Rate this Novel
Episode 24
صبح سات بجے پولیس نے میر سجاول کے فارم ہاؤس پر چھاپا مار کر مزارعے نواز کی بیٹی کو بازیاب کروالیا تھا اور فارم ہاؤس میں موجود میر سجاول کے دوستوں کو بھی گرفتار کر لیا تھا ۔پورے گاؤں میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی کہ نواز کی بیٹی کو میر سجاول نے اغوا کیا تھا ۔
اس خبر کے ٹھیک ایک گھنٹے بعد ایک بلیک لینڈ کروزر رانیہ کو اس کے گھر سے کچھ فاصلے پر ڈراپ کر کے چلی گئی تھی ۔
میر غضنفر نڈھال سے وہیں لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے ۔گھر کے تقریباً سب ہی افراد وہاں موجود تھے ۔میر سجاول کے ساتھ فائزہ بیگم اور میر جعفر بھی کراچی پہنچ چکے تھے ۔
میر سجاول اور میر سبطین اب تک رانیہ کا پتہ لگانے میں ناکام تھے کیونکہ وہ کسی بھی طرح ڈرائیور کو ٹریس نہیں کروا سکے تھے ۔معظم شاہ نے بہت پکا کام کیا تھا ۔ وہ کھلے دروازے سے اندر چلی آئی ۔
رانیہ میری بچی ! تم کہاں چلی گئیں تھیں ، تم ٹھیک ہو ناں ؟ میر غضنفر لپک کر اس کے پاس پہنچے اور اسے اپنی آغوش میں بھر لیا ۔
مجھے معظم شاہ نے کڈنیپ کر لیا تھا اور ابھی وہ خود ہی مجھے یہاں چھوڑ گیا ہے ۔مجھے نہیں پتا اس نے مجھے کیوں کڈنیپ کروایا تھا ۔رانیہ نے ہچکیوں کے دوران سب کے سروں پر بم دے مارا۔
میر سجاول کے جسم کا سارا خون اس کے چہرے پر سمٹ آیا ۔غصے کی شدت سے اس کی کنپٹی کی رگیں تن گئیں تھیں ۔تبھی میر سبطین کے موبائل پر unknown نمبر سے کال آئی ۔
ہیلو ! میر سبطین اسپیکنگ ۔
معظم علی شاہ بات کر رہا ہوں ۔بہن خیر خیریت سے گھر پہنچ گئی ہوگی ،اس کے لئے تمھیں میرا شکر گزار ہونا چاہئے ورنہ تمھارے کزن نے تمھیں برباد کروانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔شاہ تمسخر سے گویا ہوا ۔
کیا بکواس کر رہے ہو ۔تم نے میری بہن کو کڈنیپ کروا کہ جس کمینگی کا مظاہرہ کیا ہے ،تم سے اسی طرح کے گھٹیا پن کی امید کی جاسکتی ہے۔میر سبطین نے بھنا کر کہا ۔
تمیز سے بات کرو ، آخربہنوئی ہوں تمھارا۔شاہ نے اسے جھڑکنے کے انداز میں طنز کیا ۔
میر سبطین لب بھینچ کر رہ گیا ۔اس کی پیشانی پر لاتعداد شکنیں پڑ گئیں تھیں ۔
میر سبطین ! تم کس گھٹیا پن کی بات کر رہے ہو ۔۔۔۔۔گھٹیا توتمھارا خاندان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمھارے گھٹیا کزن نے میرے گاؤں کی بچی کو کڈنیپ کروایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم کیا سمجھتے ہو اس کے بدلے میں تم لوگوں کو چھوڑ دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے علاقے کی لڑکی کی عزت میرے گھر کی عورتوں کے برابر ہے ۔
اپنے بھائی کا گریبان پکڑو ، جو دوسروں کی عزتیں خراب کرتا پھرتا ہے اگر وہ میرے علاقے کی لڑکی کی عزت خراب نہیں کرتا تو میں بھی تمھارے گھر کی عزت پر ہاتھ نہیں ڈالتا ۔
تمھارے ملازم میری جیب میں رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے خرچوں پر پلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ایک اشارے پر جان بھی دینے کے لئے تیار ہیں پھر رانیہ کو کڈنیپ کروانا میرے لئے کونسا مشکل کام ہے ۔وہ شانِ بے نیازی سے انکشاف کر رہا تھا۔
اس کے انکشافات پر میر سبطین کے لفظ گم ہوگئے تھے ۔وہ تسلیم کرتا تھا کہ میر سجاول ایک بگڑا ہوا نوجوان ہے مگر اسے میر سجاول سے ایسے کارنامے کی امید ہر گزنہیں تھی ۔
میں اپنے دوستوں سے بے خبر رہ سکتا ہوں مگر اپنے دشمنوں سے کبھی غافل نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بات ذہن نشین کرلو ۔۔۔۔۔تم
لوگ جتنا مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کروگے ۔۔۔۔۔۔۔۔بدلے میں اس سے ڈبل نقصان اٹھاؤ گے ۔وہ سفاکی سے بولا ۔
کچھ دیر قبل ہی میں نے ریڈ کروا کر اس بچی کو تمھارے کزن کے فارم ہاؤس سے برآمد کروایا ہے ۔شاہ نے درشتگی سے کہا اور کال کاٹ دی ۔میر سبطین موبائل کان سے ہٹا کر میر کی طرف گھوم گیا ۔
تم دوسروں کے گھر میں نقب زنی کروگے تو ہمارا اپنا گھر کیسے محفوظ رہے گا ۔میر سبطین نے طیش کے عالم میں میر سجاول کا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑا۔
یہ تم کیا کہہ رہے ہو ،کس کا فون تھا ،کیا کیا ہے میں نے ۔۔۔؟ میر سجاول نے حیرانگی سے کہتے ہوئے اپنے کالر سے میر سبطین کے ہاتھ جھٹکے ۔
کیا یہ جھوٹ ہے ۔۔۔۔تم نے کل شاہ پور سے کسی لڑکی کو اغوا کروایا تھا ،جس کے بدلے میں معظم شاہ نے رانیہ کو اغوا کروایا ۔کچھ دیر قبل ہی تمھارے فارم ہاؤس سے وہ لڑکی برآمد ہوئی ہے ۔
مجھے شرم آتی ہے تمھیں اپنا بھائی کہتے ہوئے ،تمھارے اتنے شرمناک کام میں ملوث ہو نے کی وجہ سے میں اپنی بہن پر ہونے والے ظلم پر ایکشن بھی نہیں لے سکتا ۔میر سبطین اسے بے نقط سنا رہا تھا۔
سارا گھر لب بستہ تھا حتی کہ میر جعفر اور فائزہ بیگم بھی منہ سے ایک الفاظ نکالنے کے قابل نہیں تھے ۔
ہاں جھوٹ ہے یہ سب ،وہ مجھ پر بہتان لگا رہا ہے ۔میں اس بارے میں لاعلم ہوں۔یہ میرے خلاف سازش کی گئی ہے ۔میر سجاول بلبلا رہا تھا ۔
ہم کیسے مان لیں کہ یہ سازش ہے جب کہ وہ لڑکی تمھارے فارم ہاؤس سے برآمد ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ خود تو وہاں چل کر نہیں جا سکتی ۔۔۔۔یقیناً تم نے ہی اسے اٹھوایا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہاں تمھارے دوستوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے ۔میر غضنفر نے غضبناک ہو کر کہا ۔
جب میں نے ایک بار کہہ دیا ہے کہ میرا اس واقع سے کوئی واسطہ نہیں پھر مجھے خود کو جسٹیفائے کرنے کی ضرورت ہے نا عادت ۔میر سجاول کا جواب برجستہ تھا ۔
معظم شاہ کو تو میں اب دیکھ لوں گا ، مجھ پر جھوٹا الزام لگانے کی جو حرکت اس نے کی ہے اس حرکت کا مزہ تو اسے چکھا کر رہوں گا ۔میر سجاول خطرناک حد تک سنجیدہ لہجے میں کہہ کر دندناتا ہوا وہاں سے نکل گیا ۔
میر سائیں ! میری بات تو سنو ۔کوئی کچھ بھی کہے ،مجھے تم پر پورا بھروسا ہے ۔مجھے یقین ہے تم ایسا کچھ بھی نہیں کرسکتے ۔فائزہ بیگم چلاتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگی تھیں مگر اس نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا تھا ۔
اس کے سر پر تو اپنی بدنامی اور بے عزتی کا بدلہ لینے کی دھن سوار ہوگئی تھی ۔
“””””””””””※””””””””””
معظم شاہ رات گئے حویلی پہنچا تھا ،کمرے میں داخل ہوا تو بیڈ پر عروش کے سرہانے رخسانہ بیگم بیٹھی ہوئی تھیں ۔کمرے میں مکتوم شاہ بھی موجود تھا ۔اسے دیکھتے ہی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
اماں ! میں نے ان کا چیک اپ کر لیا ہے ، بی پی تھوڑا لو ہے ۔گھبرانے کی کوئی بات نہیں ، ویک نیس کی وجہ سے انہیں چکر آگیا تھا ۔
باقی کراچی میں ایک لیڈی ڈاکٹر ہیں جو بہت قابل ہیں ،میں ان سے اپائنٹمنٹ لیتا ہوں ،وہ بھابھی کا مکمل چیک اپ کر لیں گی آپ کل انہیں کراچی لے جائیے گا ۔مکتوم شاہ نے نظریں کر کہا اور اسٹیتھو اسکوپ ہاتھ میں تھامے فوراً ہی کمرے سےنکل گیا ۔
شاہ ! مبارک ہو ،ہمارے گھر میں چھوٹا سا مہمان آنے والا ہے ۔میں دادی بننے والی ہوں ۔رخسانہ بیگم کا چہرہ خوشی سے تمتمارہا تھا ۔وہ عروش کے صدقے واری ہوتے ہوئے بولیں ۔شرم سے عروش کا چہرہ سرخ پڑ گیا ۔
ایک پل کے لئے شاہ کے چہرے پر بھی خوشی کی رمق آئی مگر صرف ایک پل کے لئے ،دوسرے ہی پل اس کا چہرہ کسی بھی قسم کے تاثرات سے عاری ہو گیا ۔
خیر مبارک ۔۔۔میں بہت تھکا ہوا ہوں ، آرام کرنا چاہتا ہوں ۔وہ بے تاثر لہجے میں بولا ۔
ٹھیک ہے ، تم لوگ آرام کرو ،میں بھی اپنے کمرے میں جارہی ہوں ۔
عروش ! میری جان تم سونے سے پہلے دودھ ضرور پی لینا ۔رخسانہ نے
اٹھتے ہوئے دودھ کے گلاس کی طرف اشارہ کیا اور تاکید کرتی ہوئی چلی گئیں ۔
عروش بھی بیڈ سے اتر کر واش روم جانے کے لئے شاہ کے برابر سے گزری تو شاہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
کہاں جا رہی ہو ۔۔۔؟
واش روم ۔۔۔کپڑے چینج کرنے ہیں ۔عروش دھیرے سے بولی اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں ۔
پہلے میرا سر دبا دو ، سر میں بہت درد ہورہا ہے ۔شاہ نے پیشانی مسلتے ہوئے کہا اور بیڈ پر جا کر لیٹ گیا ۔
اب کیا صبح تک وہیں کھڑے رہنے کا ارادہ ہے ،جو کہا ہے وہ کرو ۔شاہ نے گرج کر کہا ۔عروش سر سے پاؤں تک ہل گئی ،پلک جھپتے میں بیڈ تک پہنچی اور شاہ کے سرہانے بیٹھ کر اس کا سر دبانے لگی ۔ایک بار پھر اسے اپنی قسمت پر جی بھر کر رونے کا دل چاہا مگر اس بات آنسو اس کے اندر گر رہے تھے ۔
اسے سر دباتے ہوئے پورا گھنٹہ ہونے والا تھا ۔شاہ آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا ۔عروش کو نیند کے جھونکے آنے لگے تبھی شاہ نے زرا سی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر خود پر گرا لیا ۔
“””””””””””※””””””””””
میر سجاول نے پوری رات آنکھوں میں کاٹ کر گزاری تھی ۔ایک لمحے کے لئے بھی وہ سو نہیں سکا تھا ۔غصے کی انتہا پر پہنچ کر اس کا دماغ ماؤف ہوچکا تھا ۔
اس نے آج کی تاریخ میں سب کے سامنے اپنی ہونے والی بےعزتی کا بدلہ لینے کی ٹھان لی تھی کیونکہ صرف وہی جانتا تھا کہ معظم علی شاہ نے اسے نیچا دکھانے کے لئے یہ سازش کی تھی۔۔۔۔۔۔اسی بہانے اس کے خاندان کی عزت اچھالی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔رانیہ کو اغوا کیا تھا۔
اس بدلے کی آگ میں وہ اپنے ہوش و حواس بھلا بیٹھا تھا ۔احساس شکست سے پاگل ہورہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس حالت میں اسے یہ احساس بھی نہیں رہا تھا کہ وہ اپنے اگلے قدم سے اپنے ہی ساتھ برا کرنے جارہا ہے ۔اپنے ہی دل کی دنیا اجاڑنے والا ہے ۔
“””””””””””””※””””””””””
زرتاج اسکول کے لئے نکلی تھی ابھی وہ اپنے علاقے کی حدود پار کر کے اسکول سے کچھ فاصلے پر ہی تھی کہ سامنے سے آتی ہوئی میر سجاول کی لینڈ کروزر نےاس کے بے حد نزدیک پہنچ کر بریک لگائے ،گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلا اور میر سجاول نے ہاتھ بڑھا کر اسے بے دردی سے اندر کھینچ لیا ۔گاڑی دوبارہ تیز رفتاری سے چل پڑی۔
میر سائیں !پلیز میرا ہاتھ چھوڑیں ،مجھے اسکول کے لئے دیر ہورہی ہے۔
زرتاج نے اپنی کلائی اس کی گرافت سے چھڑانے کی کوشش کی ۔ناجانے کیوں آج میر کی گرفت میں اجنبیت محسوس ہورہی تھی ۔
آج اس گرفت کی سختی میں محبت کی وہ نرمی شامل نہیں تھی جس کی زرتاج عادی ہوچکی تھی ۔اس نے دہائی دی مگر میر سجاول نے یوں ظاہر کیا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہیں ۔ وہ خاموشی سے باہر کے منظر پر نظر جمائے بیٹھا رہا ۔
زرتاج کو اس کے انداز میں کچھ غیر معمولی پن کا احساس ہوا ۔گاڑی
سن پورہ کی حدود سے نکل کر ہائی وے کے راستے پر گامزن تھی ۔
سائیں ! آپ مجھے کہاں لے جارہے ہیں ۔۔۔؟ پلیز ! گاڑی روکیں مجھے
کہیں نہیں جانا ۔اس نے شور مچایا مگر میر کے تاثرات میں کوئی تبدیلی
واقع نہیں ہوئی ۔
زرتاج کو جیسے جیسے معاملے کی گمبھیرتا کا احساس ہوتا جارہا تھا ،ویسے
ہی اس کا دل بیٹھنے لگا ۔ اس نے میر کو اللہ کے واسطے دئیے ہاتھ
پیر جوڑے مگر اس وقت میر سجاول کے سر پر جو جنون سوار تھا ،
اس کے آگے زرتاج کی محبت بھی مانند پڑ گئی تھی ۔
اس کا مطلب ہے چاچا نواز کی بیٹی کے نام کے ساتھ جو افواہ سنی تھی وہ افواہ نہیں حقیقت تھی ۔آپ نے ہی اسے بھی اغوا کروایا تھا۔زرتاج نفرت آمیز لہجے میں چیخی ۔
میر سائیں !آپ بہت برے ہیں ، بہت برے ۔جتنا سب گاؤں والے کہتے ہیں ۔۔۔۔۔اس سے بھی ذیادہ برے ۔مجھے آپ سے نفرت محسوس ہورہی ہے ۔
زرتاج کی بات سن کر میر کا دماغ گھوم گیا ،اس نے شعلہ بار نگاہوں سے زرتاج کو دیکھا پھر اسے ایک زوردار تھپڑ مارا۔
چپ ۔۔۔بلکل چپ ۔جب تمھیں بھی یہی سچ لگتا ہے تو پھر مجھے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اس سے پہلے شاید مجھے تم پر رحم آجاتا مگر اب ہر گز نہیں آئے گا ۔شاہ پور کا کوئی بھی فرد رحم کے قابل نہیں ۔وہ بری طرح غرایا ۔
زرتاج گال پر ہاتھ رکھے خوف ذدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
میر کا یہ لب و لہجہ ، یہ انداز تو اس کے لئے سراسر مختلف تھا ۔خوف کی شدت سے وہ ایک لفظ مزید نہیں کہہ سکی ۔
تقریباً ایک گھنٹےکی مسافت طے کرنے کے بعد گاڑی اس کے شاندار فارم ہاؤس کے سامنے پہنچ کر رک گئی ۔مصلح گارڈ نے دیکھتے ہی ہاتھ ماتھے تک لے جاکر سلام کیا اور بڑا سا دروازہ کھول دیا ۔ ڈرائیور
تیزی سے گاڑی اندر لے گیا ۔سامنے طویل و عریض لان اعلی قسم کے
پتھروں سے بنی روش اور بیرون ملک سے لائے گئے پودوں سے بڑی
محارت اور خوبصورتی سے لان کے دونوں طرف باڑ لگائی گئی تھی ۔
میر سجاول نے لینڈ کروزر کا دروازہ کھولا اور نیچے اتر کر زرتاج کو باہر
نکالا ۔
میرسائیں ! مجھے اندر نہیں جانا ، مجھے معاف کردیں ۔میرے ماں باپ مر
جائیں گے ،وہ یہ ذلت برداشت نہیں کرسکیں گے ۔مجھے چھوڑ دیں۔
آپ تو مجھ سے محبت کے دعوے دار تھے پھر آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں ۔
زرتاج نے اپنا احتجاج جاری رکھا جسے میر سجاول نے مکمل نظرانداز
کرتے ہوئے اسے باہر کھینچا مگر وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نا ہوئی ۔
تب میر نے اسے بازؤں میں اٹھا لیا اور اپنے فارم ہاؤس کے بیس
مینٹ کی طرف قدم بڑھائے ۔زرتاج نیچے اترنے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی مگر مسلسل ناکام ہو رہی تھی ۔
میر سجاول نے بیس مینٹ میں پہنچ کر اسے نیچے اتارہ اور دروازہ بند کر دیا ۔وہ ایک بہت بڑا مکمل فرنشڈ کمرہ تھا ۔جس میں اے۔سی واش
روم ،صوفہ ،بیڈ غرض کہ ہر سہولت موجود تھی ۔زرتاج نے پیچھے سے
میر کی شرٹ دبوچ کر جھبجوڑا ،مگر جب میر نے پلٹ کر دیکھا تو اس کی
آنکھوں میں وحشت ہی وحشت تھی ۔
زرتاج ہراساں ہوکر دوقدم پیچھے ہٹ گئی ۔
جاری ہے
