Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 29

ناول : دل سکون

رائٹر: زرناب چاند

قسط:اٹھائیس

زریان بیٹا ہماری کل فلائٹ ہے لیکن ہم آج ہی تمہارے ساتھ ہی نکل جائیں گے کیونکہ رات میں وہاں نیہا کی چچی کے گھر دعوت ہے تو ہم آج وہاں رکیں گے اور کل کی فلائٹ سے ہم چلے جائیں گے ۔۔۔۔
سب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے تب سارہ بیگم نے زریان کو مخاطب کر کے کہا۔
ٹھیک ہے پھپھو پھر زرا جلد تیار ہو جائیے گا مجھے بارا بجے تک نکلنا ہے ۔۔۔۔آنا ٹھیک سے کھاؤ ۔۔۔۔۔اس نے سارا بیگم کو جواب دیتے آنا کو جھڑکا جو کب سے صرف چمچ ہلانے
میں مصروف تھی۔۔۔۔
کھا تو رہی ہوں ۔۔۔۔۔سب کے سامنے ڈانٹنے پر وہ ہلکے سے منمنائی۔۔
بی جان نے مسکراہٹ دبائی ۔۔۔۔
نیہا نے ایک نفرت بھری نظر ڈالی آنا پر ڈالی

وہ بیڈ پر منہ پھلائے بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔
زریان تیار ہوتے ہوئے مرر سے ایک نظر اس کے پھولے منہ پر بھی ڈال لیتا۔۔۔۔
وہ تیار ہو کر قدم قدم چلتا اس کے پاس آیا۔۔۔اور سینے سے لگا لیا
تم ایسے اداس رہو گی تو کیسے جاؤں گا جاناں
اس نے آنا کا چہرہ اوپر کرتے کہا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اس نے طمانیت سے آنکھیں موندے لیں۔۔۔
یار تم چلو میرے ساتھ میرا تمہارے بغیر بلکل دل نہیں لگتا۔۔۔زریان نے محبت سے اس کے گال چھوتے کہا
نہیں نا بی جان نے کہا ہے کہ اب میں حویلی میں رہوں تاکہ وہ میرا اچھے سے خیال رکھ سکے۔۔۔۔
تم چاہتی ہو تمہارا شوہر تمہارے لیے تڑپتا رہے اس لیے نہیں چل رہی نا میرے ساتھ ۔۔۔
زریان نے اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا کر پوچھا
آنا کی کھلکھلاہٹ پورے کمرے میں گونجی

زریان عالم نے اس کی کھلکھلاہٹ کو اپنی سانسوں میں مقفل کر لئے۔۔۔۔
آنا نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس کی گرفت مظبوط تھئ۔۔۔۔

……………………………………………………………………..

وہ تھوڑی دیر پہلے ہی پہنچا تھا ملازمہ سے کہہ کر سارہ بیگم اور نیہا کے لیے کمرا تیار کروایا اور ان کو آرام کرنے بھیج دیا وہ فریش ہو کر آیا اور میل چیک کرنے لگا

کہ فون بجنے لگا عزہ کا نام دیکھ کر ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔
فون اٹھا کر اس نے سلامتی بھیجیں
کیسی بے میری گڑیا ۔۔۔۔اس نے محبت سے پوچھا
میں ٹھیک ہوں بھیا آپ کیسے ہیں ۔۔۔عزہ نے جھجھکتے پوچھا آج اسے اپنے بھائی سے بات کرتے ہوئے بھی عجیب لگ رہا تھا
تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد عزہ نے جھجھکتے ہوئے زریان کو پکارا۔۔۔۔۔۔بھیا
جی میری گڑیا حکم ۔۔۔۔وہ اپنی بہن سے ایسے ہی پیش آتا تھا
وہ ک کچھ چاہیے تھا آپ سے ۔۔۔۔۔زبان لڑکھڑا رہی تھی
لیکن سامنے بیٹھا عاشر اسے گھورنے لگا
اس کی جھجھک تو زریان بھی نوٹ کر رہا تھا لیکن جب تک وہ کہتی نہیں اسے کیسے پتہ چلتا
عزہ بچے کیا چاہیے حکم کرو یہاں سب کچھ آپ کا تو ہے
بھیا کچھ پیسے چاہیے عاشر کو اپنے بزنس کے لیے چاہیے سب کچھ ہو گیا ہے بس کہہ رہے کچھ مشینری رہ گئی ہیں جو منگوانی ہیں جیسے ہی بزنس چل پڑے گا آپ کے پیسے واپس کر دیں گے ۔۔۔۔اس نے ایک ہی سانس میں ساری بات کہہ کر گہری سانس لی۔۔۔اسے بہت شرمندگی ہو رہی تھی اتنا کچھ دیا تھا اس کے باپ بھائیوں نے پھر بھی اسے شادی کے بعد بھی ان سے مانگنا پڑ رہا تھا ۔۔۔۔۔

میری گڑیا اس میں اتنا پریشان ہونے کی کیا ضرورت تھی بتاؤ کتنے چاہیے میں عاشر کے اکاؤنٹ میں بھیج دیتا ہوں اور واپس کرنے کی ضرورت نہیں سب تمہارا ہے اور آئیندہ اتنا سوچنے اور جھجھکنے کی ضرورت نہیں بس بے دھڑک حکم کرنا اوکے۔۔۔
جی بھائی ٹھیک ہے بہت شکریہ آپ کا اس نے زریان کا شکریہ ادا کیا اور کال کاٹ دی اس کی آنکھوں میں ندامت تھی

کچھ دیر بعد عاشر کے اکاؤنٹ میں پیسے آگئے تھے اس نے خوشی سے عزہ کو گلے لگا لیا ۔۔

……………………………………………………..

چھ گھنٹے سڑکوں پر رلنے کے بعد وہ گھر آیا تھا
گھر میں قدم رکھا تو گھر بلکل صاف تھا اور دلشیر کچن میں کھڑا کافی بنا رہا تھا اس نے ایک گہری سانس لی اور آکر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔

دلشیر نے ایک نظر مڑ کر اسے دیکھا اور کافی کا کپ اس کے آگے رکھا
اور اپنا کپ لے کر وہ بھی سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
تم نے آنے کا بتایا کیوں نہیں مجھے وہ دلشیر سے مخاطب تھا جو کافی پیتے ہوئے کسی گہری سوچ میں تھا
روحان کی بات پر چونکا اور نظر اٹھا کر سامنے دیکھا
ہاں بس اچانک پروگرام بن گیا انفارم کرنے کا خیال نہیں رہا اس نے سنجیدگی سے جواب دیا
تم تو شادی کر کے آنے والے تھے پھر اچانک کیوں آگئے اور اس لڑکی کی فیملی سے بات کی کب کر رہے ہو شادی ۔۔۔۔

روحان نے اسے دیکھتے پوچھا
اس کے سوال پر دلشیر نے کرب سے آنکھیں میچی ۔۔۔
نہیں کرنی شادی مجھے کسی سے بھی اور وہ ایک وقتی اٹریکشن تھی جو ختم ہوگئی آج کے بعد میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔۔۔وہ چہرے پر گہری سنجیدگی لئے بولا۔۔۔۔

روحان نے گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیا لیکن خاموش رہنا بہتر سمجھا۔۔۔۔دونوں نے خاموشی سے کافی پی۔۔۔۔

محبت ایمان کی طرح ہوتی ہے
اگر محبوب واحد نا ہو تو کفر ہو جاتا ہے
جب ہم اپنی محبت میں ادھورے رہ جاتے ہیں تو شروع ہوتا ہے آدھے سر کا درد اور آدھے سر کا درد آپ کو پوری طرح ختم کردیا ہے ۔۔۔

اس لیے وقت رہتے سب سنبھال لو وہ اس عمر میں یہ سب برداشت نہیں کر پائے گی ۔۔۔

دلشیر کپ رکھ کر جاتے ہوئے اسے بہت سادے لہجے میں گہرے الفاظ بول کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔۔

۔کتنی ہی دیر وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکا دلشیر کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجنے لگے ۔۔۔۔وہ ایک فیصلہ کر کے اٹھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔

……………………………………………………………………………..

وہ رات کو اپنے کمرے میں سویا ہوا تھا اسے عادت تھی شرٹ اتار کر سونے کی اسے کمرے میں ہلکی سی ہلچل محسوس ہوئی لیکن وہ گہری نیند میں تھا سفر کی تھکاوٹ اور میٹنگ سے فارغ ہوتے ہوئے وہ بہت تھک گیا تھا اس لیے اس نے اگنور کر دیا ۔۔۔۔
صبح اس کی آنکھ کھلی تو وہ جلدی سے تیار ہو کر نیچے آگیا سارہ بیگم اور نیہا ناشتہ کر رہی تھی کیونکہ ایک گھنٹے بعد ان کی فلائٹ تھی وہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگا

ملازمہ سے کہہ کر کچھ شاپنگ بیگز اپنے روم سے منگوائے
اور سارہ بیگم کے حوالے کیا
پھپھو یہ آپ کے لیے اور نیہا یہ آپ کے لیے اور یہ عزہ کے لیے ہیں آپ ان کو دے دیجئے گا
اس نے باری باری ان دونوں کو دینے بعد سارہ بیگم کو عزہ کے بیگز دیئے
ارے بیٹا اس کی کیا ضرورت تھی ۔۔پھپھو نے مسکرا کر کہا
کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ میرے گھر مہمان ہیں تو یہ چھوٹے سے تحائف تو آپ کو لینے پڑے گے ۔۔۔۔زریان نے اپنائیت سے کہا تو انہوں نے تھام لئے
پھپھو مجھے ایک میٹنگ میں جانا ہے ورنہ میں ائیرپورٹ ضرور چلتا آپ کو چھوڑنے
میں نے ڈرائیور کو بول دیا ہے وہ آپ کو چھوڑ دے گا
میں چلتا ہوں اللّٰہ حافظ۔۔۔۔۔

…………………………………………………..

عزہ کو کچھ دنوں سے اپنی طبیعت خراب لگ رہی تھی
اور اپنے جسم میں ہوئی اس تبدیلی کو بھی وہ محسوس کررہی تھی لیکن ڈر کی وجہ سے اس نے ڈاکٹر کو نہیں دکھایا آج بھی وہ بلڈنگ سے نیچے کچھ سامان لینے آئی تھی تو چکرا کر گرنے لگی کہ اچانک پاس کھڑی عورت نے اسے تھام لیا ۔۔۔۔۔بیٹا خیال سے مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی بیٹھ جاؤ
انہوں نے عزہ کو پکڑ کے سائیڈ پر بنے بینچ میں بٹھایا

اور جلدی سے شاپ والے سے پانی لے کر پلایا
م میں ٹھیک ہوں بہت شکریہ آنٹی آپ کا عزہ نے مسکرا کر ان کا شکریہ آدا کیا اور اٹھنے لگی لیکن وہ دوبارہ چکرا کر گر پڑی
ارے میں اسی بلڈنگ میں رہتی ہوں آجاؤ میں آپ کو چھوڑ دیتی ہوں یقیناً آپ بھی میرے سامنے والے فلیٹ میں رہتی ہیں ۔۔۔۔اس خاتون نے اسے تھامتے ہوئے کہا اور سہارا دے کر اسے اوپر لے آئی لیکن عزہ میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ اسے جواب دے سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔

عاشر کو دو ہفتے ہو گئے تھے وہ گھر نہیں آیا تھا سارہ بیگم بھی آئی تھی اس سے مل کر گھر والوں کے دئیے ہوئے تحائف دے کر چلی گئی البتہ نیہا نے تو اس کی زحمت بھی نہیں کی ان لوگوں نے ایک بار بھی اسے اپنے ساتھ چل کر رہنے کو نہیں کہا وہ ان سب کی عادی ہو گئی تھی وہ اندھیرے سے ڈرنے والی لڑکی اب اکیلے گھر میں رہنے لگی تھی عاشر کا اکثر یہی طریقہ ہوتا تھا دو دن ٹھیک تیسرے دن وہی سب دوبارہ شروع اب تو وہ بھی عادی ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن ان دنوں میں ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ وہ اللّٰہ کے بہت قریب ہو گئی تھی وہ جو باتیں جو تکلیفیں اپنے گھر والوں کو بتانے کی ہمت نہیں کر پاتی تھی وہ اللّٰہ کو بتانے لگی تھی
وہ اللّٰہ سے عاشر کے لیے ہدایت مانگتی تھی ۔۔۔

انہوں نے عزہ سے چابی لے کر دروازہ کھولا اور اسے اندر لا کر صوفے پر بٹھایا ایک دم وہ بہت نڈھال ہو گئی تھی

نام کیا ہے آپ کا انہوں نے عزہ سے پوچھا ۔۔۔۔۔عزہ اس نے بہت دھیرے سے جواب دیا اور آنکھیں موندے لیں
عزہ بیٹا آپ بیٹھو میری بہو ڈاکٹر ہے میں اسے بلاکر لاتی ہوں۔۔۔ ان کو اس کی حالت دیکھ کر کچھ کچھ اندازہ ہو گیا تھا۔۔۔۔
وہ جلدی سے گئی پانچ منٹ بعد ایک جوان سی خوبصورت لڑکی کے ساتھ واپس آئی
ان دونوں نے اسے سہارا دے کر بیڈ پر لٹایا اور وہ لڑکی اس کا چیک اپ کرنے لگی تب تک وہ خاتون باہر جا کر اس کے لیے جوس نکالنے لگی ۔۔

امی
اس لڑکی نے آواز دی اور ساتھ ساتھ عزہ کو ڈرپ لگا دی ۔۔۔

ہاں ہمنہ کیا ہوا یہ ٹھیک ک تو ہے انہوں نے فکر مندی سے پوچھا کیونکہ وہ خود بھی پاکستانی تھی اور عزہ کو دیکھ کر انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ بھی پاکستانی ہے
اور دیار غیر میں تو اپنے ملک کا کوئی انجان بھی مل جائے تو سگے رشتوں جتنے پیارے لگتے ہیں

شی از اکسپیکٹڈ امی اور یہ ہے بھی کتنی کمزور شاید اپنا بلکل خیال نہیں رکھتی کیسا شوہر ہے اس کا جو اس حالت میں اپنی بیوی کو ایسے چھوڑ کر باہر گھوم رہا ہے۔۔۔۔
۔ہمنہ جو ان کی بہو تھی اور ڈاکٹر بھی تھی اس کی حالت کو دیکھتے ناگواری سے کہا ۔۔۔

عزہ جو کمزوری کہ باعث آنکھیں بند کئیے بیٹھی تھی اچانک اٹھ بیٹھی اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھنے لگی اور بے ساختہ ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھا
ہمنہ اس کی آنکھوں سے سمجھ تو گئی تھی کہ وہ انجان ہے
م میں سچ سچ میں ۔۔۔۔اس نے حیرانی سے پوچھنا چاہا

ہاں تم ایکسپیٹ کر رہی ہو شام کو اپنے ہسبینڈ کے ساتھ میرے کلینک آجانا الٹراساؤنڈ کے بعد میں تمہیں میڈیسن
دونگی پھر انہیں پروپر لینا بہتر ہو جاؤ گی۔۔۔
وہ کہہ کر چلی گئی پھر آنٹی نے اسے جوس پلایا اور آرام کرنے کا کہتی وہ بھی چلی گئی

پیچھے وہ بیٹھتی چلی گئی۔۔۔۔آنسو آنکھوں سے بہنے لگے ۔۔۔
اسے سمجھ نہیں نہیں آرہا تھا اسے خوش ہونا چاہیے یا ماتم کرنا چاہیے
کیونکہ اسے اچھے سے یاد تھا جب اس نے آنا کی پریگننسی کا عاشر کو بتایا تھا تو خوش ہونے کے بجائے اس نے عجیب سا منہ بنایا تھا
اور یہ بھی کہا تھا کہ مجھے بچے نہیں پسند اور تم ایسا کوئی خواب دیکھنا بھی مت کیونکہ میں ابھی بچہ نہیں چاہتا ۔۔۔۔۔

اور آج جب اسے اپنی پریگننسی کا پتہ چلا تو وہ اس کا دل خوش بھی نہیں ہو پارہا تھا۔۔۔۔وہ وہی روتے روتے سو گئی شام میں آنٹی نے اسے اٹھایا اور اپنے ساتھ کلینک لے گئی
الٹراساؤنڈ کے بعد ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ وہ۔ چار ماہ سے پریگننٹ ہے اور اس کا بے بی بہت ویک ہے اسے اپنا بہت خیال رکھنا پڑے گا اور اپنے آپ کو پر سکون رکھنا پڑے گا ورنہ اس کے بے بی کے لیے پروبلم ہو سکتی ہے ۔۔۔۔وہ وہاں سے گھر آگئ لیکن اس کے اندر ڈر بیٹھ گیا تھا کہ عاشر کو پتہ چلا تو وہ اس کا بچہ ختم کر دے گا ان چار مہینوں میں وہ اتنا تو سمجھ گئی تھی کہ وہ ایک انتہائی خود غرض شخص ہے
لیکن وہ اپنا بچہ کسی صورت کھونے کا تصور نہیں کرسکتی تھی ۔۔۔۔۔اس نے کچھ سوچ کر فون اٹھایا اور روحان کو کال ملا دی۔۔۔اس کے بھائی ہر وقت اس کے لیے حاضر رہتے تھے اب وہی کچھ کرسکتے تھے۔۔۔۔۔۔

بیل کی آواز پر اس کی آنکھ کھلی عاشر کی آمد کا سوچ کر ہی اس کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے اس سے گھبراہٹ کے عالم میں چلا بھی نہیں جا رہا تھا۔ بہت ہمت کر کے اس نے جا کر دروازہ کھولا ۔۔۔۔۔۔
سامنے موجود ہستی کو دیکھ کر اسے ایسا لگا وہ کڑی دھوپ سے چاؤں میں آگئی ہو بھاگتی ہوئی جا کر وہ اس کے سینے سے لگی۔۔۔۔

……………………………………………………………………..

دلشیر نے آتے ہی آفس کا سارا کام سنبھال لیا تھا سارا دن وہ اور روحان آفس اور میٹنگز میں بزی رہتے رات ہوتے ہی دونوں اپنے اپنے کمروں میں بند ہو جاتے روحان نے اس دن کے بعد سے ہالے سے بات نہیں کی اسے لگتا تھا وہ ہالے سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہا لیکن اس نے سوچ لیا تھا بہت جلد وہ ہالے کی رخصتی کروا لے گا۔۔۔۔۔
روحان دلشیر کی حالت بھی دیکھ رہا تھا دن بھر ہنسنے مسکرانے والا شخص اب بہت سنجیدہ ہو گیا تھا ہر وقت ایک سرد مہری چہرے پر چھائی رہتی

لیکن اس نے دلشیر کو چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا
وہ دونوں بیٹھ کر ڈنر کر رہے تھے کہ روحان کا فون بجا
اس نے کال اٹھائی اور اسپیکر پہ ڈال دی کیونکہ اس کے دونوں ہاتھ خراب ہو رہے تھے
کیسا ہے میرا بچہ اس نے بہت محبت سے اسے پکارا ۔۔۔۔
بھیا ۔۔۔۔اس کی بھرائی ہوئی آواز فون پر ابھری
دلشیر کا منہ کی طرف جاتا نوالہ وہی رک گیا ۔۔۔۔۔۔دل نے عجیب انداز میں دھڑکنا شروع کر دیا سینے میں گھٹن کا احساس بڑھنے لگا۔۔۔جیسے کانوں کو برسوں بعد قرار آیا ہو

کیا ہوا میرا بچہ کیوں رو رہی ہو ۔۔کسی نے کچھ کہا ہے کیا عاشر کہاں ہے اس نے ڈانٹا ہے کیا اس کی ہمت کیسے ہوئی میرے گڑیا کو۔ ڈانٹنے کی مجھے بتاؤ جلدی کیا ہوا ہے میں ابھی آتا ہوں رونا بند کرو۔۔۔
روحان تو اس کے رونے پر ہی پریشان ہو گیا اور بے تابی سے پوچھنے لگا
کس کسی نے کچھ نہیں کہا مجھے بہت یاد آرہی ہے آپ سب کی مجھے۔ ماما بابا کے پاس جانا ہے

اس میں اتنا رونے والی کیا بات ہے تم عاشر کو فون دو میں اسے کہتا ہوں تمہیں گھر لے جائے لیکن عزو رونا بند کرو مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔اس نے بے چارگی سے سے کہا

مجھے عاشر کے ساتھ نہیں جانا آپ کے ساتھ جانا ہے آپ کچھ دنوں میں ٹائم نکال کر آئے اور مجھے لے کر جائیں ۔۔۔۔
اس نے جیسے حکم دیا ۔ ۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے میں آجاؤں گا تم پریشان مت ہو بس مجھے یہ بتاؤ سب ٹھیک ہے نا عاشر تمہارے ساتھ ٹھیک ہے نا اس نے کسی ڈر کے تحت پوچھا

دلشیر کا ہر حصہ اس کے جواب کا منتظر تھا اس کے لیے اس لڑکی کی مسکراہٹ بہت خاص تھی وہ خود کو جلانے کے باوجود اسے خوش دیکھنا چاہتا تھا

بھیا عاشر میرا بہت خیال رکھتے ہیں میں بہت خوش ہوں ان کے ساتھ آپ فکر مت کریں
ان کا بزنس ابھی نیا ہے اس لئے وہ مجھے پاکستان نہیں کے کر جاسکتے لیکن مجھے بہت یاد آرہی ہے اس لیے میں جانا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔عزہ نے اسے بے فکر کرنےکے لیے جھوٹ کا سہارا لیا

اس دشمن جان کے منہ سے کسی اور کا نام۔ اسے کسی چابک کی طرح لگا اس کا وہاں بیٹھنا محال ہو گیا گھٹن کا احساس مزید بڑھ گیا وہ اٹھا اور اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر کے بیڈ کے ساتھ لگ کے نیچے بیٹھتا چلا گیا

روحان نے اس کے جانے پر مڑ کے دیکھا اور ایک نظر اس کے کھانے کی پلیٹ پر ڈالی اس کا دل اسے بار بار ایک طرف اشارہ کرتا تھا لیکن وہ اگنور کر دیتا تھا
اس نے عزہ سے مزید ایک دو بات کر کے اسے پر سکون کیا اور فون بند کر دیا
اور دلشیر کے کمرے کی طرف بڑھ گیا دروازہ ناک کیا کوئی آواز نہیں آئی اس نے ہلکا سا پش کیا تو کھلتا چلا گیا
اندھیرے میں وہ گھٹنوں میں سر دئے بیٹھا تھا
کمرے سے روشنی اندر آئی تو اس نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا روحان کو دروازے پر کھڑا دیکھ وہ جلدی سے اٹھا اسے احساس ہوا کہ اسے ایسے نہیں آنا چاہیے تھا وہ اپنی وجہ سے عزہ کی زات پر ایک سوال تک برداشت نہیں کر سکتا تھا
روحان اس کو دیکھ بہت کچھ نا۔ چاہتے ہوئے بھی سمجھ گیا لیکن کہنے کو الفاظ نہیں تھے وہ اس سے سوال کر کے اپنا اور اس کا بھرم نہیں توڑنا چاہتا تھا نا وہ اپنی بہن کی خوشیوں پر کوئی رسک لے سکتا تھا اس لیے خاموش رہا
دلشیر واش روم کی طرف بڑھ گیا تھوڑی دیر بعد جب وہ باہر آیا تب بھی وہ اس کے بیڈ پر لیٹا تھا
جان چھوڑ دو اب میرے بیڈ کی یار اپنے کمرے میں جا کر کیوں نہیں مرتے تم۔ اس نے روحان کا۔ دھیان بٹانے کے لیے پہلے کی طرح ہاتھ جوڑ کر چبا چبا کر کہا
روحان کا قہقہہ پورے کمرے میں گونجا
دفع ہو جاؤ ورنہ دانت توڑ دوں گا میں تمہارے سکون سے سو نہیں پاتا میں تمہارے کھراٹوں کی وجہ سے
دلشیر نے اسے کھینچ کر اسے بیڈ سے اٹھایا
اچھا نا یار کیوں مار رہا ہے مجھے کل کینیڈا جا رہا ہوں عزہ کو لینے پھر تمہارے کمرے کی جان چھوڑ دوں گا اب تو سونے دو
وہ زبردستی اس کے بیڈ پر لیٹ گیا دلشیر کو بھی ناچار اس کے ساتھ لیٹنا پڑا جب اتنے دن برداشت کیا تو مزید ایک دن صحیح۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔