Rate this Novel
Episode 32
زری بھابھی ! اف ۔۔۔۔۔آپ کی اسکن تو آئیلی ہورہی ہے ۔میک اوور خراب ہوجائے گا۔عجیب سا لگ رہا ہے ، آپ اندر چلئے میں ری ٹچ کر وادیتی ہوں ۔رانیہ نے مصنوعی پریشانی سے زرتاج کے چہرے کو چھوا ۔
مگر میری اسکن تو نارمل ہے ، ائیر کنڈیشن بھی چل رہے ہیں پھر آئیلی کیسے ہورہی ہے ؟ زرتاج کو اچھنبا ہوا ۔
مجھے تو بلکل ٹھیک لگ رہا ہے ۔ آخر شہر سے اتنی مہنگی بیوٹیشن کو بلوایا ہے وہ کوئی چالو کام تھوڑی نا کریگی ۔ نذدیک بیٹھی فائزہ بیگم جھٹ سے بولیں ۔
چاچی ! آپ کی نظر کمزور ہوگئی ہے۔آپ ٹھیک سے نہیں دیکھ پارہیں۔
فنکشن پوری رات چلے گا ۔۔۔۔۔۔میک اپ ذیادہ خراب ہوگیا تو برا لگے گا ۔فوٹوز بھی اچھی نہیں آئیں گی ۔ اس نے بات بنائی ۔
ٹھیک ہے تم اسے اندر لے جا کر صحیح کروادو ۔ انہوں نے بادلِ ناخواستہ اجازت دی ۔
رانیہ نے زرتاج کو بازو سے پکڑ کر اٹھایا ۔ زرتاج جو خاموش تماشائی بنی بیٹھی تھی ، روبوٹ کی طرح کھڑی ہوگئی ۔
نازک اندام زرتاج سے انتہائی بھاری کامدار لہنگے کا بوجھ سنبھالے نہیں سنبھل رہا تھا ۔وہ اٹھتے ہوئی لڑکھڑا گئی ۔
رانیہ باجی ! میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ چلتی ہوں ۔نگین اس کی مدد کے لئے آگے بڑھی اور ایک طرف سے زرتاج کا لہنگا تھام لیا۔
ارے نہیں ،تم رہنے دو ۔میں لے جاؤنگی ۔ تم مہمانوں کا خیال رکھو۔رانیہ نے گھبرا کر منع کرنا چاہا ۔
لے جاؤ ناں ، اسے بھی اپنے ساتھ ۔۔۔۔کچھ کام آجائیگی ویسے تو ملکہ بنی پھر تی رہتی ہے ۔فائزہ نے نخوت سے ناک چڑھائی ۔
رانیہ نے ایک ناگوار نظر ان پر ڈالی اور نگین سمیت زرتاج کو لے کر اسٹیج سے اتر گئی ۔
“””””””””””❤️”””””””””””
رانیہ اور نگین دائیں بائیں سے زرتاج کوتھامے لاؤنج میں داخل ہوئیں ۔
لاؤنج تقریباً خالی تھا کیونکہ سبھی مہمان حویلی کے پچھلے حصے میں ڈنر میں مصروف تھے ۔
وہ دھیرے دھیرے زرتاج کو لئے ایک کمرے کی جانب بڑھ رہی تھیں۔
میر سجاول لاؤنج میں کھلنے والے پول سائیڈ کے دروازے سے اندر آیا اور دبے قدموں ان کے پیچھے چلنے لگا ۔
زرتاج سے اس کی مخصوص خوشبو کا جھونکا ٹکرایا تو اس کے دل میں دھڑکنوں نے شور برپا کر دیا ۔ میر سجاول نے دو قدم آگے بڑھ کر اس کی پشت پر جھولتے دوپٹے کومٹھی میں بھرا اور اس کی مہک کو سانس کے ذریعے کھینچ کر اپنے اندر اتارا۔زرتاج کو اپنے پیچھے اس کی موجودگی کا یقین ہوگیا ۔
وہ تینوں کمرے کے دروازے پر پہنچی تو میر سجاول دھیمے سے کھنکارہ ۔
نگین اوررانیہ نےفوراً پلٹ کر دیکھا جبکہ زرتاج اپنی جگہ جمی کھڑی رہی۔
البتہ اس کی ٹانگیں لرزنے لگی تھیں ۔
توبہ ۔۔۔۔۔آپ نے تو ڈرا ہی دیا ۔مجھے لگا پیچھے فائزہ چاچی آگئیں ہیں ۔رانیہ نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا ۔
میں نے آپ کا کام کردیا ۔۔۔۔۔ اب وقت آنے پر آپ کو بھی اپنا وعدہ پورا کرنا ہوگا ۔ اس نے شرارت سے کہا ۔
اوہ ۔۔۔۔۔۔ تو یہ ان کی پلاننگ تھی ۔ زرتاج کے کان کھڑے ہوگئے ۔
بہانے بازی میں تو ان کا کوئی جواب نہیں ۔اس نے دل میں سوچا۔
حاضر ! میر سجاول نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر کو خم دیا ۔
اب کچھ دیر کے لئے جان چھوڑو ۔ اس نے بھی مصنوعی سنجیدگی سے شرارتاً کہا ۔
آپ کتنے برے ہیں ، میں نے آپ کا اتنا ضروری کام کیا اور آپ نے کام نکلتے ہی آنکھیں پھیر لیں ۔ آئیندہ کبھی فیور نہیں دوں گی ۔ وہ برا مان گئی ۔
مت دینا ، آئیندہ مجھے ضرورت پڑے گی بھی نہیں ۔ کل ان کے تمام جملہ حقوق میرے نام لکھ دئیے جائیں گے پھر مجھے ان سے ملاقات کے لئےآپ لوگوں جیسے چھوٹےموٹے کارندوں کاسہارا نہیں لینا پڑے گا۔میر سجاول نے شرارت سے ناک چڑھائی ۔
اللہ ! آپ تو کتنے مطلبی نکلے ۔احسان ماننے کی بجائے الٹا باتیں سنا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے رانیہ نے تاسف سے گال پیٹے ۔
اب تنگ مت کرو ۔چلو بھاگو دونوں ، تھوڑی دیر بعد آجانا ۔میر نے نے چٹکی بجا کر حکمیہ کہا ۔نگین اور رانیہ دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑیں ۔
یاد رہے ، آپ نے بس دو منٹ کہا تھا۔وہ شرارت سے کہتی ہوئی نگین کا ہاتھ پکڑے سیڑھیاں چڑھ گئی ۔
زرتاج اب تک رخ موڑے کھڑی تھی ۔میر سجاول نے اس کا ہاتھ پکڑا اور لاک گھماکر اسے لئے اندر داخل ہوگیا ۔
اس نے زرتاج کو بازؤں سے تھامے دروازے سے لگادیا ۔وہ گہری ہوتی مسکراہٹ کے ساتھ بھرپور نظروں سے زرتاج کو بغیر پلکیں چھپکے یک ٹک دیکھ رہا تھا ۔زرتاج کی پلکیں جھکی ہوئی تھیں ۔
سرکار ! پلکوں کی چلمن اٹھائیں ۔۔۔۔۔میں آپ کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھنا چاہتا ہوں ۔وہ دلفریب لہجے میں بولا ۔
زرتاج نے دھیرے سے پلکیں اٹھائیں مگر اس سے نظریں نہیں ملائیں تھیں ۔
میر سجاول اس کی کاجل سے سجی آنکھیں دیکھ کر مبہوت رہ گیا ۔
اس نے لپ اسٹک سے رنگے زرتاج کے ہونٹوں کو اپنی انگشتِ شہادت سے چھوا اور پھر مسرور سا ہو کر اپنی انگلی کو دیکھ کر بولا۔
تمھاری لپ اسٹک کا شیڈ ہے تو بہت پیارا مگراس کے بنا بھی اٹریکٹ کرتی ہو ۔اس نے جھک کر زرتاج کی آنکھوں میں جھانک کر کہا ۔
جتنا بھی اپنی قسمت پر رشک کروں ،کم ہوگا کیونکہ میں بہت لکی ہوں ، اس بات کا اندازہ تو مجھے بچپن سے ہے مگر قدرت نے تمھیں میرے لئے چن کر اس یقین کو مزید پختہ کردیا ہے ۔وہ تفاخر سے بولا ۔
میری تباہی کے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو ۔۔۔۔۔میں کیسے نا بہک جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟میر اس کے کانوں میں جھولتے تازہ پھولوں کے آویزوں کو چھیڑتے ہوئے مخمور لہجے میں بولا ۔
خدا گواہ ہے آج کی رات قیامت سے کچھ کم نہیں ہوگی ۔۔۔۔۔۔کہ تمھارے دیدار کے بعد صبر ناممکن ہوگیا ہے ۔اس نے بے خودی کے علام میں زرتاج کی پھولوں والی بندیا کو لبوں سے چھوا ۔
آپ کو ایک رات کے انتظار کی بھی زحمت سے گزرنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔آپ تو میر سجاول ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جو اپنی من مرضی کے لئے اپنی محبت کو بھی روند ڈالتا ہے ۔
فاصلے سمیٹیے اور اپنی ہوس پوری کر لیجئے ۔۔۔۔۔۔آپ کو تو کسی کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہو تی ۔زرتاج زہر خند لہجے میں طنزیہ بولی ۔میر سجاول کرنٹ کھا کر دو قدم پیچھے ہٹا تھا ۔
شرمائیےمت،آپ ایسا پہلی بار تو نہیں کریں گے ۔زرتاج وار پر وار کر رہی تھی ۔
بکواس بند کرو ۔میری محبت کو ہوس کا نام دیتے ہوئے تمھیں شرم نہیں آرہی ۔ میر نے مشتعل ہو کر ہاتھ اٹھایا مگر ضبط کرتے ہوئے فضا میں ہی مٹھی سختی سے بند کر کے روک لیا ۔
حالات سے واقف ہوتے ہوئے بھی پتھر دل کیوں بن رہی ہو ۔
بولو ۔اس منحوس دن سے پہلے بارہا تم مجھ سے تنہائی میں ملی ہو۔۔۔۔۔۔ناجانے کتنی بار ہم نذدیک ہوئے ۔۔۔۔۔۔کتنی بار میں نے اپنی ہوس مٹائی ہے۔۔۔۔۔۔۔؟بولو ۔
تم مکمل میری دسترس میں ہوتی تھیں ،میں نے تب بھی حدود پار کرنے کی کوشش نہیں کی ۔
جس قدر تم میرے نذدیک رہی ہو ،ہوس ہوتی تو بہت پہلے مٹاچکا ہوتا لیکن میں نے سچے دل سے تمھیں پوری عزت کے ساتھ اپنی ذندگی میں شامل کرنے کی خواہش کی تھی ۔تمھیں اپنی دعاؤں میں مانگا ہے۔
مانتا ہوں ، مجھ سے غلطی نہیں گناہ ہوا ہے مگر اس میں میرے نفس کا کوئی عمل دخل نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔وہ انتقام کی آگ تھی ،جس میں اندھا ہوگیا تھا مگر اس کے باوجود بھی میں تمھیں اپنی محبت پر الزام لگانے کی اجازت ہر گز نہیں دوں گا ۔میر سجاول درشتی سے بولا ۔
زرتاج اس کے اٹھتے ہوئے ہاتھ پر سن کھڑی رہ گئی تھی ۔
اب بولتی کیوں نہیں ، جواب دو ۔ وہ دہاڑا ۔ زرتاج سر جھکائے کھڑی رہی ۔
میر سجاول سلگتی نظر وں سے اسے گھورتا رہا پھر لب بھینچے تاسف سے سر ہلاتا واپس چلا گیا ۔
زرتاج نے ٹشو سے ماتھے پر آئے پسینے کو صاف کیا ۔اس کا بدن ہولےہولےلرز رہا تھا۔وہ خود بھی حیران تھی کیسےمیر سائیں کےسامنے زبان کھول گئی،تبھی رانیہ اورنگین کمرے میں داخل ہوئیں ۔
بھابھی ! واٹ ہیپنڈ ؟ ہوگئی ملاقات ؟سجاول بھائی اتنے غصے میں کیوں لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔؟ رانیہ نے اس کی بدلتی رنگت اور پسینے کی ننھے قطرے اس کے چہرے پر دیکھے تو پریشانی سے استفسار کیا ۔
میں ٹھیک ہوں ، آپ پریشان مت ہوں ۔۔۔۔۔۔چلیں ،واپس چلتے ہیں۔بڑی بی بی خفا ہوجائیں گی۔وہ اپنا لہنگا سنبھالتی ہوئی آگے بڑھی ۔
رانیہ زرا زرا معاملے کی نوعیت سمجھ چکی تھی ،اس لئے کریدنامناسب نہیں سمجھا، وہ سر ہلا کر زرتاج کو تھامے باہر نکل آئی ۔
“”””””””””””❤️”””””””””””
عروش ! سنا ہے آج میر سجاول کی مہندی ہے ، بابا سائیں اور مکتوم شاہ بھی شرکت کر رہے ہیں ۔ شاہ نے تصدیق کرنا چاہی ۔
جی ، آپ نےصحیح سنا ہے ،آج میر سجاول اور زرتاج کی مہندی ہے۔
اور شاہ آپ کو پتہ ہے ،میں بہت خوش ہوں زرتاج کے لئے ، میر نے اس کی ذندگی تباہ کردی تھی ۔۔۔۔۔۔جب میں نے یہ خبر سنی تھی مجھے بہت دکھ ہوا تھا مگراب وہی اس کو پھر سے آباد کرنے جارہا ہے۔
زرتاج کی شادی اگر کسی اور سے ہو بھی جاتی تو یہ معاشرہ اور سسرال والے اس کا جینا حرام کردیتے ۔اب کم از کم وہ سکون سے تو جی سکے گی ۔عروش کے چہرے پر خوشی رکساں تھی ۔
تمھاری بات درست ہے ، مگر جہاں تک مجھے علم ہے میر سجاول اس لڑکی سے محبت کا دعوے دار تھا اور میں بندوں کو پہچاننے میں غلطی کبھی نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔۔پھر میر سجاول نے اسے داغدار کیوں کیا یہ بات پلے نہیں پڑ رہی ۔میر سجاول نے انتقام کے لئے اسی لڑکی کو نشانہ کیوں بنایا ۔وہ پرسوچ لہجے میں گویا تھا ۔
جو بھی ہوا سو ہوا ۔اللہ پاک ہر لڑکی کی عزت محفوظ رکھیں ۔(آمین)
زرتاج کے ساتھ برا ہوا تو اب اچھا بھی ہونے جارہا ہے ۔عروش ماتھے پر آئی ریشمی لٹ کان کے پیچھے اڑستے ہوئے بولی ۔
تم میری وجہ سے شادی میں نہیں گئی ۔۔۔۔۔؟ شاہ نے دوبارہ اس کی لٹ باہر کھینچی ۔
نہیں ، ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔۔خالہ جان اور گھر کی کوئی بھی لیڈیز نہیں گئیں ہیں تو میں کیسے جاتی ۔ عروش نے کندھے اچکائے۔
بابا سائیں نے وہاں جانے سے پہلے مجھے آگاہ کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا ۔وہ مجھ سے صلاح تو کر سکتے تھے ۔شاہ بہت دیر سے دل میں اٹھنے والے شکوے کو زبان پر لے آیا ۔
انہوں نے اس لئے ایسا کیا ہے کہ وہ اب مزید اس دشمنی کو پالنا نہیں چاہتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بڑی حویلی سے باقاعدہ دعوت آئی تھی ۔خالوجان اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ آپ سے بہت پیار کرتے ہیں ،آپ کو کسی صورت کھونا نہیں چاہتے اگر آپ سے صلاح کرتے تو آپ یقیناً انہیں روکتے اور وہ رکنا نہیں چاہتے تھے ۔عروش اسے سمجھا رہی تھی ۔
انہیں ایک بار مجھے ضرور بتانا چاہئے تھا مگر شاید اب میں معذور ہوگیا ہوں اس لئے انہیں میری ضرورت نہیں رہی ۔شاہ بدگمان ہو رہا تھا۔
شاہ ! پلیز ! اب آپ دوبارہ کبھی ایسی بات زبان پر نہیں لائیں گے ۔وہ یہ سب کچھ صرف آپ کے لئے ہی کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔سب جانتے ہیں کہ خالوجان سب سے ذیادہ پیار آپ ہی سے کرتے ہیں پھر بھی آپ ان سے بدگمان ہورہے ہیں ۔وہ تڑپ کر بولی ۔
عروش کو اس کے لاچارگی سے کہنے پر بہت تکلیف ہوئی تھی ۔ساری دنیا کو اپنی اشاروں پر نچانے والا آدمی آج بے بس اور لاچار ہو کر بستر پر پڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔شاہ کی بے بسی پر عروش کو بھی رلا دیتی تھی۔
شاہ ! آپ مجھ سے وعدہ کریں ۔ٹھیک ہونے کے بعد ان سب جھگڑوں سے دور ہوجائیں گے اور اب اس دشمنی کو ختم کر دیں گے ۔وہ شاہ کا ہاتھ تھام کر پر امید لہجے میں بولی ۔
وعدہ تو نہیں مگر تمھارے اور اپنی بیٹی کے لئے کوشش کروں گا ۔شاہ نے اس کا ہاتھ چوما ۔
کوشش نہیں ، وعدہ کریں ۔۔۔۔۔۔وہ بھی پکا والا ۔ عروش نے زبردستی اس کے ہاتھ کو پکڑ کر ہلایا ۔
اچھا بابا ، وعدہ ۔شاہ نے بھی اس سے ہاتھ ملایا ۔عروش مطمئین سی ہوکر ہنس پڑی ۔
“””””””””””””❤️”””””””””””””
ان شیرازیوں کو یقیناً تم نے یہاں بلایا ہوگا ۔۔۔۔۔؟ وہ زرتاج کے کمرے سے نکل کر سیدھا میر سبطین کے پاس آیا تھا ۔اس کی پیشانی پر لا تعداد شکنیں پڑی ہوئی تھیں ۔
ہاں،میں نے بلایا ہےمگر ڈیڈی اور جعفر چاچا سے اجازت لینے کے بعد۔
سب کا مشترکہ فیصلہ تھا کہ شاہ فیملی کو تمھاری شادی میں ضرور انوائیٹ کیا جائے تاکہ راستے ہموار ہو سکیں ۔میر سبطین نے رسان سے جواب دیا ۔
ہونہہ۔۔۔۔۔۔وہ (گالی)ابھی مرا نہیں ہے جو تم راستے ہموار ہونے کی امید لگا بیٹھے ہو ۔ وہ جس دن اپنے پیروں پر کھڑا ہوجائے گا ، اسی دن اپنی اوقات دکھائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔اگر اس رات تم سب بیچ میں نہیں کودتے تو میں یقیناً اس سانپ کا سر کچل دیتا۔ راستے پھر ہموار ہوتے۔وہ دوبدو بولا ۔
نہیں یار ! صفدر انکل خود بھی سب کچھ بھلا کر چلے آئے ہیں اگر ان کے دل میں دماغ میں زرہ برابر بھی ایسی کوئی سوچ ہوتی تو وہ یہ قدم کبھی نہیں اٹھاتے ۔
صاف ظاہر ہے ، وہ اپنا دل صاف کر چکے ہیں اور مزید خون خرابہ نہیں چاہتے ، اب تم بھی دل سے میل نکال دو خیر سے فیملی والے ہونے جارہے ہو ۔اب یہ مار دھاڑ تمھیں سوٹ نہیں کرے گی ۔
ایک لڑکی کا نام ہی تمھارے ساتھ نہیں جڑ رہا ، اس کے سکھ دکھ کی پوری زمہ داری،اس کی ضرورتوں کا خیال رکھنا،اسے ٹینشن فری ماحول دینا بھی تم پر فرض ہوگیا ہے۔
اگر اب بھی تم ان فضول چکروں میں الجھے رہوگے تو اپنی لائف کیسے انجوائے کروگے ۔ سب کچھ بھول کر میرڈ لائف شروع کرو ۔ میر سبطین اسے کول کرنے کے لئے کندھے پر ہاتھ رکھے رسانیت سے سمجھا رہا تھا ۔
یہ بتاؤ ، اپنی ہونے والی مسز کو ہنی مون کے لئے کہاں لے جارہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔کچھ پلان کیا ہے ؟میر سبطین نے اس کا دیہان دوسری جانب موڑا ۔
نہیں ۔۔۔۔۔ابھی کچھ نہیں سوچا ۔ ابھی وہ بہت ناراض ہے ۔جب راضی ہوجائے گی تب سوچوں گا ۔میر سجاول نے گہری سانس لی ۔
جب بچے ہوجائیں گے تب سوچو گے ۔بے وقوف انسان ۔۔۔۔۔۔ہنی مون شادی کے اولین دنوں میں ہی اچھا لگتا ہے ۔بالی لے جاؤ ۔بہت خوبصورت ہے ۔وہ بھی خوش ہوجائیگی ۔میر سبطین نے مشورہ دیا ۔
جاچکا ہوں ۔ میر سجاول نے آف موڈ میں مختصراً کہا ۔
میں نے تمھارے سیٹ کنفرم کروا دی ہے ۔ ولیمے کے فوراً بعد روانگی ہے ۔ماحول بدلے گا تو زرتاج بھی نارمل ہوجائے گی ۔سب سے دور جاؤگے توتم دونوں کوقریب ہونے کا موقع مل جائیگا۔میر سبطین مسلسل اس کا آف موڈ خوشگواری میں بدلنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
ہوں ۔۔۔۔۔میر نے ہنکارہ بھر کر سگریٹ سلگائی ۔
وہ تو بے حد قریب تھی ، اسے خود سے دور کرنے والا بد نصیب میں خود ہوں۔اس نے سگریٹ لبوں میں دبائے تلخی سے سوچا ۔اس کی دلکش آنکھوں کے کنارے سرخ ہونے لگے تھے ۔
جاری ہے
