اس قابل ہی نہیں چھوڑوں گا ،اس نے ہماری عزت پر ہاتھ ڈال کر اپنے لئے قبر تیار کر لی ہے ۔وہ دہشت ناک لہجے میں بولا۔
میں شہر کے لئے روانہ ہورہا ہوں شہر پہنچنے سے پہلے ہی اسکا پتا لگوا لوں گا ۔تم بس ایک کام کرو ،تمھیں گھر کے نوکروں کے زریعے اس بات کو باہر نکلنے سے روکنا ہے ۔ میر نے ہدایت دی ۔
اوکے ۔۔۔یہ کام ہو جائے گا ،تم جلدی پہنچنے کی کوشش کرو ۔میر سبطین نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی ۔
میر سجاول کراچی آرہا ہے ، وہ ذاتی طور پر پتہ لگوائے گا کہ ڈرائیور رانیہ کو لے کر کہاں گیا ہے ۔میر سبطین نے حاضرین کو مطلع کیا اور خود سرونٹ کواٹر کی طرف چلا گیا تاکہ تمام ملازموں کو ایک ساتھ تنبیہہ کر سکے ۔
میر غضنفر صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر بیٹھ گئے ،ان کی نگاہوں میں رانیہ کا معصوم چہرہ گھوم رہا تھا ۔
“””””””””””””””
دروازہ کھلنے کی آواز پر رانیہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو دنگ رہ گئی ۔
رانیہ دیوار سے ٹیک لگائے کار پیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ چند گھنٹوں میں سوچ سوچ کر اس کا دماغ شل ہو چکا تھا کہ آخر ڈرائیور نے اس کو اغوا کیوں کیا ہے ۔ کسی طرح وہ رانیہ کو اس کمرے تک لایا تھا جہاں ایک صوفہ سیٹ ،اسپلٹ اے ۔سی اور کارپیٹ کے سوا ایک کیل بھی نہیں تھی اور باہر سے دروازہ لاک کر کے چلا گیا تھا ۔
وہ بھاری مظبوط قدم اٹھاتا ہوا صوفے کی طرف بڑھا اور ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھ گیا ۔
آ آپ ،آپ ؟خوف کی شدت سے رانیہ کی آواز لڑکھڑا گئی ۔
آپ نے مجھے اغوا کیوں کروایا ہے ۔۔۔۔۔آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ۔ پلیز ! مجھے چھوڑ دیں ،یہاں میرا دم گھٹ رہا ہے ۔رانیہ دہائی دینے لگی ۔
ڈرو مت ، گھبرانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔تم یہاں بلکل محفوظ ہو ۔کوئی تمھیں کچھ نہیں کرے گا اور تھوڑی دیر میں تمھیں آزاد کردیا جائے گا ۔تب تک کے لئے ریلیکس ہوجاؤ ۔
وہ اپنی بھاری سرد آواز میں رانیہ کو تسلی دے رہا تھا ۔
جاری ہے