Rate this Novel
Episode 40
میر سجاول نیند سے بیدار ہوگیا تھا مگر دماغ نیند میں ڈوبا ہوا تھا اس نے غنودگی کی کیفیت میں ادھر ادھر ہاتھ مار کر زرتاج کو تلاشا مگر اس کی غیر موجودگی پر پوری آنکھیں کھل گئیں ۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا ۔اس کی نظر صوفے پر بے حس و حرکت بیٹھی زرتاج پر پڑی تو ہونٹوں پر مسکراہٹ کھل گئی ۔
دلبر سائیں ! وہاں اتنی دور کیوں بیٹھی ہو ، یہاں میرے پاس آؤ۔
اس نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر سگریٹ سلگائی ۔
زرتاج اسی پوزیشن میں بیٹھی رہی ۔ ایک انچ بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلی ۔
زری ! میں نے کچھ کہا ہے ، تم نے سنا نہیں ۔ ادھر آؤ۔ اس بار میر کی آواز قدرے بلند تھی مگر زرتاج کی طرف سے جواب ندارت ۔
اسے کچھ غیر معمولی پن کا احساس ہوا ،وہ کمفرٹر ہٹا کر بیڈ سے اترا اور زرتاج کے پاس چلا آیا ۔
میری جان ۔۔۔۔۔۔ کیا بات ہے ؟ اتنی خاموش کیوں ہو ؟ وہ زرتاج کے برابر بیٹھ گیا ۔
ارے یار ! رو کیوں رہی ہو ۔ گھر کی یاد آرہی ہے ؟ اس نے زرتاج
کی متورم آنکھیں دیکھیں تو اسے پکڑ کر زور سے بھینچ لیا ۔
مجھے ہاتھ مت لگائیں ، مجھ سے دور رہیں ورنہ اچھا نہیں ہوگا ۔ زرتاج نے پوری قوت سے اس کا حصار توڑا ۔ میر سجاول بھونچکا رہ گیا ۔
نفرت ہے مجھے آپ کے غلیظ ہاتھوں سے ، چھوتے ہیں تو مجھے اپنے وجود سے گھن آتی ہے ۔ زرتاج نے اس کے ہاتھ جھٹکے ۔
دلبر سائیں ! تم بہت غصے میں ہو ۔۔۔۔۔ پانی پیو پھر تحمل سے مجھے بتاؤ کیا بات ہوئی ہے ۔ میر سجاول نے جگ سے پانی کاگلاس بھرا اور اس کے لبوں سے لگایا ۔
یہ دکھاوا جا کر کسی اور کہ سامنے کریں ، جو آپ کی اصلیت نہ جانتی ہو ۔ میں آپ کا اصل چہرہ دیکھ چکی ہوں ۔ جس نے اپنی محبت کو داغدار کر دیا ، وہ کس منہ سے محبت جتا رہا ہے ۔ زرتاج نے گلاس کو ہاتھ مارا تو گلاس میر سجاول کے ہاتھ سے گر کر چکنا چور ہوگیا ۔
صبح تک تم بلکل نارمل تھیں ۔میں نہیں جانتا ، میری کونسی بات نے تمھیں ہرٹ کردیا ہے پھر بھی میں ہاتھ جوڑ کر تم سے معافی مانگ رہا ہوں ۔میر سجاول کا موڈ بگڑ چکا تھا مگر وہ بمشکل ضبط کرتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر بولا ۔
تمھارا موڈ ٹھیک ہو جائیگا پھر بات کریں گے ۔ مجھے دوچار ضروری کام نمٹانے کے لئے باہر جانا ہے ۔ رات کو ملاقات ہوگی ۔وہ دھیرے سے زرتاج کا گال تھپ تھپا کر اٹھ گیا ۔
زرتاج کا رویہ انتہائی ہتک آمیز تھا مگر میر سجاول ایسی نازک صورتحال
میں اپنے غصے کے اظہار سے اسے مزید تکلیف نہیں دینا چاہتا ۔ اس نے ملازمہ کواپنے کپڑے نکالنے کے لئے سائیڈ ٹیبل پر پڑی بیل کو پش کیا۔
زرتاج سر جھکائے بیٹھی تھی ۔ اسکی سسکیاں دبیز خاموشی میں گونجنے لگیں ۔
زری ! خدا کا واستہ ہے ، مجھ پر یوں ظلم مت کرو ۔کم از کم کھل کر بتاؤ تو سہی کیا بات ہے مگر اس سے پہلے پلیز ! رونا بند کرو ۔تمھارے آنسو میرا دل چیر ہیں ۔ میر سجاول لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا اس کے پاس پہنچا اور اس کاچہرہ ہاتھوں میں تھام کر بے بسی سے بولا ۔تبھی دروازے پر دستک ہوئی ۔
یس ۔ میر سجاول زرتاج کے رخساروں پر پھسلتے آنسو اپنے انگوٹھوں کی مدد سے صاف کر رہا تھا ۔ ملازمہ حواس باختہ سی اندر داخل ہوئی ۔
میر سائیں ! جلدی چلیں ۔۔۔۔۔۔ نیچے بہت ہنگامہ ہو رہا ہے ۔ میر سجاول نے اپنی بے تحاشہ سرخ ہوتی آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا ۔
جانم ! تم منہ دھو لو ۔میں ابھی آتا ہوں ۔ وہ زرتاج کی پیشانی چوم کر تیزی سے روم سے نکلا ۔ شور کی آوازیں اوپر تک آنے لگی تھیں ۔
“”””””””””※””””””””””
چٹاخ ۔۔۔۔چٹاخ ۔۔۔۔چٹاخ ۔۔۔۔۔ذلیل عورت ۔۔۔۔۔۔ تم تو عورت کہلانے کے قابل بھی نہیں ہو ۔ میر جعفر نے پے در پے کئی تھپڑ فائزہ بیگم کو جڑڈالے ۔
فائزہ بیگم پھٹی آنکھوں سے گال پر ہاتھ رکھے میر جعفر کا پر جلال روپ دیکھ رہی تھیں ۔انہیں زبردست جھٹکا لگا تھا ۔
مجھے یقین نہیں آرہا کہ تم اتنا سازشی دماغ رکھتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نے میری بہن کی خلاف اتنی گھٹیا سازش رچی ، اس نے کیا بگاڑا تھا
تمھارا جو تمھیں اس حد تک گرنا پڑا ۔
وہ معصوم تو پہلے ہی برباد ہوچکی تھی ، پھر بھی تمھیں اس پر ترس نہیں آیا ۔ اچھا ہوا کہ وہ مرگئی ورنہ تم نے تو اس کے پل پل مرنے کا بندوبست کردیا تھا ۔ اس کا شوہر تو قدرت نے اس سے چھینا ، تم تو زمینی خدا بن کر اس کی اولاد کو اس سے چھین کر اس کی ذندگی کو موت سے پہلے موت کی اذیت سے دوچار کرنے والی تھیں ۔
میر سائیں ! آپ کی باتیں مجھے سمجھ نہیں آرہی ، آخر آپ مجھ پر الزام کیوں لگا رہے ہیں ۔ فائزہ بیگم خود کو سنبھال کر ڈھٹائی سے بولیں ۔
پورا گھر خاموش تماشائی بنا کھڑا تھا،کسی نے بھی آگے بڑھ کر میر جعفر کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ ملازم الگ حیران پریشان کھڑے فائزہ بیگم کی عزت افزائی کا ناقابلِ یقین منظر ملاحظہ کر رہے تھے البتہ رانیہ نگین کو علیحدہ کونے میں لے جا کر دھیرے دھیرےتمام تر حقیقت سے آگاہ کر رہی تھی جبکہ نگین کی قوت گویائی سلب ہوچکی تھی ۔
میر سجاول بھی وہاں پہنچ چکا تھا مگر اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھاکہ یہ سب کیا ہورہا ہے ، اس نےمعاملے کی نوعیت جاننے کے لئے میر سبطین کے پاس جاکر دھیمی آواز میں استفسار کیا ۔
گھٹیا ۔۔۔۔۔۔۔ کمینی عورت ! بند کر اپنی ڈرامے بازی تو اچھی طرح سمجھ رہی ہے میں ایسا کیوں کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس حویلی میں کس چیز کی کمی تھی جو تو نے یہ سب کچھ کیا ۔۔۔۔۔۔۔ میرا ایک بھائی مر چکا تھا ، ایک خود ہی سب کچھ چھوڑ کر چلا گیا پھر کیسی حوس تھی جو اتنی دولت ملنے پر بھی اسے کنارہ نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا پھر اوقات سے ذیادہ ملنے پر مزید کی آگ بھڑک اٹھی ۔ میر جعفر کی آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے ۔
میر سائیں ! قسم لے لیں جو میں نے ایساکچھ کیا ہو ۔۔۔۔۔۔آپ کو میرے خلاف کسی نے بھڑکایا ہے ۔ میں بھلا ایسا کیوں کروں گی ۔ سندس تو میری چھوٹی بہنوں کی طرح تھی ۔ فائزہ بیگم آنکھوں میں آنسو بھر کر منمنائیں ۔
خبردار ! جو تم نے ایک لفظ بھی اپنی جھوٹی زبان سے نکالا ۔وہ تمھیں کتنی عزیز تھی ، اس بات کا اندازہ مجھے تمھارے اس گھر میں بیاہ کر آنے کے فوراً بعد ہی ہوگیا تھا ۔میر جعفر نے بھڑک کر ان کی طرف قدم اٹھائے ۔
نکلو میرے گھر سے ، اب تم اس گھر میں نہیں رہوگی ۔ میں تمھیں ابھی کے ابھی فارغ کر رہا ہوں۔اپنی شکل گم کرو اور دوبارہ کبھی اس
حویلی کی طرف رخ مت کرنا ورنہ تمھارے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کتوں کے آگے ڈال دوں گا ۔ میر جعفر نے مضبوطی سے ان کا بازو دبوچا اور کھینچتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھے ۔
نہیں ، نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ سائیں ، آپ اس عمر میں میرے سر میں خاک نہیں ڈال سکتے ۔ میں نے کچھ نہیں کیا ہے پھر مجھے کس بات کی سزا دے رہے ہیں ۔ مجھ پر رحم کریں ۔ فائزہ بیگم کے چھکے چھوٹ گئے ۔ وہ میر جعفر سے ہاتھ چھڑا کر ان کی ٹانگوں سے لپٹ گئیں ۔
مکار عورت اب بھی تو بے حیائی سے اپنی بات پر ڈٹی ہوئی ہے ۔کیا وہ مرتی ہوئی عورت اپنے آخری وقت میں جھوٹ بولے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔تو نے سب کو اپنی طرح بے ضمیر سمجھا ہوا ہے مگر اب تیرے عیب مجھ پر کھل گئے ہیں ۔ اب تیرے لئے میری ذندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔انہوں نے فائزہ کے بال پکڑ کر جھنجھوڑے اور دوبارہ ان کو بازو سے پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کی ۔
بابا سائیں رک جائیں ۔۔۔۔۔۔ پلیز ! اپنے غصے پر قابو رکھیں ۔ یہ سچ ہے کہ انہوں نے بہت برا کیا ہے مگر اب یہ کہاں جائیں گی ۔ میر سجاول نے باپ کو انتہائی قدم اٹھانے سے روکا۔وہ بلند آواز میں بولا۔
سائیں ! مجھے معاف کردیں ، مجھے اپنا گناہ قبول ہے ۔میر سجاول کی محبت نے مجھے خود غرض بنا دیا تھا ۔ میں چاہتی تھی وہ خاندانی جاگیر کا تنِ تنہا وارث بنے کوئی اور شراکت دار نا رہے ۔ مجھے لالچ نے اندھا کر دیا تھا مگر اللہ جانتا ہے یہ سب میں نے صرف میر سجاول کے مستقبل کے لئے کیا۔آپ اللہ پر چھوڑ دیں ۔ وہ میرے گناہوں کی سزا مجھے ضرور دے گا مگر مجھے دنیا کی نظروں میں رسوا مت کریں ۔
فائزہ بیگم سر جھکا کر ہاتھ جوڑے سسکتے ہوئے بولیں ۔
میر جعفر اسے معاف کردو ۔ اس کی یہی سزا کافی ہے کہ یہ ہم سب کی نظروں سے گر گئی ہے ۔ میرغضنفر بھی معاملے کو طول دینا نہیں چاہتے تھے اس لئے بالآخر بول پڑے ۔ ان کے لئے یہی بہت تھا کہ فائزہ کی حقیقت کھل گئی تھی اور اس نے اپنا جرم بھی قبول کر لیا تھا ۔
میر سجاول اس بد ذات سے کہہ دوکہ یہ میرے سامنے نا آئے،نا میرے کمرے میں قدم رکھے اور نا ہی اب میرا اس سے کوئی تعلق ہوگا نا میں اس سے کلام کروں گا اگر اس کو یہ سب شرائط منظور ہیں تو حویلی میں رہ سکتی ہے ورنہ حویلی کے دروازے کھلے ہیں ۔میرجعفر شعلہ بار نگاہوں سے انہیں گھورا پھر نگین کے پاس آئے ۔
نگین بیٹی میں تم سے بہت شرمندہ ہوں ، ہماری لاپرواہی کی وجہ سے تم ذندگی بھر سگے رشتوں سے دور رہیں مگر میرا وعدہ ہے اب تمھیں کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی ۔ انہوں نے نگین کو سینے سے لگایا ۔
تمھارے ماں باپ کا خلا تو پر نہیں کیا جاسکتا مگر تمھاری ماں جائی موجود ہے ۔ تمھاری تائی ہیں جنہوں نے سگی ماں سے بڑھ کر تمھاری بہن کو پالا ہے ۔ قسمت کی مہربانی ہے کہ اب وہ لوگ بھی ہم سے دور نہیں ہیں ۔تم جب چاہو ان سے مل سکتی ہو۔ انہوں نے نگین کا سر تھپکا۔
تم سب کیا لائن لگا کر کھڑے ہو، گھر کی کوئی بھی بات ہو تم لوگ پہلے جھرمٹ لگا کر کھڑے ہوجاتے ہو ۔ بیک ٹو ورک ۔ میر سجاول نے ملازموں کو زبردست جھاڑ پلائی ۔
اس حویلی میں اب تمھاری حیثیت ملازمہ کی نہیں بلکہ مالکن کی ہے اس لئے تمھارے رویے سے ہلکی سی بھی اجنبیت یا جھجک محسوس نہیں ہونی چاہئے ۔ تمھاری بھی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کے رانیہ کی ہے ، خود کو کسی طور بھی اس سے کم نہیں سمجھنا۔ میر سجاول نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
پاگل لڑکی ۔۔۔۔۔ رو کیوں رہی ہو ۔۔۔۔۔۔ تمھیں تو خوش ہونا چاہئے کہ اللہ سائیں نے تمھیں حقیقی رشتوں سے ملا دیا ہے ۔ اس میں رونے والی کیا بات ہے ۔ نگین کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے تو میر سجاول نے اسے گلے سے لگا لیا ۔
سجاول بھائی یہ خوشی کے آنسو ہیں ، میں بہت روتی تھی کہ اللہ سائیں نے مجھ سے میرے ماں باپ چھین لئے ۔۔۔۔ بھری دنیا میں مجھے تنہا کردیا ۔ میں سمجھتی تھی کہ اس دنیا میں میرا کوئی خونی رشتہ نہیں مگر اللہ کی شان نرالی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کچھ لیتا ہے تو اس سے بڑھ کر دیتا ہے ۔ میری ایک سگی بہن بھی ہے اس خبر نے میرے تمام دکھوں کا مداوا کردیا ہے ۔ نگین کی آواز کپکپا گئی تھی ۔
گڈ گرل ، خوش رہو ۔ میر نے اس کی پیشانی چوم کر دعا دی ۔
“”””””””””””※””””””””””””
آپا کس سوچ میں گم بیٹھی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب خیریت ہے ناں ؟
شاہ کا آپریشن تھا ۔وہ اب کیسا ہے ؟ ثمینہ لیونگ روم میں آئیں تو رخسانہ بیگم کو سوچوں میں گم پایا ۔
ثمینہ ! اچھا ہوا تم خود آگئیں،میں بس تمھارے ہی پاس آنے والی تھی۔
رخسانہ بیگم نے ثمینہ کا ہاتھ دبایا ۔
کیوں آپا آپ کوئی خاص بات کرنی تھی ؟ ثمینہ معمول کے لہجے میں بولیں ۔
پہلے یہ بتاؤ ، عروش کہاں ہے ؟ رخسانہ بیگم کا انداز رازدارانہ تھا ۔
وہ کمرے میں ہے ، میں اسی کے پاس سے آرہی ہوں ۔ سوچتی ہوں اس کو اپنے روم میں شفٹ کرلوں ۔ اب اس کی ڈلیوری میں ذیادہ ٹائم نہیں ہے ۔
ہاں ٹھیک ہے ۔ اب میری بات سنو ، مکتوم شاہ کا فون آیا تھا ۔شاہ کا آپریشن کامیاب ہوگیا ہے ۔وہ ہوش میں بھی آگیا ہے ۔ مکتوم نے اس سے بھی بات کراوائی تھی مگر اس نے ایک اور خبر سنائی ہے۔تمھیں تو سن کر بہت خوشی ہوگی مگر میں تو سن کرحیران رہ گئی ہوں ۔ رخسانہ بیگم کا انداز سرگوشی لئے ہوئے تھا ۔
اچھا ایسی کیا خبر سائی ہے مجھے بھی بتائیں ۔ ثمینہ بیگم کو تجسس ہوا ۔
رخسانہ بیگم نے ان کے قریب ہوتے ہوئے دھیرے دھیرے پوری کہانی ان کے گوش گزار کردی ۔
آپا یہ تو واقعی خوشی کی خبر ہے ۔ میرے تیمور کی ایک اور نشانی اس دنیا میں ذندہ سلامت موجود تھی لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ فائزہ اتنی ذلیل نکلی ۔ آخر اسے یہ سب کر کے کیا حاصل ہوا ۔ ہماری بچی صرف اس کی وجہ سے غیروں میں پلی ۔ ثمینہ بیگم کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔
لالچ انسان سے سب کچھ کروادیتا ہے اور یہ تو دنیا جانتی ہے کہ فائزہ میر سجاول کے لئے کتنی پاگل ہوجاتی ہے ۔
خیر اس بات کو چھوڑو،اب یہ بتاؤ کہ نگین عروش سے ملنا چاہتی ہے ، عروش کو کیا بتاؤ گی ۔وہ تو کچھ بھی نہیں جانتی ۔ رخسانہ بیگم پریشان ہو کر بولیں ۔
اب تو سب کچھ بتانا پڑے گا ۔ ویسے بھی ایک نا ایک دن تو یہ راز کھولنا ہی تھامگر میں جب بھی اسکوبتانے کاسوچتی تھی توپریشان ہوجاتی تھی کہ اس کا ردعمل بہت شدید ہوگا ۔وہ ٹوٹ جائے گی مگر اب شاید اس کا رد عمل مختلف ہو کیونکہ اس کو حقیقت جاننے کے ساتھ بہن کا انمول رشتہ بھی ملے گا ۔ثمینہ بیگم قدرے پر سکون تھیں ۔
“”””””””””※””””””””””
عروش بیٹا جاگ رہی ہو ؟ ثمینہ نے اس کے چہرے پر جھک کر اس کی پیشانی سے بال سمیٹے ۔
نہیں اماں ،جاگ رہی ہوں ۔ آپ تو خالہ جان کے پاس گئی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔واپس آگئیں ۔ عروش اٹھ کر بیٹھ گئی ۔
ہاں گئی تو تھی مگر انہوں نے بات ہی کچھ ایسی کی واپس آنا پڑا ۔ثمینہ بیگم معنی خیزی سے بولیں ۔
میرے پاس تمھارے لئے دو خبریں ہیں ۔ایک اچھی ہے اور ایک شاید کچھ بری ہے مگر بری اتنی بری نہیں جتنی اچھی خبر تمھارے لئے باعثِ مسرت ہوگی ۔ ثمینہ بیگم نے تہمید باندھی ۔
اماں شاہ تو ٹھیک ہیں ناں ؟ عروش نے سینے پر ہاتھ رکھا ۔
ارے وہ بلکل ٹھیک ہے ۔ اب تمھیں میری بات صبر اور حوصلے سے سننا ہوگی لیکن پہلے مجھ سے وعدہ کرو تم سن کر بوکھلاؤ گی نہیں بلکہ میری مجبوریوں کو سمجھو گی ۔
اماں بتا بھی دیں میرا دل بیٹھا جارہا ہے ۔عروش کی پیشانی عرق آلود ہو نے لگی ۔
ثمینہ بیگم نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا اور شروع سے آخر تک کی کہانی سنانا شروع کی ۔
عروش کی زبان گنگ ہوگئی تھی ، اس نے ثمینہ کو کہیں بھی ٹوکنے کی کوشش نہیں کی مگر آخر میں اس کا ضبط جواب دے گیا اور وہ ثمینہ کے شامے سے سر ٹکا کر پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔
اماں ! ہم بہنیں کتنی بد نصیب ہیں ، پیدا ہونے سے پہلے ہی باپ چلاگیا اور پیدا ہوتے ہی ماں کو بھی کھودیا ۔میں تو پھر بھی آپ کی اور بابا کی شفقت میں پلی مگر نگین تو حویلی والوں کی ٹھوکروں میں رہی ۔
عروش دکھ سے کہہ رہی تھی ۔
تم دونوں بہنیں بہت خوش نصیب ہو کہ اتنی کڑی آزمائش کے باوجود بھی اپنوں کے سائے میں رہیں ۔ نگین کو بھی جنہوں نے گود لیا وہ بے اولاد تھے ۔ انہوں نے نگین کو اپنی سگی اولاد سے بڑھ کر چاہا کچھ عرصہ ہوا ہے ان دونوں کی موت ہوگئی اور اب نگین کی حقیقت سب کو پتا چل گئی ہے تو وہ حویلی میں پورے حق سے رہے گی ۔ثمینہ بیگم نے محبت سے اس کی پشت سہلا ئی ۔
اماں ! میں نگین سے فوراً ملنا چاہتی ہوں ۔ عروش نے بے تابی سے کہا ۔
بیٹا ابھی نہیں ، بہت رات ہوچکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔کل ہم سب وہاں چلیں گے ۔
مجھے اس سے ابھی ملنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ پلیز ! سمجھنے کی کوشش کریں ۔
ابھی جانا صحیح نہیں ہے ۔ ان کے گھر کا ماحول خاصا گرم ہے ۔فائزہ کے کرتوت کھلنے پر جعفر بھائی نے بہت ہنگامہ کیا ہے ۔ ہمارا جانا بے وقت ہو گا ۔ رات کی تو بات ہے کل مل لینا بلکہ ہم کچھ دنوں کے لئے اسے یہاں لے آئیں گے ۔ ثمینہ بیگم اسے سمجھا رہی تھیں ۔
“”””””””””””※”””””””””””
ڈیڈی ! آپ نے مجھے بلوایا ہے ؟ میر سبطین دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا ۔
ہاں ، ادھر آؤ ۔ یہاں میرے پاس آکر بیٹھو ۔ میر جعفر نے گلاسز اتار کر اپنےبرابر میں بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔میر سبطین ان کے برابر میں آکر بیٹھ گیا ۔
آج میں کوئی تہمید باندھنے والا نہیں ہوں ۔ سیدھی بات کررہاہوں ، مجھے سیدھا اور فوراً جواب چاہئے ۔
اب تک تم نے اپنے لئے کوئی لڑکی پسند نہیں کی ،اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ تم کسی میں بھی انٹریسٹڈ نہیں ہو ۔ میں پھر بھی تم سے آخری بار پوچھ رہا ہوں کہ اگر کوئی تمھاری نظر میں ہے تو بتا دو ورنہ میں فیصلہ کرنے لگا ہوں ۔ میر غضنفر نے دوٹوک بات کی ۔ میر سبطین کی یادوں میں عروش کا چہرہ لہرایا ۔ اس کے لبوں پر زخمی مسکراہٹ مچل کر دم توڑ گئی ۔ میر سبطین نے سر جھٹکا ۔
آپ جانتے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے اور اب جو بھی فیصلہ کریں گے مجھے منظور ہوگا ۔ وہ سنجیدگی سے بولا ۔
دیٹس گڈ ! اس کا مطلب ہے تم شادی کے لئے راضی ہو ۔
جی ۔۔۔ میر سبطین مختصراً بولا ۔
میں نے سوچا ہے بلکہ یوں کہہ لو میں نگین سے تمھاری شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ یہ میری خواہش بھی ہے اور وقت کا تقاضا بھی یہی ہے ۔وہ بچی پوری ذندگی اپنے اصل سے جدا رہی ہے اب اس کا حق بنتا ہے کہ اسے اس کے حصے کی خوشیاں ملیں اگر اس کی شادی کہیں اور کی گئی تو مجھے بے سکونی رہے گی ۔ میرے اس فیصلے سے شاید میری بہن کی روح کو سکون ملے ۔ میر غضنفر کی آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے۔
مگر وہ تو بچی ہے ، اس کا اور میرا کوئی میچ نہیں ہے ۔ میر سبطین نے نفی میں سر ہلایا ۔
ابھی تو تم نے کہا تھا کہ تمھیں میرا ہر فیصلہ منظور ہوگا اور اب تم خود ہی اپنی بات سے مکر رہے ہو ۔ میر غضنفر نے اسے بری طرح گھورا۔
سوری ، میرا وہ مطلب نہیں تھا۔میر سبطین گڑبڑا گیا ۔
تو بس پھر میں بہت جلد شادی کی ڈیٹ فائنل کرنے والا ہوں ۔ تم بھی اپنی تیاری رکھو ۔ رہ گئی بات عمر کی تو وہ کوئی معنی نہیں رکھتی ۔
وہ رانیہ سے دو تین سال چھوٹی ہوگی ۔زرتاج کی بھی اتنی ہی عمر ہے مگر خوش ہے نا وہ میر سجاول کے ساتھ ۔تمھیں بھی عمر کے اس فرق کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تم بھی نگین کے ساتھ خوش رہو گے ۔ میر غضنفر نے اس کی کمر پر دھپ لگائی ۔
جی بہتر ، اور کوئی حکم ؟ میر سبطین اٹھتے ہوئے بولا ۔
نہیں ، جاؤ اب آرام کرو ۔ میر غضنفر دوبارہ اخبار کی طرف متوجہ ہوگئے ۔
میر سبطین سر ہلا کر باہر نکل آیا ، وہ سوچوں میں گم سیڑھیاں چڑھ رہا تھا ۔
سبطین بھائی !آپ چائے پئیں گے ، میں اپنے اور رانیہ کے لئے بنانے لگی ہوں ؟ نگین جو سیڑھیاں اتر رہی تھی ، میر سبطین کے سامنے رک کر پوچھنے لگی مگر منہ سے سبطین بھائی نکل جانے پر دل ہی دل میں جزبز ہوگئی کیونکہ میر سبطین کو فیصلہ سنانے سے پہلے میر غضنفر نے نگین سے رضامندی لینا ضروری سمجھا تھا ۔
ہاں ، اگر بنا رہی ہو تو میرے لئے بھی بنا لینا ، چائے کی کافی طلب ہورہی تھی اور تم دونوں اب تک سوئی کیوں نہیں ہو ۔ٹائم دیکھا ہے؟
میر سبطین نے وقت کا اندازہ کرتے ہوئے احساس دلانا ضروری سمجھا۔
ہم دونوں مووی دیکھ رہے تھے ۔ ٹائم گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا ۔ وہ میر سبطین کے غصے سے خائف ہوگئی ۔
چائے پی کر فوراً سوجانا ، دیر رات تک جاگنا ٹھیک نہیں ہوتا ۔ میر سبطین نے تنبیہہ کی ۔
جی اچھا ۔ نگین مختصراً کہہ کر دھیرے سے مسکرائی اور سر جھکا کر سیڑھیاں اتر گئی ۔
پہلی بار میر سبطین نے اسے کسی اور نگاہ سے دیکھا تھا ۔اس کے گال میں پڑنے والے ڈمپل پر میر سبطین نے بیٹ مس کی ۔
نگین ایک بہترین لائف پارٹنر ثابت ہو سکتی تھی ۔وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ خوب سیرت اور بہترین کردار کی مالک تھی ۔ اسے میر غضنفر کا فیصلہ بہت خوب لگا ۔میر سبطین مطمئین سا ہوکر مسکرا دیا ۔
جاری ہے
