Rate this Novel
Episode 27
وہ آندھی طوفان کی طرح سیڑھیاں پھلانگتا ہوا میر سبطین کے کمرے کا دروازہ دھڑ دھڑا رہا تھا ۔
میر سبطین بری طرح دروازہ پیٹنے کی آواز پر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔پلکیں جھپک جھپک کر اس نے صورتِ حال سمجھ نے کی کوشش کی پھر تیزی سے بیڈ سے اتر کر دروازے کی طرف بڑھا اور لاک گھما کر دروازہ کھول دیا ۔
سامنے میر سجاول جارحانہ تیور لئے خون آشام نظروں سے میر سبطین کو گھور رہا تھا ۔
میر ! تم اس وقت ۔۔۔۔سب خیریت تو ہے ۔۔۔۔؟میر سبطین نے حیرت سے استفسار کیا ۔
وہ صرف میری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔محبت ہے میری ۔۔۔۔۔۔۔۔میں اس سے شادی کروں یا نہ کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔مگر میں اسے کسی اور کا بھی نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم نے سوچ بھی کیسے لیا تم زرتاج سے شادی کروگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں اس کو شوٹ کر دوں گا مگر کسی اور کا نہیں ہونے دوں گا۔میر سجاول چبا چبا کر بولا۔اس کی آنکھوں سے شرارے نکل رہے تھے ۔
تم کیسے خبطی انسان ہو ،جس سے محبت کے دعوے دار ہو اسی کو داغدار کر دیا ۔تف ہے تم پر ۔میر سبطین کو زبردست جھٹکا لگا تھا ۔وہ تنک کر بولا ۔
میں نے جو کچھ بھی کیا اس کے لئے میں کسی کو جوابدہ نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔میرے خاندان کی طرف جو بھی آنکھ اٹھا کر دیکھے گا میں اس کا یہی حشر کروں گا ۔
معظم شاہ نے جو کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے اسی کے انداز میں اسے جواب دیا ہے ۔وہ بے خوفی سے بولا ۔
رانیہ میری سگی بہن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اصولاً تو اس کے ساتھ ہوئے ظلم کا بدلہ مجھے لینا چاہئے تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔مگر میں تمھاری طرح جذباتی نہیں ہوں جو کسی اور کی ذیادتی کا بدلہ کسی بے گناہ معصوم لڑکی سے لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے افسوس ہورہا ہے ، اس بے چاری لڑکی کی ذندگی تباہ کرتے ہوئے تمھارا دل کیوں نہیں کانپا ۔میر سبطین تاسف سے گویا تھا ۔
میر سبطین! مجھے ادھار رکھنے کی عادت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے جو کیا اس پر مجھے کوئی افسوس یا پچھتاوا نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔میں یہاں صرف یہ بتانے آیا ہوں تم زرتاج سے شادی نہیں کروگے ۔اگر تم نے میری مرضی کے خلاف جا کر کوئی قدم اٹھایا تو اس کے زمہ دار تم خود ہوگے ۔میر سجاول نے سرد لہجے میں اسے تنبیہہ کی ۔
اوکے ۔۔۔میں نہیں کروں گا ۔۔۔۔تو کیا تم اس سے شادی کے لئے تیار ہو ۔۔۔۔۔؟میر سبطین نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ۔
نہیں ۔۔۔چند لمحے کے لئے خاموشی چھا گئی پھر میر نے پژمردہ لہجے میں مختصراً جواب دیا ۔
کیوں ؟میر سبطین برجستہ بولا۔
میں اس سے شادی نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔کیوں کہ اب وہ میرے قابل نہیں رہی ۔میر سجاول نے خلا میں گھورتے ہوئے آہستگی سے کہا۔
مگر اسے کسی اور کی بھی نہیں ہونے دوں گا اور اگر کسی نے اس کے طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو اس کی آنکھیں پھوڑ دوں گا ۔۔۔۔۔۔شادی تو بہت دور کی بات ہے ۔وہ یکدم بپھرتے ہوئے بولا ۔
واہ۔۔۔۔میر سجاول علی صاحب ،واہ ۔۔۔۔۔۔آپ کے حوصلے کی داد دیتا ہوں ۔میر سبطین نے طنزیہ کہا ۔
وہ آپ کے قابل نہیں رہی یا یوں کہیں کہ آپ نے اسے کسی قابل ہی نہیں چھوڑا ۔میر سبطین کا لہجہ حد درجہ کاٹ دار تھا ۔
میر سبطین ! میں یہاں تمھارا لیکچر سننے کے لئے نہیں آیا ہوں ،صرف یہ سمجھانے آیا ہوں کہ زرتاج سے شادی کا خیال اپنے دل سے نکال دو ورنہ میرے دشمنوں کی لسٹ میں تمھارے نام کا مزید اضافہ ہو جائے گا ۔
میں کسی بھی قیمت پر تمھیں اس سے شادی نہیں کرنے دوں گا ۔میر سجاول کی آنکھیں ضبط سے سرخ ہو رہی تھیں ۔
میں نہیں جانتا ۔۔۔۔۔۔تمھارا اس لڑکی سے کیا تعلق ہے اور میں جاننا بھی نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم نے اس لڑکی کی عزت برباد کی ہے ، میں بس زرتاج کو پناہ دینا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نہیں چاہتا ہمیں اس معصوم کی آہ لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔جو ہمارے خاندان کی اس دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئی ہے ۔میر سبطین کا لہجہ پر تاسف تھا ۔
میں نے ایک بار کہہ دیا نا تم زرتاج کا نام بھی اپنی زبان سے نہیں لوگے ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ ہمارے درمیان خون کا رشتہ ہے ۔اس کی زبان سے زرتاج کا نام سن کر میر سجاول نے بڑھ کر اس کا گریبان دبوچ کر زوردار جھٹکا دیا ۔
میری محبت کو اس انجام تک پہنچانے والے کو تو میں آج ہی جہنم واصل کردوں گا مگر تم زرتاج سے ہمدردی کرنے کا سوچنابھی مت ورنہ معظم شاہ کے بعد اگر میرا کوئی سب سے بڑا دشمن ہوگا تو وہ صرف تم ہوگے ۔ میر نے خطرناک لہجے میں اسے وارننگ دی اور پھر اس کا گریبان چھوڑ کر تھپتھپاتا ہوا واپس پلٹ گیا ۔
میر سبطین چند لمحے اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا پھر دروازہ بند کرکے بیڈ پر آگیا ۔وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔میر سجاول کا رویہ اس کی سمجھ سے بالاتر تھا ۔
※
زرتاج کو ہاسپٹل سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا ،ڈاکٹرز نے اس کے ساتھ ہونے والی ذیادتی کی تصدیق بھی کر دی تھی ۔
مگر اس کے ماں باپ نے تمام تر بے عزتی اور بدنامی کے باوجود بھی اس سے نفرت کا اظہار نہیں کیا تھا ۔اس کے باپ نے معاشرے اور اس کی رسومات کو پسِ پشت ڈال کر زرتاج کو اپنی نرم آغوش میں بھر لیا تھا ۔
اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی موجودگی اور تحفظ کا احساس دلایا تھا ۔
گھرپہنچ کر وہ کمرے میں بند ہوگئی تھی ۔اس کے ماں باپ نے اس کی بہت دلجوئی کرنے کی کوشش کی تھی ۔اسے بہلانا چاہا تھا مگر وہ پتھر کا بت بنی سب کچھ سنتی رہتی تھی لیکن اس کی چپ ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔
یہ صدمہ اسے کھائے جارہا تھا کہ اس کے میر سائیں نے اسے اپنے ہاتھوں بے آبرو کردیا ۔
اس کے ماں باپ کی ذلت کا بوجھ تو پھر بھی میر سبطین کی عنایت پر کچھ کم ہوگیا تھا مگر زرتاج کی دنیا لٹ گئی تھی ۔ ماں باپ کے مابین ہونے والی گفتگو سے میر سبطین کی اس سے شادی کے فیصلے کی خبر اس کے کان میں پڑ گئی تھی لیکن اس خبر نے اسے توڑ کر رکھ دیاتھا ۔
وہ بھلا کیسے بڑی حویلی میں اس ستمگر کا سامنا کر پائے گی جس نے اس کی محبت کا بھرم اس بری طرح توڑا تھا کہ اسے اپنے آپ سے بھی نفرت ہوگئی تھی ۔اسے دنیا والوں کے ساتھ ساتھ اپنی بھی نظروں میں گرا دیا تھا ۔
میر سائیں آپ نے میرے ساتھ محبت کے وعدے اس لئے کئے تھے کہ وقت پڑنے پر انہیں اپنی ذاتی دشمنی پر وار دیں ۔۔۔۔۔آپ مجھے اپنی عزت بنا نا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔آپ مجھے یہ عزت نا دیتے ۔۔۔۔۔۔اپنے ہر ہر وعدے اور دعوے سے مکر جاتے مگر مجھے یوں پوری دنیا کے سامنےرسوانہیں کرتے۔
آپ نے ایک بار بھی میری عزت کے بارے میں نہیں سوچا ۔۔۔۔کیوں آپ نے مجھے دنیا بھرکہ سامنے تماشا بنا دیا ۔وہ دل ہی دل میں اس سے شکوہ کناں تھی ۔آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔
میں مرتے دم تک آپ کی صورت نہیں دیکھوں گی ۔آپ نے میرے سر سے چادر چھین کر ثابت کردیا کہ آپ کو مجھ سے کبھی محبت تھی ہی نہیں ۔وہ بلک رہی تھی ۔
ٹھیک ہے ، میں تھی ہی اس قابل کہ روند دی جاتی ۔میں نے اپنے ماں باپ کی عزت کی پرواہ نا کرتے ہوئے ایک غیر مرد سے مراسم بڑھائے شاید یہ میرے اسی گناہ کی سزا ہے ۔وہ خود کو خطاوار ٹہراتے ہو سسکی ۔
اگر میں ان “میر سجاول”سے رشتہ نہیں بناتی تو شاید کبھی ان کی نظروں میں نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔شاید وہ دشمنی نبھانے کے لئے مجھے استعمال نہیں کرتے ۔
میں نے خود ہی تو ان کو یہ موقع فراہم کیا اگر میں ان کے ساتھ اتنے گہرے تعلقات نہیں بناتی توکم از کم وہ لڑکی میں تو نہیں ہوتی جس کو انہوں نے اپنے انتقام کے لئے اتنی آسانی سے استعمال کر لیا ۔وہ دل ہی دل میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کر رہی تھی ۔
پھر پلنگ سے اٹھ کر وہ باہر چلی آئی ۔وضو بناکر واپس آئی اور جائے نماز بچھا کر نماز ادا کی ۔
یا اللہ ! مجھے معاف فرمادیں ۔میں آپ کی گناہ گار بندی ہوں ۔میں نے آپ کی بنائی ہوئی حدود کو پھلانگ کر خلاف ورزی کی ہے ۔اس لئے آپ مجھ سے ناراض ہوگئے اور مجھے یہ سزا ملی ہے ۔
اللہ سائیں ! میں سر اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہی ہوں ،مجھے مزید رسوا ہونے سے بچا لیں ۔میر سبطین سے شادی کے بعد مجھے میر سائیں کا سامنا کرنا پڑیگا جو میں نہیں کرسکتی ،مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے ۔
اللہ سائیں ! مجھ پر رحم فرما دیں ، میں میر سبطین سے شادی کر کے پل پل نہیں مرنا چاہتی ۔۔۔۔۔۔میں کسی غیر کے سو جوتے کھا کر تو ذندگی گزار لوں گی مگر میر سبطین کی دی ہوئی عزت کے ساتھ ایک پل بھی اس حویلی میں جینا دشوار ہو جائے گا ۔ میں میر سجاول کا سامنانہیں کرسکتی ۔
اللہ سائیں ! میرے لئے بہتر فیصلہ کردیں ۔دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو آنسو زارو زار بہنے لگے ۔وہ گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کر رہی تھی ۔
دعا سے فارغ ہو کر وہ جائے نماز سمیٹ کر ٹھنڈے فرش پر ہی بیٹھ گئی ۔نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔اسے اب تک میر سجاول کے کئے گئے ستم پر بے یقینی تھی ۔اسے یہ سب ایک بھیانک خواب لگ رہا تھا ۔
※
ڈمپل گرل !
جی شاہ !
عروش ! تم بیٹا پیدا کرو یا بیٹی ۔۔۔۔۔۔مجھے اس بات سے کوئی سروکار نہیں ۔
وہ تمھارے جیسا ہو یا پھر میرے جیسا ۔۔۔۔۔اس بات سے بھی مجھے کوئی غرض نہیں مگر اس کے گال پر ڈمپل ضرور ہونا چاہئے ۔شاہ نے اس کے ڈمپل کو چھوتے ہوئے اتنی سنجیدگی سے کہا کہ عروش جو ہم تن گوش تھی بے ساختہ ہنس پڑی ۔
اچھا اور بالفرض ڈمپل نہیں ہوا تو آپ کیا کریں گے ۔عروش نے اس کی جانب کروٹ لیتے ہوئے سوال کیا ۔
ہوگا ،ضرور ہوگا ۔۔۔۔۔تمھیں پتا ہے ،میں نے ذندگی میں کبھی کوئی دعا نہیں مانگی ۔۔۔۔۔۔کبھی کچھ نہیں مانگا ، بلکہ یوں کہہ لو کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی مگر پہلی بارصرف اس ڈمپل کے لئے رب کے حضور ہاتھ جوڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔مجھے پورا یقین ہے ۔۔۔۔۔۔۔ڈمپل ضرور ہوگا ۔شاہ نے یقین سے کہتے ہوئے عروش کے ڈمپل پر لب رکھ دئیے۔
جب آپ اتنے پر امید ہیں تو پھر ضرور ہوگا ۔وہ جھینپ کر مدھم سا بولی ۔
ہوں ۔۔۔۔۔تم نے میڈیسن لی ؟ شاہ نے ہنکارہ بھرتے ہوئے استفسار کیا ۔
جی ، ڈنر کے بعد ہی لے لی تھی ۔
گڈ ، میڈیسن ٹائم پر لیا کرو ۔اس معاملے میں کوئی لاپرواہی برداشت نہیں کروں گا ۔شاہ نے اسے تنبیہہ کی ۔وہ عروش کے بالوں میں انگلیاں چلارہا تھا ۔وہ نیند میں جانے لگی تو شاہ نے دھیرے سے اس کا ہاتھ اپنے سینے سے ہٹایا اور اٹھنے کی کوشش کی ،تبھی عروش نے چونک کر اس کے سینے پر دوبارہ ہاتھ رکھا ۔
شاہ ! آپ کہاں جا رہے ہیں ؟اس نے خمار آلود آواز میں پوچھا ۔
میں کہیں نہیں جارہا ،یہیں ہوں تمھارے پاس ۔وہ عروش کا سر تھپ تھپاتا گمبھیر لہجے میں بولا ۔
عروش نے دوبارہ اپنا سر اسکے کاندھے پر رکھ کر آنکھیں موند لیں ۔
شاہ ! اب تو آپ مجھ سے نفرت نہیں کرتے ناں ؟ اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا ۔
عروش کے اس غیر متوقع سوال پر شاہ جزبز ہو گیا تھا ۔چند لمحے کے توقف سے بولا ۔
وہ نفرت نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔ہاں ، تم اسے میرا غصہ کہہ سکتی ہو ۔۔۔۔۔۔۔اگر مجھے نفرت ہوجاتی تو میں کبھی تم سے شادی نہیں کرتا ۔وہ صاف گوئی سے بولا ۔
تو پھر آپ نے مجھے اتنا تنگ کیوں کیا ۔۔۔۔؟عروش کا انداز معصومیت بھرا تھا ۔شاہ نے بے ساختہ قہقہہ لگایا ۔
تنگ اس لئے کیا کہ تنگ کرنا میری فطرت میں شامل ہے ۔۔۔۔۔تم نے بھی تو مجھے بہت تنگ کیا ہے ،جب مجھے تم سے محبت کا احساس ہوا ،تب میں کتنی راتیں سو نہیں سکا ۔۔۔۔۔۔تم یہ سمجھ لو ، یہ اسی کا بدلہ تھا ۔وہ اسے چھیڑ رہا تھا ۔
نہیں ، میں بتاؤں آپ نے مجھے اتنا تنگ کیوں کیا ؟ عروش زرا سا سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔
ہاں بتاؤ ۔۔۔۔شاہ نے دلچسپی سے پوچھا ۔
کیوں کہ آپ ایک مغرور شاہ ہیں ۔وہ ہونٹوں کو سائیڈ پر لے جا کر منہ بناتے ہوئے بولی ۔شاہ نے اس کے انداز کو دلچسپی سے دیکھا پھر دل کھول کر ہنسا ۔
کچھ دیر ہلکی پھلکی باتیں کرتے ہوئے شاہ نے اسے باتوں ہی باتوں میں سلا دیا ۔
عروش کے مکمل نیند میں چلے جانے کی تسلی کرنے کے بعد اس نے عروش کا سر آہستگی سے تکیے پر رکھا ۔سائیڈ ٹیبل سے سگریٹ کا پیکٹ ، لائیٹر اور موبائل اٹھایا پھر دبے پاؤں بیڈ روم سے نکل آیا ۔
وہ عروش کو سلا کر ڈیرے پر آگیا تھا ۔زرتاج کے ساتھ ہونے والی ذیادتی پر مشتعل ہونے کی بجائے وہ نادم ہو رہا تھا ۔یہی ندامت اسے عروش کے پہلو میں ہونے کے باوجود بھی مضطرب کر رہی تھی ۔
نواز کی بیٹی کو خود اغوا کر کے میروں کی عزت اچھالنے کے لئے جو ڈرامہ اس نے کیا تھا وہ اسی کے گلے میں پڑ گیا تھا ۔وہ خود کو زرتاج کا مجرم تصور کر رہا تھا ۔گھونٹ گھونٹ وہسکی حلق سے اتارتے ہوئے اس نے تلخی سے سوچا۔
اپنے لئے بیٹی کی خواہش کرنے والے معظم شاہ ، تم نے اپنی انا کی تسکین کے لئے دوسروں کی بیٹیوں کو اجاڑ دیا ہے ۔
تم اپنی بیٹی کی حفاظت کیسے کروگے ،جبکہ تم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے گاؤں کی بیٹیوں کی ذندگی برباد کی ہے ۔کیا ان کی آہ نہیں لگے گی تمھیں ۔
نہ تم میر سجاول کو پھنسانے کہ چکر میں نواز کی بیٹی اور رانیہ کو کڈنیپ کرواتے نہ میر سجاول بدلے میں زرتاج کی عزت سے کھیلتا ۔
زرتاج پر ہونے والے ظلم کے اصل زمیدار تم ہو ، میر سجاول نہیں ۔
تم بدلے کی آگ میں اتنا گر گئے کہ معصوم لڑکیوں کی عزت سے کھیل گئے ۔آج زرتاج تھی کل اس کی جگہ عروش یا تمھاری اپنی بیٹی بھی ہوسکتی ہے ۔اس کا ضمیر اسے ملامت کر رہا تھا ۔
اس سوچ پر وہ تڑپ گیا ۔اس نے اپنے دکھتے ہوئے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام لیا ۔
شاہ سائیں ! جلدی چلیں ، میر سجاول نے اپنے مورچوں سے فائرنگ شروع کردی ہے ۔اچانک فائرنگ سے ہمارے دو آدمی بھی مارے گئے ہیں ۔ خادم حسین بھاگتا دوڑتا ہوا آیا تھا ۔شاہ کو مطلع کر کے وہ ہاتھ باندھے کھڑا ہوگیا ۔
شاہ نے سر اٹھا کر خاموش نظروں سے اسے دیکھا ۔خادم حسین کو اس کی نظروں کا مفہوم پڑھ کر حیرت کا جھٹکا لگا ۔
سائیں ! آپ اتنے کمزور کیسے پڑ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔آپ کے ہوتے ہوئے میر سجاول جیت نہیں سکتا ۔
فائرنگ میں پہل اس نے کر دی ہے مگر ہمیشہ کی طرح آپ ہی اسے خاموش کروائیں گے ۔یہ آپ کی اور ہمارے گاؤں کی عزت کا سوال ہے ۔
خادم حسین نے جوش سے کہتے ہوئے شاہ کی پسندیدہ گن اس کی طرف بڑھائی ۔
شاہ چند لمحے سوچ کر اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور گن تھام لی ۔اس کی نظروں کے سامنے عروش کا بھرا بھرا وجود لہرایا مگر دوسرے ہی پل اس کی آنکھوں میں مخصوص سفاک چمک ابھری تھی ، وہ مضبوط قدم اٹھاتا ہوا باہر نکل گیا ۔
ڈیرے سے نکل کر اس کا رخ اپنے مورچے کے جانب تھا جہاں دونوں طرف سے فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا ۔
جاری ہے
