59.5K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

دلبر سائیں ! گھر سے نکلنے میں اتنی دیر لگاتی ہو ،ملاقات کا آدھا وقت تو تمھارے انتظار میں ہی گزر جاتا ہے ۔۔۔ویسے بھی جس رات میں تم سے ملتا ہوں ،مجھے وہ رات عام راتوں کے با نسبت بہت مختصر لگتی ہے ۔پلک جھپکتے میں گزر جاتی ہے ۔میر نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی ۔
یار ! تم تھوڑا جلدی نہیں نکل سکتی گھر سے ،تمھاری اماں اور ابا تو جلدی سوجاتے ہونگے ۔۔۔؟ وہ اس کے انتظار سے خاصا جھنجھلایا ہوا لگ رہا تھا ۔
سائیں ! اماں ،بابا تو جلدی سوجاتے ہیں مگر گاؤں والے اور حویلی کے پہرے دار اتنی جلدی نہیں سوتے ۔اس لئے میں رات گہری ہونے کا
انتظار کرتی ہوں تاکہ کوئی میرا پیچھا نا کرے ۔زرتاج نے دھیمے لہجے میں
تفصیل بیان کی ۔
ہوں ۔۔۔میں اگلے ہفتے تک اماں کو تمھارے گھر بھیجنے والا ہوں ،اب
مزید تم سے دور نہیں رہ سکتا ۔مجھے ہر پل ہر وقت تمھارا ساتھ چاہئے ۔تم سے بات ناں ہو ، تمھیں نا دیکھوں جس دن تو میرا دن نہیں گزرتا ۔کوئی کام بھی ٹھیک سے نہیں کرپاتا ۔میرا دماغ خراب ہوجاتا ہے ۔وہ بے بسی سے بولا ۔
زری !میں اب شادی میں ڈیلے نہیں کرنا چاہتا ۔میر کالہجہ گنبھیر تھا ۔وہ دونوں درخت سے ٹیک لگائے برابر برابر بیٹھے تھے ،اس کی بات پر میر کے ہاتھ میں دبا زرتاج کا نازک ہاتھ کپکپا کر رہ گیا ۔
میر سائیں ! بڑی بی بی اور بڑے میر سائیں اس رشتے کے لئے راضی ہوجائیں گے ۔۔۔اگر انہوں نے انکار کر دیا تو۔۔۔؟ اس نے ڈرتے
ہوئے دل میں ابھرنے والا اندیشہ ظاہر کیا ۔
یار زری ! تمھارا پرابلم کیا ہے ؟ کیوں اتنی خوف ذدہ رہتی ہو؟میرے ہوتے ہوئے تمھیں کسی کی بھی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔یہ تو طے ہے اگر انہوں نے انکار کر بھی دیا تو بھی میں شادی تو صرف تم سے ہی کروں گا اور میر سجاول کو اپنی بیوی کو اس کا حق اور جائز مقام دلوانا آتا ہے ۔وہ مضبوط لہجے میں بولا۔
تم فکر مند مت ہو ۔۔۔یہ ساری فکریں کرنے کے لئے میں موجود ہوں، مجھے کیا کرنا ہے کیسے کرنا ہے سب میں جانتا ہوں ۔تم بس دلہن بننے کی تیاری کرو اور میرے خوابوں میں کھوئی رہو ۔تند لہجے میں کہتے ہوئے یکدم ہی میر سجاول کا لہجہ ٹھنڈی پھوار بن کر زرتاج پر برسنے لگا۔
میر سائیں ! میرے لئے آپ کا اتنا پیار اتنی عزت ،مجھے بہت خوشی دیتی ہے ۔آپ کی محبت میری رگوں میں لہو کے ساتھ دوڑنے لگی ہے ۔پلیز! مجھے کبھی اس سے محروم مت کیجئیے گا ۔زرتاج کی آنکھیں
میر کے اتنے مان اور بھروسے پر آنسوؤں سے بھر گئیں ۔
دلبر ! تم مجھ سےکونسا اظہار چاہتی ہوجس سے تمھیں یقین ہوجائے کہ تمھارے لئے میری محبت دائمی ہے جو تا قیامت میرے دل میں رہے گی ۔
میں رات کے اس پہر اپنی جان کوخطرے میں ڈال کر صرف چند گھڑی تمھارے دیدار کے لئے شاہ پورآتا ہوں ،جہاں میرا داخلہ ممنوع ہے ۔کیا میری محبت کو ثابت کرنے کے لئے یہ گواہی کافی نہیں ۔۔۔؟میر سجاول نے شدتِ جذبات سے کہتے ہوئے اپنے لب اس کے آنکھوں پر رکھ دئیے ۔
اچھا سائیں ! بس ایک بات اور پوچھوں ۔۔۔؟میر سجاول کے کپڑوں سے اٹھتی پرفیوم کی دلفریب خوشبو میں کسی ناگوار بو کا بھپکا بھی تھاجس کی وجہ سے زرتاج کو سانس لینے میں بھی دشواری ہورہی تھی ۔اس نے پوچھتے ہوئےمیر کے سینے پر ہاتھ رکھ کرآہستگی سے اسے دور کیا اور اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لیا۔
پوچھو دلبر سائیں۔۔۔میر نے زرتاج کی اس حرکت پر اسے غصے سے گھور کر دیکھا پھر اس کے کان کےبے حد نذدیک مخمور لہجے میں کہا ۔
سائیں ! آپ یونیورسٹی میں لڑکیوں کے ساتھ پڑھتے تھے ،وہاں آپ کی کلاس فیلوز کے ساتھ دوستی بھی رہی ہوگی۔۔۔؟اس نے جھجکتے ہوئے من میں کئی دنوں سے ہلچل مچانے والا سوال کیا ۔میر نے چونک کر اس کی طرف دیکھا پھر سنجیدگی سے بولا ۔
ہاں ،کیوں نہیں ۔۔۔دس بارہ لڑکیوں کے ساتھ میری بہت اچھی دوستی تھی ۔ان فیکٹ، ان میں سے دو تین کے لئے تو میں سیریس بھی ہوں ۔
سوچتا ہوں ،ہماری شادی کے بعد ان سے بھی شادی کر ہی لوں ۔کب تک ان بیچاریوں کو بھی انتظار کرواؤں گا ۔لیکن تم ٹینشن مت لو۔ ان سب کو میں شہر میں ہی رکھوں گا ۔حویلی میں تو صرف ہم دونوں ہی رہیں گے ۔میر سجاول کے چہرے پر دل موہ لینے والی دلفریب مسکراہٹ پھیلی ۔
زرتاج حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی ۔یکایک اس کی مسکراہٹ پر زرتاج کی حیرت اشتعال میں بدلی ۔میر پر ناراضگی یا برہمی کا برملااظہار کرنے کی گستاخی تو وہ کر نہیں سکتی تھی ،اس لئے ہاتھ چھڑا کر اٹھنے لگی ۔
میر نے ایک جھٹکے میں اسے واپس بٹھادیا ۔
دلبر سائیں !
تیرے ہیں ہم
ہائے۔۔۔
تیرے بنا جینا بھی
ہے کیا جینا
میر سجاول اپنی خوبصورت آواز میں پرشوق نگاہیں اس پر مرکوز کئے دھیمے سروں میں گنگنایا ۔اس وقت اس کی بے خودی اور سرور عروج پر تھا۔
زرتاج اس کی اس ادا پر کھلکھلا کر ہنس پڑی اور دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپالیا ۔میر سجاول نے اس کی دونوں کلائیں تھام لیں اور سنجیدگی سے بولا۔
زری ! مجھ میں لاکھ برائیاں سہی مگر میں نے اپنے جذبات کو جسٹ فور فلرٹنگ پر ضائع نہیں کیا ۔میں نے پوری سچائی اور ایمانداری کے ساتھ انہیں اپنی بیوی کے لئے سنبھال کر رکھا ہے ۔
دلبر سائیں ! مجھ پر صرف تمھارا حق ہے اور ہمیشہ رہیگا ۔جب تمھیں پہلی بار دیکھا تھا ،اس پہلی نظر میں ہی تمھیں اپنا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور میں آج بھی اس فیصلے پر قائم ہوں ۔تم سے پہلے نہ میری ذندگی میں کوئی تھا اور نہ تمھارے بعد کوئی یہ جگہ لے سکتا ہے ۔اس نے محبت پاش نظروں سے کہتے ہوئے زرتاج کے نازک مومی ہاتھ چوم لئے ۔
اس اعتراف پر زرتاج کا چہرہ گلنار ہوگیا ۔وہ میر سجاول جیسے کھرے انسان کو پاکر اپنی قسمت پر بے حد نازاں تھی ۔
“”””””””””””””””””
رات کے دو بجے شاہ روم میں اینٹر ہوا تھا ۔عروش بیڈ پر گھٹنوں میں سر دئیے سسک رہی تھی ۔اس نے کھٹکے کی آواز پر سر اٹھا کر دیکھا مگر وہ عروش کو نظر انداز کرتا ہوا واش روم کی طرف بڑھ گیا ۔
کچھ دیر بعد کپڑے چینج کئے وہ عروش کے سر پر کھڑا تھا ۔اس نے ہاتھ بڑھا کر عروش کا سر اونچا کیا ۔
کیوں رورہی ہو ، کیا کوئی مر گیا ہے ۔۔۔؟معظم شاہ بدلحاظی سے غرایا۔
مجھے اماں اور ایان کی بہت یاد آرہی ہے ۔۔۔۔۔؟عروش نے نم آواز میں جواب دیا ۔
یہ آنسو اماں کی یاد میں بہائے جارہے ہیں یا پھر ۔۔۔۔شاہ نے قصداً بات ادھوری چھوڑ دی پھر انگلی سے اس کے رخسار پر بہتی لکیر کو پور میں سمیٹا اور چھیٹے کی صورت میں عروش کے منہ پر جھٹک دیا ۔
شاہ ! میں اتنے دن ان سے کبھی دور نہیں رہی ۔مجھ سے یہ دوری برداشت نہیں ہورہی ۔آپ نے کہا تھا آپ انہیں یہاں بلوائیں گے لیکن آپ نے انہیں اب تک نہیں بلوایا ۔پلیز ! اب مجھے ان کے پاس لے چلیں ۔عروش نے ہاتھ جوڑتے ہوئے اس کی منت کی ۔
یہ سچ تھا عروش جب سے پیدا ہوئی تھی ،ایک پل کے لئے ثمینہ بیگم سے دور نہیں رہی تھی کیونکہ نا تو ان لوگوں کےکوئی رشتے دار تھے نا وہ کسی سے ملنا ملانا کرتے تھے۔اس پر شاہ نے ان لوگوں کے یہاں آنے اور عروش کے وہاں جانے پر پابندی لگا کر حد درجہ ظلم کیا تھا ۔اس نے عروش کو تسلی تو دے دی تھی کہ وہ ثمینہ بیگم کو یہاں بلوا لے گا مگر ثمینہ بیگم کو وہ پہلے ہی یہاں بلا اجازت آنے کی تنبیہہ کر چکا تھا ۔خود انہیں یہاں بلوانے کا بھی فی الحال اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔
سمجھایا تھاناں ، شہر جانے کی بات نہیں کروگی پھر اس بکواس کا مطلب ۔شاہ نے زناٹے دار تھپڑ عروش کے منہ پر مارا ۔عروش کی آنکھوں کے آگے تارے ناچ گئے ۔وہ گال پر ہاتھ رکھے بلک بلک کر رونے لگی ۔
شاہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا ،اس کے دل نے بیٹ مس کی اور اس نے بڑھ کر عروش کو اپنے حصار میں لے لیا ۔ عروش کو یکدم جیسے سانپ سونگھ گیا ۔ اپنی گردن پر بڑھتے ہوئے شاہ کے لبوں کے لمس پر اس کا سکتہ ٹوٹا ،اس نے پھڑپھڑا کر شاہ کی بانہوں کا حصار توڑنا چاہا مگر شاہ نے اسے اور بھی سختی سے جکڑ لیا ۔
شاہ ! پلیز ! چھوڑ دیں ۔۔۔مجھے نیند آ رہی ہے ۔وہ منمنائی ۔
میں نے تمھیں سونے کی اجازت نہیں دی ہے اور میری اجازت کے بغیر تم سو سکتی ہو ۔۔۔؟شاہ اس کی دونوں کلائیاں سختی سے جکڑے پوچھ رہا تھا ۔عروش اس سے نظریں نہیں ملا پارہی تھی ۔
بولو ! سو سکتی ہو ۔۔۔؟
نہیں۔۔۔شاہ کے روئیے سے خائف عروش کے منہ سے بمشکل نکلا۔
پھر اتنے ڈرامے کیوں کرتی ہو ، جب جانتی ہو میری مرضی کے بغیر تم سو بھی نہیں سکتی ۔شاہ سرد مہری سے کہتے ہوئے اس کے کانوں سے یرنگز اتار رہا تھا ۔
عروش کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے جو شاہ کے سینے میں جذب ہونے لگے مگر شاہ نےاس کی دبی دبی سسکیوں اور التجاؤں کی طرف سے اپنے کان بند کر لئے ۔
شاہ بے حسی کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے اپنی من مانی کرنے کے بعد پرسکون نیند سو گیا تھا لیکن عروش پر یہ رات بڑی قیامت خیز تھی ۔اس کی آنکھوں سے نیند رخصت ہو چکی تھی ،صبح تک وہ اپنی پامالی پر سسکتی رہی مگر اس کے پہلو میں سویا ہوا اس کا شریک سفر ، اس کے دکھ سکھ کا ساتھی بے خبر بنا رہا ۔
“””””””””””””””
پورے گاؤں میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ مزارعے نواز کی پندرہ سالہ بیٹی جوصبح اسکول جانے کے لئے گھر سے نکلی تھی مگر اسکول پہنچی نہیں۔
اب سہ پہر ہونے کو آئی تھی لیکن اسکا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔
نواز اور اس کی بیوی پورے گاؤں میں مارے مارے پھر رہے تھے۔ہر ایک سے پوچھ لیا تھا،لیکن کسی نے بھی اس کی بیٹی کو اسکول جاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔
بالآخر تھک ہار کر وہ دونوں ہاتھ جوڑے حویلی پہنچ گئے ۔شاہ اس وقت ڈرائینگ روم میں ہی موجود تھا جب باہر شور شرابے کی آواز اس کے
کان تک پہنچی ۔اس نے مہمانوں سے دیھان ہٹا کر شور کی طرف توجہ
دی تبھی خادم حسین ہاتھ باندھے ڈرائینگ روم میں داخل ہوا ۔جھک کر
شاہ کے کان میں سرگوشی کی اور موؤدبانہ کھڑا ہوگیا۔
شاہ نے چند لمحے کچھ سوچا اور مہمانوں سے معزرت کر تے ہوئے اٹھ گیا۔اس کا رخ دروازے کی جانب تھا ۔خادم حسین بھی اس کے پیچھے ہی نکل گیا ۔
دالان میں ہی نواز اور اس کی بیوی ہاتھ جوڑے کھڑے تھے ۔شاہ
کو دیکھتے ہی اس کی بیوی شاہ کی طرف لپکی اور اپنے سر کی چادر اتار کر
اس کے قدموں میں رکھ دی ۔
چھوٹے شاہ جی !ہماری مدد کریں ۔۔۔میری دھی صبح اسکول گئی تھی،
مگرجب چھٹی ہونے کے گھنٹے بھر بعد بھی گھر نہیں پہنچی تو میں اسکول پہنچی مگر وہ وہاں بھی نہیں تھی ۔
ماسٹرنی کہتی ہے آج وہ آئی ہی نہیں ۔شام ہونے کو آئی ہے ،ہم میاں
بیوی نے اسے ہر جگہ ڈھونڈ لیا مگر اس کا کچھ پتا نہیں چلا ۔ بس آپ
ہی ہیں جو ہمارا سہارا ہیں ۔ میں بڑی امید لے کر آئی ہوں ۔ وہ شاہ
کے پیر پکڑے گڑ گڑا رہی تھی ۔
خادم حسین ! اس کی چادر اٹھا کر اس کے سر پر ڈالو اور پتا کرو اس
کی دھی کہاں ہے ۔تم اپنے گھر جاؤ ،بہت جلدتمھاری بیٹی تمھیں مل جائےگی ۔یہ میرا وعدہ ہے تم سے ۔ شاہ نے بیک وقت دونوں کو مخاطب کیا ۔
بڑی مہربانی سائیں ! اللہ آپ کو خوش رکھے ،آباد رکھے ۔وہ دعائیں
دیتے ہوئے کھڑی ہو گئی۔خادم حسین نے اسکی چادر زمین سے اٹھا
کر اس کے سر پر ڈالی ۔
شاہ مڑ کر ڈرائینگ روم میں جانے کے بجائے دالان سے گزر کر ایک کمرے میں آگیا جو صرف اس کے ہی استعمال میں رہتا تھا ۔وہ
خادم حسین کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کر چکا تھا۔
خادم حسین ! سنا ہے میر سجاول آج کل اپنا ذیادہ تر وقت فارم ہاؤس پر گزارتا ہےاور کچھ دنوں سے اس کے کچھ خاص مہمان بھی آئے ہوئے ہیں۔
جنہیں اس نے اپنےاسی فارم ہاؤس پر ٹھرایا ہوا ہے۔
شاہ نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خادم حسین سے تائید چاہی۔
اس کی آنکھوں سے سفاکی چھلک رہی تھی۔اس نے سگریٹ سلگایا اور لبوں سے لگا لیا ۔
جی سائیں ! خادم حسین نے کچھ الجھتے ہوئے تائید کی ۔
خادم حسین !تم ایسا کرو شہر چلنے کی تیاری کرو ۔شاہ نے اسے ہدایت
کی اور موبائل کانٹیکٹس میں کسی کا نمبر سرچ کرنے لگا ۔کال ملا کر اس
نے موبائل کان سے لگایا دوسری طرف فوراً ہی کال ریسیو کر لی گئی ۔
اس وقت تم کہاں ہوں ۔۔۔؟ اس نے دوسری طرف موجود شخص
سے استفسار کیا ۔
ٹھیک ہے !تم اسے لے کر جگہ پر پہنچو ۔میں تھوڑی دیر میں گاؤں سے
نکل رہا ہوں ۔رات تک شہر پہنچ جاؤں گا ۔تب تک تمھیں اسے کسی
بھی طرح سنبھالنا ہے ۔
میرے پہنچنے تک تم ہر گز بھی جگہ سے نہیں نکلو گے ۔ کسی بھی صورت تمھیں میر سجاول یا میر سبطین کے ہاتھ نہیں لگنا چاہئے اور خیال رہے اس لڑکی پر ایک خراش بھی نہ آنے پائے ورنہ تمھارے ٹکڑے کروا کر بھوکے کتوں کے آگے ڈلوادوں گا۔شاہ نے کال ڈسکنیکٹ کردی ،ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے وہ اضطراری انداز میں پاؤں کو حرکت دے رہا تھا۔
جاری ہے