59.5K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 07

مووی کا کلائیمکس چل رہا تھا سب دلچسپی سے مووی دیکھنے میں مگن
تھے جب میر سبطین نے آہستگی سے عروش کا نازک سا ہاتھ اپنے ہاتھ
میں لیا۔
عروش کا ہاتھ میر سبطین کے ہاتھ میں کپکپا کر رہ گیا اس کے اندر مزاحمت کی بھی ہمت نہیں تھی ۔
میر سبطین نے بہت خوبصورت اور نفیس بریسلٹ کا لاک کھولا اور
اس کے ہاتھ میں پہنا دیا۔جو اس نے نجانے کب سے عروش کے
لئے خرید کر رکھا ہوا تھا لیکن وہ کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھا،
آج اسے یہ موقع مل گیا تھا۔
تھینکس ۔۔۔عروش نے اسکرین پر نظریں جمائے کہا ۔اس میں
میر سبطین کی آنکھوں میں دیکھنے کی سکت نہیں تھی جن میں بہت
خوبصورت رنگ جھلملا رہے تھے۔
اسکی نظریں خود پر جمی محسوس کر کے عروش نے اپنا سر جھکا دیا،اس
کی مسکراہٹ واضح تھی اور اس مسکراہٹ سے اس کے گال میں پڑنے والا ڈمپل بھی ۔
میر سبطین بڑی محویت سے اسے تک رہا تھا ۔
مووی دیکھنے کے بعد وہ لوگ پارکنگ ایریا میں کھڑے ڈنر کے لئے جگہ
ڈیسائیڈ کررہے تھے ، جب عروش بیچ میں بول پڑی ۔
پلیز ! مجھے گھر ڈراپ کردیں ڈنر میں بہت دیر ہو جائیگی ،امی پریشان ہو
رہی ہونگی۔وہ تفکر سے بولی ۔
فان کلر کے اسٹائیلش ڈریس میں وہ عام دنوں سے کئ بڑھ کر پر کشش لگ رہی تھی۔
اریبہ کو کال کر کے وہ ماں کے لئے یہ پیغام بھجوا چکی تھی کہ آج اسے آفس سے واپسی میں تھوڑی دیر ہو جائے گی۔لیکن اب وقت کچھ ذیادہ ہی ہوگیا تھا جو اسے فکر میں مبتلا کر گیا تھا ۔
عروش ! ابھی صرف آٹھ بجے ہیں ٹائم اوور نہیں ہوا ،ہم ایک گھنٹے
تک ڈنر سے فارغ ہو جائینگے پھر آپ کو گھر ڈاراپ کر دینگے ۔رانیہ نے
اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
آپ نے آنٹی کو تو انفارم کر دیا ہے پھر کیوں پریشان ہو رہیں ہیں ؟
حنین نے سوالیہ نظریں اس پر ٹکائیں اس کا بلکل موڈ نہیں تھا کہ وہ
لوگ اتنی جلدی واپس لوٹ جائیں۔
حنین !عروش ٹھیک کہہ رہی ہے ،اس طرح دیر رات تک گھر سے باہر رہنا ٹھیک نہیں جبکہ اس کی آفس ٹائمنگ بہت دیر پہلے ختم ہو چکی ہے۔
میرسبطین اس کی پریشانی سمجھتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔وہ عروش کے
چہرے پر نمایاں گھبراہٹ محسوس کر رہا تھا اور وہ اسے اپنی وجہ سے
پریشانی میں مبتلا نہیں دیکھ سکتا تھا۔
حنین ! تم رانیہ اور نگین کو ڈنر کے بعدگھر لے جانا ڈرائیور تمھارے ساتھ رہے گا۔مجھے عروش کو ڈراپ کر کےایک ضروری کام سے جانا ہے ۔
اوکے بھائی ! حنین نے اس کی بات سے بنا کوئی اختلاف کئے حامی
بھری۔
میر سبطین عروش کو گاڑی میں بٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھ
گیا ،اور گاڑی اسٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی۔
عروش ! تم نے میرا بریسلٹ خود پہنا نا مائینڈ تو نہیں کیا۔۔۔؟میر سبطین نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
عروش نے دھیرے سے اپنا سر نفی میں ہلادیا۔
تھینکس ۔۔۔میر سبطین پرسکون ہوگیا پھر بولا۔میں چاہتا ہوں ہمارے درمیان اتنی انڈراسٹینڈنگ ہو جائے کہ ہم دونوں کو ذندگی کی نئی شروعات کرنے میں کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے۔اس کے بعد ہی میں ڈیڈی کو آپ کی مدر سے ملواؤں گا۔
عروش تم اس فیصلے پر دل سے راضی ہو ناں۔۔۔؟یا محض میرے
رتبے کا لحاظ کر رہی ہو ۔میر سبطین آج اپنے تمام شکوک و شبہات
دور کرلینےکے موڈ میں تھا کیونکہ وہ بہت جلد عروش کو اپنی ذ ندگی میں شامل کر لینا چاہتا تھا ۔
عروش اس کی محبت کی سچائی اور پاکیزگی سے اچھی طرح واقف ہو چکی تھی لیکن اپنے جذ بات کو لفظو ں میں بیان کرنے سے جھجک رہی تھی۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کن الفاظ میں انکی ترجمانی کرے کچھ فطری شرم اور کچھ رتبے کا لحاظ آڑے آرہا تھا اس لئے فقط اتنا ہی
کہہ پائی۔
میں نہیں جانتی یہ سہی ہے یا غلط ،محبت ایک پاکیزہ جذبہ ہے جسے اللہ
پاک ہی ہمارے دلوں میں پیدا کرتے ہیں اور اگر اللہ نے مجھے آپ سے ملوایا ہے تو میرے لئے کچھ اچھا ہی سوچا ہوگا ۔ میں نے اپنے مستقبل کے ہر فیصلے کا اختیار اللہ کے بعد اپنی امی پر چھوڑا ہے ،وہی
واحد رشتہ ہیں میرا اس دنیا میں ،وہ جو بھی فیصلہ کریں گی مجھے منظور
ہوگا۔عروش نے نہایت سادگی سے اپنے دل کی بات کہہ دی تھی اور
ساتھ ہی میر سبطین کو یہ بھی جتا دیا تھا کہ اسکا اپنی ماں سے کتنا
مظبوط رشتہ ہے اور وہ انکی اجازت کے بغیر اپنی محبت کو پراون ہر
گز نہیں چڑھائے گی۔
میر سبطین جو پورے انہماک سے اسکی طرف متوجہ تھا اسکی بات پر
مطمئین سا ہو کر مسکرادیا۔ اور عروش کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
عروش ! تمھیں کبھی مجھ سے مایوسی نہیں ہوگی ۔ میرے لئے تمھارا
ہر فیصلہ قابل احترام ہوگا ۔
میر سبطین بہت خوش تھا۔ اس کی سادگی پر بھی اور فخر محسوس کر رہا تھا اپنی پسند پر جسے اس نے ایک نظر میں اپنا جیون ساتھی چنا تھا۔
*
میر سبطین نے گاڑی گلی سے زرا فاصلے پر روکی تھی ۔عروش اسے گڈ
نائٹ کہہ کر گاڑی سے اتر آئی سبطین بھی اسے سی آف کرنے کے لئے با ہر نکلے دروازہ تھامے کھڑا تھا ،جب دونوں کی نظر گلی سے نکلتی
بلیک لینڈ کروزر پر پڑی اوراس میں بیٹھے معظم علی شاہ شیرازی پر۔
اسی وقت شاہ نے بھی ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھا تو اس پر حیرت
کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
شاہ کچھ دیر قبل ہی عروش کے گھر پہنچا تھا ۔ عروش کو غیر موجود پاکر اس نے انتہائی کھر درے لہجے میں ثمینہ سے اس کے بارے میں استفسار کیا تھا۔
جب ثمینہ نے نے اس کی جاب کے متعلق بتایا تو وہ تلملا کر رہ گیا تھا
اور اسے وقت اس نے عروش کے جاب چھوڑ دینے کا حکم جاری کیا
تھا۔ ثمینہ بے چاری خاموشی سے سر ہلا کر رہ گئیں تھیں وہ اس کے حکم سے اختلاف کرنے قابل نہیں تھیں۔یوں چپ ہوکر رہ گئیں۔
شاہ گاڑی سے نیچے اتر ا اور زور دار آواز میں دروازہ بند کر کے ان دونوں کی طرف آیا۔
واٹ آ پلیزنٹ سرپرائیز ! تو عروش صاحبہ میر سبطین کے آفس میں جاب کر رہی ہیں،جاب کے ساتھ ساتھ رات گئے تک ان کے ساتھ سیر سپاٹے بھی کئے جا رہے ہیں ۔اس نے طنزیہ انداز میں دھیرے سے تالیاں بجائیں۔ جبکہ اس کے اندر غصے کا ایک جوار بھاٹا اٹھ رہا تھا۔
زبان سنبھال کر بات کرو ،معظم شاہ ! میں صرف مس عروش کو گھر
ڈراپ کرنے آیا تھا۔میری سوچ تم جیسی گھٹیا نہیں ہے ۔میر سبطین
کا لہجہ برہم مگر آواز دھیمی تھی ۔
میر سبطین کے یہ الفاظ سنتے ہی ، شاہ نے بڑھ کراس کا گریبان پکڑ لیا ۔شاہ کے چاروں گارڈز گاڑی سے کود کر باہر آئے تھے اور سبطین
پر گنز تان لیں ۔
تمھاری اتنی جرا ت کے تم میری سوچ کو گھٹیا کہو ، گھٹیا پن تمھارے خون میں شامل ہے ،میں چاہوں تو اسی وقت تمھیں اس دنیاسے فارغ کردوں لیکن میں تمھارے گھٹیا خون سے اپنے ہاتھ نہیں رنگ نا چاہتا۔جہاں تک بات عروش کی ہے تو وہ صرف میری ہے ،اور یہ بات میں بہت جلد اس سے شادی کر کے ثابت کردوں گا۔
عروش ان دونوں کے مشتعل انداز دیکھ کر لرز رہی تھی ،اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کو کیسے جانتے ہیں اور ان
کے درمیان کیا تعلق ہے ۔شاہ کی بات پراس نے خوفزدہ ہو کر اس کی
طرف دیکھا۔
عروش اگر تمھاری کزن ہے تو وہ میری بھی کزن ہے ،بلکہ میرا اس کے ساتھ تم سے ذیادہ گہرا رشتہ ہے ۔
اس بات پر میں تم سے یوں سر راہ بحث نہیں کرنا چاہتا کیونکہ لوگوں
کی عزت اچھالنے تمھارا پرانا شیوہ ہے لیکن میں عروش کو تماشا بنتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔اس نے شاہ کے ہاتھ اپنے گریبان سے جھٹکتے
ہوئے کہا۔
عروش نے چونک کر میر سبطین کو دیکھا۔یہ وہ کیا کہہ رہاتھا وہ اس کا کزن کیسے ہوسکتا تھا۔
کس کا رشتہ کتنا گہرا ہے یہ بہت جلد تمھیں پتا چل جائے گا ۔لیکن تب
تک کے لئے میں تمھیں وارننگ دے رہا ہوں اگر تم نے دوبارہ عروش
سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تو اس روئے زمین پر تمھیں مجھ سے
بچانے والا کوئی نہیں ہوگا ۔شاہ گھوم کر عروش کے پاس گیا اور اس
کی کلائی پکڑ کر انتہائی سفاکی سے بولا ۔
میر سبطین نے اپنے لب بھینچ لئے اور مزید اس سے الجھنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھنے لگا۔
شاہ نے ایک قہر برساتی نگاہ اس پر ڈالی اور تقریباً کھینچتے ہوئے عروش
کو لے کر گلی میں داخل ہوگیا ۔
دھاڑ سے دروازہ کھول کر معظم شاہ عروش کی کلائی تھامے گھر میں داخل ہوا۔ثمینہ جو پہلے ہی گم صم سی بیٹھی تھیں اس اچانک افتاد پر اچھل پڑیں ۔ تو آپ عروش کو اس کے بچھڑے ہوئے خاندان والوں سے ملوانے چلیں تھیں ۔ یقیناً آپ نے ہی عروش کو پورا کراچی چھوڑ کر وہاں میر غضنفر انڈسٹریز میں نوکری کرنے کا مشورہ دیا ہوگا ۔اپنے سسرال والوں کی طرح آپ کے اندر بھی لوگوں سے مکرو فریب اور دھوکے سے کسی اور کا مال ہتھیانے کا فن آ ہی گیا ۔ٹھیک بات ہے ،خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑ ہی لیتا ہے۔ اتنے سالوں کی رفاقت تھی آپ کی مسرور صاحب کے ساتھ کچھ تو اثر لینا ہی تھا۔ وہ ثمینہ اور اپنے رشتے کا لحاظ کئے بنا طنزیہ مگر برہم لہجے بولا۔ کتنے پیسے چاہئیں آپ کو ،میں دس لاکھ مہانہ دوں گا مگر آج کے بعد عروش جاب نہیں کرے گی بلکہ اس گھر سے باہر قدم نہیں رکھے گی اور اگر جائے گی تو صرف میرے ساتھ ،آپ کان کھول کر میری بات سن لیں ۔ کچھ دن تک میں عروش سے نکاح کرونگا اور تب تک یہ میری امانت ہے آپ کے پاس ،اور میری امانت میں خیانت کرنے والے کو میں کبھی معاف نہیں کرتا ۔وہ بے لچک لہجے میں کہہ رہا تھا ۔ بیٹا! تم غلط سمجھ رہے ہو ۔میں اس بارے میں کچھ بھی جانتی ہوں کہ عروش کہاں جاب کر رہی ہے ،اس کے مالک کون ہیں ۔میں ان پڑھ گنوار عورت مجھے ان سب باتوں کا تو خیال بھی نہیں آیا ۔ شاہ کےاس انکشاف پر حیرت سے ان کی آنکھیں پھیل گئیں تھیں کہ عروش انجانے میں ہی سہی میر غضنفر کے دفتر تک جا پہنچی ۔اور یہ فکر الگ ستانے لگی تھی کہ اب عروش ان سے ضرور اپنے اور میر غضنفر کے مابین تعلق کے بارے میں سوال کرے گی ،تب وہ اسے کیا جواب دیں گی۔۔۔یا برسوں پرانی کہانی انہیں پھر دہرانی پڑیگی۔ بس ! بس ! بس کریں ۔وہ ہاتھ اٹھا کر درشتگی سے بولا۔ خالہ میں اتنا بے وقوف نہیں اور نہ ہی کو ئی نا سمجھ بچہ ہوں جو آپ کے ارادے نا بھانپ سکوں ۔یقیناً یہ آپ کی اور آپ کے مرحوم شوہر کی سازش ہے ۔آپ دونوں نے یہی سوچا ہوگا کہ کسی بہانے ہی سہی عروش کو ان لوگوں کو سونپ دیں ،لیکن جب تک میں ذندہ ہوں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔اس کے لہجے میں ارادوں کی پختگی تھی ۔ کل میں آؤنگا اور عروش کو شاپنگ کے لئے لے جاؤنگا ۔ عروش !شادی کی تیاری کے لئے جو بھی ضروری سامان تمھیں چاہئے اس کی لسٹ بنا لینا ۔ اور یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لو کہ تماری شادی صرف مجھ سے ہوگی ۔اس نے ماں کے پہلو میں کھڑی لب کاٹتی عروش سے براہ راست کہا ۔ عروش نے بے بسی سے چپ چاپ سر جھکا دیا ۔ معظم شاہ اپنا فیصلہ سنا کر جا چکا تھا اور اس کے جاتے ہی عروش ماں سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔ امی ! میں معظم شاہ سے شادی نہیں کروں گی ۔میں اس جیسے سخت گیر انسان کے ساتھ ذ ندگی نہیں گزار سکتی ۔ثمینہ دلاسا دینے کے انداز میں اسکی پیٹ تھپکنے لگیں۔ عروش ! تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ تم میر غضنفر کے آفس میں جاب کرتی ہو ۔ثمینہ نے کچھ دیر بعد آہستگی سے اسے مخاطب کیا۔ اماں آپ نے کبھی پوچھا نہیں اور میں نے بھی ضرورت محسوس نہیں کی لیکن اب آپ مجھے بتائیں ،میز غضنفر اور میر سبطین سے ہمارا کیا رشتہ ہے ۔۔۔؟اس نے فوراً ہی ان سے الگ ہوکر سوال کیا تو ثمینہ نے نظریں چرالیں ۔ تمھارا اس سب سے کوئی واسطہ نہیں ،جب سہی وقت آئے گا تو میں تمھیں سب کچھ بتا دوں گی ۔وہ نبریں چراتے ہوئے بولیں ۔ امی ! آپ کو مجھے بتانا ہوگا آخر معظم شاہ یہ سب کیوں کہہ رہا تھا اور کیوں وہ میر سبطین کو دیکھ کر آپے سے باہر ہونے لگا ؟کیوں میر سبطین نے کہا کہ میں اس کی کزن ہوں۔۔۔۔؟ آپ نہیں جانتیں میں اس وقت کس ذہنی اذیت سے گزر رہی ہوں۔ وہ بے حد الجھی ہوئی تھی ۔ ثمینہ نے نظر اٹھا کر اس کے ستے ہوئے چہرے کی طرف دیکھا پھر جیسے ہار مان کر صرف اتنا بولیں۔ میر غضنفر تمھارے ماموں ہیں ،کسی تناضے کی سبب ہم برسوں پہلے ان سب سے رشتہ ختم کر چکے ہیں ، اس سے ذیادہ تم مجھ سے کچھ نہیں پوچھوگی نا میں تمھیں کچھ بتاؤنگی ۔ وہ دو ٹوک انداز میں بات ختم کرکے وہاں سے اٹھ کر چلی گئیں۔ عروش کا وجود جیسے زلزلوں کی ضد میں آگیا تھا۔اتنے بڑے انکشاف کے بارے میں تو اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا ۔ **
معظم شاہ نے عروش کو اس کے گھر سے پک کیا اور لنچ کے لئے فائیو
اسٹار ہوٹل میں لے آیا ۔اسکا ارادہ لنچ کے بعد شاپنگ کا تھا ۔
عروش ٹیبل پر سر جھکائے بیٹھی گود میں رکھے اپنے ہاتھوں پر نظر گاڑے بیٹھی تھی ۔
عروش ! آج میں لنچ تمھاری پسند سے کرنا چاہتا ہوں اس لئے ڈشز تم
سلیکٹ کروگی ۔اس نے مینیو کارڈ اس کی طرف بڑھا کر عروش کی توجہ
اپنی جانب مبذول کرنے کی کوشش کی ۔
عروش نے بنا کسی پس و پیش کے بے دلی سے مینیو کارڈ پکڑا اور دو
تین ڈشز کے نام اسے بتا دیئے ۔
شاہ نے ویٹر کو آرڈر نوٹ کروایا اور خود چئیر پر مزید ایزی ہو کر بیٹھ گیا۔
اس کی نظریں مسلسل عروش کے چہرے کا طواف کر رہیں تھیں۔
عروش ! تم جانتی ہو ،جب میں نے تمھیں پہلی بار دیکھا تھا اسی دن
مجھے تم سے محبت کا ادراک ہوا تھا ۔اس سے پہلے میں نہیں جانتا
تھا محبت کس بلا کو کہتے ہیں ۔ لیکن تم سے مل کر میں نے جانا کہ
محبت بہت خوبصورت اور انمول احسات کا نام ہے اور اسی دن
میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ہر قیمت پر تمھیں اپنا بناؤں گا۔
یہ بھی ایک سچ تھا کہ پہلی نظر میں اس کے سازشی دماغ نے عروش
کو صرف میر نگر والوں سے بدلا لینے کے لئے مہرے کی طرح استعمال
کرنے کا پلان بنایا تھا لیکن پھر وہ خود ہی اپنے اس فیصلے پر قائم نہ رہ
سکا کیونکہ اسکا دل اس سے بغاوت کر گیا تھا ۔
عروش کے ملکوتی حسن اور سادگی نے اس کے دل کو اپنے سازشی
دماغ کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا ۔
اس کی ذندگی میں آنے والی ہرلڑکی یاتو بازاری تھی یاپھر ماڈرن سوسائیٹی کی پروردہ ، جو معظم شاہ جیسے امیرزادے کے ایک جنبش ابرو پر اپنی دوشیزگی سمیت سب کچھ نچھاور کر دیتی تھیں ۔
شاہ کو کبھی بھی ان میں سے کوئی بھی اٹریکٹ نہیں کر سکی تھی جو اٹریکشن اس نے عروش کے معصوم حسن میں محسوس کی تھی ۔
وہ پوری سچائی سے اپنی دلی کیفیت عروش پر عیاں کر رہا تھا مگر
عروش کسی اور ہی دنیا میں گم تھی ۔
شاہ نے اسکی بے توجہی محسوس کی جو وہ بڑی دیر سے نظر انداز کر رہا
تھا ،یکلخت غصے سے ٹیبل کی سطح پر ہاتھ مارا جس سے جوس سے بھرا گلاس بھی چھلک پڑا ۔ عروش بری طرح سراسیمگی سے اسکئ طرف
دیکھنے لگی تو وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا ۔
عروش ! تمھیں اگر مجھ سے محبت نہیں بھی ہے تو میں تمھیں خود سے
محبت کرنے پر مجبور کر دوں گا لیکن اگر تمھاری سوچ میں بھی میرے
سوا کسی اور کی پرچھائی مجھے نظر آئی تو میں وہ آگ لگاؤں گا جس میں
سب کچھ جل کر بھسم ہوجائے گا ۔ اس کا لہجہ دھیما مگر بے حد دہشت ناک تھا ۔
اس دن کا منظر وہ بھولا نہیں تھا ،عروش کا میر سبطین کی گاڑی سے
نکلنے کا منظر بار بار کسی فلم کی طرح اس کی نظروں کے سامنے چکراتا
رہتا ،بمشکل وہ خود پر کنٹرول کئے ہوئے تھا کیونکہ وہ عروش پر کسی بھی قسم کی سختی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
تو کیا شاہ نے میری سوچ پڑھ لی یا میرا چہرہ ۔۔۔۔کیا وہ چہرہ پڑھنے
کے فن سے واقف ہے ؟عروش ہر گز نہیں چاہتی تھی کہ اس کے
دل میں جو پیار میر سبطین کے لئے ہے وہ کسی بھی صورت شاہ پر
آشکار ہو ۔اس لئے شاہ کی تنبیہہ پر وہ اندر تک لرز کر رہ گئی ۔
ویٹر لنچ سرو کرنے کے لئے آگیا تھا ، ان دونوں نے ہی اپنے چہرے
کے تاثرات کور کر لئے ۔
شاہ پوری توجہ سے لنچ کرنے میں مصروف ہوگیا ۔ اس نے دوبارہ عروش کو مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ، جبکہ عروش شاہ
کے خوف سے زہر مار کر رہی تھی اسے زرا بھی بھوک محسوس نہیں ہورہی تھی ۔
لنچ سے فارغ ہو کر شاہ اسے شہر کے سب سے مہنگے شاپنگ مال میں
لے آیا تھا ۔تین سے چار گھنٹے ہوگئے تھے انہیں شاپنگ کرتے ہوئے
تقرئباً شاپنگ شاہ نے اپنی مرضی اور پسند سے کی تھی ۔عروش بس
بے دلی سے ادھر ادھر رہی تھی ۔ شاہ نے بھی اس کی جھجک کو
محسوس کرتے ہوئے ذیادہ زور نہیں دیا تھا۔
ڈھیر سارے شاپنگ بیگز وہ گارڈ کے ساتھ گاڑی میں رکھوا چکا تھا پھر
بھی کچھ شاپرز ہاتھ میں لئے ایک ہاتھ سے عروش کا ہاتھ تھامے ،باقی
کی شاپنگ کل تک کے لئے ملتوی کر کے وہ اسے لئے پارکنگ میں
چلا آیا ۔
وہ دونوں اپنی گاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے جب میر سبطین کی نظر
ان پر پڑی ۔عروش کے چہرے سے ہوتی ہوئی شاہ کے ہاتھ میں دبے
اس کے ہاتھ پر جا کر ٹہر گئی ۔وہ دونوں بھی اسے دیکھ چکے تھے ۔
عروش نے شرمندگی سے سر جھکا لیا جبکہ شاہ کے ہونٹوں پر تفاخربھری مسکراہٹ کھیلنے لگی ۔
میر سبطین کی آنکھوں میں مرچیں سی بھر گئیں وہ اپنی آنکھوں میں بے
پناہ جلن محسوس کر رہا تھا۔
شاہ کے جلتے سلگتے دل پر پھوار برسنے لگی ،بلکل ایسی ہی جلن اس نے
عروش کو میر سبطین کی گاڑی سے اترتے ہوئے دیکھ کر محسوس کی تھی
میر سبطین انہیں نظر انداز کر کے فوراً ہی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔
شاہ کا موڈ یکدم ہی خوشگوار ہو گیا تھا۔اسٹئیرنگ سنبھالتے ہوئے اس نےاپنا بازو برابر میں بیٹھی عروش کے گرد پھیلا لیا ۔
*
فیض علی ! کل ہونے والی صفدر شاہ کی الیکشن کیمپئین کی تیاریاں کیسی چل رہی ہیں ۔۔۔؟میر سجاول بڑی شان سے صوفے پر بیٹھا ایک ہاتھ صوفے کی پشت پرپھیلائے دوسرے ہاتھ میں موبائل تھامے نظریں اسکرین پر جمائے اپنے خاص ملازم سے مخاطب تھا ۔
سائیں ! زبردست چل رہی ہیں ،بڑا شاندار پنڈال سجایا ہے اس بار۔فیض علی معنی خیزی سے مسکرایا ۔میر سجاول نےایک ٹانگ سامنے پڑی ٹیبل پر رکھی ہوئی تھی جبکہ دوسری فرش پر جسے فیض علی دل جمعی
سے دبا رہا تھا ۔
ہوں ۔۔۔اس نے پر سوچ انداز میں ہنکارا بھرا اور موبائیل آف کر
کے سائیڈ پر رکھ دیا۔
کل کیا کرنا ہے اور کس طرح کرنا ہے ،اپنے بندوں کو سمجھا دیا ہے نا؟
زرا سی بھی گڑ بڑ نہیں ہونی چاہئے ،دھرنے والوں کو سمجھا دینا ذیادہ شور شرابا کرنے کی ضرورت نہیں ہے باقی کام میرے بندے سنبھال
لیں گے ۔
فیض علی !قیمت سب کو منہ مانگی دینا مگر زرا سی بھی کوتاہی ہوئی کام
میں یا صفدر شاہ کی کیمپئین کامیاب ہوگئی تو فیض علی میں تیری کھال کھنچوا لوں گا ۔اس نے جھک کر اپنی گن فیض علی کی کنپٹی پر رکھ دی۔
سائیں ! آپ نے جو بھی کام میرے زمہ لگایا ہے ،کبھی کوئی گڑ بڑ
نہیں ہوئی ہے تو اب بھی نہیں ہونے دونگا ۔آپ بے فکر ہوجائیں
کل سب کچھ آپ کی خواہش کے مطابق ہوگا ۔ فیض علی پہلے تو سانس کھینچ گیا پھر ہاتھ جوڑ کر گھگیانے لگا ۔
ٹھیک ہے ، ٹھیک ہے ۔ذیادہ ڈرامے نا کر ،جانتا ہوں تجھے ۔میر نے
اسے ہاتھ اٹھا کر چپ کروا دیا ۔فیض علی دوبارہ اسکی ٹانگ پہلے سے
بھی ذیادہ دل جمعی سے دبانے لگا ۔
یہ بتا ! زرتاج اسکول سے سیدھا گھر گئی تھی ۔۔؟گاؤں کا کوئی آوارہ
چھوکرا اسے تنگ تو نہیں کرتا ۔زرتاج کے بارے میں استفسار کرتے
ہوئے اس کی آواز یکدم ہی نرم پڑ گئی تھی ، داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے وجیہہ چہرے پر چاہت کے رنگ اترنے لگے ۔
سائیں ! بی بی جب اسکول یا گھر سے نکلتی ہیں ،نورا ارد گرد ہی رہتا
ہے ۔ اس لئے کسی کی بھی ہمت نہیں ہوتی کہ اس کے سامنے بدتمیزی کرنے کی کوشش کرے ۔فیض علی نے تفصیلاً جواب دیا ۔
ہوں ۔۔۔میر سجاول ہنکارہ بھر کر سگریٹ سلگانے لگا ۔ایک کش
لے کر وہ مزید ایزی ہو کر بیٹھ گیا ۔کل کا دن اس کے لئے بہت
اہم تھا مگر وہ اس وقت بھی فرصت سے زرتاج کے بارے میں
سوچنے پر مجبور تھا ۔ وہ اب تک کل رات ہونے والی ملاقات پر
مسحور تھا ۔اس کے خوبصورت کٹاؤ والے ہونٹوں پر بہت دلکش
مدھم مسکراہٹ تھی ۔
جاری ہے