Rate this Novel
Episode 18
عروش کے جاگ جانے سے معظم شاہ خجل سا ہوگیا ،بوکھلاہٹ میں انگلیوں میں دبا سگریٹ عروش کی بیوٹی بون پر گرا ، عروش کے منہ سے بے ساختہ دبی سی سسکاری نکلی ۔جلن کی شدت سے اس نے آنکھیں میچ لیں ۔
اس کے چہرے پر تکلیف کی لہر نے شاہ کو ڈھیروں ڈھیر شرمندگی نے گھیر لیا اس نے فوراً ہی سگریٹ اٹھا کر ایش ٹرے میں مسل دیا مگر عروش کی بون پر اچھا خاصا داغ پڑ چکا تھا ۔
ایم اکسٹریملی سوری ! یہ نادانستگی میں ہوا ہے ، میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔وہ عروش کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا ۔چند لمحوں کے لئے وہ یہ بھی بھول چکا تھا کہ بارہا وہ عروش سے نفرت کا اظہار کر چکا ہے ۔
پھر وہ بیڈ سے اتر کر ڈریسنگ روم میں گیا اور فرسٹ ایڈ باکس لے آیا ۔
شاہ عروش کی بیوٹی بون پر انگلی کی مدد سے برننگ ٹیوب لگا رہا تھا ۔عروش کی کیفیت کچھ ایسی ہوگئی تھی کہ جلن کا احساس بھی معدوم پڑ گیا تھا ۔وہ سانس کھینچے لیٹی رہی ۔
بہت جلن ہو رہی ہے ۔۔؟شاہ نے ٹیوب کا کیپ لگاتے ہوئے ایک نظر اس کے گھبرائے ہوئے چہرے پر ڈالی ۔
نہیں ۔۔۔ اب ٹھیک ہے ۔عروش کہ منہ سے بمشکل آواز نکلی ۔
یہ جلن کچھ دیر کم پڑ جائے گی ۔اس نے عروش کا گال تھپتپایا ۔
مگر جس جلن سےمیں جل رہا ہوں اس کا کیا ۔۔۔؟ یکدم ہی شاہ کا موڈ بدلا پیشانی پر بل پڑ گئے ۔عروش ہکا بکا اس کا منہ دیکھنے لگی ۔
ابھی تو بڑا ہمدرد بن رہے تھے اچانک اصل روپ میں آگئے ۔اس نے بد دل ہو کر سوچا ۔
شاہ ! میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس کے لئے مجھے شرمندگی ہو ،جو کچھ بھی اس دن ہوا اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا ۔ وہ بس ایک ایکسیڈینٹ تھا یا پھر میری بد نصیبی، اس میں میری نیت کا کوئی عمل دخل نہیں تھا ۔
اس لئے میں اپنی نظروں میں سر خرو بھی ہوں اور پر سکون بھی ہوں ۔عروش نے آنکھوں میں نمی لئے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی ۔
میر سبطین کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ۔۔۔؟شاہ نے اس کی ساری باتیں یکسر نظر انداز کردیں ۔شعلہ بار نگاہیں اس پر جمائے سرد لہجے میں طنزیہ سوال کیا۔ اس کی سوئی بس میر سبطین پر اٹکی ہوئی تھی ۔عروش کا سر چکرا گیا ۔
وہ صرف میرے باس تھے ۔نتھنگ ایلس (اور کچھ نہیں ) عروش نے نظر چراتے ہوئے فقط اتنا کہا۔شاہ نے بھنا کر ایک ہاتھ تکیے پر جمایا اور دوسرے ہاتھ سے عروش کا منہ دبوچ لیا ۔ میری طرف دیکھو۔
وہ صرف باس تھا اس لئے تمھیں اپنی گاڑی میں گھر ڈراپ کرتا تھا،تمھیں قیمتی بریسلٹ گفٹ کرتا تھا ۔ویسے آپ کے معزز باس نے اپنےاسٹاف کی کتنی لڑکیوں کو ایسے گفٹس سے نوازہ تھا یا یہ نظرِ کرم صرف آپ پر ہی تھی ۔۔۔؟ وہ غرایا ۔
میں کچھ نہیں جانتی ،انہوں نے مجھے کوئی بریسلٹ نہیں دیا ۔پلیز ! مجھےمعاف کردیں ۔میں آپ کے شکوک و شبہات مٹا نہیں سکتی کیونکہ میری کسی بھی بات کا اثر آپ پر نہیں ہوگا ۔وہ شاہ کے جارحانہ رویے سے خوف ذدہ ہوکر بلکنے لگی تھی۔
ہاں ۔۔۔نہیں ہو سکتا مجھ پر اثر کیونکہ مجھے صرف تمھاری حرکتوں نےشکوک و شبہات میں مبتلا نہیں کیا ہے ، وہ تمھارا نام نہاد عاشق حماد (گالی) مرتے وقت اس کی زبان پر بھی تم دونوں کے ہی عشق کی داستان تھی ۔
شاہ نے بیڈ کراؤن پر اتنی طاقت سے ہاتھ مارا کے مضبوط بیڈ لرز اٹھااور شاہ کی ہتھیلی بھی زخمی کر گیا ۔
شاہ کے منہ سے گالی سن کر عروش کی ہتھیلیاں بھیگ گئیں ،وہ اتنا بپھر رہا تھا کہ خوف سے عروش کا دل بند ہونے لگا ۔
لمحوں میں حماد کے الفاظ اور عروش کا میر سبطین کی گاڑی سے اترنے کا منظر اس کے ذہن میں بیدار ہوا اور جنونی کیفیت میں اس نے عروش کو بے دردی سے پیٹنا شروع کر دیا ۔
عروش کے حواس شاہ کے دو چار بھاری ہاتھوں کے سامنے جلد ہی جواب دے گئے ،وہ بے جان سی ہو کر ایک طرف ڈھلک گئی ۔
معظم شاہ کا جنون اور جلال پل بھر میں جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔
شاہ نے اس کے گال تھپتھپائے پھر اس کا ہاتھ تھام کر نبض چیک کی جو سرد پڑ چکا تھا ۔
شٹ ۔۔۔وہ سر جھٹک کر عروش کو ہوش میں لانےکی تدبیر کرنے لگا ۔
————————-
میر سبطین کو کچھ دیر قبل ہی معظم علی شاہ اور عروش کی شادی کی خبر ملی تھی ۔وہ رات ہی ویک اینڈ پر رانیہ اور نگین کو لے کر گاؤں پہنچا تھا۔
عروش ! تمھیں سمجھنے میں بہت بڑی غلطی کردی میں نے ،کاش تم سے شادی کا فیصلہ میں نے اتنی جلد بازی میں نا کیا ہوتا ۔کرب سے سوچتے ہوئے اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔یکدم ہی اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا ۔
ادا سبطین ! آپ چائے پئیں گے ؟ وہ لیونگ روم میں صوفے کی پشت پر سے سر ٹکائے خیالوں کی دنیا میں گم تھا ۔کچن میں جاتے ہوئے نگین کی نظر اس پر پڑی تو وہ پوچھے بنا نہیں رہ سکی ۔اسے بھی رات گاؤں پہنچتے ہی معظم شاہ کی شادی کی خبر مل چکی تھی ۔عروش سے سبطین
کی وابستگی کا ذکر بھی وہ کئی بار رانیہ کے منہ سے سن چکی تھی ۔اس لئے میر سبطین کی حالت کا اندازہ تھا۔
ہوں ۔۔۔نہیں ۔مجھے طلب نہیں ،تھینکس ۔اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں اور سامنے سے آتی ہوئی فائزہ بیگم پر نگاہ پڑی تو اٹھ کھڑا ہوا۔
میر سبطین ! تم یہاں بیٹھے ہو ،تمھیں بھی جلدی اٹھنے کی عادت ہے ۔
بھئی ! ہماری حویلی میں تو صبح بارہ بجے کے بعد ہی ہوتی ہے ،وہ کیا ہے نا میر سجاول زرا دیر سے اٹھنے کا عادی ہے ۔وہ اسے ہاتھ سےبیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئیں ۔
اے چھوکری ! یہاں کھڑی کیا ہماری باتیں سن رہی ہے ،چل دفع ہو ۔میر سبطین ! تم لوگوں نے بھی بہت منہ لگا لیا ہے اسے ،ان کم ذاتوں کو زرا سی ڈھیل دو تو یہ سر پر چڑھ جاتے ہیں ۔فائزہ بیگم نے نگین کو دھتکارنے کے ساتھ لگے ہاتھوں میر سبطین کوبھی لپیٹ لیا ۔نگین کھلے عام بے عزتی پر آنکھوں میں آئی نمی لئے فوراً ہی وہاں
سے بھاگ گئی ۔
میر سبطین کو فائزہ بیگم کا یوں نگین کو بے عزت کرنا سخت ناگوار گزرا مگر وہ ضبط کرتے ہوئے پہلو بدل کر رہ گیا ۔
میری طبیعت رات کچھ بہتر نہیں تھی اس لئے تم لوگوں سے ملاقات نہیں ہو سکی ۔رانیہ بھی شاید ابھی تک سورہی ہے ۔
جاگ رہی ہے ،ہم سب کی صبح زرا جلدی ہوجاتی ہے ۔میر سبطین نے انہی کے انداز میں جتایا ۔وہ بھلا کب پیچھے رہنے والوں میں سے تھا ۔
میر سبطین ! رانیہ کے بارے ادا غضنفر اور تم نے کیا سوچا ہے ۔۔؟فائزہ بیگم جلد ہی مطلب کی بات پر آگئیں تھیں ۔
کس بارے میں ؟اس کی شادی کے بارے میں ،ماشااللہ سمجھ دار ہے ۔لکھی پڑھی ہے
اس کی شادی نہیں کرنی کیا ؟ لڑکیوں کی شادی وقت پر ہی ہو جانی چاہئے ۔
جی ! آپ بلکل سہی کہہ رہی ہیں ،ہمیں بھی اس کی فکر ہے ۔ڈیڈی نے ایک دو جگہ اس کے رشتے کی بات چلائی ہے ۔اس نے سنجیدگی سے ٹہرے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔وہ بمشکل فائزہ کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا وگرنہ اس وقت وہ جس ذہنی اذیت میں مبتلا تھا اس میں فائزہ بیگم کی گفتگو اس کے سر پر ہتھوڑے برسا رہی تھی ۔
رانیہ کے لئے میر سجاول سے بہتر رشتہ تمھیں کہیں نہیں ملے گا ۔بہت جلد میں اور تمھارے چاچا سائیں رشتہ لے کر ادا غضنفر کے پاس جانے والے ہیں ۔فائزہ بیگم نے اس کے سر پر دھماکہ کر دیا۔
میر سجاول جیسے بگڑا ہوئے اور خود سر انسان اور رانیہ کا کوئی جوڑ نہیں بنتا تھا ۔فائزہ بیگم کی بات نے اس کا دماغ گھما دیا ۔
مگر میں رانیہ کے لئے لڑکا پسند کر چکا ہوں اور بہت جلد ہم یہ رشتہ فائنل کرنے والے ہیں ۔اس نے ضبط کی انتہاؤں پر پہنچ کر فائزہ بیگم کو صاف لفظوں میں انکار کر دیا ۔
کیوں ،میر اسجاول میں کیا کمی ہے جو تم لوگوں نے لڑکی باہر دینے کا فیصلہ خود ہی کرلیا ۔اتنی بڑی جاگیر کا کلوتا وارث ہے میرا بیٹا ۔فائزہ بیگم نے تفاخر سے کہا ۔
میں مانتا ہوں ،میر سجاول بہت بڑی جاگیر کا اکلوتا وارث ہے مگر اس میں اخلاقیات کی بہت بڑی کمی ہے ۔آپ کے بگڑے رئیس زادے کے ہاتھ میں اپنی رانیہ کا ہاتھ میں کبھی نہیں دوں گا ۔میر سبطین نے غصہ ضبط کرتے ہوئےتحمل سے فیصلہ کن انداز میں جواب دیا ۔اس
کے بعد وہ وہاں رکا نہیں تھا لمبے ڈگ بھرتا ہوا فوراً ہی لیونگ روم چھوڑ گیا تھا ۔
اس کی اس قدر صاف گوئی پر فائزہ بیگم کا منہ کھلا رہ گیا پھر یکدم ہوش میں آکر وہ تلملاتے ہوئے قدرے بلند آواز میں بولنے لگیں ۔
میرے بیٹے کے لئے لڑکیوں کی کمی نہیں ہے ،ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی اور گھرانہ پڑا ہے جو میر سجاول اپنا داماد بنانے کے لئے ہاتھ پیر جوڑنے کے لئے بھی تیار ہیں ۔
ہونہہ ۔۔۔ہے کیا اس چھٹانک بھر کی رانیہ میں ،میں تو اس لئے کہہ رہی تھی گھر کی لڑکی گھر میں ہی رہ جائے گی ۔درحقیقت وہ کہنا چاہتی تھیں گھر کی دولت گھر میں ہی رہ جائیگی مگر کہہ نہیں سکتی تھیں۔
میر سبطین کو ان کی آواز اوپر کمرے میں پہنچنے تک سنائی دی تھی مگر اس نے کمرے میں داخل ہو کر کھٹاک سے دروازہ بند کر دیا ۔
عروش کی شادی کی خبر نے ویسے ہی اس کا دل بوجھل کردیا تھا اور اب فائزہ بیگم کی بات پر وہ مزید مضطرب ہو گیاتھا ۔اس نے سائیڈ ٹیبل سے گلدان اٹھا کر دیوار پر مارنا چاہا مگر پھر ناجانے کیا سوچ کر واپس رکھ دیا۔
فائزہ بیگم صوفے پر بیٹھی مستقل بڑبڑا رہی تھیں جب میر سجاول نک سک سے تیار ہوا ، ڈارک براؤن شلوار سوٹ میں ملبوس فریش موڈ میں اندر داخل ہوا ۔
میر سجاول ! آجاؤ یہاں میرے پاس بیٹھو ۔ناشتہ لگواتی ہوں تمھارے لئے ۔نگین ! زہرا ! ہاجراں ! کہاں مر گئیں سب کی سب ۔انہوں نے بلند آواز میں ملازماؤں کو پکارا ۔
جی بڑی بی بی ! زہرا گرتی پڑتی ان کے پاس پہنچی اور ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو گئی ۔
جلدی سے ناشتہ لگواؤ ۔کہاں مری رہتی ہو ، میر سجاول تیار بھی ہو گیا ہے اور تم میں سے کسی کو ہوش نہیں کہ اس کے لئے ناشتہ تیار کرنا ہے ۔وہ بری طرح ملازمہ پر برس رہی تھیں ۔
اماں ! کول ہوجائیں ،مجھے ابھی بھوک بھی نہیں ہے ۔آپ یہ بتائیں صبح صبح اتنی گرم کیوں ہورہیں ہیں ۔۔؟بابا سائیں سے جھگڑا ہوا ہے
کیا ؟وہ ماں کی اتنی فکر اور پیار پر ان کا گال چومتے ہوئے گویا ہوا۔
ان سے کیا جھگڑا ہونا ہے ،وہ گھر میں رہیں گے تو جھگڑا ہوگا ناں ۔چھ بجے تو وہ شہر کے لئے روانہ ہوگئے تھے ۔وہ برا سا منہ بنا کر بولیں ۔
میر سبطین سے اس کے رشتے پر ہونے والی منہ ماری وہ یکسر چھپا گئیں تھیں ۔
میر سجاول مبہم سا مسکرایا ۔ ایک ہاتھ ماں کے شانے پر رکھے دوسرے ہاتھ سے موبائل یوز کرتے ہوئے وہ اسکرین پر نظر دوڑا رہا تھا۔
میر سائیں ! بس بہت من مانی اور موج مستی کر لی تم نے،اب میں جلد سےجلد تمھاری شادی کرنا چاہتی ہوں ۔تمھارے بچے کھلانا چاہتی ہوں ۔وہ قطعی انداز میں کہہ رہی تھیں کیوں کہ ہر بار میر انہیں اس ذکر پر ٹال دیتا تھا۔
ہمم ۔۔۔اب میں بھی یہی چاہتا ہوں ،آپ تیاری شروع کردیں ۔
اس نے سنجیدگی سے پرسوچ انداز میں کہا۔دل و دماغ پر ایک پل میں گھبرائی شرمائی سی زرتاج چھا گئی ۔اس کی سوچ کے رنگ اس کے خوبصورت چہرے کو اور بھی خوبصورت بنا رہے تھے ۔
تم سچ کہہ رہے ہو ،وہ بے یقینی سے بولیں ۔
ہوں ۔۔۔میر سجاول نے ہنکارہ بھرا ۔
اب دیکھنا کیسی سوہنی دلہن ڈھونڈ کر لاتی ہوں تمھارے لئے ،تم سےجلنے والوں کا منہ کالا ہو جائیگا ۔وہ میر سبطین کے کمرے کی طرف نگاہ کرتے ہوئے بولیں ۔میر کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔
اچھا ! کون جلتا ہے مجھ سے ۔۔۔؟اس نے مزہ لیتے ہوئے استفسار کیا ۔
سب ہی جلتے ہیں میرے شہزادے سے ،چھوڑو تم ۔یہ بتاؤ کیسی دلہن چاہئے تمھیں ۔۔۔؟وہ بڑے شوق سے پوچھ رہی تھیں ۔
اماں ! دلہن تو میں نے ڈھونڈ لی ہے ، اور وہ بھی اتنی سوہنی کہ اس کے جیسی پورے گاؤں تو کیا شہر میں بھی کوئی نہیں ۔اس کی آنکھوں میں زرتاج کا دلکش عکس جھلملا رہا تھا ۔
ہیں ۔۔کیا وہ اسی گاؤں کی ہے ؟مگر گاؤں میں کوئی ایسی لڑکی یا ایسا گھر تو میری نظر سے نہیں گزرا ۔وہ ہونٹوں پر انگلی رکھے پر سوچ انداز میں کہہ رہی تھیں ۔
اماں ! کیسے گزرے گی ،آپ کے پاس میر سجاول والی نظر جو نہیں ۔وہ شرارتاً بولا ۔
نام بتاؤ مجھے ؟میں ان کے گھر جاؤں ،دیکھوں تو سہی ۔
چلی جائیے گا ،مگر ابھی نہیں کچھ دن بعد ،جب میں آپ کو جانے کے لئے کہوں گا ۔وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے اٹھ گیا ۔
فائزہ بیگم سر ہلا کر رہ گئیں ،میر کی کسی بھی بات سے وہ انکار نہیں کرتی تھیں ۔
—————————
اماں ! اگر میں کہوں کہ اب میں بھی شادی کے لئے سیریس لی سوچ رہا ہوں تو آپ کا ری ایکشن کیا ہوگا ۔مکتوم شاہ نے رخسانہ بیگم کےدونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر کہا ۔
مکتوم شاہ رخسانہ بیگم کی گود میں سر رکھے لیٹا ہوا تھا۔جب بھی وہ فری ہوتا یونہی سارا دن ماں کے گھٹنے سے لگا رہتا ۔رخسانہ بیگم نے چونک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔
مکتوم شاہ ! تم سچ کہہ رہے ہو ،تم شادی کے لئے تیار ہو ۔۔۔؟رخسانہ بے یقینی سے گویا ہوئیں ۔معظم شاہ کی شادی کے فوراً بعد مکتوم شاہ کے منہ سے یہ بات سن کر ان کو دوگنی خوشی ہوئی تھی ۔
جی اماں ! میں نے لڑکی بھی پسند کر لی ہے ،ہوسکتا ہے آپ کو اس کے بارے میں سن کر کچھ عجیب لگے مگر میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے ۔اس نے تہمید باندھی ۔
شاہ ! میں تو اس بات پر ہی راضی ہوں کہ تم دونوں کہ گھر میری ذندگی میں ہی بس جائیں اور میں دونوں کی خوشیاں اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔معظم شاہ کی طرف سے تو میں اب بھی مطمئیں نہیں ناجانے اس کے دل میں کیا ہے مگر تم پر میں اپنا تھوڑا بہت حق سمجھتی ہوں کیونکہ تم اس سے اور اپنے باپ سے بلکل مختلف ہو۔
زینب کے نکاح کے بعد اب اس گھر نے عروش کی صورت میں خوشی دیکھی ہے ۔ میری آنکھیں ترس رہی ہیں تھیں تم دونوں کی شادی اور بچوں کی کلکاریوں کی آواز سننے کے لئے ۔ رخسانہ بیگم کہتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں ۔
اماں ! آپ کا تھوڑا سا نہیں ،پورا پورا حق ہے مجھ پر اور پہلے میں اپنی اسٹڈیز کی وجہ سے آپ کی خواہش رِد کئے ہوئے تھا مگر اب ایسی کوئی مجبوری نہیں جو میں اپنی پیاری سی ماں کو دکھی رکھوں ۔اس نے کہتے
ہوئے رخسانہ کے گلے میں بانہیں ڈال دیں ۔
اچھا ! پھر جلدی سے بتاؤ ،کون ہے وہ لڑکی میں آج ہی تمھارے بابا سے بات کروں گی تا کہ ہم جلد ہی اس کے گھر جا سکیں ۔رخسانہ کافی بے صبر ہو رہی تھیں ۔
خیر اماں ! اتنی جلدی تو آپ نہیں جا سکتیں ،اس سب میں ابھی کچھ وقت درکار ہے مگر مجھے رب پر پورا یقین ہے ۔وہ کوئی نا کوئی راستہ ضرور نکال دیں گے ۔
مکتوم شاہ ! بھلا ایسا بھی کیا ہے جو تم اس طرح کہہ رہے ہو۔رخسانہ کچھ الجھ سی گئیں ۔
اماں ! رانیہ دراصل ، میر غضنفر علی کی بیٹی ہے ۔جن کا علاج کرنے پر معظم شاہ نے مجھ سے جھگڑا کیا تھا ۔اسی دن پہلی بار رانیہ سے میری ملاقات ہوئی تھی ۔ مکتوم شاہ نے تھوڑا جھجکتے ہوئے ماں کو تفصیل بتائی ۔
مکتوم شاہ ! تمھارا دماغ خراب ہوگیا ہے ،جس خاندان سے تمھارے باپ اور بھائی کو خدا واسطے کے بیر ہیں ۔جن سے ہمارا ہر رشتہ اور تعلق برسوں پہلے ختم ہو چکا ہے ۔دونوں خاندان ہر پل ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنے رہتے ہیں ،بابا تمھارا رشتہ اس گھر میں لے
جانے کے لئے راضی ہو جائیں گے ۔۔۔۔تم نے سوچ بھی کیسے لیا؟
اماں ! پلیز !کام ڈاؤن ۔۔۔اللہ سائیں کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے ۔کیا معلوم یہ رشتہ برسوں سے چلی آرہی دشمنی کا خاتمہ کر دےاور پہلے کی طرح سب ایک ساتھ ہو جائیں ۔
مکتوم شاہ ! ایسا کبھی نہیں ہوگا ،جس دشمنی کو صفدر شاہ نے اپنے خون سے سینچا ہے وہ اتنی آسانی سے اسے ختم نہیں ہونے دیں گے۔
آج بھی وہ اسد شاہ کی یاد میں پہلی رات کی طرح تڑپتے ہیں ۔رخسانہ بیگم نے حتی الامکان کوشش کی تھی مکتوم شاہ کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے کی ۔
اماں ! آپ ریلیکس ہوجائیں ،ہم اس ٹاپک پر کسی اور دن ڈسکس کریں گے ۔اس نے ماں کے ہاتھ تھپتھپائے ۔رخسانہ بیگم کے چہرے کی
بدلتی ہوئی رنگت نے اسے ٹاپک چینج کرنے پر مجبور کردیا تھا ۔
————————
رانیہ کلاس لے کر فری ہوئی تو اپنی کلاس فیلو کے ساتھ کیفے ٹیریا میں چلی آئی ۔اسے چائے کی شدید طلب ہو رہی تھی ۔ایک سپ لیتے ہی
اس کے موبائل پر کال آگئی ۔کپ رکھ کر اس نے اتھل پتھل ہوتےدل کے ساتھ کال رسیو کی ۔
ہیلو ! رانیہ کیسی ہیں آپ ۔۔۔؟مکتوم شاہ نے کال اٹینڈ ہوتے ہی استفسار کیا ۔
میں ٹھیک ہوں ،آپ کیسے ہیں ۔۔۔؟رانیہ نے جھجکتے ہوئے پوچھا ۔
می ٹو ۔۔۔اس وقت آپ کہاں ہیں ۔۔۔؟ مکتوم شاہ نے مختصراً کہا اور پھر سوال کیا ۔
وہ میں۔۔یونیورسٹی میں ہوں ،لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں ۔۔۔؟رانیہ نے کچھ اٹکتے ہوئے حیرانی سے پوچھا ۔
رانیہ ! اس دن میں نے آپ سے کہا تھا ،میں دوبارہ کال کرونگا مگر حالات کچھ ایسے ہوگئے تھے کہ میں بات نہیں کر سکا مگر آج مجھے آپ سے لازمی بات کرنی ہے ۔
کیا آپ تھوڑا سا ٹائم نکال کر مجھ سے مل سکتی ہیں ۔۔۔؟اب میں آپ سے فیس ٹو فیس بات کرنا چاہتا ہوں ۔مکتوم شاہ نے سنجیدگی سے کہا ۔
میں تو یونیورسی میں ہوں ،آپ سے کیسے مل سکتی ہوں ۔۔۔؟رانیہ نے الجھتے ہوئے جواباً کہا ۔
آپ اجازت دیں تو میں کچھ دیر میں آپ کو یونیورسٹی سے پک کر لیتا ہوں ۔۔۔؟مکتوم شاہ نے پر امید لہجے میں اجازت طلب کی مگر دوسری جانب مکمل خاموشی چھا گئی ۔
رانیہ ! آپ مجھ پر ٹرسٹ کر سکتی ہیں ۔مکتوم شاہ نے اس کی خاموشی کی وجہ محسوس کر لی تھی ۔
ڈاکٹر مکتوم شاہ ! میں بھائی اور ڈیڈی کی اجازت کے بغیر کہیں بھی نہیں جاتی اور ابھی بھی ڈرائیور میرے ساتھ موجود ہے ۔اس لئے میں نہیں مل سکتی ۔رانیہ نے صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے ملنے سے معذوری ظاہر کردی۔
ٹھیک ۔۔۔کیا آپ یونیورسٹی میں ملاقات کر سکتی ہیں ،میں آپ کا ذیادہ وقت نہیں لوں گا ۔کم از کم اس پر تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔
اوکے ۔۔۔ایک گھنٹے تک میں فری ہو جاؤنگی ،آپ کتنی دیر میں یہاں پہنچ جائینگے ؟رانیہ نے سوچتے ہوئے اسے اجازت دے دی ۔
آپ کے فری ہونے تک میں وہاں پہنچ جاؤنگا ۔مکتوم شاہ نے ریسٹ واچ پر نظر ڈالتے ہوئے کہا ۔
رانیہ فون بند کر کے مسلسل یہی سوچ رہی تھی کہ آخر مکتوم شاہ یہ سب کچھ کیوں کرنا چاہتا ہے ،جبکہ وہ دونوں خاندانوں کے مابین تعلقات سے بھی واقف ہے ۔اسے کچھ غلط ہونے کا اندیشہ ہورہا تھا ۔
جاری ہے
