Rate this Novel
Episode 06
عروش کیبن میں بیٹھی لیپ ٹاپ پر مصروف تھی ،تبھی اس کے موبائل پر میسج ریسیو ہوا ۔اس نے مصروف سے انداز میں ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا اور ٹیکسٹ میسج پر نظر پڑتے ہی بھیجنے والے کے نام پر اس کے ہونٹوں کو نرم سی مسکراہٹ نے چھوا ۔
عروش !آف کے بعد میں پارکنگ میں آپ کا ویٹ کروں گا ۔ اگر آپ
مائنڈ نا کریں تو ہم کچھ وقت ساتھ گزار سکتے ہیں ۔۔۔؟اس کے ٹیکسٹ
پر عروش سوچ میں پڑ گئی ۔ کیونکہ وہ جانتی تھی ، آفس ٹائمنگ کے بعد زرا سی بھی لیٹ ہونے پر امی کس قدر پریشان ہوجاتی تھیں ۔بحرحال
میر سبطین نے پہلی بار اسے آؤٹنگ پر لے جانے کے لئے کہا تھا ۔
اسے نظر انداز کرنا عروش کو مناسب نہیں لگا ۔اوکے ۔۔۔کا مسیج
سینٹ کرنے کے بعد وہ کہنی ٹیبل پر جمائے ایک ہاتھ گال پر رکھے
امی کی متوقع پریشانی اور اس کے حل کے بارے میں سوچنے لگی ۔
آفس کا کام ختم کر کے وہ پارکنگ میں پہنچی ، میر سبطین گاڑی سے
ٹیک لگائے اس کا انتظار کر رہا تھا ۔اسے دیکھتے ہی فرنٹ ڈور کھول
دیا ۔پھر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔
اس نے برابر میں بیٹھی عروش پر ایک نظر ڈالی ۔وہ بے حد خوش
اور فریش لگ رہی تھی۔عروش نے بھی میر سبطین کی نظروں کی
حدت محسوس کی اور رخ موڑ کر اس کی طرف دیکھا ۔ دونوں کے
ہی چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ تھی ۔ وہ دونوں ایک دوسرے
کے ساتھ پر بہت خوش اور پر سکون تھے ۔
عروش !میری فیملی سے مل کر آپ کو کیسا لگا ؟میر سبطین نےاس
سے استفسار کیا ۔
بہت اچھا لگا ۔اسپیشلی رانیہ بہت لوونگ اور کیوٹ ہے ۔ڈیڈی
کو تو میں پہلے سے ہی جانتی ہوں ،وہ بہت نائس ہیں ۔اس نے
کھلے دل سے سب کی تعریف کی ۔
رانیہ کے بارے میں عروش کی رائےاس کے لئے سب سے اہم تھی میر سبطین کو سب سے ذیادہ اس بات نے متاثر کیا۔وہ رانیہ کو لے کر
بہت حساس تھا،اسے اپنی اکلوتی بہن جان سے بھی ذیادہ پیاری تھی۔
اس کی یہی خواہش تھی کہ جو بھی لڑکی اس کی بیوی بن کر اس کی
ذندگی میں آئے ،اسے رانیہ سے خصوصی لگاؤ ہو ۔ عموماً اس رشتے میں
تناؤ اور کنجائش بہت کم ہوتی ہے ۔ اسی بات کو سوچ کر وہ ہمیشہ
پریشان ہوجاتا تھا ۔ مگر اب عروش کے خیالات نے اسے مطمئین کر
دیا تھا۔اس کے چہرے پر آسودہ سی مسکراہٹ ابھری۔
میر سبطین عروش کو ساحلِ سمندر پر لے آیا تھا ۔ہاتھ میں ہاتھ ڈالے
وہ دونوں گیلی نرم ریت پر قدم سے قدم ملائے چل رہے تھے ۔
عروش کے سلکی خوبصورت بال ساحل کی ہوا سے لہرا رہے تھے ،
چند لٹوں نے اڑ کر میر سبطین کے چہرے کو چھؤا تو اس نے مسحور
ہو کر ایک لٹ کو اپنی انگلی پر لپیٹ لیا ۔عروش جھینپ کر ادھرادھر
دیکھنے لگی ۔
عروش ! ہمیشہ سے مجھے سمندر کی خوبصورتی نے اٹریکٹ کیا ہے ۔میں جب بھی بہت اداس یا بہت خوش ہوتا ہوں ،یہاں ضرور آتا ہوں ۔
گیلی ریت پر چل کر مجھے بہت سکون ملتا ہے اور میں خود کو بہت فرئش محسوس کرنے لگتا ہوں ۔
آج تم سے پہلی ملاقات کے لئے میں نے اس جگہ کو اس لئے چوز کیا ہے تاکہ شادی کے بعد ہم جب بھی یہاں آئیں ، مجھے ہماری یہ پہلی ملاقات ضرور یاد آئے کیونکہ یہ جگہ اور یہ وقت میرے حافظے میں
ہمیشہ محفوظ رہے گا ۔میرسبطین کے لہجے میں بھی محبت کا ایک سمندر
موجزاں تھا ۔عروش کے چہرے پر شرمگیں سائے لہرائے ۔
تھینکس سر ! اپنے احساسات میں مجھے شامل کر نے کے لئے،یہ لمحات
اور ملاقات میرے لئے بھی بہت قیمتی اور انمول ہیں مگر آپ نے
جس طرح اس جگہ سے اپنی وابستگی باہر ہے ، میرے لئے بھی اس
جگہ کو اتنا ہی اہم بنا دیا ہے جتنی آپ کے لئے ہے ۔اب یہ میرے
حافظے میں بھی ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوگئی ہے ۔عروش نے اسی کے
انداز میں کہا اور کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔اس کا ڈمپل بہت گہرا ہوگیا۔
میر سبطین نے اس کے اس طرح کہنے پر فلک شفاف لگایا ۔
پلیز !اب یہ سر کہنا بند کرو ،شادی کے بعد بیڈروم میں بھی اسی طرح سر کہوگی تو مجھے آفس اور
گھر کا فرق کیسے پتا چلے گا ۔سبطین نے لطیف سے انداز میں اس کی
سرزنش کی ۔
تو پھر کیا کہہ کر آپ کو پکاروں ۔۔۔؟عروش نے آنکھیں پٹپٹائیں۔
جان بولوگی تو مجھے بہت اچھا لگے گا ۔۔۔سبطین نے جان بوجھ کر
اسے چھیڑا ۔عروش یکدم اچھل پڑی اور نفی میں سر ہلانے لگی ۔
میر سبطین بے اختیار ہنس پڑا ۔
سبطین ۔۔۔۔صرف سبطین ۔۔۔میر سبطین نے اسے مشکل سے
نکالا ۔
اوکے !کوشش کرونگی ۔اب چلیں مجھے دیر ہورہی ہے ،امی پریشان
ہو رہی ہونگی۔سر۔۔۔۔عروش نے اسے تنگ کرنے کے لئے سر
کہہ کر پکارا ۔پھر اس کے خطرناک تیور دیکھ کر زبان دانتوں تلے
دبا کر ناک چڑھائی ۔
میر سبطین نے اسکی شرارت پر بڑھ کر اس کی نازک سی ناک کو انگلیوں سے دبا دیا۔
“”””””””””※””””””””””
میر سجاول نے گھر میں قدم رکھا تو وہاں ایک ہنگامہ برپا تھا ۔
ہال کے بیچوں بیچ ملازم رحیم بخش ہاتھ جوڑے پڑا تھا اور میر جعفر
اس کی درگت بنانے میں مصروف میں تھے ۔
بابا سائیں ! یہ سب کیا ہو رہا ہے ،کیوں مار رہے ہیں اسے ؟اس نے
کڑے تیوروں سے رحیم کو گھورتے ہوئے استفسار کیا ۔میر سجاول کی آواز رحیم بخش کے کانوں میں پڑی تو اس کی روح فنا ہوگئی ۔وہ جانتا
تھا اب اس کی جان کے لالے پڑ جائیں گے ۔
اسلام آباد جانے سے پہلے پچیس لاکھ کی رقم میں نے اس حرام خور کے ہاتھ سے ہی ڈریسنگ روم کے لاکر میں رکھوائی تھی۔اب میں نے
اس سے وہ رقم نکالنے کو کہا ، نمک حرام کہتا ہے رقم وہاں نہیں ہے۔غائب ہوگئی ہے ۔
اس نمک حرام کے سوا کسی اور ملازم کو میرے کمرے میں قدم نہیں
رکھنے کی اجازت نہیں،کسی ملازمہ کی اتنی جرأت نہیں کہ وہ حویلی میں ہاتھ صاف کرے یہ اس خبیث کی ہی کارستانی ہے۔
میر جعفر نے جوتا زمین پر پھینک کر پہنتے ہوئے قہر برساتی نگاہ رحیم پر ڈالتے ہوئے تفصیل بیان کی ۔
میر جعفر آج صبح ہی اسلاآباد سے سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کے
بعد گاؤں پہنچے تھے اور بد نصیب رحیم بخش کی شامت آگئی تھی ۔
چھوٹے میر سائیں ! اللہ سائیں کی قسم ،میں نے چوری نہیں کی ۔میری
پشتوں نے اس حویلی میں غلامی کی ہے ،اگر میں چوری کروں گا تو ان
سب کی روحیں تڑپیں گی ۔میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ رحیم بخش
نے میر سجاول کو ہاتھ میں چمڑے کا پٹہ لئے بڑھتا دیکھا جو اس کے اشارے پر ملازم دوڑ کر استبل سے لایا تھا ۔ وہ ہاتھ جوڑ کر گھگیانے لگا ۔
میر سجاول کے کانوں میں رحیم بخش کی کوئی فریاد کوئی دہائی اثر نہیں
کر رہی تھی ۔ اس چمڑے کے پٹے سے رحیم بخش کی کھال ادھڑتی
جا رہی تھی ۔ تمام ملازم لائن سے کھڑے تھر تھر کانپ رہے تھے ۔
فائزہ بیگم دور پڑے صوفے پر بیٹھیں یہ تماشہ سکون سے ملاحظہ کر رہی
تھیں ۔
سوہنا سائیں !بس کر دو ،کیوں اس حرام خور کے لئے خود کو ہلکان کر
رہے ہو ۔اس کو نورے کے حوالے کرو ،وہ خود ہی اس سے سچ اگلوا لیگا ۔جب میر سجاول کا جنون حد سے سوا ہونے لگا تو وہیں سے بیٹھی
بلند آواز میں بڑے لاڈ سے میر سجاول کو قابو کرنے کی کوشش کی ۔
رقم تو وہ پہلے ہی بڑی صفائی سے لاکر سے نکال کر اپنے بھائی کو روانہ
کر چکی تھیں ۔گاہے بگاہے موقع دیکھ کر وہ میر جعفر کی نظر بچا کر اس
کی مدد کرتی ہی رہتی تھیں ۔وہ بھی چند دنوں میں رقم اڑا کھا کر ، پھر سےبہن کے سامنے دستِ سوال ہوجاتا تھا اور فائزہ بیگم اپنے اوباش بھائی کی محبت میں میر جعفر کی دولت بے دریغ لٹا دیتیں مگر اس بار زرا جلد بازی میں رقم میر جعفر کی نظروں میں آگئی اور رحیم بخش پھنس گیا ۔کیونکہ میر جعفر کے تقریباً کاموں کی زمہ داری رحیم بخش پر ہی تھی ۔
نورے ! اس نمک حرام کو کواٹر میں لے جاؤ اور ایسی مرمت کرو کے
یہ خود اگل دے ۔اس سے رقم برآمد کرو اور پھر تھانے پہنچا دینا ۔
باقی کا کام تھانیدار خود سنبھال لے گا ۔میر سجاول نے حقارت سے
کہتے ہوئے رحیم کو ایک لات رسید کی ۔
رحیم بخش کی چیخ و پکار آہ و بقا کو خاطر میں نا لاتے ہوئے نورا اسے گھسیٹتا ہوا حویلی کے پچھلے حصے کی طرف لے جارہا تھا۔اسے ہڈیوں کا
سرمہ بنانے میں کمال حاصل تھا ۔
“””””””””””※”””””””””””
موسم بہت خوشگوار ہو رہا تھا ۔ دن بھر چلچلاتی دھوپ پڑنے کے بعد شا م میں اچانک ہی بادلوں نے آسمان کو ڈھک دیا تھا۔رانیہ لان میں بیٹھی نگین کا انتظار کر رہی تھی جو موسم کی رنگینیوں کو دیکھ کر پکوڑے
بنانے کے لئے کافی دیر سے کچن میں تھی۔
نگین ٹرالے ہاتھ میں لئے کچن سے نکل رہی تھی جب اچانک ہی حنین
نے پیچھے سے اس کی چٹیا کھینچی ۔اور نگین کے میں سے متوقع چیخ برآمد
ہوئی جس پر حنین دل کھول کر ہنسا۔
نگین کے ہاتھ سے ٹرے چھوٹتے چھوٹتے بچی تھی لیکن وہ اس کی شرارت سمجھ کر فوراً ہی سنبھل گئی۔
او،ہو،موسم انجوائے کرنے کی بھرپور تیاری کی گئی ہے۔اکیلے اکیلے ہی مزے اڑائے جارہے ہیں ۔ظالموں ! ہمیں بھی انوائیٹ کرلیتے ۔وہ اس کے پیچھے چلتے ہوئے بولا۔
تمھیں انوائیٹ کر کے ہمیں اپنی درگت نہیں بنوانی تھی۔رانیہ چٹخ کر
بولی ،وہ نگین کی چیخ کی آواز سن چکی تھی ۔
ہا،ہاہا۔وہ تو میں ویسے بھی بناؤں گا ۔کیوں نگین ۔۔۔ وہ شرارت سے کہہ کر نگین کی طرف مڑا اور جھٹ سے ٹرے میں سے پکوڑا اٹھا کر منہ
میں رکھ لیا۔
نگین اور رانیہ مسکرا کر رہ گئیں۔
اچھا سنو ! مووی دیکھنے چلتے ہیں ،اب تو میں بور ہو گیا ہوں ۔لندن میں تو فرصت ہی نئیں ملتی تھی اور یہاں فارغ رہ رہ کر بور ہو گیا ہوں وہ
بیزار سا منہ بنا کر بولا۔
گڈ آئیڈیا۔۔۔۔۔کیوں نا ہم اس پروگرام میں عروش اور بھائی کو بھی شامل کر لیں ۔بہت مزہ آئیگا ،اس طرح بھائی اور عروش کو بھی کچھ ٹائم مل جائیگا ایک دوسرے کے لئے ۔رانیہ جھٹ سے بولی۔
میں شیور ہوں کے بھائی نے اب تک عروش کو ایک ڈنر بھی نہیں کروایا ہوگا ۔حنین نے رانیہ کو سراہتے ہوئے کہا۔
ہمم،تو پھر ٹھیک ہے میں بھائی کو کال کرکے راضی کرنے کی کوشش کرتی ہوں ۔وہ اتنے اچھے تو ہیں نہیں کے فوراً ہی مان جائیں۔ رانیہ
نے خدشہ ظاہر کیا۔
تم رکو ،میں خود کال کرتا ہوں ۔مجھے پتا ہے وہ میری بات نہیں ٹالیں
گے ۔حنین کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہو۔لیکن اسکی آنکھوں میں شرارت
ناچ رہی تھی ۔
پودوں کو پانی دیتے ہوئے مالی کے ہاتھ سے اس نے پائپ لیا اور اس
کا رخ ان دونوں کی جانب کر کے باقاعدہ ان پر چھڑکاؤ کرنے لگا ۔
خود کو پانی سے بچانے کی سعی میں وہ دونوں پورے لان میں دوڑیں
لگا رہی تھیں ۔
“”””””””””””※”””””””””””
زرتاج کی دوست کی شادی تھی ۔ میر سجاول جانتا تھا کہ زرتاج
اس شادی میں ضرور شرکت کرے گی اس لئے اس نے صبح زرتاج
کو راستے میں روک کر تاکید کی تھی کہ آج رات وہ میک اپ اتارے
بنا اسی لباس میں اس سے ملنے آئیگی جو اس نے شادی میں زیب تن
کیا ہوگا ۔
زرتاج اس کی انوکھی ،نرالی فرمائشوں پر بوکھلا کر رہ جاتی تھی مگر ناچاہتے ہوئے بھی اس کا دل میر سجاول کی حکم نما فرمائش کو پوراکرنے کے لئے مچل سا جاتا تھا ۔وہ دھیرے دھیرے اس کے خوف اور دہشت سے نکل کر اس کی محبت کے حصار میں جکڑی جا رہی تھی ۔
یہ سب کیوں اور کیسے ہوگیا تھا یہ تو وہ نہیں جانتی تھی مگر میر سجاول کی چاہت کا احساس تھا بہت دلفریب اورمسحور کن وہ اس کی طرف کھینچی چلی جارہی تھی ۔چاہے جانے کا احساس اسے سب میں منفرد اور معتبر بنا گیا تھا۔
اب اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کیسے اتنے لوگوں کی موجودگی میں
میر سے ملنے کے لئے نکلے ۔پھر وہ لچھ سوچتے ہوئے مطمئین سی ہو کر
بیٹھ گئی اور گھر واپس جانے کا انتظار کرنے لگی ۔لڑکیاں مہندی کے
گانے گا رہیں تھیں ڈھولک بج رہی تھی مگر وہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچی ہوئی تھی ۔
مہندی کی تقریب ختم ہوئی تو سب اپنے اپنے گھروں کے لئے روانہ
ہونے لگیں ،زرتاج بھی اپنی اماں کے ساتھ گھر کے لئے نکل پڑی
سب سے ذیادہ جلدی اسے ہی تھی گھر پہنچنے کی ۔
وہ دونوں گھر میں داخل ہوئیں تو اس کا بابا بے خبر سورہا تھا ،اس نے شدید نیند اور تھکن کا بہانہ بنا کر ،کپڑے تبدیل کئے بغیر ہی بستر سنبھال
لیا ۔ماں نے بھی اس خیال سے نہیں ٹوکا کہ وہ اسکول سے واپس آکر
بھی نہیں سوتی تھی اور اب بھی کچھ دیر بعد ہی اسے اسکول کے لئے
پھر سے جاگنا تھا ۔
تھوڑی دیر گزرنے پر زرتاج نے ماں کے گہری نیند سوجانے کی تسلی کی
اور اپنے پیروں سے وہی پازیب اتار کر ہاتھ میں پکڑ لیں جو میر سجاول
اس رات اسے پہنا گیا تھا ۔دھیرے سے دروازہ کھول کر ، بڑی سی
چادر میں خود کو لپیٹے اس کے قدموں رخ نہر کی جانب تھا۔
ڈری سہمی سی مسلسل دائیں بائیں دیکھتی ہوئی وہ نہر کنارے پوہنچی تو
درخت سے ٹیک لگائے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے میر سجاول اس کے
انتظار میں کھڑا تھا ۔ اسے دیکھتے ہی میر سجاول کے چہرے پر بڑی دلکش اور حسین مسکراہٹ ابھری ۔اس نے سگریٹ نیچے پھینک کر
پاؤں سے مسل دی اور والہانہ اس کی طرف بڑھا ۔
زرتاج شاکنگ پنک کلر کے جھلملاتے ہوئے سوٹ میں مٹے مٹے سے میک اپ اور ہلکی سی جیولری میں قیامت ڈھا رہی تھی ۔اسکا ہوش
ربا حسن چاند کی روشنی میں چاند کو بھی مات دے رہا تھا ۔
میرے سرکار !اتنی دیر لگادی ،قسم سے آنکھیں تھک گئیں راہ تکتے ۔
میر نے اسے دونوں بازوؤں سے پکڑ ا اور گلے سے لگا کر خود میں سمو
لیا۔زرتاج اس اچانک حملے کے لئے تیار نہیں تھی ۔اسکی بانہوں میں
مچل کر رہ گئی ۔
میر سائیں ! آپ کو زرا سی بھی میری عزت اور اپنی جان کی پرواہ
نہیں ہے ۔اتنی ضد بھی اچھی نہیں ہوتی ۔آپ کو اندازہ نہیں آپ کی وجہ سے میں کتنی مشکل میں گھر جاتی ہوں ۔ اس نے دھیمے لہجے میں شکوہ کیا ۔انداز روٹھا روٹھا سا تھا۔میر سجاول فدا ہوگیا۔
اس کی جگہ اگر کوئی اور میر سجاول سے یہ بات کہتا تو وہ اس کی زبان کھینچ لیتا مگر سامنے اس کی محبوب ہستی کھڑی تھی ۔
میری جان ! تمھاری عزت کی مجھے بہت پرواہ ہے مگر میرا جو یہ دل ہے ناں۔۔۔ یہ مجبور کرتا ہے تمھارے دیدار کے لئے ،مجھے بھی اور تمھیں بھی اور میری جان !میری جان کی پرواہ مجھے نہیں ، ایسی سو جانیں تمھارے دیدار کے لئے وار دوں ۔وہ زرتاج کا ہاتھ اپنے سینے
پر دل کی جگہ رکھتے ہوئے بولا ۔اسکی آواز جذبات سے بوجھل ہورہئ
تھی ۔زرتاج نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا ۔
میر سجاول کی جان لینے اور دینے کی باتوں سے اس کی جان نکل جاتی
تھی ۔میر سجاول نے بغور اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کا دیکھا۔
پھر اس کو خود سے تھوڑا دور جا کر واپس آنے کے لئے کہا ۔
زرتاج ناسمجھی کے عالم میں چند قدم پیچھے چلی گئی ۔اس کے حکم سے
انحراف کرنا تو زرتاج کے لئے ممکن ہی نہیں تھا اور کیوں ،کیا جیسے
سوالات کرنے کی جرأت بھی نہیں تھی ۔وہ میر سجاول کے پل پل
بدلتے موڈ سے تو ویسے ہی خائف رہتی تھی ۔
میر نےپشت پر ہاتھ باندھے اسے سر سے پاؤں تک پر شوق نگاہوں سے دیکھا پھرسر کےاشارے سے واپس اپنے پاس بلایا۔وہ دھیرے دھیرے
قدم اٹھاتی واپس آگئی ۔
غلطی ہوگئی ،آج مولوی کو پکڑ کر ساتھ لانا چاہئے تھا ۔دوبول پڑھواتا
اور ساتھ لے جاتا ۔ میر سجاول سنجیدگی سے کہتے ہوئے تاسف سے
سر ہلانے لگا مگر اس کی آنکھیں مسکرا رہی تھیں ۔ زرتاج بری طرح
جھینپ گئی ۔
بس یہ الیکشن ہوجائیں ،اس کے بعد رشتہ نہیں ،بارات لے کر آؤں گا۔
میر کی اس بات پر زرتاج کا دل پوری قوت سے دھڑکا ،چہرے پر گلال بکھر گیا ۔میر نے بڑی دلچسپی سے اس کے چہرے پر ابھرنے والے
تاثرات کو اپنی نظروں میں قید کیا۔وہ نیچے زمین پر بیٹھ گیا اور زرتاج
کو بھی کھینچ کر اپنے اوپر گرا لیا ۔
سائیں ! اب میں جاؤں ۔۔۔؟ اماں بابا میں سے کوئی جاگ گیا تو مصیبت ہو جائے گی ۔ وہ میر کی بات نظر انداز کرنے کے لئے
پریشان سی ہوکر بولی ۔ میر سجاول نے اس کے دودھیا ہاتھ پکڑ کر
لبوں سے لگائے ۔
سوہنی پرنسز ! آنے سے پہلے ہی جانے کی رٹ لگا دیتی ہو ۔یار !
سارا موڈ خراب کردیتی ہو ۔میر بدمزہ ہوگیا ۔وہ زرتاج کی گود میں
سر رکھے آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا ،اسکی بات پر آنکھیں کھول کر زرتاج کو گھورا ۔زرتاج نے حیرانی سےاس کی طرف دیکھا ۔پھر
اس کی نظروں سے خوفزدہ ہو کر پلکیں جھکا لیں ۔
سائیں ! خدا کا خوف کریں اتنی دیر گزر گئی مجھے آئے ہوئے ۔اب
تو جانے دیں ۔کسی نے دیکھ لیا تو بہت برا ہوگا ۔مجھے خود سے بھی
ذیادہ آپ کی پرواہ ہے ۔وہ بے بسی سے اس کی منت کرنے لگی ۔
میر سجاول اس کی بے بسی پر جی بھر کر محفوظ ہوا ۔اس کی مخمور
ہوتی نگاہیں اس کے چہرے پر مرکوز تھیں ۔
میر سجاول کے عشق اور زرتاج کے حسن کا جادو اس وقت اس کے سر پر چڑھ کر بول رہا تھا ۔
اچھا رو مت ! چلی جانا ، پہلے ادھر آؤ ۔ میر نے ہاتھ اونچا کر کے
انگلیاں اس کے بالوں میں پھنسائیں اور اس کے چہرے کو اپنے
چہرے پر جھکا لیا ۔
قسمت ان کے ملن پر دور کھڑی اداسی سے مسکرا رہی تھی۔
جاری ہے
