Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

ناول ۔۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔۔گیارھویں

وہ تھکا ہارا وہ ابھی شہر سے لوٹا تھا
جیسے ہی لاؤنج پر رکھے صوفے پر نظر پڑی تو اسے حیرت ہوئی
وہ معصوم پری پیکر سکڑی سمٹی صوفے پر لیٹی خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف تھی
اس نے ایک پل کو سوچا اسکو اگنور کر کے آگے بڑھ جائے اسے ابھی تک اس دن بیڈ ٹچ والی بات بھولی نہیں تھی

لیکن اس کے قدم خود بخود اس کی طرف بڑھ گئے صوفے کے پاس پہنچ کر اسے دھیمے سے پکارا

ہالے۔۔۔
۔لیکن شاید وہ نیند کی بہت پکی تھی ٹس سے مس نہیں ہوئی اسنے دو تین بار آواز دی لیکن کوئی فرق نہیں پڑھا تو اس نے اسے بازو سے پکڑ کر ہلایا تو ہڑبڑا کر اٹھی

سامنے اس دشمن جان کو دیکھ کر وہ گھبرا گئی اور جلدی سے کھڑی ہوگئی دوپٹہ اس کے قدموں پر سلامی دے رہا تھا

آ آپ کب آئے اس نے جلدی سے پو چھا
میں کب آیا اور کب گیا یہ تمہارا سر درد نہیں ہے مجھے یہ بتاؤ تم یہاں کیوں سو رہی ہو۔۔۔اس نے سرد لہجے میں پوچھا

وہ میں آپ کا انتظار کررہی تھی نظریں جھکائے کہا

کیوں تا کہ سب کے سامنے میری عزت دو کوڑی کی کر دو اسنے بھی خوب بھگو کر طنز مارا
نا جانے کیوں آج ہالے کی آنکھیں اسے عجیب لگ رہی تھی وہ اس سے شرما رہی تھی جب کے اس نے تو ایسا کچھ کیا بھی نہیں کیا

نہیں پلیز سوری نا میں پکا نہیں کرونگی روحان بھ۔۔۔
اس نے بھیا کہنے سے روکا خود کو نظریں اب بھی زمین پر ٹکی تھی
ایک تو اس کا حلیہ ریڈ کلر کی کرتی کے ساتھ بلیک پلازو اس کی گوری رنگت پر خوب چمک رہا تھا اوپر سے بنا دوپٹہ کا سراپا اس کے لیے امتحان بنا ہوا تھا

اس لیے بنا کچھ کہے وہ جانے لگا کہ اسے کے قدم تھم گئے

اسے اپنے پیٹھ پر نرم نرم ہاتھوں کا لمس اور سینے پر کسی کی گرم سانسیں محسوس ہوئی وہ اپنی جگہ پتھر کا ہوا
وہ ایسا کیوں کر رہی تھی
پلیز مجھے معاف کر دیں میں کبھی بھی ہماری باتیں کسی کو نہیں بتاونگی مجھے پتہ ہے اللّٰہ اور شوہر دونوں ناراض ہوتے میں کسی کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی

آپ ناراضگی چھوڑ دیں ۔۔اس کے ہونٹوں کا نرم لمس اسے
اپنی سینے پر محسوس ہو رہی تھی
اس کی دھڑکن نے الگ شور مچادیا اسے خود کو روکنا انتہائی مشکل کام لگا
اس نے جھٹکے سے اسکے ہاتھ سینے سے ہٹائے اور لمبے لمبے ڈھگ بھرتا اپنے کمرے میں چلا گیا

اللّٰہ جی میں نے منانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانے لیکن میں ان کو روز مناؤنگی بس آپ مجھ سے ناراض مت ہو نا ابھی مجھے نیند آرہی صبح پکا مناؤنگی
بی جان اور ماما کے سمجھانے کااثر تھا کہ اس کے چھوٹے سے دل میں وہ نقش ہونے لگا تھا وہ اس کی کچی عمر میں آنے والا پہلا مرد تھا جس نے کورے کی طرح صاف دل پر اپنا قدم رکھ دیا اسے پتہ تو نہیں تھا شو ہر کو کیسے مناتے لیکن وہ ہمیشہ عزہ کی ناراضگی پر اسے ایسے ہی منایا کرتی تھی اسے لگا وہ بھی مان جائے گا لیکن وہ نہیں مانا

………………………………………………….

جب اپنے ہونٹوں پر اس کے خون کا ذائقہ محسوس ہوا تو اسے آزادی دی تو درد کے مارے بہت مشکل سے اس نے اپنے آنسوؤں کو بہنے سے روکا وہ کہاں آدی تھی ان سب کی

لگتا ہے میری بیوی کو میری قربت کی بہت چاہ ہے اس لیے مجھے پاس بلانے کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے

اس کی باتوں میں شوخ پن کی جگہ سرد پن تھا اسے اپنی ریڑھ کی ہڈی سنسناتی ہوئی محسوس ہوئی
اس نے تو صرف اسے سب کے سامنے شرمندہ کرنے کے لیے
یہ حرکت کی تھی لیکن یہاں تو اس کو ہی دن میں تارے دکھا دیے تھے اس شخص نے
سیدھا اپنے روم میں جاؤ ڈریسنگ روم کی الماری میں تمہاری ضرورت کی ہر چیز موجود
آئیندہ تمہیں اس حلیے میں باہر نا دیکھوں میں ورنہ دو منٹ لگے گے تمہاری اکڑ نکالنے میں

ہاں البتہ روم میں تم پر کپڑوں کی کوئی پابندی نہیں
وہ تو اسکی بے باکی پر جی جان سے سلگی اور ایک نفرت
بھری نظر اس پہ ڈال کر روم میں بھاگ گئی
اس نے ملازمہ کو آواز دے کر بلایا
میرے اور عزہ کے لیے ناشتہ عزہ کے روم میں لے کر آؤ اور آنا بی بی کا ناشتہ ان کے روم میں لے جاؤ

وہ کہہ کر عزہ کے روم کی طرف بڑھ گیا اب اسے اپنی گڑیا کو بھی منانا تھا
اس نے جب کمرے میں قدم رکھا وہ کسی سے زریان کی شکایتیں لگانے میں مصروف تھی اور وہ جانتا تھا وہ کسی کون ہے
انہوں نے ہمیں شادی کی شاپنگ تو کروانا دور ہمیں بتایا بھی آج سے ہم دونوں ان سے کوئی بات نہیں کر یں گے
اس نے زرا اونچی آواز میں کہا تا کہ دروازے پر کھڑا زریان اچھے سے سن لے کیونکہ وہ اس کی قدموں کی آواز سن چکی تھی۔۔۔
زریان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔
کوئی شدید ناراض ہے مجھ سے اس نے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا
میں بھی ناراض ہوں بھیا
ہالے فون پر کہنے لگی جو زریان تو نہیں لیکن عزہ سن چکی تھی اس لیے فون اسپیکر پر ڈال دیا
ہالے بھیا سے کہو ہم اب ان سے کبھی بھی بات نہیں کریں گے
میں کیوں کہوں آپو آپ کہو کیونکہ میں آپ سے زیادہ ناراض ہوں وہ مجھ سے ملنے بھی نہیں آتے ۔۔۔۔
ہالے نے بھی اپنی ناراضگی بتائی
اچھا مجھے اپنی دونوں گڑیا کو منانے کے لیے کیا کرنا پڑے گا

ڈھیر ساری چاکلیٹ اور شاپنگ ۔۔۔جواب ہالے کی طرف سے آیا

چلو لیکن ہالے تو یہاں نہیں آسکتی تو اس کو پھر کبھی منا لینگے آج میں عزو کو شاپنگ پر لے کر جاتا ہوں اور آج کا پورا دن عزو کا
سچی بھیا
نہیں بھیا

ہالے اور عزہ کی ایک ساتھ آواز آئی
تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی
بھیا کیا ہوا میں وہاں نہیں ہوں تو لیکن آپ بھجوا بھی تو سکتے ہیں اور چاکلیٹ زیادہ پلیز نا آپ میرے سب سے پیارے بھیا ہو
اس نے منتیں کی۔۔۔۔عزہ اور زریان ہنس دیئے

چلو جلدی سے تیار ہو کر آؤ یار آج تم دونوں کے لیے آف کرنا پڑے گا مجھے وہ کہہ کر باہر چلا گیا

……………………………………………………………………..

اس نے جب سے اسے دیکھا تھا اس کی راتوں کی نیند اڑ گئی تھی وہ اس کی معصومیت کا دیوانہ ہو گیا تھا وہ بنا اجازت اس کے دل پر براجمان ہو گئی تھی

ملائکہ سےاس کی منگنی اس کے باپ کی خوشی پر ہوا تھا وہ اس کی ہم عمر تھی اور بچپن سے ساتھ پڑھے تھے وہ اچھی لڑکی کی تھی لیکن اس کا بولڈنیس اسے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا وہ اسے سمجھاتا تھا لیکن وہ ایک دن سے زیادہ عمل نہیں کرتی تھی لیکن اس نے سوچ لیا تھا وہ شادی کے بعد اپنے رنگ میں ڈھال لے گا

لیکن اب اس کے دل پر کسی پری نے قبضہ کر لیا تھا جسے چاہ کر بھی وہ نکال نہیں پا رہا تھا وہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا

کل اس کو دو مہینے کے لیے دبئی جانا تھا وہاں انکا نیا پرو جیکٹ چل رہا تھا اس نے سوچ لیا تھا وہ خود کو دو مہینے کا وقت دے گا اگر دو مہینے بعد بھی وہ عزہ کو بھول نہیں پایا تو وہ ملائکہ کو پیار سے سمجھائے گا بنا محبت کی شادی سے صرف دو لوگ برباد ہوتے ہیں ۔۔

جاری ہے۔۔۔

۔