Rate this Novel
Episode 37
میر سبطین ! ان کا ڈر سہی ہے ۔ یہ ان لوگوں کی کوئی چال ہے ۔ معظم شاہ کتنا ٹیڑھا انسان ہے ، میں اس کی نس نس سے واقف ہوں ۔سب جانتا ہوں ۔وہ اتنی جلدی سدھرنے والا نہیں ۔ اپنی شکست کا بدلا وہ ضرور لے گا ۔
اس بار اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے وہ یہ پینترا کھیل رہا ہے ۔ہماری کمزوری ہاتھ کرنا چاہتا ہے مگر میں اسے اس کوشش میں کامیاب نہیں ہونے دوں گا ۔میر سجاول مشتعل ہو کر بلند آواز میں بولا ۔
وہ بھی ناشتے کے لئے زرتاج کا ہاتھ تھامے ڈائیننگ روم میں پہنچا تھا ۔اس نے دروازے پر رک کر ان کی باتیں سن لیں تھیں ۔
میر غضنفر ، میر جعفر اور میر سبطین تینوں ایک ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوئے ۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہے ، یہ محض تمھارا وہم ہے ورنہ ہمیں صفدر شاہ کے خلوص میں زرا سے بھی کھوٹ کا شائبہ محسوس ہوتا تو میں خود اس رشتےکو کوئی اہمیت نہیں دیتامگر وہ اب وہی بیس سال پرانے مخلص اور کھرے صفدر شاہ ہیں ۔میر غضنفر نے تحمل سے جواب دیا ۔
دشمن کوئی بھی روپ دھار لے ، وہ دشمن ہی رہتا ہے ۔اسے پہچاننے والی نظر کی ضرورت ہوتی ہے اور آپ لوگوں کی آنکھوں پر دوستانے کی پٹی بندھ گئی ہے ۔ میر سجاول ترکی بہ ترکی بولا ۔
اس نے چئیر گھسیٹ کر زرتاج کو بٹھایا اور خود اس کے ساتھ والی چئیر پر بیٹھ گیا ۔
میر سجاول ! تم بس اپنا ہی دماغ نا چلایا کرو کبھی دوسروں کی بات بھی سننے سمجھنے کی کوشش کیا کرو ۔ ابھی ہمارے بڑے موجود ہیں اورانہوں نے ہم سے ذیادہ دنیا دیکھی ہے ۔ لوگوں کے رویے اور ان کو پرکھنے کی سمجھ بوجھ ان میں ہم سے ذیادہ ہے ۔ بالآخر میر سبطین بول پڑا۔
پلیز ! تم تو بات ہی مت کرو ، ان لوگوں کو گھر تک لانے والے تم ہی ہو ورنہ یہ قصہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوچکا تھا ۔تم نے ان سے راہِ وراسم بڑھائے تو آج ان کی اتنی جرأت ہوگئی کہ وہ منہ اٹھاکر ہمارے گھر رشتہ مانگنے چلے آئے ۔میر سجاول بل کھارہا تھا ۔
کیا آپ لوگ یہ بھی بھول چکے ہیں کہ صفدر شاہ نے سندس پھپھو کی دوسری بیٹی کو اغوا کر لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے ساتھ کیا کیا ،کیا نہیں کیا ، آج وہ کہاں ہے کس حال میں ہے کوئی نہیں جانتا ۔ بس آپ لوگوں کو دوستیاں نبھانے کی پڑی ہے ۔میر سجاول نے یہ ذکر نکال کر سب کہ منہ بند کردئیے ۔
کس کے رشتے کی بات چل رہی ہے ،ہمیں بھی تو پتا چلے ۔ فائزہ بیگم بھی وہاں پہنچ چکی تھیں ، اس ذکر پر ان کا دل بہت زور سے دھڑکا۔ بحث کا کچھ حصہ تو ان کے کان پڑ چکا تھا مگر سندس کی بیٹی کہ ذکر پر فوراً سے پیشتر اندر آگئیں ۔ وہ قصداً انجان بنی پوچھ رہی تھیں ۔
صفدر شاہ صاحب رانیہ کے لئے اپنے صاحب زادے کا رشتہ لے کر آئے تھے ۔ وہ زہرخند لہجے میں بولا ۔
اوہو،،،،تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ۔ فائزہ بیگم بے خیالی میں کہہ گئیں ۔
کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔تمھاری اس بات کا کیا مطلب ہے ؟ میر غضنفر نے بھنویں چڑھائیں ۔
کچھ نہیں ، میں نے تو بس ایک بات کہی تھی ۔ فائزہ بیگم گڑبڑا کر بولیں ۔
میر سجاول تمھاری بات بھی درست ہے اور میں اس متعلق ضرور صفدر شاہ سے ضرور بات کروں گا مگرصفدر شاہ کی نیت میں زرا سا بھی کھوٹ ہوتا تو وہ ہر گز بھی تعلقات استوار کرنے کی کوشش نہیں کرتے ،شادی میں شرکت کرنے کے بہانے ہی سہی انہوں نے پہل کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اس لئے مکتوم شاہ کے رشتے پر غور کیا جا سکتا ہے ۔ اس میں کوئی برائی نہیں ۔میر جعفر مدبرانہ بولے ۔
پہل انہوں نے نہیں ، پہل ہمارے صلح جو بھائی نے کی ہے ۔پہل اس طرف سے ہوئی ہے ، انویٹیشن کے بہانے ۔وہ بھڑک اٹھا ۔
جس نے بھی کی ہو ، کم از کم کچھ اچھا کرنے کی کوشش کی ہے ، اس سے پورے گاؤں کا فائدہ ہی ہوگا ۔ دشمنی سے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہورہا تھا ۔ خواہ وہ ہمارا نقصان ہو یا ان کا ،گاؤں والے ہی سب سے ذیادہ پس رہے تھے ۔میر سبطین چڑ کر بولا ۔
جو کچھ بھی ہو جائے ۔۔۔۔۔ میں رانیہ کی شادی اس خاندان میں ہر گز نہیں ہونے دوں گا اوراگر آپ لوگوں نے یہ کوشش کی اور ان سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کے بارے میں سوچا تو میرا رشتہ آپ سب سے ٹوٹ جائے گا ۔وہ حتمی انداز میں بولا ۔
نہیں ، نہیں ۔میر سائیں ، ایسی باتیں منہ سے مت نکالو۔
ارے میں کہتی ہوں لعنت بھیجیں آپ لوگ اس رشتے پر ، بھلا ہماری رانیہ کے لئے رشتوں کی کوئی کمی ہے ۔ ایک سے بڑھ کر ایک رشتہ مل جائے گا بلکہ وہ جو ایم ۔ پی ۔ اے قاسم کی بیگم ہیں ، انہوں نے کل رات خود ڈھکے چھپے لفظوں میں مجھ سے رانیہ کے لئے بات کی ہے ۔فائزہ بیگم میر سجاول سے خائف ہوگئیں تھیں ۔
میر سجاول کے حتمی انداز پر تقریباً سبھی نے چپ سادھ لی تھی ۔ سب ہی گھروالے اس کی فیصلہ کن طبیعت سے واقف تھے ۔ وہ جو بات ایک بار منہ سے نکال دیتا پھر ایک انچ بھی اس سے پیچھے نہیں ہٹتا تھا ۔ یہ عادت اس کی بچپن سے رہی تھی اور یہی بات میر سبطین کو پریشانی میں مبتلا کر رہی تھی ۔
اسے میر سجاول کو اس رشتے کے لئے راضی کرنا ناممکن لگ رہا تھا ۔
اور رانیہ کے لئے مکتوم شاہ سے بہتر کوئی رشتہ اس کی نظر میں نہیں تھا،وہ ان دونوں کی نظروں میں ایک دوسرے کے لئے پسندیدگی بھی دیکھ چکا تھا ۔
کچن میں کھڑی رانیہ بوجھل قدموں سے کچن سے نکل گئی ، سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں بے حد جلن تھی ۔
وہ امڈتے آنسؤوں کو پلکیں جھپک جھپک کر اندر اتارنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
“””””””””””””※””””””””””””
ناشتے کے بعد زرتاج کراچی جانے کے لئے پیکنگ کر رہی تھی ۔وہ وارڈروب کھولے کھڑی تھی ، تب میر سجاول نے چپکے سے آکر بیک سے اسکی کمر کے گرد بازو حمائل کئے ۔ زرتاج اچھل پڑی ۔
دلبر سائیں ! پیکنگ ہوگئی یا میں آپ کی مدد کروں ۔ میر نے اس کے شولڈر پر ٹھوڑی ٹکا کر سرگوشی کی ۔
میں کر لونگی ، پلیز ! آپ مجھے چھوڑیں ۔زرتاج نے اس کے حصار کو توڑنے کی کوشش کی ۔
کیوں چھوڑ دوں ؟ تمھیں حکمرانی سونپی ہے ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم میرے پرسنل معاملات میں بھی اپنا حکم چلاؤگی۔یہاں صرف میری مرضی چلے گی۔ وہ اسے اپنے حصار میں لئے بیڈ تک لے آیا ۔
رانیہ بی بی نے کہا ہے ، دو گھنٹے میں ہمیں کراچی کے لئے نکلنا ہے ۔
پلیز ! مجھے پیکنگ کر نے دیں ۔ وہ میر سجاول کی بڑھتی ہوئی جسارتوں پر گھبرا کر بولی ۔
کیا کہا تم نے ؟ رانیہ بی بی ۔ تم اس کے باپ کی نوکر ہو جو اسے بی بی کہہ رہی ہو ۔ زری ! تمھارا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔ “بی بی “ کہنے پر میر سجاول کا دماغ گھوم گیا ۔اس نے ایک جھٹکے سے زرتاج کو الگ کیا۔
تم بیوی ہو میری ، میں تمھیں رانی بنا کر لایا ہوں اور تم ہو کہ نوکرانی بننے پر تلی ہوئی ہو ۔ خبردار جو اب تم نے کسی کو بھی بی بی کہہ کر پکارہ ۔ ٹانگیں توڑ دوں گا ۔ وہ ڈپٹ کر بولا ۔
دلبرسائیں!اگرتمھیں ہی اپنی حیثیت کا اندازہ نہیں ہوگا توکوئی اورکیونکر تمھارے وجود کی اہمیت کو تسلیم کرے گا ۔میں ہر وقت تمھارے ساتھ گھر میں نہیں رہوں گا ، میرے پیچھے کوئی تمھیں ڈس ریسپیکٹ کرے گا تو مجھے کیسے پتا چلے گا ۔
اس کے لئے تمھیں خود کو اسٹرانگ کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی تمھیں کم تر سمجھ کر تمھاری توہین نا کرے ۔ وہ کوئی ملازمہ ہو یا پھر میری ماں ہی کیوں نا ہو ۔ تمھیں سب کو اپنی پوزیشن کا احساس خود دلانا ہوگا ۔جو اب اس حویلی کے باقی افراد سے کم نہیں بلکہ ان کے بلکل برابر ہے۔
میر سجاول نے دھیمے لہجے میں سمجھاتے ہوئے اس کے بالوں کو کیچر سے آزاد کر دیا ۔
زرتاج کی ریشمی دراز زلفیں کھل کر اس کی پوری کمر پر بکھر گئیں ۔میر سجاول مسحور ہوگیا ۔
وہ مجھے آپ کے کپڑوں کی سمجھ نہیں آرہی،آپ دیکھ لیں کیا رکھنا ہے۔
زرتاج اپنا آنچل سنبھالتی بیڈ سے اٹھ گئی ۔
وہ بھی دیکھ لوں گا ، پہلے تمھیں تو دیکھ لوں ۔ ادھر آؤ، قریب سے دیکھوں ۔ تمھیں بتایا تھا ناں میری دور کی نظر کمزور ہے ۔ وہ دوبارہ زرتاج کا ہاتھ پکڑ کر اسے خود پر گراتا ہوا گنبھیر آواز میں بولا ۔
““”””””””””※”””””””””””
ہیلو، اماں ۔کیسی ہیں ۔۔۔۔؟ ائیر پیس میں مکتوم شاہ کی آواز گونجی ۔
میں ٹھیک ہوں ۔ تم کیسے ہو ، شاہ کیسا ہے ۔۔۔۔؟رخسانہ بیگم بے تابی سے بولیں ۔
میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ معظم شاہ بھی ٹھیک ہے ۔ یہیں میرے پاس ہے ۔ چیک اپ کروالئے ہیں ۔ ڈاکٹرز نے رپورٹس کروائی ہیں ، وہ آجائیں اس کے بعد ہی سرجری کی ڈیٹ ملے گی ۔ مکتوم شاہ نے تفصیلی جواب دیا ۔
گھبرانے والی تو کوئی بات نہیں ہے ناں ۔۔۔۔؟ رخسانہ بیگم نے فکرمندی سے پوچھا ۔
بلکل بھی نہیں ۔ آپ تسلی رکھیں ۔ یہاں کے ڈاکٹرز شیور ہیں کہ سرجری کامیاب ہوگی ۔ وہ پراعتماد تھا ۔
اللہ کرے ایسا ہی ہو ۔ رخسانہ قدرے مطمئین ہوگئیں ۔
آپ سنائیں گھر میں سب خیریت ہے ۔۔۔۔۔۔ بھابھی کیسی ہیں ؟
اس کی طبیعت زرا اوپر نیچے رہتی ہے ، ویسے ٹھیک ہے ۔ ہم سب اس کا بہت خیال رکھتے ہیں ۔
آپ میر سجاول کی شادی میں گئی تھیں ؟ مکتوم شاہ نے استفسار کیا۔
میں ، تمھارے بابا اور ثمینہ گئے تھے ۔ زینب اور عروش گھر پر ہی تھیں ۔
اچھا ، کیسی رہی شادی ؟ مکتوم شاہ بولا ۔
سب کچھ خیریت سے ہوگیااور میرے پاس تمھارے لئے ایک خوشخبری بھی ہے ۔ رخسانہ بیگم مسکراتے ہوئے بولیں ۔
رئیلی ! کیا خوشخبری ہے ۔ ۔۔۔؟ مکتوم شاہ کوتجسس ہوا ۔
تمھارے بابا بڑی حویلی تمھارا رشتہ لے کر گئے تھے ۔ رخسانہ بیگم نے خوشی سے بتایا ۔
اچھا پھراس طرف سے کیا جواب ملا ؟ مکتوم شاہ نے ٹہرے ہوئے لہجے میں پوچھا ۔
ابھی انہوں نے جواب تو کوئی نہیں دیا ، سوچنے کے لئے وقت مانگا ہے مگر مجھے یقین ہے ، جواب ہاں میں ہی ہوگا ۔ وہ مضبوط لہجے میں بولیں ۔
کچھ کہہ نہیں سکتے کیونکہ میر سجاول کے تیور ابھی بھی وہی ہیں ۔ مکتوم شاہ مایوسی سے بولا ۔
نیت اچھی ہو تو ٹیڑھے کام بھی سیدھے ہوجاتے ہیں ۔ انہوں نے تسلی دی ۔
تم ابھی اس بات کا ذکر شاہ سے مت کرنا ، ہوسکتا ہے اسے برا لگے۔
انہوں نے تاکید کی ۔
اسے برا نہیں لگے گا ۔مکتوم شاہ دھیرے سے بولا ۔
وہ کیوں ۔۔۔؟ رخسانہ بیگم کے لہجے میں حیرت تھی ۔
کل اس نے خود مجھ سے اس ٹاپک پر بات کی تھی ۔ اسے میری رانیہ سے شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔مکتوم شاہ نے ان کی حیرانگی دور کی۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے ورنہ مجھے تو دھڑکا لگا ہوا تھا کہ شاہ ضرور ہنگامہ کرے گا ۔ وہ یکدم پرسکون ہوگئیں ۔
ہممم ۔ اماں ! کل کال کروں گا ۔ میں زرا ڈنر کا انتظام کر لوں ۔
ٹھیک ہے ، تم دونوں اپنا خیال رکھنا ۔ اللہ حافظ ۔ رخسانہ بیگم نے ریسیور کریڈل پر ڈال دیا ۔
“””””””””””※””””””””””
ہیلو ! وائبریشن پر میر سجاول نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا ۔
یار ! باقی کا رومینس ہنی مون کے لئے چھوڑ دو ۔ بارہ بج چکے ہیں ،ہم سب ریڈی ہوکر بیٹھے ہیں ۔ صرف آپ لوگوں کا انتظار ہورہا ہے ۔ میر سبطین سائیڈ پر جاکر آہستگی سے بولا ۔
واٹ ! بارہ بج گئے ۔ ہم بس آدھے گھنٹے میں نیچے آرہے ہیں ۔ زرتاج پیکنگ کر رہی تھی اس لئے ٹائم کا پتہ نہیں چلا ۔ میر سجاول خجل ہوکر بولا ۔
پیکنگ ہوگئی ہے پھر بھی آدھا گھنٹہ لگے گا ، خدا کا خوف کرو ۔تمھاری فلائیٹ تو رات کی ہے مگر شام کو میری امپارٹنٹ میٹنگ ہے ۔
پلیز ! جلدی پہنچو ۔ میر سبطین نے جھنجھلا کر کہا ۔
اوکے ، جسٹ کمنگ ۔میر سجاول نے سگریٹ ایش ٹرے میں مسلتے ہوئے کال ڈسکنیکٹ کردی ۔
دلبر سائیں ! کیا چیز ہو ، دنیا بھلا دیتی ہو ۔ اب جلدی کرو ، نیچے سب ہمارا انتظار کررہے ہیں۔ وہ کمفرٹر ہٹاتا عجلت میں کہہ کر بیڈ سے اٹھ گیا ۔
زرتاج نے خود کو موردِ الزام ٹہرانے پر اسےکھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔
اچھا سوری ! کان پکڑ کر ۔ میر نے شرارت سے کہہ کرباقاعدہ اس کے کان پکڑے ۔
مگر اب تیار ہونے میں تو ٹائم لگے گا اورابھی تو پیکنگ بھی نہیں ہوئی۔زرتاج نے رونی شکل بنائی ۔
ڈونٹ وری !تم آرام سے تیار ہوجاؤ ، پیکنگ کے لئے میں کسی کو بلواتا ہوں ۔ میر سجاول نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر تسلی دی ۔
وہ دونوں ٹھیک آدھے گھنٹےبعدمکمل تیاری کے ساتھ لاؤنج میں پہنچے تھے۔
انہیں دیکھ کر سب ہی افراد اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے ۔
میر سائیں ! سفر میں اپنا خیال رکھنا اور فون کرتے رہنا ، یہ نا ہو کہ نئی نویلی دلہن کی سنگت میں ماں کو بلکل ہی فراموش کردو ۔ فائزہ بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ۔
اماں ! آپ اس سے خوف ذدہ مت ہوں ، یہ دنیا کی باقی لڑکیوں سے مختلف ہے ۔ یہ کبھی میرے پیاروں کو مجھ سے جدا کرنے کی کوشش نہیں کرے گی ۔ میر سجاول بولا ۔
زرتاج نے نظر اٹھاکراونچے پورے میر سجاول کو دیکھا جو ہر قدم پر اس کے لئے ڈھال بن کر اپنی والہانہ محبت کا ثبوت دے رہا تھا۔
بے شک وہ میر کو غصےاور ملال کی کیفیت میں اذیت دے رہی تھی مگر چاہ کر بھی اس کے جذبوں کی سچائی سے نظر نہیں چرا سکتی تھی ۔
اس کا جادو تمھارے سر پر چڑھ کر بول رہا ہے مگر میں تمھاری ماں ہوں ،جو تمھیں نظر نہیں آرہا وہ میں بخوبی دیکھ رہی ہوں ۔فائزہ بیگم دوبدو بولیں۔
بچے سفر کے لئے روانہ ہورہے ہیں اور تم فضول کی بحث لے کر بیٹھ گئی ہو ۔ انہیں دعائیں دے کر رخصت کرو ۔ میر جعفر نے انہیں ٹوکا۔
آپ کا بیچ میں بولنا ضروری ہوتا ہے ۔فائزہ بیگم ناگواری سے بولیں۔
میر سائیں ! خیریت سے پہنچ کر کال ضرور کردینا ، زرتاج کا اور اپنا بہت خیال رکھنا ۔ میر جعفر نے فائزہ کو نظر انداز کرتے ہوئے تاکید کی ۔
جی بابا سائیں ۔ وہ ان سے گلے مل کر زرتاج کا ہاتھ تھامے باہر نکل
گیا ۔ باقی سب گاڑیوں میں سوار ہو چکے تھے ۔
“”””””””””””※”””””””””””
زرتاج کراچی انٹرنیشنل ائیر پورٹ کی رونقیں دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی۔
وہ پہلی بار ہوائی جہاز سے سفر کرنے جارہی تھی ، یہی سوچ اسے پورے راستے بے چین کرتی رہی تھی ۔ ائیر پورٹ کی چکا چوند نے تو اسے مزید حواس باختہ کردیا تھا ۔
وہ بچوں کی طرح سے ڈری سہمی میر سجاول کا ہاتھ دونوں ہاتھوں سے پکڑی ہوئی تھی۔
میر اس کی گھبراہٹ پر دھیرے سے مسکرا یااور زرتاج کو اپنے ساتھ لگا لیا ۔ آس پاس کھڑے لوگوں نے دلچسپی سے پرفیکٹ نیولی میرڈ کپل کو دیکھا ۔
میر سجاول جہاز میں بیٹھ کر مبہم سی مسکراہٹ کے ساتھ سیٹ پر سر رکھے ادھر ادھر نظر گھما رہا تھا۔اسےجہاز کے ٹیک آف پر زرتاج کے متوقع خوف کا بے صبری سے انتظار تھا ۔
اناؤنسمنٹ پر میر سجاول نے زرتاج کے گرد بیلٹ باندھا جو بلکل سن ہوچکی تھی ۔ اس نے فوراً ہی میر کا بازو مضبوطی سے دبوچ لیا ۔وہ مسلسل قرآنی آیات کا ورد کرہی تھی ۔
میر بیلٹ باندھ کر اپنی شیو پر ہاتھ پھیر نے لگا ۔
جہاز رن وے پر چلناشروع ہوا تومیرسجاول کی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔
اس کی روشن آنکھیں بھی مسکرا رہی تھیں ۔
جیسے ہی جہاز نے ٹیک آف کیا ، زرتاج اس سے لپٹ گئی ۔ میر بے ساختہ ہنس پڑا ۔
دلبر سائیں ! تھوڑا سا ادھر دیکھو ۔ میر نے اس کا سر ونڈو کی جانب گھمایا ۔
نہیں ، پلیز ! میر سائیں ، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔ زرتاج نے آنکھیں میچ لیں ۔میر کھل کر مسکرایا ۔
دیکھو تو سہی ، کچھ بھی نہیں ہے ۔ ہم کتنا اونچائی پر آچکے ہیں ۔ دیکھوگی تو ڈر نکل جائے گا ۔
زرتاج نے زرا سی آنکھیں کھولیں ۔ کراچی شہر کی بے ترتیب روشنیاں لمحہ بہ لمحہ دور ہورہیں تھیں ۔ اس نے دوبارہ آنکھیں بند کرکے چہرہ میر سجاول کے سینے میں چھپالیا ۔میر نے اسے اپنے مضبوط حصار میں لے لیا تھا ۔
میری جان ! ہیپی ہنی مون ۔ میر نے اس کے کان میں سرگوشی کی ۔
جاری ہے
