59.5K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

میر سائیں ! روز روز آدھی رات کو گھر سے نکلنے میں مجھے بہت ڈر لگتا ہے۔اندھیرے اور سنسان گلیوں سے گزر تے ہوئےخوف سے میری جان نکلتی ہے ۔زرتاج نے ڈرتے ڈرتے اپنی مشکل بیان کی ۔سردی کی شدت سے وہ گاڑی میں بیٹھے ہوئے بھی ٹھٹھر رہی تھی ۔اس کی ہلکی سی شال اسے سردی سے محفوظ رکھنے میں ناکام تھی ۔
اچھا ! میرے علاوہ بھی تمھیں کسی اور چیز سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔۔اسٹرینج ۔وہ آئی برو اچکا کر قدرے سنجیدگی سے بولا مگر اس کا موڈ فل
شرارت بھرا تھا۔ڈارک گرے شلوار سوٹ میں رات کے اس پہر
بھی وہ نکھرا نکھرا سا پرنس چارمنگ لگ رہا تھا۔اس کی نفاست سے
تراشی ہوئی دلکش موچھوں تلے خوبصورت ہونٹوں پر مستقل شریر سی
مسکراہٹ کھیل رہی تھی ۔
دلبر سائیں ! یوں کہو نا مجھ سے ذیادہ شادی کی جلدی تمھیں ہو رہی ہے۔ ہم دونوں کی یہ ادھوری سی لاقات تمھیں بھی کھلنی لگی ہے،تم بھی ہر پل ہر وقت ،ہر جگہ ،سوتے ،جاگتے میرا ساتھ چاہتی ہو۔
وہ بڑی ادا سے فلمی انداز میں بول رہا تھا۔
کیوں ۔۔۔صحیح کہہ رہا ہوں ناں ؟میر نے اس کو ٹھٹھرتا کانپتا دیکھا تو اپنے گلے میں لپٹی بھاری مردانہ شال اس کے گرد لپیٹتے ہوئے شرارت سے ایک آنکھ دبا کر پوچھا ۔
میر نے اس کی ہی بات میں اس کو پھنسا کر ایک زبردست قہقہہ لگایا۔پھر بڑی معنی خیز مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اس کے چہرے کے بگڑتے ہوئے زاویے نوٹ کرنے لگا ۔
سائیں ! میرا وہ مطلب نہیں تھا ،میں بس یہ چاہتی ہوں آپ روز روز
ملنے کی ضد نا کیا کریں ۔میری جان مشکل میں آجاتی ہے ۔زرتاج نے ہاتھ جوڑ کر التجا کی ۔میر کی بات پر وہ پہلے بری طرح جھینپ گئی،پھر اسے ناگوار تو گزری مگر اس نے فوراً ہی چہرے کے تاثرات بدل کر میر کو ظاہر نہیں ہونے دیا ۔
اچھا میری جان ! پھر تم ہی بتا دو ،کتنے دن بعد ملنے کی ضد کیا کروں ۔۔۔؟وہ مسکراہٹ دبائے معصوم سی شکل بنائے پوچھ رہا تھا ۔اس وقت وہ بلکل بھی سیریس موڈ میں نہیں تھا ۔
افففف ! زرتاج نے بے ساختہ اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا ۔
جانِ سجاول !اپنی قسمت کو کوس رہی ہو یا مجھے ،جس نے تم سے دل
لگا کر تمھیں مشکل میں ڈال دیا ہے ۔میر سجاول نے ڈیش بورڈ پر رکھے
سرخ گلاب کو ہاتھ بڑھا کر اٹھا یا اور زرتاج کے بالوں میں سیٹ کرتے ہوئے شرارت سے گویا ہوا۔
سائیں ! اللہ نہ کرے جو میں کبھی آپ کو کوسوں ۔ زرتاج نے معصومیت سے ہاتھ کانوں کو لگائے ۔
اتنا چاہتی ہو مجھے ۔۔؟میرکا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
زرتاج کے گالوں پر یکدم سرخی بکھر گئی ،ہونٹوں پر شرمگیں مسکراہٹ
نے چھب دکھلائی جسے چھپانے کے لئے وہ رخ موڑ کر باہر اندھیرے
میں دیکھنے لگی ۔
میر نے بڑی دلچسپی سے اس کا یہ روپ دیکھا پھراس کا رخ اپنی جانب گھما کر جھک کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔
زری ! اگر میں مرجاؤں تو تم مجھے بھول جاؤگی ناں ؟بلکہ تم تو شکر مناؤ
گی کہ اچھا ہوا مر گیا اور میری جان چھوٹ گئی ۔زرتاج نے گھبرا کر
اس کی طرف دیکھا ۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو ،جانتا ہوں میں ایک پل میں بھول جاؤ گی مجھے
اور شادی کر لوگی کسی اور سے ۔ میر نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے
پیکٹ نکالا اور سگریٹ سلگا نے لگا ۔
میر سائیں ! ایسی باتیں مت کیا کریں ، مجھے بہت ڈر لگتا ہے ۔میں تو ویسے بھی معظم سائیں اور آپ کی دشمنی اور آئے دن کے جھگڑوں
سے خوف ذدہ رہتی ہوں ۔ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے ناجانے کب کیا ہو جائے ۔زرتاج کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تیرنے لگے ۔
چپ ! بلکل چپ ،دوبارہ کبھی میرے سامنے اپنی زبان سے معظم کا
نام لیا تو زبان کھینچ لوں گا ۔میر نے انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھی ،
دوسرےہاتھ سے اس کے بالوں کو جکڑ لیا ۔زرتاج سہم کر خوف ذدہ سی اس کو دیکھنے لگی ۔زرتاج کو اب تک اس بات کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کے منہ سے نکلنے والی کونسی بات میر سجاول جیسے سر پھرے کومشتعل کردے گی ۔
زرتاج ! میں اپنے سوا کسی اور کا نام بھی تمھاری زبان پر برداشت
نہیں کر سکتا اور وہ بھی میرے سب سے بڑے دشمن کا ۔۔۔
میری برداشت کو اس طرح کبھی مت آزمانا۔
پھر کبھی تم نے اس (گالی )کا نام لیا تو میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کتوں کو کھلا دوں گا اور تمھارا بھی یہی حشر ہوگا۔ پھر چاہے بدلے میں میری جان ہی کیوں نا چلی جائے مگر میں اس معاملے میں کبھی رعایت نہیں کروں گا ۔اس کا لہجہ دہشت ناک ہو گیا تھا۔
زرتاج کی پھیلی آنکھوں کو دیکھ کر میر اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر ضبط سے اس کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔
میر سجاول نے ایک نظر زرتاج کے ڈرے سہمے چہرے پر ڈالی پھر یکدم
موڈ بدل کر اس کے گرد اپنا مضبوط بازو پھیلا دیا اور جھک کر اپنے
دھکتے ہوئے لب اس کے گال پر رکھ دئیے۔
زرتاج جو سردی سے برف ہوئی جارہی تھی ،در حقیقت میر کے سرد لہجے نے اسے اپنی جگہ منجمد کردیا تھا۔ مگر پھر وہ میر کی پر حدت بانہوں کی گرمی میں پگھلنے لگی اور پر سکون ہوکر آنکھیں موند گئی ۔
میر سجاول گہری سانس بھر کر زرتاج کی خوشبودار زلفوں کی خوشبو اپنے
اندر اتار رہا تھا،وہ اپنا سارا غصہ بھلائے اس خوشبو کو محسوس کر کے
مدہوش ہوا جارہا تھا۔
زرتاج ! مغرب کا وقت ہورہا ہے ،درخت کے نیچے کیوں بیٹھی ہے
پگلی ہوئی ہے کیا ۔زرتاج کی ماں نے دور سے مرغیوں کو پنجرے میں
بند کرتے ہوئے زرتاج کو ڈانٹا جو ناجانے کب سے درخت سے ٹیک
لگائے میر سجاول کے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی ۔
عصر سے کب مغرب ہوگئی اسے پتا ہی نہیں چلا ۔ماں کی پکار پر ہڑبڑا کر ہوش کی دنیا میں واپس لوٹ آئی ۔اس نے اپنے گال پر انگلیاں رکھ
کر میر سجاول کے لبوں کے لمس کو محسوس کیا ۔آنسو پلکوں سے ٹوٹ
کر گالوں پر بہنے لگے ۔
وہ اب اسے کیسے بتائے کے وہ اس کوبھولنا تو دور اس کے بغیر سانس بھی نہیں لے پا رہی ہے ۔اس کی جدائی نے کسی اور کے ساتھ جینا تو
کیا اپنی ذندگی سے بھی دور کردیا ہے ۔وہ سانس تو لے رہی ہے مگر جی
نہیں رہی ۔
اس پل شدت سے اس کے دل نے میر سجاول کی ذندگی کے لئے دعا
کی تھی ۔
وہ مغرب کی نماز قضا نہیں کرنا چاہتی تھی ، چپکے سے اپنی ہتھیلیوں
سے آنکھیں رگڑیں اور وضو کے لئے بے جان قدموں سے نل کی
طرف بڑھ گئی ۔
••••••••••※••••••••••
رانیہ سے ہونے والی پہلی ملاقات سے لے کر اب تک مکتوم شاہ
اسے بھلا نہیں سکا تھا۔مکتوم شاہ کو وہ معصوم سی گڑیا جیسی لڑکی
بہت پیاری لگی تھی ۔لیکن وہ اپنے جذبوں کو کوئی نام نہیں دینا
چاہتا تھا۔
وہ اپنے اور اس کے خاندان کے بیچ میں پڑی دیوار کو فراموش
نہیں کرسکتا تھا۔مگر اس دن کی پارٹی میں ہونے والی ملاقات کے
بعد سے وہ مسلسل اس کے بارے میں سوچے جارہا تھا۔
ایسا کیوں ہورہا تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ۔مگر آج دل کی بے
قراری عروج پر تھی ۔بلآخر مجبور ہوکر آج وہ رانیہ کے نمبر
پر کال کر رہا تھا۔جبکہ وہ جانتا تھا کہ اس وقت وہ بہت پریشان
ہوگی ۔وہ میر سجاول کے زخمی ہونے کی خبر سے آگاہ تھا۔اور
اسے یہی مناسب وقت لگا تھا رانیہ کو کال کرنے کا ۔
اس بہانے وہ اسے خود سے پہل کرنے کی شرمندگی سے بھی بچ جاتا۔
بیل مسلسل جارہی تھی لیکن دوسری طرف کوئی ریسپونز نہیں تھا۔
ہیلو ! ۔۔؟ چند لمحوں بعد رانیہ کی تھکی تھکی سی آواز موبائل
میں ابھری ۔ڈالٹر مکتوم شاہ کا نمبر دیکھ کر اسکی آواز زرا محتاط تھی ۔
ہیلو ! رانیہ کیسی ہیں آپ ؟ مکتوم شاہ نے نرمی سے استفسار کیا۔
میں ٹھیک ہوں ۔رانیہ اسکی کال پر کچھ حیران سی تھی ۔
مجھے بس ابھی آپ کے کزن پر ہونے والے حملے کی خبر ملی ہے، میں نے میر سبطین سے خیریت دریافت کرنا چاہی ،لیکن ان کے نمبر پر کال
کنیکٹ نہیں ہورہی تھی تو میں نے سوچا آپ کا نمبر ٹرائے کروں۔
میر سجاول کی کنڈیشن کیسی ہے ؟ مکتوم شاہ مکمل انجان بنا پوچھ رہا
تھا،جبکہ وہ جانتا تھا کہ اس سب کے پیچھے کون ہے۔معظم شاہ اس
کا بھائی تھا اور وہ اپنے بھائی کی ہر ادا سے آشنا تھا ۔
کیمپئین میں ہونے والی بدنامی اور بدمزگی کو وہ اتنے آرام سے نظرانداز
کرنے والوں میں سے نہیں تھا ۔
سجاول بھائی کی کنڈیشن کریٹیکل ہے ،اب تک انہیں ہوش نہیں آیا۔
رانیہ نے افسردگی سے جواب دیا ۔
میں ہاسپٹل آنا چاہتا تھا لیکن جعفر شاہ اور انکی فیملی کو یہ بات ناگوار
گزرے گی ،اسی لئے وہاں آنے کا ارادہ ترک لر دیا ۔وہ بات کو طول
دیے رہا تھا۔
جی ،آپ کا یہاں آنا مناسب نہیں ہوگا ۔ رانیہ نے صاف گوئی سے
جواب دیا۔کیوں کہ فائزہ چچی وقفے وقفے سے شاہ پور والوں کو کوس
رہی تھیں۔ایسے میں مکتوم شاہ کی آمد ہنگامہ برپا کردیتی ۔
رانیہ ! مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے ،مگر یہ وقت مناسب
نہیں ۔ کچھ دنوں بعد میں آپ کو دوبارہ کال کروں گا ۔آپ نے میرا
کال کرنا مائینڈ تو نہیں کیا ۔۔۔؟
نہیں ۔۔۔۔رانیہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔پھر اس نے زبان
دانتوں تلے دبا لی ۔
مکتوم شاہ اسکی حالت کو تصور کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔وہ اس کے
انداز پر خاصا محفوظ ہوا ۔
اٹ مینز ،آپ میری کال کا انتظار بھی کریں گی ۔۔۔؟
جی ! رانیہ اسکی بات پر یکدم کنفیوز ہوگئی ۔اسکی سمجھ میں نہیں آرہا
تھا کہ اس بات کا جواب ہاں میں دے یا ناں میں ۔
میں جانتا ہوں آپ ضرور انتظار کریں گی ۔۔۔گڈ بائے ۔مکتوم شاہ اس
کی کیفیت سمجھ کر خود ہی بولا پڑا ۔پھر کال ڈسکنیکٹ کر کے موبائل کی اسکرین پر نگاہ ٹکا دی ۔ جیسے رانیہ کی تصویر اس میں جگمگا رہی ہو مگر رانیہ کی تصویر اس کے تصور میں روشن تھی ۔
•••••••••※•••••••••
معظم شاہ نے وہاں سے نکلتے ہی اپنے زرائےاستعمال کرنا شروع کر دئیے تھے اور اگلے ایک گھنٹے میں وہ عروش کی گمشدگی کی وجہ تک پہنچ چکا تھا۔لوکیشن بھی اسے فراہم کر دی گئی تھی ۔
وہ دیوانگی کے عالم میں گاڑی خود ڈرائیو کر رہا تھا جو ہواؤں سے بات
کر رہی تھی ۔شاہ کے ساتھ اس کے چار گارڈز بھی موجود تھے ۔جو
دوسری گاڑی میں سوار تھے ۔ وہ تنہا ڈرائیو کررہا تھا ۔ اس کے سر
پر وحشت سوار تھی ۔شاہ کا بس چلتا تو وہ اڑ کر اس جگہ پہنچ جاتا
جہاں حماد نے عروش کو اغوا کر کے چھپایا تھا ۔
جس شخص نے عروش کو اغوا کیا تھا اس کے بارے میں اب تک
شاہ اب تک کوئی اندازہ نہیں لگا سکا تھا کہ اس نے کس کے حکم پر اتنی جرأت کی ہے ۔
میر سبطین اور اس کےخاندان پر مسلسل اس کا آدمی نظر رکھے ہوئے تھا ۔وہ تقریباً صبح سے ہی ہاسپٹل میں موجود تھا ۔ اگر شاہ کو اس کے اس کام میں ملوث ہونے کا زرا سا بھی شک ہوتا تو وہ اب تک میر سبطین کو اپنے ہاتھوں سے اذیت ناک موت دے چکا ہوتا۔
شاہ کی نظریں بار بار موبائیل اسکرین پر موجود لوکیشن کی ٹائمنگ پر
بے چینی سے اٹھتیں ۔اب صرف دس منٹ کی دوری پر تھی وہ
جگہ ۔اس کے دماغ کی رگیں مزید تن گئیں ۔اس نے گاڑی کی اسپیڈ
مزید بڑھا دی۔
دس منٹ سے بھی کم وقت میں وہ لوگ اس پلاٹ کے باہر موجود
تھے ۔خادم حسین اور باقی تینوں گارڈز پھرتی سے گاڑی سے باہر نکلے
شاہ کے اشارے پر خادم حسین لپک کر پلاٹ کی تین سے چار سے
چھ فٹ کی دیوار کود گیا اور دروازے کی کنڈی کھول دی ۔
شاہ نے دروازے سے اندر قدم رکھا تبھی عروش کی منت سماجت بھری آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔معظم شاہ کے پورے بدن
کا خون سمٹ کر چہرے پر آگیا ۔ وہ تقریباً بھاگتا ہوا کمرے کے دروازے تک پہنچا ۔ گارڈ نے بڑھ کر گن کے پچھلے حصہ سے
دروازے پر دوتین ضرب لگائی ۔
خادم حسین ،نواز دروازہ توڑ دو ۔کوئی فائر نہیں کرے گا مجھے یہ بندہ
ذندہ چاہئے ۔معظم شاہ پوری قوت سے دھاڑا ۔
عروش مسلسل مزاحمت سے ادھ موئی ہو کر مکمل حماد کے رحم و کرم
پر آگئی تھی ۔حماد بھوکے کتے کی طرح اس پر جھکا اسے نوچ کھرونچ
رہا تھا جب اسے دروازے پڑنے والی زور دار ضرب اور معظم شاہ
کی قہر برساتی آواز سنائی دی ۔
وہ فوراً عروش کو چھوڑ کر کھڑا ہوگیا ۔کسی کی یہاں آمد اس کے لئے بلکل غیرمتوقع تھی ۔نکاح کا کوئی بندوبست اس نے نہیں کیا تھا ۔ وہ تو بس اپنی حوس پوری کر کے عروش کو وہیں چھوڑ کر بھاگ جانے والا تھا۔معظم شاہ کے الفاظ نے اسے چکرا کر رکھ دیا ۔
شاہ کی آواز سن کر عروش کے بے جان جسم میں جان پڑ گئی ۔اس
نے جلدی سے اپنا دوپٹہ ڈھونڈا اور اچھی طرح اپنے گرد لپیٹ لیا۔
چاروں گارڈز پانچ منٹ میں لکڑی کا کھوکھلا دروازہ توڑنے میں کامیاب
ہوگئے تھے ۔شاہ گن تانے کمرے میں داخل ہوا ۔باقی سب نے بھی
اپنی گنز اٹھا لیں ۔حماد کے ہاتھ میں موجود راڈ زمین پر گر پڑی ۔
عروش بھاگ کر شاہ سے لپٹ گئی ۔اس لمحے وہ سب کچھ فراموش
کر گئی تھی ۔ سبطین کی محبت بھی اور شاہ کے زور زبردستی سے
شادی کے لئے مجبور کرنے کے رویے کو بھی ۔اس وقت اگر کچھ
یاد تھا تو وہ بس یہ کہ شاہ اس کے لئے فرشتہ بن کر آیا تھا اور حماد
جیسے شیطان صفت انسان کے ہاتھوں اس کی آبرو پامال ہونے سے
بچا لی ۔
شاہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا پھر اسکی کمر دھیرے سے تھپتھپائ
اور اسے خود سے الگ کر دیا ۔وہ دھیرے دھیرے حماد کی طرف قدم
بڑھا رہا تھا۔
حماد دو قدم پیچھے ہٹتے ہی دیوار سے جگہ لگا ۔شاہ کے چہرے پر پھیلا
جلال حماد کے اندر کپکپی پیدا کر رہا تھا ۔
عروش کے سر پر کر کوئی والی وارث نہیں یہی سوچ کر تو نے اسے اغوا کیا تھا ناں ،اب تیری یہی بھول تجھے جہنم تک پہنچا دیگی کیونکہ
میں عروش کی طرف اٹھنے والی آنکھ نوچ لینا چاہتا ہوں لیکن تو نے تو اس کےدامن کو داغدار کردینے کی کوشش جیسا گناہ کر ڈالا ہے۔تیری تو لاش کوبھی عبرت کا نشان بنا دوں گا ۔شاہ کا دہشت ناک تھا۔
حماد کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہونے لگی ۔عروش کو اغوا کر نے
کی غلطی پر وہ پچھتا بھی نہیں پایا تھا کہ شاہ نے ایک زناٹے دار تھپڑ
اسے رسید کیا پھربڑھ کر حماد کا گلا دبوچ کر زمین پر گرادیا ۔حماد کی آنکھیں باہر کو ابلنے لگیں ۔حماد کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس سے بہت بڑی
غلطی ہوگئی ہے۔
شاہ نے اس کا گلا چھوڑ دیا ۔حماد سنبھلنے بھی نا پایا تھا وہ زور زور سے گلا پکڑے کھانس رہا تھا تب شاہ نے اس پر لاتوں اور مکوں کی برسات کردی ۔
عروش خوف ذدہ ہوکر کمرے سے نکل گئی ۔
بہت دیر تک وہ اسے بے دردی پیٹتا رہا ۔جب ہانپنے لگا تو اسے
چھوڑ کر جیب سے الیکٹرک ویپن نکالا ۔حماد نیم بے ہوشی کی
حالت میں بے سدھ پڑا تھا ۔شاہ نے الیکٹرک ویپن اس کو ٹچ کیا۔
حماد نے ایک جھٹکا لیا اور بے ہوش ہوگیا ۔
شاہ نے کھڑے ہو کر اپنے کپڑے درست کئے ،بالوں پر ہاتھ پھیرا
اور خادم حسین کو مخاطب کیا ۔
خادم حسین ! میں بی بی کو لے کر جا رہا ہوں ۔تم اس کو اٹھا کر جگہ
پر لے کر پہنچو ۔
جب تک میں واپس نا پہنچ جاؤں، اس کے ہوش میں آنے پر صرف اتنا مارنا کہ یہ مرنے نا پائے اور سب کچھ اگل دے ۔ اسے کیا سزا
دینی ہے یہ میں خود طے کروں گا ۔
حاظر سائیں ! خادم حسین نے فقط اتنا کہا ۔وہ جانتا تھا اس کی سزا
موت کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتی ۔ مگر اس کی موت کا طریقہ کیا ہوگا یہ صرف شاہ جانتا تھا ۔
شاہ نے باہر نکل کر دیوار کے ساتھ کھڑی عروش کی طرف ہاتھ بڑھایا
اور اس کے کاندھے پر رکھ کر اسے ساتھ لئے گاڑی کے پاس پہنچا۔
شاہ نے فرنٹ ڈور کھول کر اسے بٹھادیا ۔

میر سجاول کو ہوش آچکا تھا اور آج تو اسے آئی ۔سی ۔یو سے روم
میں شفٹ کر دیا گیا تھا ۔فائزہ بیگم خوشی سے نہال ہوکر بار بار اس
کے ما تھے کو چوم رہیں تھیں ۔
وہ دن رات ہاسپٹل میں اس کے پاس موجود رہیں تھیں ۔ایک بار بھی گھر نہیں گئیں تھیں ۔حالانکہ میر جعفر نے کئی بار انہیں کہا کہ وہ کچھ دیر
کے لئے گھر چلی جائیں ، تھوڑا آرام کر لیں مگر فائزہ بیگم نے ان کی
ایک نا سنی تھی ۔
وہ اپنے اکلوتے بیٹے سے اس حالت میں ایک پل کے لئے بھی دور
نہیں رہنا چاہتی تھیں ۔انکی کل کائنات وہی تو تھا جس کو دیکھ دیکھ
کر وہ جیتی تھیں ۔اس کے ہونے کے احساس سے انکی گردن فخر
سے تن جاتی تھی ۔ان کے غرور و تکبر میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا تھا۔
میر جعفر تو رنگین فطرت کے مالک تھے اور جب شادی کے تین سالوں
تک اللہ نے انہیں اولاد کی نعمت سے محروم رکھا تو میر جعفر لمحوں میں
فائزہ بیگم کا حسن و جمال بھلا گئے جس کے وہ شادی کی پہلی رات سے دیوانے تھے اور دوسری شادی کے لئے پر تولنے لگے ۔
ان کی ساس نے بھی بیٹے کی خواہش کی بھرپور حمایت کی ۔میر جعفر
کے دل میں بھی اپنی کسی کلاس فیلو کی دبی محبت جاگ اٹھی جو اب
تک ان کے عشق میں دیوانی تھی اور رابطہ رکھے ہوئے تھی ۔
میر جعفر بھی سال میں ایک دو چکر اس کے پاس لگا ہی لیتے تھے ۔اب تو انہیں شادی کرنے کا سنہرا موقع مل گیا تھا ۔ اسی دوران
فائزہ بیگم کو پریگننٹ ہونے کی خبر ملی ۔میر جعفر خوش تو بہت ہوئے
مگر دوسری شادی کے ارمانوں پر اوس گر گئی ۔
فائزہ بیگم کے یہاں بیٹے کی ولادت نے میر جعفر کو زنجیر پہنا دی اور
پھر وہ فائزہ بیگم کے ہی ہو کر رہ گئے ۔میر سجاول جیسے خوبصورت
اور صحتمند بیٹے کو پا کر فائزہ کے پیر زمین پر نا پڑتے تھے ۔
پچھلے دنوں میر کی جو حالت تھی ، اس نے فائزہ بیگم کا سارا غرور
اور طنطنہ مٹی میں ملا کر رکھ دیا تھا ۔انہیں اپنی دنیا لٹتی ہوئی محسوس
ہو رہی تھی مگر اب وہ خاصی مطمئین ہو گئیں تھیں ۔
میر ! میں نماز ادا کر کے آتی ہوں ،تم آرام کرو اور کسی بھی فضول سوچ میں اپنے ذہن کو مت الجھانا ۔ یہ تمھاری صحت کے لئے
فی الحال مناسب نہیں ۔فائزہ بیگم نے اسے سمجھاتے ہوئے اس
کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
وہ جانتی تھیں کہ خود پر ہوئے حملے اور اس میں زخمی ہوجانے پر اپنی
شکست محسوس کر کے وہ کس طرح خود کو قابو کئے ہوئے تھا۔
وہ اس کی ماں تھیں اور وہ بچپن سے باپ کے ساتھ ساتھ ماں کے
دل کے بھی بے حد نزدیک تھا ۔آنے والے کل سے بھی وہ بے حد
خوف ذدہ تھیں ، انہیں علم تھا کہ جب تک میر سجاول اس بات کا
بدلہ نہیں لے گا سکون سے نہیں بیٹھے گا اور یہی بات انہیں مضطرب
کئے ہوئے تھی ۔
میر نے سر کے اشارے سے انہیں مطمئین کر دیا۔پھر بولا۔
ساجد کو میرے پاس بھیج دیں ۔اس نے اپنے ملازم کا نام لیا۔
فائزہ بیگم نے سر ہلایا اور نماز ادا کرنے کی نیت سے دروازہ کھول کر باہر نکل گئیں ۔باہرکھڑے حفاظت پر معمور اپنے ملازموں کو کچھ ہدایات
دیں اور ساجد کو میر کا پیغام دے کر ہاسپٹل کے اس حصے کی طرف چل پڑیں جو نماز ادا کرنے کے لئے مخصوص تھا۔
حکم سائیں !ساجد اندر داخل ہوا اور موؤدبانہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔
زرتاج کیسی ہے ؟ میرے بارے میں خبر تو مل گئی ہوگی اسے۔۔؟
میر نے سب سے پہلے اس کے بارے میں سوال ۔
جی سائیں ! اس دن وہ اسکول سے “سائیں معصوم شاہ “کے مزار پر گئی تھیں ۔
اس کے بعد سے اب تک گھر سے نہیں نکلیں۔میں نے پتا کروایا تھا
اپنی گھر والی سے ،وہ بہت بیمار ہیں ۔ان کی اماں اور بابا بڑے
پریشان ہیں جی ۔
ساجد کی فراہم کردہ اطلاعات پر میر سجاول کی آنکھیں مسکرائیں مگر
یکدم ہی اس نے اپنے لطیف جذبات کی لہرکو آنکھوں سے نکل کر چہرے تک آنے پر پہرہ لگا دیا اور بے تاثر لہجے میں بولا۔
فیض علی بھی زخمی ہے یا ۔۔۔۔میر نے اپنے خاص ملازم کی بابت
دریافت کیا اور قصداً جملا ادھورا چھوڑ دیا ۔حملے کی رات وہی گاڑی
ڈرائیو کر رہا تھا۔
سائیں ! وہ دو دن بعد چل بسا تھا ۔ساجد نے سر جھکا کر جواب دیا۔
میر سجاول نے لب بھینچ کر نگاہیں چھت پر گاڑ دیں ۔فیض علی بچپن
سے اس کے ساتھ تھا ۔اس کی وفاداری کی کوئی مثال نہیں ملتی تھی۔
ایک گہری سانس بھر کر اس نے اپنے اندر اٹھنے والے غصے کے ابال
کو اندر ہی دبانے کی کوشش کی ۔
آج سے معظم شاہ کی ہر حرکت پر کڑی نظر رکھو ۔ اس بندے کو یہ کام سونپ دو جس پر تمھیں مکمل اعتماد ہو ۔وہ کیا کرتا ہے ،کہاں
جاتا ہے ۔ پل پل کی خبر مجھے ملنی چاہئے ۔
یاد رہے ،ایک لمحے کی بھی غفلت کی سزا موت ہوگی ۔اس نے دہشت ناک لہجے میں تنبیہہ کی۔
جی بہتر سائیں ! کوئی اور حکم ؟وہ میرکی آنکھوں میں اتری وحشت دیکھ رہا تھا ،ساجد کا دل گھبرانے لگا۔
میر سجاول نے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کے لئے کہا۔اس
کے جاتے ہی اس نے اپنا بازو آنکھوں پر رکھ لیا۔اس لمحے وہ شدت
سے زرتاج کو مس کر رہا تھا مگر لاکھ چاہنے کے باوجود بھی اس سے
ملاقات ممکن نہیں تھی ۔
جب تک مکمل صحتیاب ہو کر وہ اپنے پیروں پر چل کر اس تک نہیں پہنچ جاتا ،تب تک اسے زرتاج کے دیدار سے محروم رہنا تھا اور یہی بات اسے کوفت میں مبتلا کر رہی تھی ۔
جاری ہے