59.7K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04


آج پھر وہ اس کا راستہ روکے کھڑا تھا اور زرتاج ڈری سہمی سی اس کی نظروں کے حصار میں تھی۔
آج رات تم مجھ سے ملنے آؤگی نہر کے پیچھےوالے کھیتوں میں ۔آج دل کر رہا ہے فرصت سے سامنے بٹھا کر تمھارادیدار کروں ،یہ پل دو پل کی ملاقات تو کمبخت نہ دل کو سیراب کرتی ہے نہ آنکھوں کو ۔میر سجاول اس کے نازک نقوش سے سجے چہرے کو نظروں میں سموئے
کذب کے عالم میں بولا۔
اس کی فرمائش پر زرتاج کی ٹانگیں کانپنے گئیں اور میر کی ذہنی حالت پر شبہ ہونے لگا۔اس نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا ۔
میر پوری توجہ سے زرتاج کیطرف ہی دیکھ رہا تھا۔اسکی سوچ پڑھ کر اس نے ایک زبردست قہقہہ لگایا ۔
زرتاج تم جو بھی سمجھو مگر آج میں تمھیں بخشنے والا نہیں ،تم نے میری
نیند سکون سب کچھ برباد کیا ہوا ہے ۔ آج رات کی ملاقات ہماری محبت کی داستان کی کتاب میں سنہری حروف سے لکھی جائیگی ۔
بولو جانم !پوری کروگی نا میری خواہش ؟اس کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی رہی تھی۔
اس وقت وہ بلیک کلر کے شلوار سوٹ پر گلے میں اجرک لٹکائے ہوئےتھا ۔گرمی کی حدت سے اسکی گلابی مائل سفید دمگتی رنگت سرخ پڑ رہی تھی ۔زرتاج نے اسے نظر بھر کر دیکھا۔
اس طرح کیوں دیکھ رہی ہو۔۔۔؟کیا بہت اچھا لگ رہا ہوں ؟ڈونٹ
ور ی تمھارا ہی ہوں ،ذندگی بھر دیکھتی رہنا ۔
اس کے اس طرح توجہ سے دیکھنے کو میر سجاول کی تیز نظروں نے
فوراً نوٹ کیا۔وہ مسکراہٹ دبا کر بولا ۔
میر سائیں !مجھے معاف کردیں، میں ایسا کچھ نہیں کر سکتی ۔مجھےاتنی بڑی آزمائش میں مت ڈالیں۔ آپ کے گھرمیں بھی ماں بہن ہیں ،عزت سب کی سانجھی ہوتی ہے ۔میرے ماں باپ کے پاس عزت کے سوا کچھ بھی نہیں ۔
پلیز !ہم پر رحم کریں ۔ بے بسی سے کہتے ہوئے زرتاج کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔
عزت ہی تو بنانا چاہتا ہوں تمھیں اگر صرف دل لگی کی ہوتی تو
کب کا اٹھا کر لے جاتا ۔میر نے برہمی سے کہا شدتِ جذبات
سے اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں۔زرتاج کے آنسو اس سے برداشت
نہیں ہورہے تھے ۔
زرتاج نے لرز کر اسے دیکھا ۔آپ محلوں میں بسنے والےاور میں
آپ کے قدموں کی خاک برابر بھی نہیں ،آپ کا اور میرا کوئی جوڑ
نہیں ہے۔آخر آپ سمجھتے کیوں نہیں؟زرتاج نے بہت سنبھل کر
باپنی بات پوری کی،مشکل تو یہ تھی کے وہ برہم بھی نہیں ہوسکتی
تھی۔
دیکھو زری ! میں سمجھنے سمجھانے کے موڈ میں بلکل نہیں ہوں ۔
تمھیں کہہ دیا رات کو آنا ہے تو آنا ہے ۔اینی ہاؤ۔۔۔ اگر تم نہیں آئیں تو یاد رکھنا جومیرے دل میں آئے گا میں وہی کرونگا ۔اور مجھے کوئی نہیں روک سکتا یہ تم اچھی طرح جانتی ہو۔ اس کا اشارہ
معظم شاہ شیرازی کی طرف تھا۔وہ دو ٹوک لہجے میں بولا ۔اسکا موڈ یکدم ہی بدل چکا تھا۔
یہ کہہ کر وہ رکا نہیں فوراً ہی گاڑی بڑھا لے گیا۔
زرتاج کی سوچ اس بات سے آگے ہی نہیں جارہی تھی کہ میر سجاول اور اس کے خاندان میں زمین آسمان کا فرق ہی کیوں ناہو مگر یہ فرق کوئی معنی نہیں رکھتا اس حقیقت کے سامنے کے کہ وہ شاہ پور کی
باسی تھی اور معظم شاہ ،”میروں “کے لئے موت کی علامت تھا۔
※*
کمرے میں مکمل اندھیرا چھایا ہوا تھا۔معظم شاہ بے سدھ سو رہا تھا،جب موبائل کی رنگ مسلسل بجنے سے اسکی نیند میں خلل پیدا ہوا اوراس نے بیزاری سے کروٹ بدل کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر دیکھا
تھا۔ اسکرین پر جگمگاتا نمبر دیکھ کر اسے مجبوراً کال اٹینڈ کرنا پڑی۔
“ہیلو” انتہائی بگڑے ہوئے تیوروں کے ساتھ کہتے ہوئے معظم شاہ نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔دوسری طرف کال پر جو کوئی بھی تھا،اس
کی بات سن کر اسکے ماتھے پر لا تعداد شکنیں پڑ گئیں۔رات کی ڈرنک
سے اس کا سر بھاری ہورہا تھا ،اس خبر نے تو اس کا دماغ ہی گھما
دیا۔
یہ خبر اسکی سماعتوں پر بجلی بن کر گری تھی کہ مکتوم شاہ نے میر
حویلی میں بسنے والوں کا علاج کیا تھا جن کا وجود بھی وہ بڑی مشکل
سے اس زمین پر برداشت کر رہا تھا۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اپنے ہی بھائی کی بوٹی بوٹی کردے
وہ تو گاؤں میں اس کے ہاسپٹل کھولنے کے ہی خلاف تھا اس پر
اس خبر نے جلتی پر تیل کا کام کیا تھا۔اس نے فون بند کر کے
ٹائم دیکھا تو صبح کے چھ بجے تھے۔شاہ نے اسی وقت گاؤں روانہ
ہونے کا فیصلہ کیا اور کمفرٹر ہٹا کر بیڈ سے اتر آیا۔
وہ شاور لے کر باتھ روم سے نکلا تو بیزاری سے بیڈ پر سوئے
ہوئے وجود پر نظر ڈالی اور شیشے میں بال بنا کر پلٹا ۔
اٹھو !شاہ کے کندھا ہلانے پر اس وجود نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں
مجھے گاؤں کے لئے نکلنا ہے اسی وقت،تم جلدی اٹھ کر تیار ہوجاؤ
اور جہاں جانا چاہتی ہو ڈرائیور تمھیں وہاں ڈراپ کردیگا۔
اس نے سائیڈ ٹیبل سے چیک بک اور پین نکالا اور وہیں کھڑے
کھڑے چیک سائین کر کے اس کی طرف بڑھایا ۔
شاہ !یہ کیا۔۔۔ آپ نے تو وعدہ کیا تھا آج ہم لنچ بھی ساتھ
کرینگے لیکن آپ نے تو ہمیشہ کی طرح صبح ہوتے ہی آنکھیں بدل
لیں ،وہ چیک ہاتھ میں پکڑ کر بڑی ادا سے شاہ کے گلے میں
بانہیں ڈال کر آنکھیں مٹکاتے ہوئے بولی ۔شاہ نے بڑی بے دردی
سے اسے خود سے دور جھٹک دیا ۔شاہ کا رات والا خمار اب اتر چکا
تھا۔
جتنا کہا ہے اتنا کرو ،ہری اپ ۔۔۔ رہی بات لنچ کی وہ پھر کسی
اور دن پر رکھ لینگے۔شاہ نے نہایت سرد مہری سے کہا اور فوراً ہی دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔


کیا مطلب ہے آپ کا کہ ان لوگوں نے صاف انکار کر دیا،کیا میں نے اس لئے آپ کو لاہور سے بلوایا تھا کہ آپ یوں ہاتھ جھاڑ کر بیٹھ جائیں حماد کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہلتے ہوئے ماں پر برس رہا تھا۔
ریحانہ بیگم نے جونہی اسے ثمینہ بیگم کی طرف سے ملنے والے صاف جواب سے آگاہ کیا تو وہ آپے سے باہر ہونے لگا۔
تو کیا کروں ،ان کے گھر جا کر منتیں کروں یا ہاتھ پکڑ کر لے آؤں اس لڑکی کو۔۔۔۔
اور وہ لوگ بھی کوئی بے وقوف نہیں کے نا جان نا پہچان اور اپنی لڑکی اٹھا کر ہمیں دے دیں گے ۔رشتے اس طرح نہیں ہوتے ،جہاں تک میرا خیال ہے انہوں نے سہی کیا۔
میں نے تمھیں یہاں اسٹے کرنے کے لئے اس لئے کہا تھا تاکہ تم اریبہ میں انٹریسٹ لو اور تم پتا نہیں کہاں الجھ بیٹھے ہو ۔ریحانہ نے بیزاری سے کہا۔
امی !آپ اپنی یہ فلاسفی اپنے پاس رکھیں۔میں کچھ نہیں جانتا ،آپ ایک بار پھر ان لوگوں کے پاس جائینگی اور ہاں کروا کر ہی واپس آئینگی۔اب یہ میں نہیں جانتا کہ یہ سب آپ کس طرح کریں گی ۔وہ اپنی بات پر با ضد تھا۔
دماغ خراب ہو گیا ہے تمھارا ،میں اب وہاں نہیں جاؤں گی۔بس زرا خوبصورت ہے عروش تو کچھ نہیں ان لوگوں کے پاس کنگال ہیں وہ لوگ ہمیں کیا دیں گے۔ریحانہ نے نخوت سے منہ بنایا۔
تم اسکا خیال دل سے نکال دو اور اریبہ کے بارے میں سنجیدگی سے سوچو ۔اس میں ہم سب کا فائدہ ہی فائدہ ہے۔ریحانہ رازداری سے بولیں۔
اریبہ اور فریحہ دو ہی بہنیں تھیں اور نندوئی کے بعد ساری جائیداد کی وارث وہ دونوں بہنیں ہی تھیں ۔اس لئے ریحانہ بیگم چاہتی تھیں
کسی بھی طرح اریبہ ان کی بہو بن جائے لیکن بیٹا انہیں ہاتھ سے نکلتا نظر آرہا تھا اور اس کے ساتھ اریبہ کی جائیداد بھی۔
جانتا ہوں میں آپ کی لالچی فطرت کو لیکن آپ بھی یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لیں کے میں شادی صرف عروش سے ہی کرونگا۔
کیسے کرنی ہے یہ مجھے پتا ہے۔وہ کمینگی سے مسکرایا۔

مکتوم شاہ اپنے کمرے سے تیار ہوکر باہر نکلا تو سامنے سے رخسانہ بیگم چلی آرہی تھیں ۔
گڈمارننگ ! مکتوم شاہ نے ماں کے پاس جاکر انہیں گلےلگایا ۔میں تمھیں ہی بلانے آرہی تھی۔چلو ناشتہ کرلو۔صبح کو ڈائیننگ ٹیبل پر اکثر رخسانہ بیگم اور مکتوم شاہ ہی ساتھ ہوتے تھے ۔معظم شاہ اگر حویلی میں موجود بھی ہوتا تو وہ زرا لیٹ اٹھنے کا عادی تھا ۔صفدر شاہ شازونادر ہی حویلی
میں پائے جاتے تھے ورنہ ان کا بسیرا ذیادہ تر شہر یا پھر اسلام آباد میں
ہوتا تھا ۔وہ دونوں ایک ساتھ چلتے ہوئے ڈائننگ روم میں پہنچ گئے۔
رات تم بہت دیر سے گھر لوٹے تھے ،نسرین بتا رہی تھی شاید دو بجے کا وقت تھا۔وہ رات دیر تک گھر سے باہر رہنے کا عادی نہیں تھا،رخسانہ بیگم کے لئے یہ کچھ اچھنبے کی بات تھی اس لئے پوچھ بیٹھیں ۔
جی !رات ایک ایمرجنسی کیس آگیا تھا جس کی وجہ سےلیٹ ہوگیا۔آپ تو جانتی ہیں مجھے رات گئے تک باہر رہنے کا کوئی شوق نہیں ،ہاں کوئی مجبوری ہوجائے تو وہ الگ بات ہے۔
ہوں ۔۔۔رخسانہ نے بیگم مطمئین سی ہو کر چائے کا کپ لبوں سے
لگایا ۔
ابھی وہ ناشتے سے فارغ ہوئے بھی نہیں تھے کہ باہر گاڑیوں کے رکنے کی آواز آئی۔
یہ اس وقت کون آیا ہے ۔مکتوم شاہ نے وال کلاک کی طرف دیکھا جہاں صبح کے دس بج رہے تھے۔
تمھارے بابا تو اسلام آباد کل ہی گئے ہیں ،یہ وقت بے وقت کی آمد معظم کے سوا کس کی ہو سکتی ہے ۔یقیناً وہی آیا ہوگا۔
رخسانہ بڑبڑانے کے انداز میں گویا ہوئیں ۔تبھی معظم شاہ دندناتا ہوا ڈائننگ روم میں داخل ہوا۔
اس نے ایک طائرانہ نظر رخسانہ پر ڈالی اور انہیں بلکل نظر انداز کرتا ہوا مکتوم شاہ دہاڑا۔
کس کی اجازت سے تم نے ہمارے دشمنوں کی مددکی ؟میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تم اس معاملے میں اپنے خاندان کی عزت اور وقار کو کیوں بھول جاتےہو۔ شاہ ماں کی موجودگی کابھی لحاظ کئے بغیربھائی پر چڑھ دوڑا۔
مکتوم شاہ نے تحمل سے اس کی بات سنی اور پھر رسان سے جواب دیا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ انسانیت کی خدمت کرنے کے لئے مجھے کسی کی بھی اجازت کی ضرورت نہیں ،دنیا کا کوئی بھی مذہب اور قانون کسی مرتے ہوئے انسان کو تڑپتے ہوئے چھوڑ دینے کا سبق نہیں دیتا۔
وہ مصیبت میں تھے اور میں نے انکی مدد کی ۔دیٹس اٹ۔تمھیں اتنا ہائیپر ہونے کی ضرورت نہیں۔
اوہ مائی فٹ ! یہ سبق مجھے مت پڑھاؤ ۔انسانیت اور خدمت کے لیکچر جا کر تم اپنے ہاسپٹل میں دینا۔یہاں صرف میری مرضی چلے گی ۔وہی ہوگا جو میں چاہوں گا۔اس نے انگلی اٹھا کر برہمی سے کہا۔
تم نے ان لوگوں کی مدد کی ہے اس لئے آج کے بعد میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں۔میرا کوئی بھائی نہیں ہے ۔غصے سے اسکا چہرہ لال بھبھوکا ہورہا تھا اور آنکھیں دھک رہی تھیں۔
مجھے بھی تو کوئی کچھ بتائے ،آخر تم دونوں کس بات پر جھگڑ رہے ہو۔رخسانہ اپنا سر تھامے پوچھ رہی تھیں ۔دونوں بھائیوں کو اس طرح جھگڑتے ہوئے دیکھ کر وہ کانپ اٹھیں تھیں۔
معظم ! تم پلیز یہاں سے چلے جاؤ۔دیکھو!امی کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں رہتی۔ان کا بی پی ہائی ہوجائےگا ۔مکتوم شاہ نے ماں کو کاندھوں
سے تھامتے ہوئے چئیر پر بٹھایا۔
معظم سائیڈ ٹیبل پر رکھے گلدان کو ایک ہاتھ مارتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔گلدان کرچی کرچی ہوکر زمین پر بکھر گیا تھا ۔
اسے دیکھو وہ کہاں جارہا ہے ۔کس کی مدد کی ہے تم نے؟امی وہ کہیں نہیں جائےگا،ابھی غصے میں ہے غصہ اتر جائے گا تو ٹھیک ہو جائے گا۔میں آپ کو سب بتادونگا۔پلیز!آپ ریلیکس ہوجائیں۔
اس گھر میں ہونے والے آئے دن کے جھگڑے کسی دن میری جان لے لیں گے۔رخسانہ سخت دلبرداشتہ تھیں۔
تم سب یہاں کھڑے کیا تماشا دیکھ رہے ہو ،جاؤ سب اپنا کام کرو۔
مکتوم شاہ نے تمام ملازمین کو مجمع لگائے کھڑا دیکھا تو برہم ہوگیا ۔
نسرین !یہ سب صاف کرو جلدی ،لیکن خیال سے کانچ نا چبھے جائے وہ ملازمہ کو ہدایات دیتا ہوا رخسانہ بیگم کو لے کر ان کے کمرے کے جانب بڑھ گیا ۔

جیسے جیسے شام کے سائے گہرے ہوتے جارہے تھے ۔زرتاج کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ وہ جلے پیر کی بلی طرح ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہی تھی۔
زرتاج کی ماں بہت دیر سے اس کی بے چینی اور غائب دماغی محسوس کر رہی تھیں۔
میری سوہنی دھی !کیا ہوا ۔۔۔کیوں اتنی پریشان ہے؟تیری طبیعت تو ٹھیک ہے؟انہوں نے پاس جا کراس کے ماتھے کو چھوا۔زرتاج ان کی اکلوتی بیٹی تھی جو بڑی منت مرادوں سے پیدا ہوئی تھی اور انکی تمام تر توجہ کا محور تھی۔
وہ جو اپنی ہی سوچوں میں گم تھی ایک دم ہی اچھل پڑی کچھ نہیں،اماں بس یونہی۔۔۔طبیعت کچھ بوجھل سی ہے۔
آج اسکول میں کچھ ذیادہ ہی مصروفیت تھی ،اس وجہ سے تھک گئی ہوں۔اس نے بے دلی سے بہانہ بنایا۔
پگلی ہے تو ! کتنا سمجھایا ہے تیرے بابا نے ،چھوڑ دے یہ دردسری ،کل کو بیاہ کر چلی جائیگی ۔خواہ مخواہ اپنی جان گھلا رہی ہے۔
اماں درس و تدریس کوئی خواہ مخواہ کام نہیں ۔اس نے فوراً برا مانا۔
اچھا چل ،جیسی تیری مرضی ۔زرتاج کا منہ بنتا دیکھ کر اسکی ماں نے جلدی سے بات ختم کی۔
میں روٹیاں ڈالتی ہوں ،تیرا بابا بھی جب تک آجائیگا۔پھرکھانا کھا کر جلدی سوجانا تاکہ تھکن اتر جائے۔
ماں کی بات پر زرتاج نے سوچتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔یہ ٹھیک ہے جلدی سے سوجاتے ہیں،صبح جو ہوگا دیکھا جائے
گا۔
※*
رات گزرتے گزرتے اپنے آخری مراحل میں داخل ہوئی تو میر سجاول کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔اب تک اس کے خاص بندے کی کال نہیں آئی تھی جس کو اس نے زرتاج کے نہر والے راستے پر پہنچنے کی اطلاع دینے کی زمیداری سونپی تھی ۔
میر سجاول اپنے ڈیرے پر بیٹھا اب تک ناجانے کتنے سگریٹ پھونک
چکا تھا ۔ہاتھ میں پکڑے گلاس سے وہ گھونٹ گھونٹ وہسکی اپنے حلق سے اتار رہا تھا۔
زرتاج سے ملاقات کی تڑپ بڑھتی ہی جا رہی تھی ،اس بے بسی پروہ بری طرح پیچ و تاب کھا رہا تھا۔اب اسے زرتاج کے نا آنے کے آثار صاف نظر آرہے تھے۔
میں کیوں اس کے لئے تڑپ رہا ہوں ؟میر سجاول چاہے تو اک پل میں اسے حاصل کر سکتا ہے۔ یکدم اس کے اندر کے خود سر اور
بے رحم انسان نے سر اٹھایا۔
دل جس سے محبت کا دعوی دار ہو اس پر من مانیاں نہیں چلتی۔
دل نے اس کی سوچ سے بغاوت کی تو اس نے سر جھٹک دیا۔
گلاس سامنے پڑی ٹیبل پر پٹخ کر انگلیوں میں دبا سگریٹ ،اس نےایش ٹرے میں مسل دیا۔ جو کہ تقریباً بھر چکا تھا۔ اپنی دھمکی کو سچ ثابت کرنے کے لئے ایک جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا اور باہر نکل کر ڈرائیور کو گاڑی نکالنے کا حکم دیا۔
اس وقت اسے زرتاج پر سخت غصہ آرہا تھا جس نے اس کی بات نا مان کر گویا میر سجاول کی تو ہین کی تھی ۔

رانیہ اور غضنفر صاحب آج ہی شہر پہنچے تھے ۔صبح ہوتے ہی انہوں نے شہر واپس جانے کا اعلان کر دیا تھا۔میر جعفر اور رانیہ نے انہیں بہت سمجھایا تھا کہ وہ کچھ دن یہاں ریسٹ کرلیں مگر میر غضنفر جلد سے جلد یہاں سے جانا چاہتے تھے۔وہ جانتے تھی یہاں رہ کران کی طبیعت نہیں سنبھل سکتی ۔
میر سبطین ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بیٹھا تھا۔رانیہ نےاسے خبر نہیں لگنے دی تھی جب گاؤں میں انکی طبیعت خراب ہوئی تھی ۔اب اسے پتا چلا تو وہ بہت پریشانی کے عالم میں انکی خیریت دریافت کر رہا تھا۔
رانیہ تم مجھے ایک کال تو کر سکتی تھیں۔میں فوراً وہاں پہنچ جاتا۔وہ خفگی سے بولا۔
بھائی!میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اور ویسے بھی وہاں ڈیڈی کا اچھا ٹریٹمنٹ ہوگیا تھا۔ آپ کو پتا ہے ڈاکٹر مکتوم شاہ بہت قابل ڈاکٹر ہیں اور ایم ۔بی۔بی۔ایس کرنے کے بعد انہوں نے بجائے شہر میں ہاسپٹل بنانے کے گاؤں میں ہی خدمات انجام دینے کو فوقیت دی ہے۔
ڈالٹر مکتوم شاہ کے ذکر پر سبطین نے سوالیہ نظروں سے رانیہ کو دیکھا۔
رانیہ نے اسکی حیرانگی کوسمجھتے ہوئے وضاحت کی ڈاکٹر مکتوم شاہ کا تعلق ڈیڈلی دشمن فیملی سے ہے ۔
اس نے گول گول اپنی آنکھیں گھمائیں ،وہ ان لوگوں سے بلکل مختلف ہیں ،انہوں نے بہت اچھی طرح ٹریٹ کیا ۔
میں تو بہت گھبرائی ہوئی تھی لیکن ڈاکٹر مکتوم شاہ کی پرسانلٹی بہت کول ہے۔رانیہ نے دل سے اس کی تعریف کی۔
میر سبطین کو مکتوم شاہ کے غائبانہ تعارف پر حیرانی تو ہوئی مگر اسے یہ
سن کر اچھا لگا کہ شیرازیوں میں بھی اچھائی اور انسانیت باقی ہے۔
پھر تو ہمیں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔جنہوں نے دشمنی کو نظر انداز
کر کے بر وقت ہماری مدد کی ۔سبطین نے غضنفر صاحب کا ہاتھ تھام کر محبت سے کہا۔اسی دوران اس کا موبائل بجنے لگا ۔اسکرین پر حنین کا نمبر دیکھ کر اس نے فوراً اوکے کیا اور فون کان سے لگایا۔دوسری طرف حنین چہکتی ہوئی آواز میں بولا ۔
ہیلو! بگ برادر! اپنی گرل فرینڈ کی کال کا ویٹ کررہے تھے جوپہلی بیل پر ہی کال اٹینڈ کرلی۔
ہاہا۔۔تم نہیں سدھروگے۔یہ بتاؤ ایگزامز کیسے رہے۔سبطین نے خوش دلی سے کہا۔
بہت زبردست ،اور نیکسٹ ویک میں پاکستان واپس آرہاہوں ۔آئی مس مائی فیملی بیڈلی ۔اس نے منہ بسورتےہوئے کہا۔سبطین جتنا سنجیدہ اور خاموش مزاج تھا،حنین اتنا ہی چلبلا اور شرارتی تھا۔
اوہ موسٹ ویلکم ۔تم واپس آجاؤ ہم سب بھی تمھیں بہت مس کر رہے ہیں ۔تمھارے آنے کی خوشی میں شاندار پارٹی دونگا ۔
حنین کی واپسی کی خبر نے سبطین کو خوش کر دیا تھا۔
رئیلی پھر تو میں نیکسٹ ویک کا ویٹ بھی نہیں کرتا اور کل ہی کی سیٹ کنفرم کروالیتا ہوں حنین مزہ لیتے ہوئے بولا۔
اس کی بات پر سبطین نے زبردست قہقہہ لگایا۔
تم رانیہ سے بات کرو۔اس نے کہتے ہوئے موبائل رانیہ کی طرف بڑھایا۔
ہیلو حنین!کیسے ہو تم ؟تمھاری واپسی کی نیوز نے ساری بوریت دور کردی ۔
میں ٹھیک ہوں ڈئیر !جب میں وہاں آؤنگا تو تم پہلے کی طرح مجھ سے تنگ ہوجاؤگی۔یہ سچ تھا کہ حنین اسے بہت ستاتا تھا۔اور دونوں کی ایک پل بھی نہیں بنتی تھی اس کے باوجود وہ دونوں ایک دوسرے کے بنا رہ بھی نہیں سکتے تھے۔
حنین ! ایسا نہیں ہے ،سچ میں نے تمھیں یہاں بہت مس کیا ہے ۔
اب میں تم سے بلکل بھی نہیں جھگڑوں گی ۔پرامس۔۔۔رانیہ کا انداز
بلکل بچکانا تھا ۔حنین سن کر وہاں محفوظ ہوا اور یہاں غضنفر صاحب
اور سبطین کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ بکھر گئی۔
رانیہ اسے اپنے سامان کی لسٹ بتانے لگی تو غضنفر صاحب سبطین سے بزنس کے متعلق ڈسکس کرنے لگے۔
*
کھانے سے فارغ ہوکر زرتاج نے عشاء کی نماز پڑھی پھر تینوں کے پلنگ ایک ساتھ لگائے اور اپنے پلنگ پر چادر تان کر لیٹ گئی۔
نیند کی وادیوں میں اترنے تک اس کے ذہن میں میر سجاول کی دی ہوئی دھمکی گردش کر رہی تھی ۔”یاد رکھنا اگر تم نہیں آئیں تو پھر جو میرے دل میں آئے گا وہی کرونگا۔”
رات کا تیسرا پہر تھا جب زرتاج کو اپنے چہرےپر کسی نرم گرم لمس کا احساس ہوا۔اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں اور میر سجاول کو اپنے چہرے پر جھکے پایا۔بے اختیار اس کے حلق سےچیخ برآمد ہوئی جس کا گلا میر سجاول نے اپنا بھاری ہاتھ اس کے لبوں پر رکھ کر گھونٹ دیا۔
خبردار ! اگر ایک بھی لفظ اپنے منہ سے نکالا ۔تمھارے ماں باپ کو ہمیشہ کے لئے ابدی نیند سلادوں گا اور اس کے بعداپنی رسوائی کی زمہ دار تم خود ہوگی۔میر سجاول اس پر جھکا اس کے کان میں دھمکی نما سرگوشی کر رہا تھا۔
زرتاج نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا ۔
میر سجاول نے اس کی طرف سے پرُاطمینان ہوکر اپنا ہاتھ ہٹایا اور دونوں ہاتھوں میں اس کو اٹھا کر کمرے کی جانب لے گیا۔ کھلے دروازے سے وہ اسے اپنے بازؤں میں اٹھائے اندر داخل ہوااور بڑی احتیاط سے اسے اتارا ،پھر پلٹ کر دروازہ بند کرنے لگا ۔
سائیں !یہ کیا کر رہے ہیں آپ ،پلیز!ایسا مت کریں ۔زرتاج نے ملتجی انداز میں آواز دبا کر کہا ۔
میر سجاول اس کی التجا پر خاموش رہا اور پلٹ کر اس کے بال اپنی مٹھی میں جکڑ لئے۔چند لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا پھربولا ۔۔۔
کہا تھا نا میں نے اگر تم نہیں آئیں تو میں وہی کرونگا جو میرادل چاہے گا۔پھر یہ التجا کیوں ؟وہ طیش کے عالم میں غرایا۔اسکی آنکھوں کی وحشت سے زرتاج دہل کر رہ گئی۔
اگر میں چاہوں تو اسی وقت تمھیں یہاں سے لے جاسکتا ہوں مگر میں ایسا نہیں چاہتا لیکن تم مجھے یہ سب کرنے پر مجبور کر رہی ہو۔میر سجاول نے زور سے اسے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا۔
زرتاج پھڑ پھڑا کر رہ گئی ، وہ اس کے لمبے چوڑے توانا وجود کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔ماں باپ میں سے کسی کے جاگ جانے کےاحساس سے اس کی جان نکلی جارہی تھی ۔اور اس سے بھی بڑھ کر اسے یہ خوف مارے ڈال رہا تھا کہ اگر شیرازیوں کو اس کی یہاں موجودگی کی زرا سی بھی بھنک پڑ گئی تو ایک قیامت برپا ہو جائیگی۔
میر سجاول کے پرفیوم کی خوشبو اس کے حواسوں پر چھانےلگی۔مگر اس سوچ نے جلد ہی زرتاج کو اس خوشبو کے سحر سے باہر کھینچ نکالا ،اس نے تڑپ کر میر سجاول کی گرفت سے نکلنا چاہا لیکن میر سجاول نے اسے خود سے اور قریب کر لیا۔
اس وقت جان ہتھیلی پر رکھ کر آیا ہوں ، کوئی خراجِ تحسین پیش نہیں کروگی ؟اس نے زر تاج کی ناک کو اپنی ناک سےچھوتے ہوئے مخمور اور دلفریب لہجے میں کہا۔
زرتاج کی لمبی گھنی پلکیں جھک کر لرزنے لگیں ۔
میر سجاول کی والہانہ نظریں اس پر ٹہری ہوئیں تھیں ۔ اس کے لبوں کی لرزش کو میر سجاول نے بغور دیکھا ،اور جھک کر اس کے ہونٹوں پر اپنی محبت کی مہر ثبت کی تو زرتاج کی آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک قطار نکل کر اس کے بالوں میں جذب ہونے لگے۔
میر سجاول کی دیوانگی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔زرتاج نے اپنی پوری قوت لگا کر اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی تو میر سجاول نے اسے اپنی گرفت سے آزاد کر دیا ،مگر فوراً ہی بازؤں سے تھام کر اسے سامنے پڑے پلنگ پر بٹھایا اور خود اس کے قدموں میں بیٹھ گیا، اپنی جیب سے پازیب نکالی اور اس کاپاؤں اپنے گھٹنے پر رکھ کر اس کے مخملی پاؤں میں پہنا دی پھر جھک کر اس کے پاؤں پربوسہ لیا۔
میر سجاول نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ سامنے دیوار کوگھور رہی تھی خفگی اس کے چہرے سےچھلک رہی تھی۔
میری جان ! اتنی بے رخی اچھی نہیں ۔ جو پہلے سے ہی آپ پر مرتا ہو،اسے اس طرح بے رخی سے نہیں مارتے ۔
اس نے زرتاج کے برابر بیٹھتے ہوئے اسکا رخ اپنی جانب موڑا تو وہ کھسک کر اور پیچھے ہو گئی ۔
میر سجاول اسکی معصوم مگر خفگی بھری اس ادا پر نثار ہونے لگا۔اس کے چہرے پر بڑی دلکش مسکراہٹ ابھر آئی۔
چلو تمھاری آزمائش ختم کر دیتے ہیں۔لیکن دھیان رہے آئندہ اگر میرے کسی حکم کو ٹالنے کی جرأت کی تو یاد رکھنا ! یوں ہی بن بلائے چلا آؤنگا
اور اگر اس آمد و رفت میں میری جان چلی گئی تو تم بھی ساری عمر پچھتاؤگی۔ یہ میرا دعوی ہے ۔
اس نے جاتے جاتے بھی زرتاج کواچھا خاصا بدحواس کر دیا تھا۔زرتاج نے دہل کر اس کی طرف دیکھا لیکن وہ پلٹ چکا تھا۔
وہ دروازہ کھول کر باہر نکلا اور سامنے کی دیوار کو پھلانگ کرنظروں سے اوجھل ہوگیا۔چند لمحوں بعد گاڑی اسٹارٹ ہونےکی آواز آئی تو زرتاج نے سکون کا سانس لیا۔
اس نے جھک کر اپنے پاؤں میں پہنی پازیب پر ہاتھ پھیرا تو میرسجاول
کے لمس کے احساس نے اسے جھری جھری لینے پرمجبور کردیا ۔
اس نے پازیب اتاری اور جلدی سے اٹھ کرالماری میں اپنے کپڑوں کی تہہ کے نیچے چھپا دیں۔
پھر پلٹ کر پلنگ پر بیٹھی گہرے گہرے سانس لینے لگی ،جیسے اس ملاقات کے اثر کو زائل کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
*
میر سبطین لنچ کے بعد سے اب تک میٹنگ میں مصروف تھا ۔عروش
آفس ٹائمنگ آف ہونے کے باوجود بھی اس کے انتظار میں بیٹھی ہوئی
تھی ،مبادہ بغیر انفار کئے چلے جانا بھی انسلٹ کا سبب نا بن جائے۔
میر سبطین اپنے روم سے باہر نکلا تو عروش کو اپنے کیبن میں بیٹھا دیکھ
کر حیران ہوا پھر اس کے پاس چلا آیا ۔
مس عروش !آپ اب تک گھر نہیں گئیں ؟
سر!میں میٹنگ ختم ہونے کا ویٹ کر رہی تھی۔اس دن کےواقعے کے بعد عروش کافی محتاط ہوگئی تھی۔
کافی لیٹ ہوگیا ہے،آپ کو چلے جانا چاہئے تھا ۔اینی ویز ،چلئے میں آپ کو گھر ڈراپ کر دیتا ہوں۔
سبطین نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
سر میں خود چلی جاؤں گی ۔عروش نے گڑبڑا کر اسکی طرف دیکھاسبطین نے نظراس پر ہی تھیں پھر سنجیدگی سے بولا۔
میں گاڑی میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں ،پانچ منٹ میں آپ نیچے آجائیں۔سبطین نے اسکے بات کو نظر انداز کرتےہوئے جانے کے لئے قدم بڑھادئیے۔وہ جز بز سی ہوگئی۔
کچھ دیر بعد کچھ سوچتے ہوئے اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور دوپٹہ درست کرتے ہوئے سست قدموں سے چلتی ہوئی پارکنگ ایریا کی میں آگئی۔
سبطین گاڑی اسٹارٹ کئے اسکا انتظار کر رہا تھا۔اسے دیکھتے ہی فرنٹ ڈور کھول دیا ۔وہ گومگو کی کیفیت میں سمٹتے ہوئے بیٹھ گئی۔عروش کو اس کی موجودگی میں بہت عجیب سا لگ رہا تھا۔
سبطین نے خاموشی سے گاڑی آگے بڑھادی۔وہ چپ چاپ بیٹھی اپنی گود میں رکھے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔
سبطین نے ایک نظر مرر میں اسے دیکھا پھر گلا کھنکارتے ہوئےبولا تو جامد خاموشی کو اسکی آواز نے توڑا اور عروش ایکدم چونک گئی۔
عروش !اس دن کے اپنے رویے پر میں آپ سے معذرت کرنا چاہتا تھا لیکن موقع ہی نہیں ملا۔ میں کچھ ذیادہ ہی اوور ہوگیا تھا ۔ اس نےجھجکتے ہوئے کہا۔ وہ حقیقتاً اپنے اس دن کے رویے پر بہت شرمندہ تھا،اور اب مداوا کرنا چاہتا تھا۔
کچھ بھی تھا اسے عروش سے اس لہجے میں بات نہیں کرنی چاہئے تھی جبکہ وہ اس کے لئے اپنے دل میں نازک جذبات رکھتا تھا وہ اس کی محبت تھی۔
عروش نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔
اٹس اوکے سر!غلطی میری ہی تھی۔مجھے اتنی لاپرواہی سے کام نہیں لینا چاہئے تھا۔عروش نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دے کر اسے شرمندگی سے نکالنا چاہا۔
سبطین نے اس کے گال کے ڈمپل کو بغور دیکھا۔
ڈھلتے سورج میں اس کےاداس حسن پر یہ ڈمپل قیامت ڈھا رہا تھا۔
عروش کی نظریں ونڈ اسکرین پر تھیں پر وہ بخوبی محسوس کر رہی تھی کہ سبطین بیک ویو مرر میں اسی کو دیکھ رہا ہے۔عروش کے دل میں بے نام سی ہلچل مچ گئی تھی۔
اس کے بعد تمام راستہ خاموشی میں کٹ گیا لیکن گھر کے نزدیک پہنچنے پر سبطین نے اسے مخاطب کیا ۔
اس سنڈے کو گھر پر ایک پارٹی رکھی ہے اگر آپ اس میں شرکت کریں گی تو مجھے بہت اچھا لگے گا۔
عروش نے تعجب سے سبطین کو دیکھا کیونکہ اس کے لئے بات عجیب تھی کہ آفس میں کام کی بات بھی بہت مختصر کرنے والاباس آج اسے معذرت بھی کر رہا ہے اور تو اور اپنے گھر ہونے والی پارٹی میں بھی انوائیٹ کر رہا ہے۔
سر ! کیا میں پوچھ سکتی ہوں ،اس پارٹی میں آپ نے آفس کے باقی اسٹاف کو بھی انوائیٹ کیا ہے؟اس نے جھٹ سوال کیا۔
دیکھیں عروش!یہ پارٹی ایک فیملی گیدرنگ ہے جس میں میرےکچھ فیملی فرینڈز اور ریلیٹوز شرکت کریں گے،میں آپ کو کلئیرکر دیتا ہوں کے میں آپ کو اپنی فیملی سے ملوانا چاہتا ہوں، اب اتنا تو آپ سمجھ ہی گئی ہونگی کے میں اپنے اسٹاف کو تو فیملی گیدرنگ میں انوائیٹ نہیں کر سکتا۔سبطین نے کچھ دیر توقف کے بعد تفصیلی جواب دیا تو اس کی بات پر عروش کے نے ایک بیٹ مس کی۔
آج تو اس کے تیور ہی بدلے ہوئے تھے۔عروش نے کن انکھیوں سے اسے دیکھا ۔
سبطین نے اس کے گھر سے کچھ فاصلے پر گاڑی روک دی۔مجھے پوری امید ہے آپ ضرور آینگی ۔آٹومیٹک لاک ہوتے ہوئےبھی اس نے خود عروش کے لئے زرا سا جھک کر ڈور کھولا ۔عروش نے بے حد قریب سے اس کے چہرے کو دیکھاسبطین کے چہرے پر سچے جذبوں کے رنگ نمایاں تھے۔
میں پوری کوشش کرونگی ،یہ کہتے ہوئے وہ گاڑی سے اتر گئی۔پیچھے مڑ کر دیکھا تو سبطین کے ہونٹوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ تھی عروش کے چہرے پر دھنک رنگ اترے تھے جو سبطین سے پوشیدہ نہ رہ سکے۔
تھوڑے فاصلے پر کھڑے حماد کے لئے یہ منظر ناقابل برداشت تھا۔
غصے سے اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں ۔وہ گھر سے کسی کام سے نکلا تھا
لیکن یہ نظارہ دیکھ کر پیر پٹختا ہوا واپس لوٹ گیا۔


رات نے گہری سیاہی کی چادر اوڑھی ہوئی تھی چاروں سو سناٹے کا راج تھا۔گاؤں کے آوارہ کتے بھی اب شاید تھک ہار کر بیٹھ گئے تھے ۔
زرتاج بڑی سی کالی چادر میں خود کو چھپائے ، ڈری سہمی سی چھپتی چھپاتی نہر کنارے پہنچی تھی ۔
یہ نہر شاہ پور ،اور میر نگر کی سرحد بندی کے سنگم پر تھی ۔
نہر کے پاس کھڑے درخت سے ٹیک لگا کر اس نے گہرے گہرے سانس لئے تب ھی دور سے آتی گاڑی کی ہیڈ لائیٹس سے اس کے
چہرے پر روشنی پڑی ۔اس نے کہنی سے چہرے کو چھپا لیا ۔
گاڑی اس سے زرا فاصلے پر آکر رک گئی ۔میر سجاول نے اسے سر کے
اشارے سے نزدیک آنے کو کہا اور فرنٹ ڈور کھول دیا ۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی گاڑی تک پہنچی ۔
سرکار !آج تو اپنے تابعداری کے سارے ریکارڈ توڑ کر دل خوش کر دیا۔اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ مستقبل میں آپ ایک فرمانبردار بیوی ثابت ہونگی ۔میر سجاول نے دل پر ہاتھ رکھ کر شوخی سے کہا ۔
سائیں ! جلدی بتائیں ،کیا بات کرنا تھی ۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔اتنی بھی کیا جلدی ہے ،پہلے بیٹھو پھر بتا تا ہوں۔
نا ں سائیں ! آپ نے کہا تھا نہر کنارے ملوں تو میں آگئی لیکن پلیز ! اب مہربانی کریں مجھے جانے دیں ۔
ایسے کیسے جانے دوں ،ابھی تو جی بھر کے دیدار بھی نہیں کیا ۔پہلے آنکھوں کو کچھ سیراب تو کرنے دو۔میر سجاول نے اس کا ہاتھ پکڑ کراسے اندر کھینچ لیا ۔
نازک اندام سی زرتاج ایک جھٹکے میں کھینچی چلی گئی ۔میر سجاول کی اس حرکت سے وہ بری طرح خوف زدہ ہوگئی تھی ۔
سائیں ! یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟میں آپ کے ساتھ کہیں نہیں جاؤنگی پلیز ! مجھے میرے گھر جانے دیں ۔وہ خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی آنسو لڑھک کر گالوں پر بہنے لگے ۔
اتنا کیوں ڈرتی ہو مجھ سے ،اغوا کر کے نہیں لے جارہا تمھیں ، پوری شان سے بیاہ کر لے جاؤں گا ۔۔۔۔بے فکر رہو۔میر سجاول کے لہجے میں اپنی امارات کا زعم تھا۔اس نے زرتاج کے آنسوں اپنی انگلیوں کے پوروں میں سمیٹ لئے۔
کچھ ہی دیر میں گاڑی پکی سڑک پر دوڑنے لگی ۔پھر تھوڑی دور لے جاکر اس نے گاڑی ایک سائیڈ پر روک دی اور انجن بند کر کے اطمینان سے اسکی طرف رخ کر کے بیٹھ گیا۔زرتاج کا نرم ملائم ہاتھ میر سجاول کے ہاتھ میں دبا ہوا تھا جسے وہ دھیرے دھیرے دبا رہا تھا۔
یوں روز روز چھپ چھپ کر ملنے کا بھی اپنا ہی مزہ ہے لیکن اس کیفیت سے لطف وہی لے سکتے ہیں جو محبت کی تڑپ کو جانتے ہو تم جس دن مجھ سے محبت کرنے لگو گی تو خود اس تڑپ کو سمجھ جاؤ گی
کیسے ملن کی آس ، محبوب کے دیدار کی طلب دل سے ہر خوف کو مٹا دیتی ہے ،حتی کے موت کے خوف کو بھی ۔
یہ محبت ہی جو آدھی رات کو میرسجاول ،تنِ تنہا دشمنوں کے علاقے
میں دشمنوں کے گاؤں کی لڑکی کے دیدار کے لئے بے خوفِ خطر چلا آتا ہے۔وہ ایک جذب کے عالم میں کہہ رہا تھا ۔
زرتاج سانس روکے اسے سن رہی تھی ۔ پھر وہ اپنی ہی بات پر زوردار قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا۔ اسکی روشن روشن ڈارک براؤن آنکھیں بھی مسکرا رہی تھیں ۔
سائیں! محبت اور دوستی اپنے برابر والوں کے ساتھ ہی سجتی ہے ۔
دنیا اسے بڑی ہی طنزیہ اور تمسخر بھری نظروں سے دیکھتی ہے اور اسی لئے یہ ذیادہ دن قائم بھی نہیں رہ پاتی ۔
سنو ! ایک بار میری بن جاؤ میرا وعدہ ہے تم سے عمر بھر یوں ہی چاہوں گا تمھیں ۔ میر نے اسکا ہاتھ اپنے لبوں سے لگایا ۔
دنیا والوں کی باتوں اور نظروں کی پرواہ میر سجاول کبھی نہیں کرتا نہ کسی میں اتنی جرأ ت ہے کہ کوئی میرے سامنے میری خلاف کوئی بات کر سکے ۔اس نے سگریٹ سلگاتے ہوئے نخوت سے کہا ۔
تمھیں مجھ سے محبت نا سہی ،مجھے تو تم سے عشق ہے ،اور چاہنے والوں کی قدر کرنی چاہئے ۔تم تو بہت ناشکری ہو۔اس نے زرتاج کی خوبصورت ستواں ناک کو دو انگلیوں سے کھینچا ۔اور پھر کھینچ کر اسے گلے سے لگا لیا ۔زرتاج پر اسکی محبت پھوار بن کر برس رہی تھی اور وہ پور پور اس میں بھیگی جارہی تھی۔
میر سائیں ! ناشکری کہیں یا بے قدر کہہ لیں لیکن جو میں دیکھ رہی ہوں وہ آپ دیکھنا نہیں چاہتے ۔بڑی حویلی والے مجھے کبھی قبول نہیں کریں گے ۔خاص طور پر بڑی بیگم صاحبہ (میر سجاول کی ماں )۔
میں بس اپنے ماں باپ کو بے عزت ہوتا نہیں دیکھ سکتی ۔میں نہیں چاہتی میری وجہ سے ان کی رسوائی ہو۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد وہ بمشکل میر سجاول کوخود سے الگ کرتے ہوئے بولی ۔
زرتاج بڑی بیگم کے مزاج سے بخوبی واقف تھی ۔وہ ان کے گاؤں کی نہیں تھی نہ ہی کبھی بڑی حویلی گئی تھی لیکن گاؤں کے کمیوں کےساتھ ان کا تحقیر آمیز رویہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں تھا ۔وہ بے ساختہ ہنس پڑا ۔
اچھا تو تم اماں سے خوفزدہ ہو ۔۔۔ان کی فکر تم مت کرو ، ان میں حویلی والیوں کا رعب و دبدبہ ضرور ہے مگر وہ دل کی بری نہیں ہیں میر سجاول انکا اکلوتا بیٹا ہے اور اس کی من چاہی دلہن کو وہ سر آنکھوں پر بٹھائیں گی اور باقی سب سنبھالنا میرا کام ہے ۔پھروہ یکدم بولا۔
زری !تم میرا انتظار تو کروگی ناں ۔۔۔؟کسی اور کی تو نہیں ہوجاؤگی ؟
میر نے اپنی ہلکی سی سرخی سے سجی ڈارک براؤن مخمور آنکھیں اس پر مرکوز کیں ۔جذبوں کی شدت سے اس کی آواز بوجھل ہورہی تھی۔
زرتاج نے کچھ دیر سوچا ،پھر بولی۔ہو بھی سکتی ہوں ۔اسکی آنکھوں
میں شرارت تھی ۔مگر میر سجاول خطرناک حد تک سنجیدہ ہوگیا۔
اگر تم نے کسی اور کے بارے میں سوچا بھی تو گلا دبا کر مار دوں گا۔
اس نے بڑی بے رحمی سے زرتاج کی کلائی پکڑی اور دوسرے ہاتھ سے اس کا گلا دبوچ لیا۔
کانچ کی چوڑیاں ٹوٹ کر زرتاج کی کلائی اور میر سجاول کی انگلیوں میں
چبھ گئیں ۔
زرتاج کی آنکھیں ابلنے لگیں اور منہ سے گھٹی گھٹی سسکی برآمد ہوئی مگر میر سجاول کی گرفت ڈھیلی نہیں پڑی ۔البتہ گلے پر دباؤ کم کردیا تھا۔
میں مذاق کر رہی تھی ۔کیا میں چھوٹا سا مذاق بھی نہیں کر سکتی ۔
زرتاج کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوگئیں ۔
میر سجاول پر متلق بھی اثر نہیں ہوا ۔
آئندہ ایسا کچھ مذاق میں بھی مت بولنا ورنہ انجام بہت برا ہوگا ۔
میر سجاول کا لہجہ درشت اور خطرناک ہوگیا تھا ۔اس نے زرتاج کی طرف دیکھے بغیر ونڈ اسکرین پر نظر جمائے تنبیہہ کی۔یہ بھی اس کی سخت
ناراضگی کے اظہار کا ایک انداز تھا۔
زرتاج کو اس کی آنکھوں میں ہلکورے لیتے غصے اور صبیح ماتھے پر
پڑے بے شمار بلوں سے اس کے غضبناک موڈ کا احساس ہو گیا تھا۔وہ دل ہی دل میں شرمندہ ہوگئی مگر کچھ بھی کہنے کی جرأت نہیں کی اور خاموشی سے سر جھکا گئی ۔
میر سجاول نے فوراً ہی گاڑی اسٹارٹ کر کے واپسی کے راستے پر ڈال دی تھی ۔