59.7K
43

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

(ماضی)
زینب کی طبیعت کچھ دنوں سے خراب تھی ۔بخار اترنے کا نام نہیں
لے رہا تھا ۔شہر سے ڈاکٹر کو بلوایا گیا ، اس نے چیک اپ کے بعد
بتایا کہ اس کو ٹائیفائیڈ کی شکایت ہے ۔مکمل صحتیاب ہونے میں دوماہ
لگیں گے ۔ شادی کی تیاریاں چونکہ آخری مراحل میں تھیں اس لئے
میر ظفر علی نے فیصلہ کیا کہ تیمور اور سندس کی شادی میں تاخیر نہیں
کی جائے ۔زینب کی رخصتی وہ اس کی صحتیابی کے بعد کروا لیں گے۔
سندس نے اپنے باپ بھائیوں کی لاج تو رکھ لی تھی مگر اپنے دل کی دنیا
برباد کر لی تھی ۔بابا سائیں کے فیصلے پر اس نے چپ چاپ سر جھکا لیا
تھا ۔
تیمور غزینی پوری شان و شوکت سے سندس کو بیاہنے آیا تھا ۔میر ظفر
نے بھرپور طریقے سے اسکا استقبال کیا تھا ۔رخصتی کے وقت سندس
مہر بانو سے لپٹ کر بلک بلک کر روئی ۔
مہربانو بھی اس کے دل کے ٹوٹنے اور خوابوں کے بکھرنے پر بہت افسردہ تھیں مگر وہ کچھ نہیں کرسکتی تھیں ۔ اگر اس موقع پر کوئی خوش تھا تو وہ فائزہ تھی جو مطمئین تھی کہ اگر سندس کی شادی اس کے بھائی سے نہیں ہوئی تو اسد شاہ سے بھی نہیں ہوسکی ۔
اسد شاہ کی وجاہت اس کی دولت پر بھاری تھی ۔ اس پر من چاہا محبوب ،سندس اگر اس کی دلہن بنتی تو فائزہ سے بہت اوپر چلی جاتی ۔
زینب کے نکاح میں وہ سندس اور اسد شاہ کی آنکھوں میں چاہت کے رنگ دیکھ چکی تھی ۔
اسد شاہ کی نگاہوں میں سندس کے لئے وارفتگی اور دیوانگی فائزہ کو جلا کر رکھ گئی تھی ۔ وہ ہر گز یہ نہیں چاہتی تھی ان دونوں کے دل کی خواہش پوری ہو۔
اسد شاہ کا رتبہ کتنا اونچا تھا یہ پورا گاؤں جانتا تھا ۔سندس اس کی من
چاہی دلہن بن جاتی تو فائزہ ذندگی بھر اس کی برابری نہیں کر سکتی تھی۔
سندس رخصت ہونے کے بعد غزینی ہاؤس پہنچ چکی تھی اور تیمور غزینی کے شاندار کمرے میں اس کی دلہن بنا کر بٹھادی گئی ۔کمرے کی سیٹنگ سے لے کر سیج کی سجاوٹ تک اسے کسی چیز میں دلچسپی نہیں تھی ۔نا ہی کسی کی آمد کا انتظار تھا ۔ثمینہ اور رخسانہ اسے جس پوزیشن میں بیٹھا چھوڑ گئیں تھیں وہ اب تک اسی طرح بیٹھی ہوئی تھی ۔
سر جھکائے وہ صرف اسد شاہ کی یاد میں آنسو بھارہی تھی۔ جس نے آخری باراسے دیکھنے کے حق سے بھی محروم رکھا تھا۔ شادی کے ہر تقریب میں اس کی نگاہیں اسد شاہ کو ہی تلاشتی رہیں مگر وہ کہیں نہیں تھا ۔اس کی لاتعلقی سندس کے دل کو چیر رہی تھی ۔
اسلام و علیکم ! تیمور غزینی دھیرے سے دستک دے کر اندر آگیا ۔وہ اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔پھر ہاتھ بڑھا کر اس کا گھونگھٹ پلٹ دیا ۔
آج تو لگتا ہے چاند آسمان سے اتر کر میرے بیڈ پر براجمان ہے ۔
تیمور غزینی نے نرمی سے اس کی ٹھوڑی کو چھوا ۔سندس کے من میں
کوئی ہلچل نہیں مچی ،اس کے جذبات برف کی طرح سرد تھے ۔
سندس ! میں آج اتنا خوش ہوں کہ اپنی خوشی شاید لفظوں میں بیان بھی نا کر سکوں ۔تمھیں پانے کی دعائیں میں نے وہاں لندن میں بھی
صبح و شام مانگی تھیں ۔ میرے رب نے میری دعائیں رائیگاں نہیں ہونے دیں اور دیکھو ! آج تم مکمل میری دسترس میں ہو ۔ سندس
نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر اس کے خوشی سے جھلملاتے چہرے کی
طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کی ۔
تیمور غزینی کی جسارتیں بڑھتی گئیں ،وہ مخمور سی آواز میں رات بھر اس کی سماعت میں اپنی بے پایاں خوشی ، اس کے حسن کے قصیدے اور شوخ جملے انڈیلتے رہا مگر سندس کے ہونٹوں پر پڑے قفل نا ٹوٹے
وہ بے بس سی آنسو بہاتی رہی اور اسد شاہ کی جدائی کا غم ہمیشہ کے
لئے اس کی ذندگی پر طاری ہوگیا ۔بلآخر تیمور تھک کر چند لمحوں میں ہی
نیند کی آغوش میں چلا گیا اور سندس گھٹنوں میں منہ چھپائے سسکتی
رہی ۔
*
چھوٹے شاہ جی ! سنبھالیں خود کو ،یہاں آپ نشے میں دھت ہو کر خود
کو برباد کر رہے ہیں اور وہاں تیمور غزینی اور بڑی حویلی والے جشن منا
رہے ہیں ۔کب تک آپ سوگ منائیں گے ۔ اس طرح خود کو سائیڈ
پر کرلینا آپ کی شان کے خلاف ہے ۔ علی گل جو اس کا سب سے
منہ چڑھا ملازم تھا مسلسل اسے بھڑکانے میں مصروف تھا ۔
کچھ عرصہ پہلے گاؤں کے ہاری کی لڑکی کو کھیتوں میں تنہا پا کر اس نے دست درازی کی کوشش کی تھی ۔اسی لمحے تیمور غزینی کا وہاں سے گزر
ہوا اور اس نے موقع پر ہی علی گل کو رنگِ ہاتھوں پکڑ بھی لیا اور اس
کی اچھی خاصی مرمت کرنے کے ساتھ حیدر علی شاہ تک شکایت بھی
پہنچادی ۔
اس دن تیمور غزینی اور اس کے بعد اسد شاہ کے ہاتھوں ہونے والی
ذلت نے اس کے دل میں تیمور غزینی کے لئے نفرت بھر دی تھی۔
سندس کا رشتہ تیمور غزینی کو دے دیا گیا ہے ،یہ خبر اسد شاہ کوبہت دیر سے ملی تھی ۔
حیدر علی شاہ کے زریعے رشتے کی بات میر ظفر کے کان تک پہنچا کر وہ مطمئین بیٹھاتھا ۔اس کو اپنے خاندانی وقار اور اپنی وجاہت پر اتنا زعم تھاکہ میر ظفر اسے رشتہ نا دیں یہ جیسے کوئی ناممکن بات ہو مگر اب اس اچانک ملنے والی اطلاع پر اس کا دماغ گھوم گیا تھا لیکن زینب میرپرویز کے نکاح میں تھی یہ بات بھول کر وہ لوگ میر ظفر یا ان کے خاندان سےکوئی باز پرس نہیں کر سکتے تھے۔
اس شادی میں شیرازیوں کو شرکت تو کرنی پڑی مگر اسد شاہ نے مکمل
بائیکاٹ کیا تھا ۔ملک سے باہر ہونے کا بہانہ کر کے وہ پچھلے پندرہ دن
سے اپنے فارم ہاؤس پر نشے میں ڈوبا پڑا تھا ۔
جس رات سندس کا نکاح ہوا تھا ،وہ بی بی جان سے لپٹ کر روپڑا تھا۔چھ فٹ کا کڑیل جوان ہوکر جب وہ بچوں کی طرح بلک رہا تھا۔
اس گھڑی بی بی جان کا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔حیدر شاہ مٹھیاں بھینچے
ضبط کے جن مراحل سے گزر رہے تھے یہ وہی جانتے تھے کیونکہ اسد
شاہ کی کوئی ایسی خواہش نہیں تھیں جو انہوں نے سنتے ہی پوری نا کی
ہو مگر اس کی ذندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری کرنےمیں وہ ناکام
ہوگئے تھے ۔یہ ملال انہیں نڈھال کر رہا تھا اس لمحےاسد شاہ کی اس
حالت نے ان کے دل میں میروں کے لئے نفرت ہی نفرت بھر دی
تھی ۔
اسد شاہ نے سندس کو دل کی گہرائیوں سے چاہا تھا ، اس سے جدائی شاہ کو موت سے بدتر اذیت دے رہی تھی ۔محبت ہونے سے لے کر بچھڑنے تک کا سفر اس نے بڑی تیزی سے کیا تھا ۔وہ بھی تب جب سندس کی محبت اس کے دل سے گزر کر روح میں سرائیت کر چکی تھی ۔ جب سندس سے چند دن کی دوری بھی اس کے لئے سوہانِ روح تھی ۔
ان حالات میں بس ایک ہی چیز ایسی تھی جو اسے چند گھنٹوں کےلئے ہی سہی ان سب سوچوں سے غافل کر دیتی تھی۔جس کا استعمال ان دنوں وہ کثرت سے کر رہا تھا ۔
شاہ کو نا دن کا ہوش تھا نا رات کی خبر ۔یہ خیال ہی اسے مارے ڈال رہا تھا کہ وہ کسی اور کی ہوچکی ہے ۔اس سوچ سے ہونے والی تکلیف کی شدت اس کی برداشت سے باہر ہورہی تھی ۔اس پر احساس شکست نے اسے پاگل کر دیا تھا کہ میروں نے اس کے رشتے پر تیمور غزینی کو ترجیح دی تھی ۔طیش کے عالم میں اس نے شیشے کی ٹیبل اٹھا کر پلٹ دی ۔
علی گل دور کھڑا تھرتھرکانپنے لگا ۔اس نے جلدی سے بڑھ کر کانچ کے ٹکڑے سمیٹے مبادا اسد شاہ غصے اور نشے میں خود کو کوئی نقصان ہی نا پہنچا لے ۔مگر وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے پھر سے غافل ہو چکا تھا۔
“””””””””※”””””””””
طویل بیماری سے گزر کر زینب صحتیاب ہوچکی تھی ۔میر ظفر علی نے شادی کی تاریخ طےکر دی تھی ۔ دونوں گھرا نوں میں شادی کی تیاریاں زور و شور سےجاری تھیں ۔
میر پرویز کی بری بنانے کی زمہ داری تناہ مہربانو پر تھی ۔وہ بے چاری بچوں اور بازار کے چکروں میں گھن چکر بنی ہوئی تھیں ۔فائزہ سے تو کسی بھی قسم کے تعاون کی امید نہیں تھی ۔سندس بھی ان دنوں میکے
آئی ہوئی تھی مگر وہ پریگننٹ ہونے کی وجہ سے کسی بھی کام میں حصہ نہیں لے سکتی تھی ۔ ویسے بھی وہ دنیا داری کے جھمیلوں سے دور اپنی ہی ذات میں قید ہو کر رہ گئی تھی ۔
وہ اسد شاہ کی محبت کے سحر میں بیتے چندلمحات تیمور غزینی جیسے چاہنے والے بھرپور ، ملنسار اور خوش مزاج شوہر کا ساتھ پا کر بھی بھول نہیں سکی تھی ۔
مہربانو اس کی ظاہری اور باطنی دونوں حالتوں سے واقف تھیں ۔اس
لئے جان بوجھ کر وہ اسے کسی بھی کام کے لئے نہیں کہتی تھیں اور
سارا بوجھ خود ہی اٹھا رہی تھیں ۔
اس وقت بھی وہ زینب کے لئے خریدے ہوئے کپڑے اور جیولری
اس کے سامنے پھیلائے کپڑوں کے رنگ اور جیولری کے بابت استفسارکر رہی تھیں۔ سندس ان کی باتوں کے جواب میں بس ہوں ہاں سے کام لے رہی تھی ،جب اچانک باہر اٹھنے والے شور پر دونوں
ہی چونک گئیں ،تبھی ملازمہ بدحواس سی دروازہ کھولے اندر چلی آئی ۔
مہرو بی بی ! قیامت ٹوٹ پڑی ہے ، تیمور سائیں سے شیرازیوں کے بندے کا قتل ہو گیا ۔ملازمہ کی آواز کپکپا رہی تھی ۔
بتول ! یہ تو کیا بکواس کر رہی ہے ۔۔۔؟ مہربانو نے اٹھ کر اسے جھنجھوڑا جبکہ سندس کے ہاتھ سے زینب کا جھمکہ چھوٹ کر زمیں پر
گر چکا تھا ۔
بی بی ! میں بکواس نہیں کر رہی ،پورے گاؤں میں شور مچ رہا ہے بڑے
میر سائیں بھی زمینوں پر گئے ہیں ۔ سنا ہے زمینوں پر تیمور سائیں اور
مہروز شیرازی کا جھگڑا ہوا تھا اور مشتعل ہوکر تیمور سائیں نے گولی
چلا دی ۔ بتول نے سہم کر پوری تفصیل ایک ہی سانس میں مہربانو
کے گوش گزار کردی ۔
یا اللہ ! ہماری مدد فرما ،تیمور کو اپنی حفظ و امان میں رکھنا ۔مہر بانو سر تھامے صوفے پر ڈھے سی گئیں ۔انہیں آنے والے وقت کی فکر لگ
گئی تھی ۔سندس دم سادھے بیٹھی تھی ۔مہر بانو نے نظر اٹھا کر اس
کے سپاٹ چہرے کی طرف دیکھا پھر اس کا سر تھپتھپا کر معاملے کی
نوعیت جاننے کے لئے کمرے سے باہر چلی گئیں ۔
“””””””””””※”””””””””””
شاہ سائیں ! غضب ہوگیا ، تیمور غزینی کی جرأت دیکھیں اس نے معمولی سی بحث پر مہروز سائیں کا قتل کر دیا ہے اور اب جھوٹ
بول رہا ہے کہ گولی اس سے غلطی سے چل گئی تھی ۔علی گل نے
مکمل غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے اسد شاہ کو بھڑکانے کی بھرپور
کوشش کی ۔
اسدشاہ نیند بھری آنکھوں سےاس کی بات پوری توجہ سے سن رہا تھا۔ وہ مہروز کے ساتھ کل رات ہی شہر سے آیا تھا اور بے خبرسورہا تھا جب علی گل نے نیند سے جگا کر اسے واقع سے آگاہ کیا۔
کسی اور کو اس کے کمرے میں قدم رکھنے یا نیند سے جگانےکی اجازت نہیں تھی حتی کے بی بی جان بھی اسے نیند سے جگانے کی غلطی نہیں کرتی تھیں مگر یہ علی گل ہی تھاجو منہ چڑھا ہونے کی وجہ سے اس کے
عتاب سے بچ جاتا تھا ۔
اس خبر پر اسد شاہ کی آنکھیں خون چھلکانے لگیں ۔ بڑی مشکل سے
اس نے خود کو سنبھال لیا تھا ،سندس کی یادوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے اس نے دن رات خود کو مصروف کر لیا تھا ۔اب
اس کا ذیادہ تر وقت شہر میں ہی گزرتا تھامگر تیمور غزینی نے سندس کو اس سےچھین کر اس کے اندر جو لاوا دھکایا تھا اس کہ پھٹنے کا وقت آگیا تھا۔کپڑے چینج کر کے وہ دندناتا ہوا جائے وقوعہ پر پہنچا تھا ۔
مہروز کی لاش کو اس کے گاؤں پہنچانے کا انتظام کیا جارہا تھا ۔
میر ظفر علی اور ان کے تینوں بیٹے بھی وہاں موجود تھے مگر حیدر علی شاہ اور ان کے دونوں بیٹوں کا رویہ ان لوگوں کے ساتھ انتہائی سرد تھا۔
دراڑ تو دونوں خاندانوں میں اس دن ہی پڑ گئی تھی جس دن سندس کی شادی تیمور سے کی گئی تھی اور اس دوری اور سرد مہری کو وہ لوگ بخوبی محسوس کر رہے تھے مگر نظر انداز کئے ہوئے تھے کیونکہ اس کے
سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا ۔لیکن اس واقعے نے تو انہیں شیرازیوں کے
سامنے سر جھکانے پر مجبور کردیا تھا ۔
ایک طرف داماد تھا تو دوسری طرف برسوں پرانی دوستی ۔سمجھ نہیں
آرہا تھا کیسے اس معملے سے نمٹا جائے ۔
بی بی جان نے گھر سے نکلنے سے پہلے اس کی بہت منتیں کی تھیں ،اسے سمجھایا تھا کہ وہ جذبات سے کام نہ لے جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے ۔مہروز کی موت اسی طرح لکھی تھی ۔
اس کی آنکھوں سے سرخی چھلک رہی تھی مگر وہ لب بھینچے خاموشی سے ان کی بات سن کرنکل آیا تھا لیکن وہ اسے جانتی تھیں کہ اس کی خاموشی کہ پیچھے بہت بڑا طوفان چھپا ہے ۔سندس کا رشتہ اسے نہیں دیا گیا اس شکست پر تو وہ اب تک بپھرا ہوا تھا۔اپنی شکست کا بدلہ لینے کا موقع اسے اب مل گیا تھا اس بات سے وہ بےخبر نہیں تھیں ۔وہ اس کی رگ رگ سے واقف تھیں ۔
“””””””””””※”””””””””””
مہروز کی تدفین کی جا چکی تھی۔میر حویلی سے پورے خاندان نے شرکت کی تھی جبکہ مسرور غزینی تنہا ہی شریک ہوئے تھے ۔تیمور کو میر ظفر نے
قصداً رکوا دیا تھا اور اس نے احتجاج بھی کیا تھا۔
میر سائیں ! جو کچھ بھی ہوا ہے انجانے میں ہوا ہے ۔میں نے مہروز
شاہ کو جان بوجھ کر یا جھگڑے کے دوران قتل نہیں کیا ہے ۔گولی
مجھ سے غلطی سے چلی تھی ۔اس نے بے بسی سے اپنی صفائی پیش
کی ۔
تیمور ! ہم سب کچھ جانتے ہیں ،ہمیں تمھاری بات پر پورا یقین ہے مگر
تمھیں صبر سے کام لینا ہوگا ۔ابھی معا ملہ گرم ہے ، شیرازیوں کا بندہ
قتل ہوا ہے جیسے بھی ہوا مگر وہ سچائی سے واقف نہیں ہیں ۔ہمارے
کسی دشمن نے یہ خبر پھیلا دی ہے کہ تمھارا اور مہروز کا زمینوں پر جھگڑا
ہو ا تھا اور تم نے مشتعل ہوکر اسے گولی مار دی ۔
جب تک اس بات کا سراغ نہیں مل جاتا کہ یہ افواہ کس نے پھیلائی
ہے اور معاملہ رفع دفعہ نہیں ہوجاتا تمھیں تھوڑا احتیاط سے کام لینا
ہوگا ۔میر ظفر علی نے اسے مدبرانہ انداز میں سمجھایا ۔وہ لب بھینچ کر
خاموشی سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا ۔میر ظفر نظریں چرا گئے۔
“””””””””””※”””””””””””
تیمور غزینی زمینوں پر چکر لگانے کے لئے نکلا ہوا تھا ۔ اپنی گاڑی میں بیٹھا وہ زمینوں کا جائزہ لے رہا تھا ، جب شیرازیوں کے باغ سے کچھ
فاصلے پر اسے اسد شاہ کا کزن مہروز گاڑی سے ٹیک لگائے کچھ مصروف سا نظرآیا ۔
سلام دعا کی نیت سے اس نے گاڑی اس کے نذدیک لے جاکر روک دی ۔
مہروز ! کب آئے شہر سے ؟سنا ہے اسد شاہ کے ساتھ تم بھی گئے ہوئے تھے ۔تیمور نے مہروز سے مصافحہ کرتے ہوئے استفسار کیا ۔
کل رات ہی واپس لوٹے ہیں ۔اسد شاہ نے فیکٹری خریدی ہے شہر
میں اسی سلسلے میں دو دن سے شہر میں ہی تھے ۔مہروز نے گن ایک
ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے تیمور سے ہاتھ ملایا پھر دوبارہ
گن کو الٹ پلٹ کر کے دیکھنے لگا ۔
جاری ہے