Rate this Novel
Episode 29
بابا سائیں ! مجھے زرتاج سے شادی کرنی ہے ، آپ لوگ آج ہی میرا رشتہ لے کر اس کے گھر جائیں گے کیونکہ مجھے اسی ہفتے اس سے شادی کرنی ہے ۔ میر سجاول نے سنجیدگی سے کہا ۔
معظم شاہ سے مقابلہ کرتے ہوئے موت کو ایک بار پھر اپنے بے حد قریب دیکھنے پر دل نے بڑی شدت سے زرتاج کے ساتھ ایک بھر پور ذندگی گزارنے کی خواہش کی تھی ۔جب اسے اپنی ذندگی کا بھی خیال نہیں تھا مگر زرتاج کا چہرہ تھا جو سخت ترین حالات میں بھی دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا۔
میر نے اسی پل ذندہ بچ جانے کی صورت میں زرتاج کو دل و جان سے اپنی دلہن بنانے کا فیصلہ کیا تھا ۔
وہ میر جعفراور فائزہ بیگم کےسامنے زرتاج کو بے آبرو کرنے کا اعتراف کر چکا تھا ۔
میر ہاسپٹل کے بیڈ پر دراز تھا ۔میر جعفر اور فائزہ بیگم اس کی پٹی سے لگے بیٹھے تھے ۔
ہاں ، ہاں ،کیوں نہیں ۔۔۔۔۔تم کہو گے تو آج ہی چلے جاتے ہیں ورنہ میرا ارادہ تو یہ تھا کہ جب تم ہاسپٹل سے ڈسچارج ہوجاؤگے تو جشن کے بعد پوری تیاری سے جاتے ۔میر جعفر سوچتے ہوئے بولے ۔
فائزہ بیگم شدید اختلاف کے باوجود بھی خاموش تھیں کیونکہ ان چند مہینوں میں دوسری بار ان کا لاڈلا موت کے منہ سے بچ کر لوٹا تھا ،وہ خواہش کے باوجود بھی اس کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں بول سکتی تھیں ، اس لئے خاموشی سے میر جعفر کا منہ تکنے لگیں ۔
آپ پوری تیاری شادی پر کیجئے گا ، فی الحال آپ بغیر تیاری کے اس کا ہاتھ مانگنے جائیں ۔۔۔۔۔
ان کی طرف سے انکار کی تو کوئی گنجائش بنتی ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ آپ ان لوگوں کو جلد سے جلد کی کوئی تاریخ دے دیجئے گا ۔میں اس معاملے میں کسی قسم کی کوئی تاخیر نہیں چاہتا ۔وہ بے حد آف موڈ میں گویا تھا ۔
اماں ! آپ بھی کل سے شادی کی تیاریاں شروع کر دیں ۔اس کے کپڑوں سے لے کر جیولری تک ہر چیز پرفیکٹ ہونی چاہئے ۔
نکاح ، ولیمے کا ڈریس اور جیولری میں خود خریدوں گا ۔باقی سب کچھ آپ دیکھ لیں مگر خیال رکھئے گا ہر چیز اس کی شایانِ شان ہونی چاہئے۔
وہ تصور میں زرتاج کے دلکش سراپے پر نظر جماتے ہوئے بول رہا تھا۔
ہونہہ ۔۔۔۔شایانِ شان ، دو ٹکے کی چھوکری ،کہاں میرے متھے لگ گئی ۔میر کی محبت بھی نجانے کیوں اتنا سب کچھ ہونے کے بعد دوبارہ جاگ گئی ہے،اس منحوس ماری سےاچھی بھلی جان چھوٹ گئی تھی۔
پھر اس کے دماغ پر سوار ہوگئی ہے ۔انہوں نے تلخی سے سوچا ۔
ان کی تلخ سوچ پر منہ کے زاویے بھی بگڑ رہے تھے ۔
اماں ! زرتاج کو میں اپنی بیوی بنانے جارہا ہوں ، بہتر ہوگا آپ بھی پورے دل سے اسے اپنی بہو تسلیم کر لیں ۔
میں پہلے ہی اس کے ساتھ بہت ذیادتی کر چکا ہوں ،اب کسی اور کو اسے تکلیف پہنچانے کی اجازت ہر گز نہیں دوں گا ۔میر نے ان کی سوچ پڑھنے میں ایک لمحہ لگایا تھا ۔وہ دو ٹوک لہجے میں بولا ۔
میر سائیں ! میں نے کب کچھ کہا ہے ، میرے لئے تو وہ اتنی ہی عزیز ہے جتنے کہ تم ۔۔۔۔۔۔۔میں بھلا اس کے ساتھ ذیادتی کیوں کروں گی ۔
دیکھنا تم ، اسے رانی بنا کر رکھونگی ۔ وہ میر کے بگڑتے تیور بھانپ کر لہجے میں دنیا بھر کا پیار سمو ئے مکاری سے بولیں ۔
میر سائیں ! تم بے فکر ہو جاؤ ، تمھاری ماں زبان کی بری ہے مگر دل کی بہت اچھی ہے ۔
زرتاج کو اتنا ہی پیار اور مان ملے گا جتنا کہ تمھاری دلہن بننے والی کسی بھی دوسری لڑکی کو ملتا ۔ویسے بھی اس کی حیثیت تو اور بھی ذیادہ ہوگی کیوں کہ وہ میرے بیٹے کی پسند ہے ۔ میر جعفر نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔
آپ اماں کے تیور دیکھ رہے ہیں ،کہیں سے بھی نہیں لگ رہا کہ یہ میری اور زرتاج کی شادی پر خوش ہیں ۔وہ ان کے چہرے پر ناگواری محسوس کر چکا تھا ۔
وہ خوش ہو یا نہ ہو ، تم تو خوش ہو نا ۔۔۔۔بس باقی سب کو ان کے حال پر چھوڑ دو ۔وقت کے ساتھ فائزہ کو بھی احساس ہو جائے گا کہ تمھارا فیصلہ بلکل درست تھا ۔
زرتاج کی ذندگی سنوار کر تم اس پر کوئی احسان نہیں کروگے بلکہ یہ اس کا حق ہے ۔
تمھاری وجہ سےزمانے بھر میں جواس کی ذلت اور رسوائی ہوئی ہےاب تمھاری ہی وجہ سے وہ دوبارہ سر اٹھا کر جی سکے گی ۔
فائزہ تمھیں بھی اپنے بیٹے پرفخر ہونا چاہئےکہ اس نےنفرت اور جذباتیت میں جو غلط قدم اٹھایا تھا ،اب وہی قدم درست سمت میں بڑھ رہے ہیں ۔اگر تم زرتاج کے دکھ کی گہرائی کو دل سے محسوس کروگی تو تمھیں اسے بہو تسلیم کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔تم بھی میری طرح ان دونوں کے رشتے کو دل سے قبول کر لوگی ۔
میر جعفر انہیں سمجھانے کی ناکام سی کوشش کر رہے تھے ۔فائزہ بیگم نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھا کر شوہر کو شکایتی نظروں سے دیکھا ۔
“”””””””””””””””””
عروش ! مجھے معاف کر دو۔میں بہت برا ہوں،اس حالت میں مجھے تمھاری کئیر کرنی چاہئے تھی مگر میں یہاں بستر پر پڑا تم سے خدمتیں کروا رہا ہوں ۔شاہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا ہواگنبھیر آواز میں بول رہا تھا ۔عروش بیڈ پر اس کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی ۔
ڈاکٹرز کچھ بھی بولیں مگر مجھے امید نہیں ہے کہ میں اب دوبارہ کبھی چل سکوں گا ۔شاید یہی میرے بد ترین گناہوں کی سزا ہے ۔وہ افسردگی سے گویا تھا ۔
میرسجاول کی گن سے نکلنےوالی آخری گولی شاہ کےسر میں لگنے کی بجائے اس کےسرکے اوپرسےگزرگئی تھی۔جسم میں پیوست ہونےوالی گولیاں تو ڈاکٹرز نے نکال لی تھیں مگر ایک گولی شاہ کے جسم کو چیرتی ہوئی باہر نکل گئی تھی جس نے شاہ کے آدھے جسم کو پیرالائزڈ کر دیا تھا ۔
وہ اس طرح پیرالائیزڈ ہو ا تھا کہ ڈاکٹرز کو بھی امید نہیں تھی کہ وہ دوبارہ چل سکے گا ۔
مکتوم شاہ نے اس کا ہاتھ تھام کر پر اعتماد لہجے میں اسے بہت جلد اپنے پیروں پر چلنے کی امید دلائی تھی مگر اس کے پر اعتماد لہجے میں چھپی نا امیدی معظم شاہ جیسے زیرک انسان سے چھپی نہیں رہ سکی تھی ۔
بلا کے دلیر اور نڈر شاہ کا دل سکڑ کر پوری قوت سے دھڑکا تھا ۔
شادی کے اولین دنوں میں ہر شوہر اپنی نئی نویلی دلہن کے ناز اٹھاتے نہیں تھکتا ۔ذندگی کے ان سب سے خوشگوار دنوں کو ہمیشہ کے لئے یادگار بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔۔۔۔۔مگرمیں نے ان دنوں میں تمھیں اذیتوں کے سوا اور کچھ نہیں دیا ۔
تمھاری ذندگی کے ان حسین دنوں کو تلخ یاد بنے پر مجبور کر دیا اور اب معذور ہونے کے بعد تم پر مستقل بوجھ بن کر اذیت بھری ذندگی دینے جارہا ہوں ۔وہ شکستہ لہجے میں کہہ رہا تھا ۔
آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔آپ کی خدمت تو مجھ پر فرض ہے ۔اللہ پاک نے آپ کی جان بخش دی میرے لئے اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہے ۔وہ شاہ کی بے بسی پر تڑپ اٹھی۔ہ نرمی سے شاہ کے سینے کو سہلاتے ہوئےپر نم آواز میں کہہ رہی تھی۔آنسوؤں کی لڑی اس کے گلابی رخساروں پر بہنے لگی۔
تم مجھ سے اتنی محبت کرنے لگی ہو ۔۔۔؟شاہ کی اداس آنکھیں یکدم چمک اٹھیں ۔
عروش کے لئے لبوں سے اظہار کرنا تو محال تھا ،اس لئے فقط اثبات میں سر ہلا دیا ۔شاہ کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ ابھری ۔
اگر میں مر جاتا تو تم کیا کرتی ؟شاہ کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی عروش نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔
اگر آپ ایسی دل دکھانے والی باتیں کریں گے تو میں چلی جاؤں گی اور اماں کو یہاں بھیج دوں گی ۔آپ بلائیں گے بھی تو واپس نہیں آؤں گی ۔عروش نے خفگی سے اسے تنبیہہ کی ۔
نہیں کرتا ، مگر مجھ سے دور جانے کی بات مت کرو ۔مجھے تمھاری سخت ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔میں چاہتا ہوں تم ہر پل میری نظروں کے سامنے رہو ۔شاہ نے لبوں پر رکھی اس کی ہتھیلی چوم کر کہا ۔
مجھے تمھاری حالت کا احساس ہے مگر میں بہت مجبور ہوں ،تم سے ایک پل کی دوری بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔تمھاری چاہ نے مجھے خود غرض بنا دیا ہے ۔وہ نہایت جذباتی ہو رہا تھا ۔
شاہ ! میں بلکل نارمل ہوں اور میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جارہی۔
پلیز ! آپ میرے لئے خود کو پریشان مت کریں ۔
بہت دعائیں کی تھیں ،تب آپ کی ذندگی کی نوید ملی ہے ۔۔۔۔۔میں خود بھی آپ سے دور نہیں رہنا چاہتی ۔اس نے اپنے دونوں ہاتھ شاہ کے سینے پر رکھ دئیے ۔شاہ بے ساختہ مسکرایا ۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر عروش کا سر اپنے سینے پر رکھ دیا اور اسے اپنے بازو ؤں میں سمیٹ لیا ۔
عروش ! تم اگر پہلے والی عروش ہوتی تو آرام سے میرے ساتھ اس بیڈ پرایجسٹ کرلیتی مگر اب تو یہ ناممکن ہے۔شاہ نےعروش کےصحت مند سراپے پر بھر پور نگاہ ڈال کر شرات سے کہا ۔عروش بلش کرنے لگی ۔
چلو خیر ہے،میں تھوڑی جگہ بنانے کی کوشش کروں گا پھرہم سب ایک ساتھ اس بیڈ پر سو سکیں گے ۔ اس کا اشارہ عروش کے اندر موجود وجود پر تھا ۔
اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، میں وہاں صوفے پر سو جاؤں گی۔آپ کی کنڈیشن ایسی نہیں کہ آپ یہ فضول حرکتیں کرنے کے بارے میں سوچیں۔عروش رخ موڑے دھیمے سے بولی۔جھکی پلکیں لرز رہی تھیں۔
کیوں یار ، تم نہیں چاہتیں ہم تینوں ساتھ سو سکیں ؟ ویسے بھی یہ آفر محدود مدت کے لئے ہے ، یہ جناب دنیا میں آگئے تو میں ہر گز بھی اسے ہم دونوں کے بیچ نہیں آنے دوں گا ۔ شاہ مسکراہٹ دبائے کہہ رہا تھا ۔
آپ کو ابھی سے اس سے بیر ہوگیا ہے ، ابھی تو وہ اس دنیا میں آیا بھی نہیں ہے ۔عروش کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔
مجھے ہر اس چیز سے بیر ہے اور ہمیشہ رہے گا ، جو میرے اور تمھارے بیچ میں آنے کی کوشش کرے گا ۔چاہے وہ میری اپنی اولاد کیوں نہ ہو ۔شاہ نے سنجیدگی سے کہا ۔
اس بار عروش کی مسکراہٹ بے ساختہ تھی ۔اب اسے شاہ کی دیوانگی تکویت پہنچانے لگی تھی ۔
“””””””””””””””””””
پورے سن پورہ پر اتری شام اپنے پر سمیٹ رہی تھی اور رات کی تاریکی دھیرے دھیرے چار سو پھیل رہی تھی۔زمینوں پر دن بھرمشقت کرنے والے تھکے ہارے گاؤں کے ہاری اپنی ضرورتوں کا سامان خریدتے ہوئےگھر وں کولوٹ رہے تھے ۔
زرتاج کا باپ بھی کچھ دیر پہلے ہی گھر پہنچا تھا اور کمر سیدھی کرنے کے لئے لیٹ گیا تھا تبھی میر جعفر کی گاڑیاں زرتاج کے گھر کےسامنے آ رکیں ۔
میر جعفر اور ان کے ساتھ فائزہ بیگم بھی بڑی شان سے چہرے پرکروفر سجائے گاڑی سے باہر نکلیں اور زرتاج کے گھر پر لگے ٹوٹے پھوٹے ، بدرنگ لکڑی کے دروازے کی جانب قدم بڑھائے ۔
گلی سے گزرنے والے اکا دکا راہ گیروں اور پڑوسیوں نے ششدر ہو کر یہ منظر دیکھامگر ہٹے کٹےگارڈز کی موجودگی میں چہہ مگوئیاں کرنےکی جرأت کسی میں بھی نہیں تھی ۔
پہلے فائزہ بیگم ہلکی سی دستک دے کر اندر داخل ہوئیں ،ان کے پیچھے میر جعفر تھے ۔ملازم بھی مٹھائی ، پھلوں اور زیورات کے ٹوکرے لئے ان کے پیچھے چل رہے تھے ۔لمحوں میں پورا آنگن ٹوکروں سے بھرنے لگا ۔
زرتاج کی ماں زرینہ اپنے شوہر کے لئے چائے تیار کرتے ہوئے لکڑیاں پھونک رہی تھی ، ان دونوں پر نظر پڑی تو پھونک مارنا بھول گئی ۔وہ پلکیں جھپکائے بغیر یک ٹک انہیں گھور رہی تھی ۔ ہوش و حواس ٹھکانے پر آئے تو دوپٹہ سر پر جماکر ہاتھ جوڑے اٹھ کر بھاگی ۔زرتاج کا باپ بھی جھٹ اٹھ کر کھڑا ہوگیا ۔
سائیں ! کوئی کام تھا تو ہمیں بلا لیا ہوتا ، آپ نے کیوں ذحمت کی وہ بھی ہاتھ جھوڑے گگھیا یا ۔
دین محمد ! کام ہی کچھ ایسا تھا کہ ہمارا آنا ضروری ہوگیا ۔ میر جعفر چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولے ۔ فائزہ بیگم بھی ان کے پہلو میں بیٹھ گئی تھیں اور تنقیدی نگاہوں سے ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھیں ۔
سائیں ! آپ حکم کریں ، آپ کے لئے تو جان بھی حاضر ہے ۔وہ ہاتھ باندھے کھڑا ہوا تھا ۔
ہم اپنے بیٹے میر سجاول علی کے لئے تمھاری بیٹی زرتاج کا ہاتھ مانگنے آئے ہیں ۔وہ فائزہ بیگم کی طرف گردن موڑتے ہوئے بولے جو چہرے پر زمانے بھر کی بیزاری لئے بیٹھی تھیں ۔
سائیں کی خیر ہو ، میری تو سات پشتیں آپ کی غلام بن کر رہیں گی ۔آپ ہم جیسےکمیوں پر ہماری اوقات سے بڑھ کر احسان کر رہے ہیں۔دین محمد پر شادئ مرگ کی کیفیت طاری ہوگئی ۔وہ خوشی سے کپکپاتی آواز میں بولا ۔
دین محمد ! ایسا نہیں کہتے ، ہم تم پر کوئی احسان نہیں کر رہے ۔جو ظلم تمھاری بیٹی پر ہوا اس کی تلافی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔مجھے امید ہے ، تم ہمیں معاف کر دوگے ۔میر جعفر ہاتھ جوڑ کر کہا ۔
میر سائیں ! کیوں ہمیں گناہ گار کر رہے ہیں ، آپ تو ہمارے بڑے ہیں۔یہ آپ کا بڑا پن ہی ہے جو آپ مجھ غریب کی جھونپڑی میں آئے ہیں ۔وہ ان کے قدموں بیٹھ کر رونے لگا ۔
ساری باتیں چھوڑو ، شادی کی تاریخ طے کر لیتے ہیں ۔میر جعفر نے اسے کاندھوں سے پکڑ کر اٹھایا ۔وہ آنسو پونچھتا ہوا کھڑا ہو گیا ۔
جی بلکل ، اس نے مختصراً کہا ۔
آج چھ تاریخ ہے ۔۔۔۔۔۔۔اسی مہینے کی اٹھائیس تاریخ کو ہم بارات لے کر آئیں گے ۔شادی کے تمام انتظامات ہم خود دیکھ لیں گے ۔۔۔۔۔۔۔تمھیں کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔وہ اسے مطلع کر رہے تھے ۔
بابا ! میں یہ شادی نہیں کروں گی ۔ آپ ان لوگوں سے کہہ دیں ۔۔۔۔۔یہاں سے چلے جائیں ۔ زرتاج دروازے کی اوٹ میں سے قدرے بلند مگر نم آواز میں بولی ۔
چپ کر ۔۔۔۔۔سائیں کے بارے میں بکواس کر رہی ہے۔باؤلی ہوگئی ہے ؟ دین محمد اسے جھڑکتا ہوا کمرے کی جانب بھاگا ۔وہ بر طرح گھبرا گیا تھا۔
دین محمد ! اسے کچھ مت کہو ،وہ ناراض ہے اور اس کی ناراضگی جائز بھی ہے ۔میر جعفر نرمی سے بولے ۔فائزہ بیگم نے میر جعفر پر آنکھیں نکالیں ۔میر جعفر نے نظروں سے انہیں خاموش رہنے کی تنبیہہ کی اور پلنگ سے اٹھ کر کمرے کی طرف بڑھے ۔
بیٹا ! میر سجاول نے جو کیا ہے ۔وہ بلکل غلط ہے مگر اب وہ تلافی کرنا چاہتا ہے ۔ تم سے شادی اس کا ذاتی فیصلہ ہے ۔ وہ کسی دباؤ میں یا مجبوراً تم سے شادی نہیں کر رہا ۔میر جعفر پشت پر ہاتھ بندھے کمرے کے ادھ کھلے دروازے کے باہر کھڑے تھے ۔
میں ان سے شادی نہیں کرنا چاہتی ، یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے ۔زرتاج نے آنسو پیتے ہوئے مستحکم لہجے میں کہا ۔
زرتاج بیٹی ! میں تمھاری کیفیت سمجھ سکتا ہوں مگر دانائی اسی میں ہے کہ تم حالات کے ساتھ سمجھوتا کرو اور اس رشتے کو قبول کر لو ۔
میر سائیں سے شادی کر کے روز روز مرنے سے بہتر ہے میں ایک ہی بار خود کشی کر کے مرجاؤں ۔وہ سسکتے ہوئے بولی ۔
سائیں ! یہ پاگل ہوگئی ہے ، آپ اس کی فکر مت کریں میں اسے سمجھا لوں گا ۔ دو ہاتھ کھائے گی تو سیدھی ہوجائیگی ۔ دین محمد بیٹی کی زبان درازی پر خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا ۔اسے یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ بڑے میر یا بڑی بیگم مشتعل ہو کر واپس نا لوٹ جائیں ۔
بیٹیوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے ،تم اسے پیار سے سمجھانے کی کوشش کرو۔
نا سمجھ ہے اور غصے میں بھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ تم اس پر سختی مت کرنا ۔گھبراؤ مت ، ہم دوبارہ آجائیں گے ۔میر جعفر تحمل سے کہتے ہوئے فائزہ بیگم کو لئے گھر سے باہر نکل گئے ۔
ان کے گھر سے نکلتے ہی زرینہ اور دین محمد زرتاج کا دماغ ٹھکانے لگانے کمرے میں داخل ہوگئے ۔
“””””””””””””””””””
میر سجاول نیوی بلیو شلوار سوٹ میں ملبوس ترو تازہ ، مہکتا ہوا ان کی واپسی کے انتظار میں لان میں ہی ٹہل رہا تھا ۔گھنی موچھیں مزید گھنی ہورہی تھیں ،شیو پہلے کے بہ نسبت قدرے بڑھی ہوئی تھی ، جو اس نے خصوصی طور پر شادی کے لئے بڑھائی تھی کیونکہ زرتاج کو اس کی شیو کا گھنا پن بےحد پسند تھا۔
میر جعفر کی گاڑی ڈرائیو سے گزر کر پورچ میں آکر رکی تو وہ بے صبری سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا ان تک پہنچا ۔
اندر چل کر بات کرتے ہیں ۔میر جعفر نے گاڑی سے اتر کر اس کے شانے پر ہاتھ پھیلایا ۔وہ ان کے قدم سے قدم ملا کر چلنے لگا ۔
اب بتائیں ، اس کے ماں باپ سے کیا بات ہوئی ،رشتہ تو طے کر دیا ناں ؟ وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا ۔
اس نے تم سے شادی کے لئے صاف انکار کر دیا ہے ۔۔۔۔۔کہہ رہی تھی ، خودکشی کرنا منظور ہے مگر تم سے شادی نہیں کرے گی۔میر جعفر نے اپنے لب کھولے ہی تھے کہ فائزہ بیگم بول پڑیں ۔
میر نے بے یقینی سے میر جعفر کی طرف دیکھا ۔
توبہ ، توبہ ۔۔۔۔۔ایسی بد زبانی ۔۔۔۔۔ایسی بے حیائی تو نہ کبھی دیکھی اور نہ سنی ۔
اس لڑکی نے تو میر سائیں کا بھی خیال نہیں کیا ۔پٹر پٹر زبان چلا رہی تھی ۔فائزہ بیگم کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولیں ۔
میر سائیں ! تم ہی اس کے لئے دیوانے ہوئے جارہے تھے ۔۔۔۔۔اس کو تو تم سے شادی کا کوئی ارمان نہیں ہے ۔ورنہ اس طرح منہ کھول کر انکار تھوڑی نا کرتی ۔
اسے تو سجدہ شکر بجالانا چاہئے تھے کہ اتنی ذلت اور بدنامی کے باوجود بھی خوش قسمتی اس کے دروازے تک آئی ہے ورنہ ایسی لڑکیوں کو پوچھتا کون ہے ۔فائزہ بیگم کی تواتر سے چلتئ زبان جلتی پر تیل کا کام کر رہی تھی ۔
فائزہ ! بہت ہوگیا ، اب چپ ہو جاؤ۔وہ بچی ہے ، اسے اگر ان سب باتوں کی سمجھ ہوتی تو یہ سب نہیں بولتی مگر تم بچی نہیں ہو جو اتنی ناسمجھ بن رہی ہو ۔
وہ جن حالات سے گزری ہے ، اتنا غصہ اور خفگی ظاہر کرنا تو بنتا ہے ۔
میر سجاول خاموشی سے مٹھیاں بھینچے فائزہ بیگم کی گوہر افشانی سن رہا تھ۔ اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں تھیں۔ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا اور تیز تیز قدم اٹھاتا ڈرائینگ روم سے نکل گیا ۔
میر جعفر نے ملامتی نظروں سے فائزہ بیگم کو گھورا تھا ۔وہ اطمینان سے ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گئیں ۔
“”””””””””””””””””
میر سجاول بھنا تا ہوا ڈرائینگ روم سے نکلا تھا ۔
ساجد ! گاڑی نکالو ۔ اس نے سلیوز سے کفلنکس نکال کر ملازم کی طرف اچھالے اور سلیوز کو فولڈ کرتے ہوئے کرخت آواز میں حکم صادر کیا ۔
وہ گاڑی میں بیٹھتے ہی فل اسپیڈ میں حویلی کا داخلی دروازہ پار کرگیا تھا ۔
میر لمحے کی بھی تاخیر کئے بغیر دندناتا ہوا زرتاج کے گھر پہنچا ۔اس نے بریک لگائے توٹائرز کے چرچرانے کی آواز دور دور تک سنائی دی تھی ۔
جاری ہے
