59.5K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

معظم شاہ نے مورچہ سنبھال تو لیا تھا مگر اس کے اندر میر سجاول کو شکست دینے والا جوش و جذبہ نہیں تھا جو اس کی ذات کا مخصوص حصہ تھا ۔
پل بھر میں دشمن کو زیر کرنے والا معظم شاہ کہیں کھو گیا تھا۔اس وقت اس کا دیھان بیڈروم میں بے خبر سوئی ہوئی ہوئی عروش کی طرف تھا ۔
میر سجاول کے مورچے سے مسلسل فائرنگ ہورہی تھی ۔شاہ پور سے بھی بھرپور جوابی کاروائی جاری تھی ۔پورا گاؤں گولیوں کی آوازوں سے گونج رہا تھا ۔
برسوں پرانی خونی رات اپنے اندر تمام تر منحوسیت لئے پھر اس گاؤں پر نمودار ہوگئی تھی ۔
گاؤں کے لوگوں میں شدید خوف و حراس پھیلا ہوا تھا ۔۔۔۔۔کچھ لوگ ڈر کے مارے قرآنی آیات کا ورد کر رہے تھے ۔جن کے بھائی بیٹے ، شوہر اس خونی کھیل میں ملوث تھے۔۔۔۔۔۔۔ وہ رو رو کر ان کی خیریت کی دعائیں مانگ رہے تھے ۔
زرتاج نے گولیوں کی آواز سن کر سمیٹی ہوئی جائے نماز پھر سے بچھائی اور دعا کے لئے ہاتھ بلند کر لئے ۔ابھی بھی وہ اپنے میر سائیں کی سلامتی کے لئے دعا گو تھی ۔ دل میں اس کے لئے شدید نفرت سہی مگر زرتاج کو اس کی ذندگی اب بھی عزیز تھی ۔
فائرنگ کی زوردار آوازوں پر عروش بدحواس سی ہو کر کمرے سے باہر نکلی ۔سنبھل سنبھل کر سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ لاؤنج میں پہنچی تو تقریباً پورا خاندان ہی وہاں موجود تھا ۔
عروش کے اس طرح چلے آنے پر رخسانہ بیگم اسے تھامنے کے لئے آنکھیں صاف کرتی ہوئی اس کی جانب بڑھیں ۔
خالہ جان ! یہ سب کیا ہورہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی فائرنگ کیوں ہورہی ہے اور شاہ کہاں ہیں ؟ وہ تو کمرے میں ہی موجود تھے مگر اب وہاں نہیں ہیں ۔عروش نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پے درپے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی ۔
عروش ! تم اپنے کمرے میں جاؤ ، تمھاری حالت ایسی نہیں ہے کہ تم خود کو ان معاملات میں الجھا کر پریشان ہو ۔
انشاء اللہ شاہ واپس آجائے گا ۔مجھے اللہ پر پورا بھروسا ہے ۔وہ نم لہجے میں بول رہی تھیں ۔
اماں ! مجھے کچھ تو بتائیں ،یہ سب کیا ہورہا ہے ۔۔۔۔۔گولیوں کی آوازیں کیوں آرہی ہیں ۔۔۔۔۔۔کیا شاہ وہاں پر موجود ہیں ؟
بالآخر ثمینہ بیگم نے اسے نواز کی بیٹی کے اغوا سے لے کر زرتاج کے ساتھ ہونے والی ذیادتی کی ساری تفصیل کہہ سنائی ۔
اماں یہ سب کب بند ہوگا ۔شاہ کو تو کچھ نہیں ہوگا ناں ۔۔۔۔؟عروش اپنا سر تھا مے صوفے پر ہی ڈھے گئی ۔
بھابھی ! سب ٹھیک ہوجائے گا ۔۔۔۔۔آپ اللہ سائیں سے دعا کریں ۔وہ اسباب بنانے والا ہے ۔
میں کچھ کرتا ہوں ۔۔۔۔۔اس بار پہلے کی طرح تباہی نہیں ہونے دوں گا ۔اس سو کالڈ دشمنی میں پہلے ہی بہت سی ذندگیاں برباد ہو چکی ہیں مزید کسی بے گناہ کو اس ظلم کا نشانہ نہیں بننے دوں گا۔مکتوم شاہ نے پر عزم لہجے میں کہتے ہوئے باہر کی جانب قدم بڑھائے ۔
رک جاؤ ، مکتوم شاہ ! کم از کم تم تو باہر مت جاؤ ۔۔۔۔۔میرا دل بیٹھا جارہا ۔شاہ تو اپنی من مانی کر ہی رہا ہے مگر اب تم تو میری بات مانو ۔ رخسانہ بیگم اس کی منت کر رہی تھیں ۔
اماں ! آپ میری طرف سے مایوس مت ہوں ، میں اس محاظ میں حصہ لینے نہیں جارہا ہوں ۔۔۔۔۔بس ان لوگوں کو تباہی کی طرف جانے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔”
آپ مجھ پر بھروسا رکھیں ۔۔۔۔میں کوئی خون خرابہ نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔نہ اِس طرف اور نہ اُس طرف ۔۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے کہتے ہو لمبے لمبے ڈگ بھرتا نکلتا چلا گیا ۔
عروش بے بسی سے اسے جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔کسی انجانے خوف سے اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا ۔
ثمینہ بیگم نے اس کے زرد پڑتے چہرے پر نظر ڈالی تو اٹھ کر اس کے پاس آگئیں اور اسے خود سے لگا لیا ۔
عروش ! فکر مت کرو ۔سب ٹھیک ہوجائے گا ۔۔۔۔۔۔مکتوم کوشش کر رہا ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔انشاءاللہ وہ اپنی کوشش میں کامیاب ضرور ہوگا ۔ثمینہ بیگم نے اسے تھپکتے ہوئے تسلی دی ۔
اماں ! شاہ نے جانے سے پہلے مجھے بتایا بھی نہیں ۔۔۔۔۔اگر انہیں کچھ ہوگیا تو ہم پھر سے بے آسرا ہوجا ئیں گے ۔وہ ماں کے سینی میں سر چھپائے بولی ۔
بیٹا ! مایوس مت ہو ۔۔۔۔۔۔اللہ سے اچھے کی امید رکھوگی تو سب اچھا ہی ہوگا ۔یمیں اللہ کی پاک ذات پر بھروسہ رکھنا چاہئے ۔وہ اپنے بندوں پر ان کی برداشت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا ۔
دعا کرو ، دعا میں بہت طاقت ہے اور اس مشکل وقت میں شاہ کو دعاؤں کی سخت ضرورت ہے ۔ثمینہ بیگم غیر مرئی نقطے پر نظر جمائے دھیمے لہجے میں اسے سمجھا رہی تھیں ۔
ان کی آنکھوں میں بیس سال پہلے کا منظر اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ روشن ہوگیا تھا ۔

گولیوں کی آواز پر زرتاج آنکھیں بند کئے ،سینے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی تھی ۔
آنکھوں سے پانی روانی سے بہہ رہا تھا ۔
وہ جانتی تھی ،آج میر سجاول اپنی بچی کچھی وحشت بھی مٹا کر رہے گا
مگر اس خطرناک تصادم میں خود اس کی جان بھی جا سکتی ہے یہ خوف اس کے جسم سے خون نچوڑے لے رہا تھا۔اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہو رہی تھی ۔
اس کے بھرے بھرے گلابی لب ورد میں مسلسل ہل رہے تھے ۔دل تھا کہ میر سجاول جیسے عزت کے لٹیرے کی سلامتی کے لئے مچلے جارہا تھا ۔
اللہ سائیں ! میں نے اپنے گنہگار کی ساری خطائیں معاف کردیں ،آپ بھی اسے معاف فرمادیں ۔
میرسائیں کی محبت میری رگوں میں سرائیت کر چکی ہے،انہیں کچھ ہوگیا تو میں بھی مر جاؤں گی ۔
میں پہلے سے ہی آپ کی گناہ گار بندی ہوں ۔۔۔۔۔۔میری دنیا مٹی میں مل چکی ہے ۔۔۔۔۔خودکشی جیسے حرام فعل سے گزرنے کے بعد میری آخرت بھی مٹی میں مل جائیگی ۔
اللہ سائیں ! مجھے اپنے سب سے ناپسندیدہ عمل کو اپنانے سے بچالیں،
آپ نے میری قسمت میں میر سائیں کی جدائی لکھ دی ہے مگر مجھے اپنی رحمت کے سائے سے محروم مت کریں ۔
میں ان کےبغیر تو جی سکتی ہوں مگران کی موت کے ساتھ میری موت
بھی یقینی ہے ۔ہم دونوں گناہ گاروں پر رحم فرما دیں ۔
میرے میر سائیں کو بچالیں ، ان کے دل میں رحم ڈال دیں ۔۔۔۔اس خون خرابے کو روک دیں ۔وہ دونوں ہاتھ آپس میں جوڑے دل ہی دل رب سے مخاطب تھی ۔
*
میر سائیں ! کچھ تو کریں ۔۔۔۔۔ میرے بیٹے کو بچالیں ۔۔۔۔۔وہ جذبات میں اندھا ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ وہ یہ سب کسی اور کے لئے نہیں اسی لڑکی زرتاج کے لئے کررہا ہے ۔
آپ اس کو واپس لے آئیں ۔۔۔۔زرتاج کی خاطر وہ اپنی جان قربان کرنے چلا ہے ۔آج وہ معظم شاہ کو نہیں چھوڑے گا اور بدلے میں معظم شاہ اس کے ساتھ وہی کرے گا جو اسد شاہ نے میر پرویز اور بھائی تیمور کے ساتھ کیا تھا ۔
آپ کو اللہ کا واسطہ ہے کچھ تو کیجئے ۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ میر سائیں پر کوئی آفت آئے ،اسے روک لیں ۔کیا آپ یوں ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے ۔وہ میر جعفر کے سامنے زاروقطار رو رہی تھیں ۔
اگر آپ نے کچھ نہیں کیا تو میں خود وہاں چلی جاؤں گی ۔فائزہ بیگم بلآخر چلا اٹھیں ۔
ان کی ہمت جواب دے گئی تھی۔ ان کا بیٹا موت کے منہ میں جارہا تھا اور سب خاموش تماشائی بنے بیٹھے تھے ،یہ بات ان سے برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔
بند کرو اپنی بکواس ۔۔۔۔۔ایک تو یہاں ایک مصیبت کھڑی ہے اوپر سے تم نے بول بول کر میرا دماغ خراب کر دیا ہے ۔میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میں کیا کروں ۔”
اسے کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے مجھ سے پوچھنا تو چاہئے تھا ۔خود ہی بات بے بات بکھیڑے کھڑے کردیتا ہے ۔میر جعفر نے جھنجھلاتے ہوئے فائزہ بیگم کی طبیعت صاف کی ۔درحقیقت وہ خود بھی بے حد خوف ذدہ تھے ۔
میر جعفر ! یہ تمھاری دی ہوئی ڈھیل اور بے جا آزادی کا نتیجہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔تم نے خود ہی تو اسے اتنا خود مختار اور ضدی بنایا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب وہ تمھیں بھی اس قابل نہیں سمجھتا کہ تم سے صلاح مشورہ کرنا ضروری سمجھے ۔میر غضنفر ان دونوں کے بیچ میں بول پڑے ۔
اولاد کو اتنا بھی سر پر نہیں چڑھا نا چاہئے کہ وہ آپ کو ہی لے ڈوبے اگر خدا نخواستہ آج کوئی بڑا نقصان ہوجاتا ہے تو اس کے زمیدار تم دونوں ہی ہوگے ۔میر غضنفر بنا لگی لپٹی انہیں آئینہ دکھا رہے تھے ۔
میر جعفر سر جھکائے بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔فائزہ بیگم بھی آج بیٹے کے خلاف بولے جانے پر ہمیشہ کی طرح تلملائی نہیں تھیں نا ہی پلٹ کر کوئی جواب دیا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ خاموش سی ہو کر رہ گئی تھیں ۔
میر سبطین پاس پڑے صوفے پر بیٹھا دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسائے ہوئے تھا ۔معاً اس کی سیل فون پر کال آئی اسکرین پر نظر دوڑاتے ہی وہ اٹھ کر لیونگ روم سے باہر نکل گیا ۔

مکتوم شاہ تم کہاں ہو ۔۔۔؟ میر سبطین نے کال رسیو کرتے ہی سوال کیا ۔
میں حویلی میں ہی موجود ہوں ۔مکتوم شاہ کی آواز ابھری ۔
ہمیں مورچوں کی طرف جانا چاہئے اور ان دونوں کو سمجھا بجھا کر اس ظلم کو روکنا چاہئے ۔میر سبطین فکر مندی سے گویا تھا ۔
تمھیں کیا لگتا ہے ۔۔۔۔۔ہمارے سمجھانے سے وہ رک جائیں گے۔
وہ دونوں سمجھنے سمجھانے کے دور سے بہت آگے نکل چکے ہیں ۔
اب واحد حل یہی رہ جاتا ہے کہ ہم پولیس کی مدد لیں اور انہیں مزید خون خرابے سے روکیں ۔اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ۔
مکتوم شاہ نے مدبرانہ کہا ۔
خود سے تو پولیس نے کوئی ایکشن لینا نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔کوئی بھی ان دونوں کے معاملے میں ہاتھ ڈالنے اور گاؤں میں قدم رکھنے کی کوشش نہیں کرے گا ۔میر سبطین سوچتے ہوئے بولا ۔
اس کے لئے میں اپنی چند خاص دوستوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جو پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ۔ان کو ساتھ شامل کر کے اس سنگین مسئلے سے باآسانی نمٹا جا سکتا ہے ۔مکتوم شاہ نے
اسے لائحہ عمل سے آگاہ کیا ۔
یہ طریقہ زبردست رہے گا ۔تم ان سے رابطہ کرو پھر ہم سب ساتھ ہی وہاں پہنچیں گے ۔جعفر انکل وہاں پہنچنے کے لئے بے صبر ہورہے ہیں ۔ تب تک میں ان کو کسی بھی طرح روکتا ہوں ۔میر سبطین اس کے طیقے کار سے مکمل متفق تھا ۔
اوکے ۔۔۔۔۔مکتوم شاہ کال ڈسکنیکٹ کرتے ہی پولیس افسران سے رابطہ کرنے میں مصروف ہوگیا تھا ۔
اس نے کئی جگہوں پر تفصیلاً گفتگو کرنے کے بعد مطمئین سا ہوکر ایک گہری سانس فضا میں خارج کی ۔
※*
میر سجاول اور اس کے کارندے بغیر تعطل کے اندھا دھند فائرنگ کر رہے تھے ۔
چونکہ اس نے پوری پلاننگ سے اٹیک کیا تھا ،اس لئے وہ کسی بھی قسم کی بدحواسی کا شکار نہیں تھا ۔جبکہ معظم شاہ جو پہلے ہی نادم اور شکست خوردہ تھا ،اس اچانک حملے کے لئے ہر گز تیار نہیں تھا ۔
یہی وجہ تھی کہ کبھی اس کا نشانہ چوک رہا تو کبھی اس کی ذہنی رو بھٹک جاتی اور وہ کوئی نہ کوئی غلطی کر بیٹھتا ۔نشے کی ذیادتی بھی اسے کمزور کر رہی تھی ۔
اس کا دل و دماغ عروش اور اپنے ہونے والے بچے میں الجھا ہوا تھا اس وقت اسے میر سجاول کو مات دینے سے ذیادہ ان دونوں کی فکر ستا رہی تھی ،مگر پھر بھی اپنی جان میں وہ بھر پور مقابلہ کر رہا تھا ۔
دونوں طرف سے ذبردست مقابلہ جاری تھا اور اب تو کافی خطرناک شدت اختیار کر گیا تھا ۔
میر سجاول کے پاس بندے بہت ذیادہ ہونے کی وجہ سے وہ لوگ معظم شاہ پر بھاری پڑ رہے تھے ۔
معظم شاہ بہت ذیادہ زخمی ہو چکا تھا اس کے باوجود بھی وہ ڈٹا ہوا تھا مگر اب اس کی ہمت جواب دے گئی تھی ۔اسے ذیادہ گولیاں لگ چکی تھیں اور تواترسےخون بہنے کی وجہ سے اب نقاہت طاری ہونے لگی تھی۔
جبکہ میر سجاول نے اپنے بچاؤ کا زبردست بندوبست کیا ہوا تھا اس کے باوجود بھی ایک یا دو گولیاں اسے چھو کر گزر گئیں تھیں مگر ایک گولی اس کے بازو میں بھی لگی تھی ۔
میر سجاول کی گن سے نکلنے والی گولی شاہ کے سر سے گزری اور وہ وہیں بے جان ہوکر گرپڑا ۔ اس کے کارندے بھی ہاتھ روک کر اس کی طرف بھاگے تھے ۔
سامنے یکدم خاموشی چھاجانے پر میر سجاول نے بھی زرا دم لیا ۔۔۔۔۔۔تکلیف کی شدت سے اس کا سفید شفاف چہرہ سرخ پڑ گیا تھا ،اس نے گردن موڑ کر ہاتھ سے اپنا بایاں بازو پکڑا اور زخم کا جائزہ لیا تبھی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ۔
پولیس سائرن پر میر بری طرح چونک پڑا ۔
پولیس نے اسپیکر میں دونوں گروپس کو ہتھیار ڈال دینے اور گرفتاری دینے کی وارننگ دی ۔
ساجد ! پولیس یہاں کس کی اجازت سے پہنچی ہے ۔ وہ بلند آواز میں دہاڑا ۔
میر سائیں ! مجھے کوئی خبر نہیں ،میں تو آپ کے ہی ساتھ ہوں ۔وہ منمایا۔
یقیناً معظم شاہ نے گھبرا کر پولیس کی مدد لی ہے ۔آپ نے دیکھا نہیں اس کی طرف سناٹا بھی چھا گیا ۔اس کی کوئی تیاری نہیں تھی اور اس کے پاس بندے بھی کم تھے ۔اس نے اندھیرے میں تیر چلایا ۔
بکواس مت کرو،وہ ایسا ہر گز نہیں کرے گا ۔میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں ۔میر نے اسے جھڑکا ۔
میر سجاول ! معظم شاہ ! اپنے آدمیوں سمیت باہر آجائیں ورنہ مجھے مجبوراً کاروائی کرنی پڑے گی ۔
آپ دونوں جو کر رہے ہیں وہ سراسر غیر قانونی ہے ۔پولیس افسر نے ان دونوں کو ایک ساتھ مخاطب کیا ۔
میر سجاول نے چند لمحے سوچا پھر گن ہاتھ میں تھامے مورچے سے نیچے اتر آیا ۔وہ گیٹ کھول کر باہر نکل آیا تھا ۔
آپ نے کس کی اجازت سے میرے علاقے میں قدم رکھا ہے ۔اس نے بے خوفی سے آفیسر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں ۔
ہمیں اپنی ڈیوٹی کرنے کے لئے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی بحرحال ہمیں کمپلین کی گئی تھی ۔اس لئے ہم نے یہ اسٹیپ لیا ہے ۔پولیس آفیسر نے اس کی پوزیشن کو مدنظر رکھتے ہوئے نرمی سے جواب دیا ۔
میر سبطین اور مکتوم شاہ کی مشترکہ کوششوں سے پولیس نے کاروائی کرنے کی ہمت کی تھی وگرنہ وہ اس معاملے میں پڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔
میر سجاول ! تم ٹھیک تو ہو نا ۔۔۔۔یہ کیا ہو گیا ،کتنا خون بہہ رہا ہے،
میں تمھیں کھو نا نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔۔یہ بکھیڑا کھڑا کرنے سے پہلے تم کماز کم ایک بار مجھ سے مشورہ تو کر لیتے ۔وہ گلوگیر آواز میں بولے ۔
میر جعفر بھی وہاں پہنچ چکے تھے ،گاڑی میں سے ہی انہوں نے میر کا زخمی بازو دیکھ لیا تھا ۔قریب پہنچتے ہی اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر رو پڑے ۔
کچھ نہیں ہوا ہے مجھے ،ٹھیک ہوں میں ،یہ معمولی سا زخم ہے کچھ دنوں میں ٹھیک ہوجائیگا ۔۔۔۔۔آپ بلاوجہ پریشان ہوجاتے ہیں ۔اس نے زخم کی طرف دیکھتے ہوئے لاپرواہی سے کہا ۔
پولیس آفیسر اب جگہ کا جائزہ لے رہا تھا تبھی کچھ سپاہی اور معظم شاہ کے آدمی اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈال رہے تھے ۔
شاہ ! آنکھیں کھولو ، مکتوم شاہ یہ آنکھیں کیوں نہیں کھول رہا ۔تم دیکھو اسے ۔۔۔۔جگاؤ ۔ صفدر علی شاہ اسے جھنجھوڑ رہے تھے ۔مکتوم شاہ اور وہ ایک ساتھ وہاں پہنچے تھے ۔
تم تو ڈاکٹر ہو ۔۔۔۔تم اس کا چیک اپ کیوں نہیں کرتے ۔۔۔۔۔چیک کرو ، مجھے بتاؤ ۔۔۔۔یہ آنکھیں کیوں نہیں کھول رہا ۔صفدر شاہ پر دیوانگی طاری ہو رہی تھی ۔مکتوم شاہ نظریں چرا گیا ۔
میں لعنت بھیجتا ہوں اس دشمنی پر ۔۔۔۔۔اس دشمنی کو یہیں ختم کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔بس مجھے میرا بیٹا واپس چاہئے ۔
مکتوم شاہ ! اس سے بولو ، آنکھیں کھولے ۔۔۔۔بس ایک بار مجھ سے بات کرے ۔وہ بے بسی سے ہاتھ جوڑ کر بولے ۔
مکتوم شاہ کی آنکھوں سے قطرے گرنے لگے ،اس نے لب بھینچ کر صفدر شاہ کو گلے سے لگا لیا ۔
جاری ہے