Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
ناول ۔۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط اٹھارا
صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو خود کو زریان کی مظبوط گرفت میں پایا
وہ سوتے ہوئے بہت معصوم لگ رہا تھا بکھرے بال کھڑی ناک اسٹائل سے سیٹ ہوئی مونچھیں اور بئیرڈ سوتے ہوئے بھی وہ بہت سحر انگیز لگ رہا تھا وہ شاید فریش ہو کر دوبارہ سویا تھا بال ہلکے ہلکے نم تھے
ایک دم وہ الرٹ ہوئی آہستہ آہستہ گزری رات کا ایک ایک لمحہ اسے یاد آنے لگا تو ایک نظر خود کے سراپے پر ڈالی زریان کی براؤن شرٹ جو اسے بہت زیادہ کھلی تھی جس کی وجہ سے اس کا گلا اور کندھے نمایا ہو رہے تھے اپنا بے ترتیب حلیہ دیکھ وہ کان کی لو تک سرخ ہوئی
نا جانے کیوں وہ خود کو روک نہیں پائی شاید نکاح کے دو بول میں اتنی ہی طاقت ہوتی ہے کہ وہ چاہ کر بھی اس سے نفرت نہیں کر پارہی تھی جب زریان اس کامخافظ بن کر آیاتھا اسی پل اس نے سوچ لیاتھا وہ اپنے رشتے کو موقع دےگی لیکن وہ مرزا خاندان کے باقی کسی بھی فرد سے کوئی واسطہ نہیں رکھے گی خاص کر اپنے دادا اور دادی سے۔۔۔۔۔
کسمسا کر خود کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی
جب اسے کوئی راستہ نظر نہیں آیا تو وہ اس کے سینے کے پاس جھکی اور بہت آرام اپنے ہونٹ اس کے سینے ٹچ کیئے اور بہت زورسے سینے میں دانت گاڑے
وہ جو آنکھیں بند کیے آنا کا خود کے پاس آنا اور سینے پہ جھکنا محسوس کر کے اندر تک سر شار ہو رہا تھا اچانک تیز دانتوں کا وار سینے پر محسوس کر کے بلبلا گیا اور گرفت خودبخود ختم ہو گئ
اور موقع کا فائدہ اٹھا کر آنا جھٹ سے بیڈ سے اٹھی چھپاک سے واشروم میں بند ہو گئی
جنگلی بلی تمہیں تو میں دیکھ لوں گا
اپنے سینے کو مسلتے ہوئے زریان نے اسے وارن کیا
ایک بہت خوبصورت مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر بکھر گئی تھی
…………………………………………………………
مجھے زبردستی لایا گیا ہے میں آنا ہی نہیں چاہ رہی تھی پلیز دیکھو میری دوستوں نے فورس کیا میں آنا ہی نہیں چاہتی تھی لیکن وہاں میں اکیلی رہ جاتی بس آج کے بعد آئندہ میں تمہیں شکایت کا موقع نہیں دونگی
زائش ہاتھ جوڑے کھڑی تھی
روحان سے مزید اس کا رونا برداشت نہیں ہوا اور جلدی سے اس کے آنسو صاف کیے
دیکھو زائش میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور میں نہیں چاہتا کوئی میری عزت کو غلط نگاہ سے دیکھے
لیکن تمہیں یہ سب چھوڑنا ہو گا کیونکہ مجھے میری عزت سےبڑھ کر کچھ نہیں یار
ٹھیک ہے نہیں کرونگی وعدہ کرتی ہوں وہ اس کے سینے سے لگ گئی ۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد روحان نے اسے اس کے ہوٹل تک چھوڑا اور خود اپنے اپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گیا
………………………………………………………………………………………………
وہ سگریٹ پر سگریٹ پیئے جارہا تھا کمرہ دھوئیں سے بھر گیا تھا کسی پل اسے سکون نہیں تھا عجیب بے چینی تھی
اسے پانے کی چاہ دن بدن بڑھتی جارہی تھی
کیا وہ مجھے قبول کرے گی یا اس کے بھائی اس بات کو۔ قبول کریں گے کہ ملائکہ کو چھوڑ کر میں ان کی بہن سے شادی کروں
کیا وہ لوگ مجھے اپنی پھول سی بہن سونپ دیں گے
یہ سوال وہ دن میں خود سے بہت بار کرتا تھا لیکن کوئی مثبت جواب نہیں ملتا تھا
لیکن یہ تو طے تھا وہ عزہ کواپنا بنا کر رہے گا اس کی سانسوں کو بھی عزہ کی ضرورت تھی وہ اسے پانے کے لیے آخر تک لڑے گا سب سے ۔
روحان اس سے ملنے کے لیے جب اس کے کمرے میں آیا تو کمرے کا ماحول دیکھ اسے ایک پل کو حیرت ہوئی تھی
نیم اندھیرا کئے سگریٹ کے دھوئیں سے بھر ا ہوا کمرہ اسے وخشت ہوئی
( جب کے خود شراب پی کر آیا تھا🤣)
دلشیر یہ کیا حالت بنائی ہے تم نے اپنی اس نے کمرے کی ساری لائٹ جلا دی
دلشیر ابھی تک آفس والے حلیے میں ہی تھا چینج کرنے کی زحمت اس نے نہیں کی تھی شاید عزہ کی یادیں اس کے چینج کرنے سے زیادہ ضروری تھی
دلشیر نے اس کی طرف دیکھا ۔۔
یار کچھ نہیں ہوا اب بندہ کیا سگریٹ بھی نہیں پی سکتا اس نے چڑ کر کہا
ہاں پی سکتے ہو لیکن تم بات مت گھماؤ مجھے یہ بتاؤ
بات کیا ہے میں ہفتے سے نوٹ کر رہا ہوں تم مجھے پریشان لگ رہے ہو گھنٹوں بیٹھ کر سوچتے رہتے ہو
اس نے تحمل سے پوچھا آخر دوست تھا کیسے تنہا چھوڑ سکتے تھے
چل اٹھ دفع ہو جا میرے روم سے مجھے فریش ہونا ہے ہر وقت بکواس نا کیا کرو تم بس ہالے بھابھی اور اپنے فیوچر کے بارے میں سوچو مجھے اتنا مت سوچو کہ تمہاری بیوی مجھ پر شک کرنے لگے
دلشیر نے اسے دفع کرنے کے ساتھ ساتھ چھیڑنا ضروری سمجھا آخر اسے بتاتا بھی کیا
لیکن آگے بھی روحان ہی تھا ۔۔
مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے تم ملائکہ کے بجائے کسی اور کے ساتھ فیوچر پلاننگ کر رہے ہو
وہ جو واشروم کی طرف جارہا تھا
روحان کی بات پر بڑھتے قدم رک گئے تھے اور اس کا یہی رکنا روحان کی بات پر مہر لگا گیا تھا باقی کی کسر اس کے لفظوں نے پوری کر دی تھی
ہاں محبت ہو گئی ہے کسی سے اتنی محبت کے اسے بھولنے کی کوشش کے باوجود نہیں بھول پا رہا
دل شیر نے شکستہ لہجے میں اپنی حالت بیان کی اور وہی صوفے پر بیٹھ گیا
تو تم اسے بھولنا کیوں چاہتے ہو
روحان نے استفسار کیا
کیونکہ میں ملائکہ کو دھوکا دینا نہیں چاہتا تھا
اور ملائکہ کے ساتھ میری منگنی کا پتہ ہوتے ہوئے کیا کوئی اپنی لاڈلی بیٹی کا رشتہ مجھے دے گا
( اس نے بہن کہنے سے گریز کیا کہ وہ پہچان نا لے)
جہاں تک مجھے پتہ ہے ملائکہ کو تم پسند نہیں کرتے یہ تمہارے فادر اور ملائکہ کی مرضی پر بنا ہے وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ تمہیں اس وقت کوئی پسند نہیں تھا
اور تم نے یہ بات ان دونوں سے کی تھی کہ اگر شادی سے پہلے تمہیں کوئی پسند آگئی تو تم اسے چھوڑ دو گے اور تمہاری بات سے اگری کیا تھا سب نے یہ بات ملائکہ خود بھی جانتی ہے۔۔رائٹ؟
آخر میں اس نے تصدیق چاہی
ہاں۔۔۔
تو اب مسئلہ کیا ہے یار اور سچ کہوں مجھے ملائکہ تو خود پسند لڑکی لگتی جو اپنے علاؤہ کسی اور کے بارے میں نہیں سوچتا دلشیر نے اپنی سوچ بتائی
اور یہ بات تو دلشیر خود بھی جانتا تھا کیسے ملائکہ نے اس کے باپ کو اموشنلی بلیک میل کرکے یہ رشتہ کیا تھا
اور اس کے باپ نے اس کے ہر انکار کو دریا میں ڈال کر بس ایک ہی بات کی تھی کہ اگر کوئی پسند ہے تو بتاؤ ورنہ ملائکہ سے ہی کرنی پڑے گی اور اس ٹائم دلشیر کے دل و دماغ میں کوئی نہیں تھا
کاش تم دو مہینے پہلے آجاتی ۔۔۔وہ بس سوچ ہی سکا
بتاؤ بھی اب یار وہ اس کی خاموشی پر چڑ گیا
اسے نیند آرہی تھی نشے کے باعث لیکن وہ دلشیر کا مسئلہ حل کرنا چاہتا تھا
مسئلہ اس کی فیملی کا ہے یار کیا وہ مجھے اپنی بیٹی دیں گے جب ان کو پتہ ہے کہ میں ملائکہ کے ساتھ منگنی میں رہ چکا ہوں دلشیر نے اب اپنا اصل مسئلہ بیان کیا ۔۔۔
یعنی وہ ملائکہ کو چھوڑنے کا سوچ چکاتھا اسے ڈر صرف عزہ کی فیملی کا تھا
دیکھ بھئی دلشیر منگنی کی ہمارے اسلام میں کوئی اہمیت نہیں اور تم میں کوئی کمی نہیں جو کوئی تمہارے رشتے کے لیے انکار کرے تمہارے نکاح میں آنے والی لڑکی بہت خوش قسمت ہو گی اتنا یقین ہے مجھے
اور میں وعدہ کرتا ہو تمہاری مخبت اور تمہارے بیچ آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کرنے میں تم مجھے ہمیشہ اپنے ساتھ پاوگے۔۔۔
دلشیر کے دل میں سکون سا اترتا گیا جیسے اسے عزہ حاصل ہو گئی ہو
تھوڑی دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد روحان اپنے روم میں چلا گیا نا روحان نے لڑکی کے بارے میں جاننے کی کوشش کی نا دلشیر نے لڑکی کا نام بتایا
بنا نام پوچھے وہ اس کے دل سے بہت بڑا بوجھ اتار گیا
تھا۔۔۔
اب عزہ اسی کی تھی اس کو ملنی تھی اس کو یقین ہو گیا تھا۔۔ایک دم اس کا دل ہلکا ہو گیا تھا۔۔۔
…………………………………………………………
جب وہ واش روم سے باہر آئی تو زریان وہ روم میں کہیں
نہیں تھا اس نے دل میں شکر اداکیا اسے زریان سے بہت شرم آرہی تھی
وہ جلدی جلدی سے ہلکا ہلکا سا تیار ہوئی
پرپل کلر کے کاٹن کی کرتی ٹراؤزر اور بےبی پنک شیفون کا دوپٹہ لیے وہ آج معمول سے زیادہ حسین لگ رہی تھی
اسے بہت بھوک لگ رہی تھی لیکن باہر جانے کی ہمت نہیں تھی کہ کوئی اسے دیکھ کر رات کا حال نا جان لے نا وہ زریان کا سامنا کرنا چاہتی تھی
پانچ منٹ ہی گزرے ہو نگے ریشماں اس کے لیے ناشتہ لے کر آئی ۔۔
بی بی جی آپ جلدی سے ناشتہ کر کے آ جائیں زریان صاحب آپ کا ویٹ کر رہے ہیں آپ کی والدہ کی طرف جانا ہے آپ کو
ریشماں کہہ کر چلی گئی
لیکن وہ تو زریان کا سامنا کرنے کا سوچ کر ہی گھبراہٹ کا شکار تھی لیکن اپنی ماں کے پاس جانے کے لیے اسے زریان کا سامنا کرنا ہی تھا کیونکہ اس نے توبہ کی کہ کچھ بھی ہو جائے وہ اکیلی کبھی باہر نہیں جائے گی
جلدی سے اس نے ناشتہ کیا اور بڑی سی چادر لے کر باہر آگئی
زریان شاید گارڈ سے کوئی بات کر رہا تھا
موقع کا فائدہ اٹھا کر وہ جلدی سے بیک سیٹ پر بیٹھ گئ
پانچ منٹ بعد وہ بھی آکر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا
آگے آجاؤ آنا
وہ جو اس سے چھپنے کی کوشش کررہی تھی زریان کی گھمبیر آواز پر گھبرا گئی
ننن نہیں میں یہاں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔ وہ دھیرے سے منمنائی جو زریان بمشکل سن پایا
میری جان آگے آکر بیٹھو ورنہ آگر میں لے کر آیا تو یقیناً میرا طریقہ تمہیں پسند نہیں آئے گا
اس کی زومعنی بات پر وہ جی جان سے کانپ گئی اس سے کوئی بعید نہیں تھا وہ سچ میں اسے گود میں اٹھا کر لے جاتا اس کی بے باکی کا مظاہرہ تو وہ کل رات دیکھ ہی چکی تھی اس لیے جلدی سے نکل کر آگے دروازے کے ساتھ چپک کر بیٹھ گئی لیکن اسکی طرف دیکھنے کی غلطی نہیں کی
وہ اس کا شرمانا گھبرانا سب سمجھ رہا تھا اس کے چہرے پر اپنی قربت کے رنگ اسے بہت خوب لگ رہے تھےاور یہ سب اس کی برسوں کی خواہش تھی جو اب جا کر پوری ہوئی تھی اس لیے وہ دل سے بہت خوش تھا
وہ خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا
گاہے بگاہے ایک محبت بھری نظر اس پر بھی ڈال لیتا تھا
اس کی ایک نظر پر ہی وہ خود میں سمٹنے لگتی۔۔۔
آنا۔۔۔۔۔بہت محبت سے زریان نے پکارا
جی ۔۔
چاچی کے پاس تمہیں چھوڑ کر میں آفس چلا جاؤں گا
پھر چار بجے تک ریڈی رہنا میں آؤنگا لینے پھر گاؤں کےلئے
نکلیں گے
لیکن میں گاؤں کیوں جاؤنگی ؟اس نے جھٹ سے سوال کیا
کیونکہ تم میری بیوی ہو اور جہاں میں جاؤں گا تمہیں بھی جانا ہوگا ۔۔۔زریان نے بھی سکون سے جواب دیا
اس دوران گھر آگیا تو اس نے گاڑی روک دی آنا گاڑی سے باہر نکلی
میں آپ کی بیوی ہوں جانتی ہوں جہاں لے کر جانا چاہیں گے آنکھ بند کر کے جاؤں گی ایک بھی سوال نہیں کرونگی لیکن ۔۔۔
گاؤں نہیں جاؤں گی میں ۔۔۔۔
زریان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چبا چبا کر کہا اور بنا کوئی دوسری بات کیے آگے بڑھ گئی
زریان اسے تب تک دیکھتا رہا جب تک وہ گھر کے اندر نہیں چلی گئی جب وہ گھر کے اندر چلی گئی
تو وہ بھی سر جھٹکتا گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔۔۔
اسے کچھ ایسے ہی جواب کی توقع تھی آنا سے اس لیے پہلے ہی سارے انتظام کر لئے تھے اس نے۔۔۔
……………………………………………………………………..
میری بیٹی مصروف تو نہیں ؟؟
دروازے پر دستک ہوئی تو عزہ نے آنے کی اجازت دی تو عالم صاحب کا مسکراتا چہرہ نظر آیا
نہیں بابا میں تو فارغ ہوں آئے نا پلیز
اس نے کھڑے ہو کر بابا سے ملتے ہوئے کہا
آج مجھے اپنی بیٹی کی یاد آرہی تو سوچا آکر مل لوں بابا نے اس کا ماتھا چوم کر اپنے ساتھ بٹھا لیا
مسکراتے ہوئے وہ بھی بابا کے بازوؤں سے لگ کر بیٹھ گئی
کیا خیال ہے کھیتوں میں ایک چکر لگا کر آئے باپ بیٹی انہوں نے عزہ سے پوچھا تو وہ بھی خوشی خوشی راضی ہو گئی
بابا ۔۔۔۔۔۔
اچانک دھڑام سے دروازہ کھول کر ہالے اندر آئی اور منہ بنا کر بابا کو پکارا
بابا نے مسکراہٹ چھپائی
وہ جانتے تھے ضرور فائزہ بیگم نے عزہ اور ان کے کھیت میں جانے کی خبر اپنی لاڈلی تک پہنچا دی ہوگی
تبھی تو آگ بگولہ ہو کر آئی تھی
آپ کیسے مجھے چھوڑ کر اکیلے آپو کو لے کر جا سکتے ہیں
اس کی چھوٹی سی ناک غصہ سے لال ہو رہی تھی عزہ اور بابا نے بہت مشکل سے ہنسی کنٹرول کی ۔۔۔
ارے میں تو اپنی ہالے کو بھی لینے آرہا تھا انہوں نے ہالے کو پھچکارا
نہیں میں ناراض ہوں اب نہیں جانا مجھے وہ منہ بنا کر چہرہ پھیر گئی
پکا نہیں جانا آپ کو ہمارے ساتھ؟عالم صاحب نے دوبارہ پوچھا
نہیں جانا نہیں جانا نہیں جانا۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے عزہ بیٹا چلو ہالے تو ناراض ہے ہم اس کو بعد میں منا لیں گے ابھی تو میں اور آپ چلتے ہیں
انہوں نے ہالے کی طرف دیکھتے ہوئے عزہ سے کہا اور چلنے لگے۔۔
بابا یار میں تو مزاق کر رہی تھی میں چلوں گی نا آپ کے ساتھ ۔۔۔۔۔جلدی سے ہالے نے بابا کا ہاتھ پکڑ کیا
اس کی جلد بازی پر دونوں کا قہقہہ گونجا کمرے میں
اس نے بھی بدلے میں دونوں کو گھور کر دیکھا
اور جلدی سے آگے بڑھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔
دو گھنٹے تک وہ سب گھومتے رہیں پھر بابا اور عزہ ایک بھینچ پر بیٹھ گئے تو ہالے سامنے پودوں میں سے وہ اپنے لیے پھول توڑنے لگی
عزہ
جی بابا
بیٹا آپ کی پھوپھو نے عاشر کے لیے آپ کا ہاتھ مانگا ہے
بابا نے اسے آگاہ کیا اور سامنے ہالے کو دیکھنے اور عزہ بابا کو
سب اس رشتے کے لیے راضی ہیں
لیکن میں اپنی بیٹی کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کرونگا کوئی زور زبردستی نہیں آپ جیسا کہو گی وہی ہوگا
عالم صاحب نے بہت پیارا سے اس کےسر پر ہاتھ رکھا
بابا جو آپ کو بہتر لگے مجھے کوئی اعتراض نہیں اس نے مسکرا کر عالم صاحب کی طرف دیکھا۔۔۔
ویسے بھی اس کی زندگی میں کوئی نہیں تھا اور پہلے بھی وہ بابا کا دل دکھا چکی ہے دوبارہ ایسا کر نے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی
ایک بار اور اچھے سے سوچ کے جواب دینا آپ مجھے کوئی جلدی نہیں بچے ۔۔۔عالم صاحب نے بہت محبت سے کہا۔۔
تب تک ہالے بھی پھول جمع کر کے آگئ تو اس نے آگے کوئی بات نہیں کی پھر تینوں ہی گھر کی طرف لوٹ گئے ۔۔۔
جاری ہے ۔۔
