59.7K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

رانیہ کے آنسؤوں کو کراچی پہنچتے ہی بہہ نکلنے کا راستہ مل گیا ۔وہ گھر پہنچتے ہی روم میں بند ہوگئی تھی اور اب شام سے رات ہونے کو آئی تھی مگر اس نے خود کو اندھیروں میں گم کرلیا تھا ۔
کسی نے بھی یہ سوچ کر اسے ڈسٹرب کرنے کی کوشش نہیں کی کہ شادی کی تھکان ہے جسے وہ ایک ساتھ ہی اتارنا چاہتی ہے ۔ اسی لئے میر سجاول نے بھی اسے ائیر پورٹ چلنے کے لئے فورس نہیں کیا ۔
میر سجاول کےشدید ردعمل نے اس کےمن میں کھلتے محبت کے پھول کو وقت سے پہلے ہی مرجھادیا تھا ۔مکتوم شاہ کو بھلانے پر اس کا دل سو سو تاویلیں پیش کر رہا تھا مگر اسے بھولنے کے لئے ہرگز راضی نہیں تھا ۔
دونوں خاندانوں کی دشمنی اچانک دوستی میں تبدیل ہوئی تو اسے لگا کہ اس کی مکتوم شاہ کے حق میں کی گئی دعاؤں کوشرفِ قبولیت حاصل ہوگیا ہے مگر آج یہ گمان کھوکھلا ثابت ہورہا تھا ۔
وہ تکیے میں منہ چھپائے پہروں روتی رہی ، دل سنبھلنے کو تیار ہی نہیں تھا۔ مکتوم شاہ سے اس کی طویل ملاقاتیں یا باتیں نہیں ہوئی تھیں مگر چند رسمی ملاقاتوں میں ہی وہ اپنے مہذب شائستہ روئیے اور مثبت سوچ کی وجہ سے رانیہ کے دل کی گہرائیوں میں اتر چکا تھا ۔
وہ اس کا ہم مزاج ہی نہیں ، اس کی پہلی پسند بھی تھا ۔ اس کو بھلا کر جینا اتنا آسان بھی نہیں ۔اس نے دکھ سے سوچا ۔وہ بے حد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہی تھی جب فون کی بیل پر اس نے تکیہ سر سے ہٹا کر فون کی طرف دیکھا۔اس نے مکتوم شاہ کا نمبر دیکھ کر آنسو صاف کرتے ہوئے کال اٹینڈ کی۔
اسلام وعلیکم ! اس نے اپنی آواز کو حتی الامکان نارمل ظاہر کرنے کی کوشش کی اور دھیرے سے سلام کیا ۔
وعلیکم اسلام ! کیسی ہو ؟ شادی اٹینڈ کرلی ، مجھے مس بھی کیا یا نہیں ؟
وہ خوشگوار موڈ میں تھا ۔
ٹھیک ہوں ، آپ کیسے ہیں ۔۔۔؟
ٹھیک ہوں ۔ کیا بات ہے موڈ آف ہے یا تھکی ہوئی ہو ۔
ایسی تو کوئی بات نہیں ، بس سو رہی تھی ۔
اوہ ، پھر تو میں نے تمھیں ڈسٹرب کردیا ۔ وہ جزبز ہوگیا ۔
ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے ، میں آپ کی کال سےقبل ہی جاگ گئی تھی۔
تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں ۔ اینی ویز ، میں نے کہا تھا ناں میں سب کچھ سورٹ آؤٹ کرکے رہوں گا ۔ میرے ارادوں کو اللہ سائیں نے کامیابی سے ہمکنار کروا ہی دیا ۔۔۔۔
میری لگن سچی تھی،اس لئے ہمارے رشتے کے اسباب بھی بن گئے۔
اگر ہم سچے دل سے کوئی نیک کام کرنا چاہیں تو شروعات میں کتنی ہی مشکلات پیش کیوں نا آئیں ، اختمام ہمیشہ خوش کن ہوتا ہے ۔مکتوم شاہ بہت خوش لگ رہا تھا ۔
آپ کامیاب ہوگئے ، دشمنی بھی ختم ہوگئی ۔ پرانی دوستی کا سلسلہ بھی دوبارہ جڑ گیا مگر ہم جہاں کھڑے تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔
ہمارے حالات آج بھی وہی ہیں ۔ وہ نہیں بدلے اور نا بدلیں گے ۔
رانیہ اداسی سے مسکرائی ۔
کیا مطلب ؟ مکتوم شاہ نے برجستہ کہا ۔
مطلب کہ سجاول بھائی نے اس رشتے کے لئے صاف انکار کر دیا ہے حتی کہ یہ بھی کہا ہے ، اگر ہمارا رشتہ جوڑا گیا تو وہ ہم سے اپنا رشتہ ختم کرلیں گے ۔ رانیہ نے تفصیل سے آگاہ کیا ۔
مگر وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ اسے میری فیملی کی طرف سے شادی کی شرکت پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ اس نے ڈنر بھی ہمارے ساتھ کیا تھا ۔ مکتوم شاہ حیرت ذدہ تھا ۔
انہیں لگتا ہے کہ یہ آپ لوگوں کی کوئی چال ہے ، ہم سے رشتہ جوڑ کر معظم شاہ ہم سے اپنی شکست کا بدلہ لینا چاہتا ہے ۔ رانیہ نے مزید تفصیل بتائی ۔
واٹ ربش ! اس انسان کا دماغ خراب ہے ، اگر ایسا ہی کرنا ہوتا تو بدلہ لینے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں ۔ بابا سائیں خود چل کر حویلی نہیں جاتے ۔ مکتوم شاہ تپ کر بولا ۔
ویل ! تم ریلیکس ہوجاؤ ، میں پاکستان پہنچ کر خود میر سجاول سے بات کروں گا ۔ اسے سمجھاؤں گا ، مجھے یقین ہے وہ سمجھ جائے گا ۔
پلیز ! خدا کے لئے ، آپ ان سے بات نہیں کریں گے ۔ وہ سر پھرے خطرناک انسان ہیں ۔ گولی ، بندوق کے بنا تو بات ہی نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔آپ ان سے بات کریں گے تو وہ ناجانے کیا حشر کریں گے ۔ خدا نخواستہ آپ کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں ۔ آپ ایسی کوئی کوشش نہیں کریں گے ۔ اس نے منت کی ۔
وہ جذباتی انسان ہے ، دماغ کی بجائے دل سے کام لیتا ہے ۔ اسے سمجھانا میرے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ میں اسے اپنے طریقے سے سمجھاؤں گا تو وہ سمجھ جائے گا ۔
جب میں نے یہاں تک کوشش کی ہے تو آگے بھی مجھے ہی ہمت کرنی ہوگی ۔ اس میں گھبرانے والی کوئی بات نہیں ۔ ذندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس نے رانیہ کو تسلی دی ۔
“”””””””””””※”””””””””””
دلبر سائیں ! تیار ہوجائیں ، آج ڈنر باہرکریں گے۔میر سجاول نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلائیں ۔
کیوں ؟ جب ہم دو دن سے روم میں ہی ہیں ،کہیں نہیں گئے تو آج بھی باہر جا کر کیا کریں گے ۔ آپ روزانہ کی طرح کھانا یہیں منگوا لیں ۔ وہ تپ کر بولی اور میر کی طرف سے مکمل پشت کر گئی ۔ میر نے فلک شگاف قہقہہ لگایا ۔
کہتی تو صحیح ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوئیٹ کا ویو لاجواب ہے ، یہاں ڈنر کرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے ۔۔۔۔ویسے بھی ہنی مون کمرے میں ہی سیلیبریٹ کرنا چاہئے باہر گھومنے پھرنے کو تو عمر پڑی ہے ۔ تمھیں دوبارہ لے آؤں گا پھر جتنا دل کرے گھوم لینا ۔وہ زرتاج کی خفگی سے محفوظ ہو رہا تھا ۔
زرتاج کی خاموشی اس کے شدید غصے کو ظاہر کر رہی تھی ۔ میر بے ساختہ ہنسا ۔
یار ! غصہ کیوں کرتی ہو۔۔۔۔۔۔۔مذاق کر رہا ہوں۔۔۔۔۔شادی کی تھکن بھی تو اتارنی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔تھکن اتر گئی ہے ۔ اب آپ کو گھمائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاپنگ بھی کروائیں گے۔شاباش اٹھو ، جلدی سے ریڈی ہوجاؤ۔اس نے زرتاج کے بال مٹھی میں بھر کر کھینچے ۔
دیکھو! اتنے شاندار بیچ ریزورٹ میں بکنگ کروانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ دلبر سائیں سوئٹ میں رہتے ہوئے بھی بور نا ہوجائیں ۔ اب نخرے مت کرو ، اٹھ جاؤ ۔ آج یہاں ہماری لاسٹ نائیٹ ہے کل ملائیشیا کے لئے فلائیٹ ہے ۔ وہاں ہنی مون پلس میٹنگز بھی ہیں پھر بزی ہوجاؤں گا تو اور غصہ کروگی۔میر نے اس کا بازو پکڑ کر رخ اپنی جانب کیا۔
زرتاج نے خفگی کا بھرپور تاثر دیتے ہوئے اس سےنظریں نہیں ملائیں ۔
بس بہت ہوگیا ناں یار ! اب جلدی سے ریڈی ہوجاؤ ۔ باہر بھی ٹائم لگے گا ۔ اس نے زرتاج کو اٹھا کر بٹھا دیا ۔
زرتاج بیڈ سے اتر کر ڈھیلے ڈھالے انداز میں واش روم کی طرف چل پڑی ۔
وہ شاور لینے کے بعد وائیٹ شیفون کے نفیس سوٹ میں ملبوس کسی بھی قسم کے میک سے پاک چہرہ لئے باہر نکلی ۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے دراز بالوں کو سلجھا رہی تھی ۔ میر سجاول بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے اسموکنگ کر رہا تھا ۔بے خودی کے عالم میں اسے دیکھتا رہا یہاں تک کے سگریٹ اس کی انگلیوں تک جاپہنچا ۔ اس نے چونک کر سگریٹ ایش ٹرے میں مسلا پھر چل کر آیا اور اس کے گرد اپنے بالوں سے بھرپور بازو حمائل کر لئے ۔ آئینے میں دونوں کا عکس ایک ساتھ بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔
دلبر سائیں ! آپ کو نہیں لگتا کہ ہم دونوں صرف ایک دوسرے کے لئے ہی بنے تھے ۔ اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے گلدان میں سے فلاور نکالا اور پھر فلاور سے زرتاج کے رخسار پر لکیر کھینچ کر اس کی بھیگی زلفوں میں اٹکا دیا ۔
زرتاج نے پلکیں اٹھا کر مسکراتی نظروں سے اس کے دمکتے چہرے کو دیکھا ۔
آئے لو یو ۔وہ بہکنے لگا تھا۔زرتاج کے گلابی چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔
آئے لو یو ٹو ۔۔۔۔ مور دین یو ۔ اب آپ لیٹ مت کریں ۔ مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے ۔ وہ میر کو دھکیلتے ہوئے بولی ۔
یار ! دلبر ! پلیز ! میری محبوبہ ہی رہو ۔ خوفناک بیوی مت بنو ۔
تم تو باقاعدہ مجھے پیٹنے لگی ہو اور میں مظلوم سا شوہر تمھارا ہر ظلم سہنے کا عادی ہوتا جارہا ہوں ۔
ایسے دھکا دے رہی ہو جیسے ہماری شادی کو پندرہ بیس سال ہوگئے ہیں ۔
آپ کو وقت بے وقت یہ دورے پڑیں گے تو میں یہی کروں گی ۔ زرتاج نے اس کے بازو پر چٹکی بھری ۔
دلبر سائیں ! اٹس آر ہنی مون ٹرپ ۔ یہ دھکے مکے آپ کو زیب نہیں دیتے ۔ وہ بازو سہلاتا ہوا بے انتہا چہک رہا تھا ۔
زرتاج اس کے شیریں لہجے پر کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔
“”””””””””””※””””””””””””
میر سائیں ! آپ نے ساری ڈشز چائینیز ہی منگوائی ہیں ۔ پہلے تو آپ کو چائینیز بلکل پسند نہیں تھا ۔ زرتاج فلائینگ ساسر میں فولک پھنسا کر بولی۔
پہلے واقعی اچھا نہیں لگتا تھامگر اب شوق سے کھانے لگا ہوں،جومیرے دلبر سائیں کی پسند وہ میری پسند ۔ میر نے کندھے اچکائے ۔
زرتاج مسکرا کر پلیٹ پر جھک گئی ۔
میر نے فرائیڈ رائس کا پہلا اسپون اس کی طرف بڑھایا ۔
کیا کر رہے ہیں ، سب لوگ دیکھیں گے ۔ زرتاج جھجکتے ہوئے بولی ۔
سو واٹ ! دیکھنے دو ۔ میرسجاول نے لاپرواہی سے کہا اور اسے اپنے ہاتھوں سے کھلانے لگا ۔وہ جب سے ہنی مون پر آئے تھے میر اسے اپنے ہاتھوں سے ہی کھلاتا تھا ۔
یہ پاکستان نہیں ہے اگر پاکستان بھی ہوتا میں تب بھی اسی طرح تمھیں اپنے ہاتھوں سے کھلاتا ۔ گھر میں تو مجبوری ہے ، سب کی موجودگی کا لحاظ کرنا ہوتا ہے مگر باہر اپنی بیوی کو کھانا کھلانے میں مجھے کوئی شرم محسوس نہیں ہوسکتی ۔ وہ سنجیدگی سے بولا ۔
زرتاج نثار ہوتی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔ ان دو دنوں میں وہ میر کی ذیادتیاں تقریباً بھول چکی تھی ۔ میر سجاول نے اسے اپنی دیوانگی کے سامنے کچھ بھی یاد رکھنے کا موقع ہی نہیں دیا تھا ۔
ڈنر سے فری ہونے کے بعد میر نے ڈرائیور کو مال لے جانے کے لئے کہا تھا ۔
میں اتنے سارے شوز ، سینڈل اور پرسز کا کیا کروں گی ۔ ابھی تو شادی کا بھی سارا سامان پیکڈ پڑا ہے ۔ زرتاج تھک کر بولی ۔
دلبر ! یہاں کے پرسز اور فٹ وئیر ہی کمال ہوتے ہیں باقی انڈین ڈریسز کے علاوہ کپڑوں کی ورائیٹی ایسی نہیں ہوتی کہ جو تم یوز کر سکو نا میں تمھیں ایسی ڈریسنگ کرنے دوں گا تو پھر کچھ تو لینا ہے نا۔ میر نے یہاں وہاں نظریں دوڑائیں ۔
بس پھر اتنا کچھ تو لیا ہے ناں ، اب واپس چلتے ہیں ۔وہ بیزاری سے بولی ۔
رو کیوں رہی ہو ۔ابھی چلتے ہیں ۔اس نے زرتاج کو بچوں کی طرح پچکارہ ۔
وہ دیکھ رہی ہو۔ کتنا خوبصورت لگ رہا ہے ۔ تم پر بہت جچے گا ۔ میر نے ایک ڈریس کی طرف اشارہ کیا ۔
یہ میں نہیں پہنونگی ۔ زرتاج نے کانوں کو ہاتھ لگائے ۔
میرے لئے ضرور پہنوگی ۔ وہ بلیک اور گولڈن کنٹراسٹ کا ویسٹرن ٹاپ تھا جس کے ساتھ تنگ جینز تھی ۔ میر نے پے منٹ کی اور زرتاج کا ہاتھ تھامے شاپ سے نکل آیا ۔
میر سائیں ! میں نہیں پہنونگی ۔ میں یہ کیسے پہن سکتی ہوں ۔ میں نے ذندگی میں کبھی جینز نہیں پہنی ہے ۔ زرتاج پورے راستے نہیں نہیں کی رٹ لگاتی رہی مگر روم میں پہنچتے ہی میر سجاول نے بیگ اس کے ہاتھ میں تھما کر زبردستی واش روم میں دھکیلا ۔
زرتاج نے جھجکتے ہوئے بیگ سے ڈریس نکال کر گہری سانس کھینچی ۔
دلبر سائیں ۔۔۔۔۔اب باہر بھی نکلو ، مجھے دکھاؤگی بھی سہی یا میں ایسے ہی سوجاؤں ۔ میر نے بلند آواز میں کہا ۔
چند لمحوں بعد زرتاج گھبرائی ہوئی سی واش روم سے نکلی ۔ میر صوفے پر براجمان اپنے پسندیدہ مشروب سے لطف اندوز ہورہا تھا ۔
واؤ ، لکنگ سو پریٹی ۔ ادھر آؤ ۔ میر نے سر کے اشارے سے اسے پاس بلایا ۔
نہیں ۔ بس آپ نے دیکھ لیا ناں ، اب میں چینج کررہی ہوں ۔ وہ دوبارہ واش روم کی طرف مڑی۔
ہر گز نہیں ، میری اجازت کے بغیر تم کیسے چینج کر سکتی ہو ، ابھی تو میں نے تمھیں جی بھر کے دیکھا بھی نہیں ہے ۔
خبردار ، جو تم نے ایک قدم بھی آگے بڑھایا ۔ میر اسے وارننگ دیتا ہوا مضبوط قدم اٹھاتا اس تک پہنچا ۔
میر سائیں ! مجھے جینز میں الجھن ہورہی ہے ۔اس نے منہ بسورا ۔
پوری ذندگی پہننے کے لئے نہیں بولا ہے ۔ کچھ دیر میرا دل بہلانے کے لئے برداشت نہیں کر سکتیں ۔ میر نے پرشوق نگاہوں سے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا ۔
ویسٹرن ڈریس میں زرتاج کی فگر قیامت ڈھا رہی تھی ۔ میر سجاول والہانہ اس کی طرف بڑھا ۔ اس نے زرتاج کو شانوں سے تھام کر خود میں سمو لیا ۔
میر سجاول دیوانہ وار اپنی چاہتیں اس پر نچھاور کر رہا تھا ۔زرتاج کے تمام گلے شکوے اپنےمحبوب شوہر کی وارفتگی پر موم بن کر پگھلنے لگے ۔
چاہے جانے کا احساس ہر منفی سوچ پر حاوی ہوگیا تھا ۔ وہ سب کچھ فراموش کئے ان پر کیف لمحات کو یادوں کے سیپ میں قید کر رہی تھی ۔
“”””””””””””””※””””””””””””
میر سائیں ! گساتاخی معاف مگر آپ سے بہت ضروری کام تھا ، اس لئے فون کیا ہے ۔ کریم جھجکتے ہوئے بولا ۔
خیریت ، ایسا کیا کام پڑگیا ۔۔۔۔۔۔گاؤں میں کوئی گڑبڑ تو نہیں ہوگئی؟
میر سبطین یکدم پریشان ہوگیا ۔وہ پچھلے دس بارہ دن سے شہر میں ہی تھا۔
نہیں سرکار ۔ وہ بات دراصل یہ ہے کہ میری اماں کی طبیعت بہت خراب ہوگئی ہے ۔ وہ ہاسپٹل میں ہیں ۔
کریم نے تہمید باندھی ۔
اچھا تو پیسوں کی ضرورت ہے ، تم فکر مت کرو ۔ میں چاچا سائیں کو کہہ دیتا ہوں ۔ تم ان سے جا کر ملو بلکہ تمھیں مجھے کال کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔ چاچا سائیں کسی کی بھی مدد کرنے سے ہاتھ نہیں روکتے ۔ اس بات کا علم تو تمھیں بھی ہوگا ۔میر سبطین ایزی چئیر پر جھولتے ہوئے بولا ۔
سرکار ! بات یہ نہیں ہے ۔ کل سے اب تک سارا خرچہ میر سائیں نے ہی اٹھایا ہے ۔
پھر کیا بات ہے ؟ میر سبطین نے سنجیدگی سے کہا۔
اماں بڑے میر سائیں یاآپ سے فی الفور ملنا چاہتی ہیں،کہتی ہیں انہیں آپ سے کوئی ضروری بات کرنی ہے جو وہ صرف آپ کو یا بڑے میر سائیں کو ہی بتائیں گی ۔
سائیں ! مہربانی کریں ۔ جلدی یہاں پہنچ جائیں ۔ ڈاکٹر نے کہا ہے وقت بہت کم ہے اور اماں آپ سے ملنے پر بضد ہیں ۔ وہ کہتی ہیں آپ سے ملے بغیر دنیا سے چلی گئیں تو رب کو کیا منہ دکھائیں گی ۔
اوکے ۔ رات بہت ہوگئی ہے ۔ میں صبح ہوتے ہی گاؤں کے لئے نکلتا ہوں ۔ تم پریشان مت ہو ، میں پہنچ جاؤں گا ۔میر سبطین نے اسے تسلی دی۔
میر سائیں ! ایک عرض اور ہے ۔ وہ گھگیایا۔
ہاں کہو ،۔۔۔۔۔
اماں نے کہا ہے آپ کے ہاسپٹل ملنے آنے کی خبر حویلی میں کسی اور کو نا لگے ۔ اس بات کا خاص خیال رکھئیے گا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔ میر نے ہنکارہ بھر کے کال کاٹ دی ۔
وہ حیرت ذدہ تھا کہ ایسی کیا بات ہے جو جہاں آرا مرتے وقت صرف ان کو بتانا چاہتی ہے اور اتنی رازداری برت رہی ہے ۔سوچ کو کوئی سرا ہی نہیں مل رہا تھا ۔
اس نے سر جھٹک کر کل ہونے والی میٹنگز کو کینسل کرنے کے لئے اپنے پی۔ اے کو کال ملائی ۔
جاری ہے