Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 38
No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
ناول دل سکون.
رائٹرز رناب چاند
قسط_اڑھتیس
بھابھی پلیز بھیا سے کہیں میں ان کی بات سے اختلاف نہیں کر رہی لیکن میں شادی نہیں کر سکتی پلیز مجھے بس تھوڑی سی جگہ دے دیں میں بہرام کے ساتھ وہاں پڑی رہونگی ۔۔۔۔لیکن میں یہ نکاح نہیں کر سکتی آپ آپ پلیز میری مدد کریں ۔۔۔۔ماما بی جان کوئی میری بات نہیں سن رہا پلیز آپ آپ بھیا سے کہیں مجھے شادی نہیں کرنی ۔۔۔۔
وہ آنا کے سامنے ہاتھ جوڑے اس سے منتیں کر رہی تھی
ہالے اور آنا کے آنسو بھی اس کے ساتھ جاری تھے۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں بارات پہنچنے والی تھی عزہ اور بہرام کی ہر چیز دلشیر نے خود پسند کر کے بھجوائی تھی۔۔۔۔
لیکن وہ تیار ہونے کو راضی ہی نہیں تھی ۔۔۔۔
عزو تم سمجھنے کی کوشش کرو سب نے تمہارے لئے اچھا سوچا ہے تم پریشان مت ہو زندگی کا ایک تجربی اگر خراب ہو تو ضروری نہیں کہ ہر بار ہی غلط ہو ۔۔۔
اللّٰہ تمہارے صبر کا تمہیں انعام دینے والا ہے اپنی خوشیوں کو سمیٹ کو اس سے منہ مت موڑو۔۔۔۔
آنا نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔
مجھے نہیں چاہئے خوشیان میں منحوس ہو مجھے خوشیاں راس نہیں اتی کیوں نہیں سمجھ رہے مجھے نہیں کرنی۔۔۔۔اس کی چیخ باہر سے گزرتے زریان نے بخوبی سنی تھی۔۔۔۔اور وہ کمرے میں داخل ہو گیا سب نے گھبرا کر اسے دیکھا۔۔۔
تو آپ اپنے بھائی کو سب کے سامنے شرمندہ کرنا چاہتی ہیں
مجھے بے ایمان ثابت کرنا چاہتی ہیں آپ چاہتی ہیں پورے گاؤں کے لوگ آپ کے باپ دادا اور بھائیوں پر تھوکیں ۔۔۔۔۔
اگر میری گڑیا ایسا چاہتی ہیں تو کوئی بات نہیں میں آپ کی خوشی کے لیے اپنی زبان سے مکرنے کو تیار ہوں میں لوگوں کے طعنے بھی برادشت کرلوں گا ۔۔۔
مجھے بس میری گڑیا کی خوشی عزیز ہے ۔۔۔
وہ کہتے ہوئے وہاں سے جانے لگا کہ عزہ بھاگتی ہوئی آئی اور اس کے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔۔م میں تیار ہوں بھیا ۔۔۔۔
زریان آسودگی مسکرا دیا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا
مجھے یقین ہے وہ آپ کو بہت خوش رکھے گا۔۔۔۔آپ جلدی
تیار ہو جائیں سب آنے والے ہیں ۔۔۔
زریان کہہ کر کمرے سے نکل گیا۔۔۔
ایک بار پھر وہ سب کے بارے میں سوچتی کسی روبوٹ کی طرح بیوٹیشن کے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
وہ جانتا تھا اس کی بہن بہت معصوم ہے وہ اپنوں کے لئے کچھ بھی کر جائے گی اس لیے آج زریان نے اس کی خوشی کے لیے اسے ہی رشتوں کے نام پر بلی میل کیا تھا۔۔۔۔
……………………………………………………………………………………
تھوڑی ہی دیر میں بارات کا شور اٹھا تو ہالے کا دل زور سے دھڑکا دل نے شدت سے دعا کی کہ کاش وہ بھی آیا ہو۔۔۔جو اس کی وجہ سے اپنے خاندان سے بھی دور ہو گیا تھا۔۔۔
وہ جلدی سے ہلکا سا تیار ہو کر دوپٹہ لے کر کمرے سے نکلنے لگی۔۔۔۔کہ اچانک لائٹ آف ہو گئی۔۔۔۔گھبرا کر اس نے موبائل ڈھونڈنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔لیکن اپنی کمر پر سرسراتی انگلیوں کا لمس محسوس کر اس نے اپنی سانسیں تک روک لی وہ یہ خوشبو کبھی نہیں بھول سکتی تھی
تو کیا چھ مہینے بعد اسے اپنی بیوی کی یاد آگئی تھی۔۔۔
روحان بنا کچھ بولے اس کی بالوں میں جھکا اور اس کی خوشبو کو محسوس کرنے لگا ۔۔۔۔۔
اس کے لمس پر دکھ غصہ کیا کچھ نہیں اس کو آیا تھا۔۔۔
وہ اس کا لمس پر اس کی موجودگی محسوس کئے ناراضگی سے خود میں سمٹ گئی۔۔۔
اور اس سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔
تبھی روحان نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے سختی سے خود میں بھینچ لیا۔۔۔۔۔
تمہاری غلطیاں چھوٹی تو ہرگز نہیں لیکن دور رہ کر تمہیں آزادی دینے کی غلطی اب دوبارہ ہرگز نہیں کروں گا۔۔۔۔وہ اس کے کان کے پاس غرایا تھا۔۔۔۔
ک کک کیوں آئے ہیں اب آپ۔۔۔۔۔
کس کے لیے آئے۔ ۔۔۔ جائیں اسی کے ساتھ رہیں جس کے سا ساتھ ات اتنے مہینوں سے رہ ۔۔۔۔
کہتے ہوئے وہ سسک پڑی ۔۔۔۔۔آنسوؤں کا پھندا گلے میں اٹک چکا تھا۔۔۔۔
جس کی وجہ سے اپنی بات پوری نہیں کر پائی
لیکن اس سے دور ہونے کی مزاحمت جاری رکھی ۔۔۔
روحان کے اتنے پاس ہونا ہی اس کی سانسیں روکنے کا سبب بن رہا تھا
مگر اس کی مزاحمت سے روحان کو کوئی فرق نہیں پڑا الٹا وہ ایک ہی جھٹکے میں اسے گھما کر اپنے سینے سے لگا کر اس کے ہاتھ کمر پر باندھے اسے بےبس کر چکا تھا۔۔۔۔۔
ہالے کے درد اور تکلیف سے آنکھوں سے آنسوں بہہ نکلے
اس نے نظریں اٹھا کر روحان کودیکھا ۔۔۔۔۔
آج وہ پورے سال بعد اسے دیکھ رہی تھی اس نے کب کب اسے یاد نہیں کیا تھا لیکن وہ ستمگر نہیں آیا وہ پہلے سے زیادہ وجیہہ ہو گیا تھا۔۔۔۔ لائٹ گرے کاٹن کے سوٹ میں وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
روحان نے جھک کر وہ آنسو اپنے لبوں سے چنے۔۔
اور اسے کچھ بھی سوچنے کا موقع دئیے بغیر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا اس کے لمس میں بے پناہ شدت تھی ۔۔۔جیسے وہ اپنے اتنے دن کی ساری کثر ایک ہی دن میں پوری کر لے گا۔۔۔۔۔۔
ہالے تم کہاں ہو لائٹ کیوں بند ہے ۔۔۔۔۔
آنا کی آواز پر روحان اس سے دور ہوا ۔۔۔۔انا نے لائٹ آن کی تو ہالے کے ساتھ روحان کو دیکھ وہ بھی حیران ہو گئی۔۔۔
روحان کے ہونٹوں پر محفوظ کن مسکراہٹ تھی۔۔۔
جبکہ ہالے بیڈ پر بیٹھی گہرے گہرے سانس لے رہی تھی ۔۔
اس کی حالت دیکھ آنا کے چہرے پر شرمندگی چھا گئی۔۔۔۔
سوری میں شاید غلط ٹائم پر آگئی۔۔۔وہ ماما سب کو بلا رہی ہیں اس لیے بس۔۔۔۔وہ ندامت سے کہہ کر جانے لگی۔۔۔
ارے بھابھی صاحبہ آپ آئی تو غلط ٹائم پر ہیں لیکن اب آہی گئی ہیں تو زرا اپنی دیورانی کو ساتھ لے کر جائیں ۔۔۔۔
کیونکہ ان کو زرا سہارے کی بہت ضرورت ہے ایسا نا ہو کہیں گر ور جائیں۔۔۔۔
روحان آنا سے کہتا ایک نظر ہالے پر ڈالے گنگناتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔۔۔
آنا کا دل ایک دم پر سکون ہو گیا تھا ایک عرصے بعد سب ٹھیک ہو رہا تھا ۔۔
ہالے کو لئے وہ بھی باہر نکل گئی۔۔۔۔
………………………………………………………………………
آخر وہ دن آن پہنچا تھا جب ایک طویل انتظار کے بعد دلشیر خان اپنی محبت حاصل کرنے جا رہا تھا
آف وائٹ سوٹ میں آف وائٹ ہی واسکٹ پہنے اپنی یونانی دیوتاؤں والا حسن لئے وہ وہاں موجود ہر شخص پر چھایا ہوا تھا اپنی جیسی ہی ڈریسنگ اس نے بہرام کی کروائی تھی دونوں ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔اس وقت وہ مولوی صاحب کے سامنے بہرام کو گود میں لئے بیٹھا تھا۔۔۔۔
اس کو جب پتہ چلا وہ کسی اور کے نام ہو گئی تو اس نے اپنے رب کے فیصلے پر سرجھکا دیا تھا اس نے کبھی اسے پانے کی چاہ نہیں کی اس نے ہمیشہ اسے خوش دیکھنا چاہا تھا اور پھر اس کے صبر اس کی پرخلوص نیت وہ جزبات کے بدلے اس کی اتنی تکلیفوں کے بعد اس کی خواہش پوری ہونے والی تھی۔۔۔۔
اس کے دل۔کا حال اس کے چہرے سے عیاں تھا۔۔۔۔
اس کے ساتھ میں مسٹر خان بیٹھے تھے دوسری طرف زریان بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔
بیچ میں سفید پھولوں کا بڑا سا پردہ تھا ۔۔۔۔
آف وائٹ گرارہ اسکی گوری رنگت پر خوب جچ رہا تھا ہاتھوں پر عائزہ بیگم کی لائی ہوئی سونے کی چوڑیاں سجی تھی ۔۔۔۔۔ وہ جو سادگی میں بھی کمال لگتی تھی آج پور پور دلشیر کے نام کا سنگھار کئے اپنے سوگوار حسن کے ساتھ مزید نکھر گئی تھی۔۔۔۔۔
سب کی نظریں جو ایک بار اس پر اٹھتی تو ٹہر جاتی۔۔
بی جان جانے کتنی بار اسکی نظر اتار چکی تھی ۔۔۔۔۔ وہ نازک سا وجود سر پر دلشیر کی دلہن کے نام کی چنری پہنے۔۔۔وہ سہج سہج کر روحان کے ساتھ کسی روبوٹ کی طرح آگے بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔ چہرے پر کسی قسم کا کوئی تاثر نہیں تھا۔۔۔۔
روحان نے اسے لا کر پردے کے دوسری طرف بٹھا دیا ۔۔۔۔
چاروں طرف سارے مہمان کھڑے تھے۔۔۔۔روحان عزہ کے پاس کھڑا ہو گیا ساری عورتیں عزہ کی طرف تھی مرد سارے دلشیر کی طرف تھے۔۔۔۔
جو بھی دیکھتا اس لڑکی کی قسمت پر رشک کر رہا تھا ۔۔۔
عزہ عالم ولد عالم مرزا آپ کا نکاح دلشیر خان ولد محمد خان کے ساتھ پچاس لاکھ اور بیس تولہ سونا حق مہر طے پایا ہے۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟
مولوی صاحب کے الفاظ اس کے کانوں میں پڑے تھے
یہی سب کچھ وہ پہلے بھی سن چکی تھی اور اس کا انجام بھی دیکھ لیا تھا ۔۔۔اس کی آنکھوں سے ایک ساتھ کئی آنسو بہہ گئے ۔۔۔۔جسم الگ کانپنے لگا۔۔۔روحان نے اس کا ہاتھ تھاما ۔۔۔۔
مولوی صاحب نے دوبارہ وہی الفاظ دہرائے ۔۔۔۔
عزہ بولو بیٹا بی جان نے اسے کہا۔۔۔۔
ق قبول ہے۔۔۔۔۔کانپتے لہجے میں اس نے ایک بار پھر اپنا آپ کسی اور کے نام کر دیا۔۔۔۔۔تین بار وہی جملے دہرائے تینوں بار اس نے کانپتے لہجے میں قبول کیا۔۔۔
وہی الفاظ دوبارہ ادا کرتے اسکی ہچکی بندھ گئی تھی۔۔۔۔۔
کانپتے ہاتھوں سے اس نے نکاح نامے پر سائن کئے کئی آنسوں نکل کر نکاح نامے پر گرے تھے۔۔۔۔۔۔روحان نے اسے اپنے ساتھ لگا کر دلاسہ دیا تھا
پردے کے اس پار بھی مولوی صاحب کے الفاظ اس نے سنے تھے اس کا کانپتے لہجے میں قبول کہنا دلشیر کو زندگی کی نوید سنا گیا تھا
اسکے چہرے پر خوشی کے ساتھ ساتھ گھبراہٹ بھی واضح تھی دل اس قدر تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ کسی بھی وقت باہر جائے گا
۔
دلشیر خان ولد محمد خان آپ کا نکاح پچاس لاکھ اور بیس تولہ سونا حق مہر کے عزہ عالم بنت عالم مرزا کے ساتھ طے پایا ہے کیا آپکو قبول ہے ؟
دلشیر کا دل ساکن ہوا اس نے تو یہ خواہش کرنا اسی دن چھوڑ دیا تھا جس دن وہ کسی اور کے نام ہوئی ۔۔۔۔
کیا اللّٰہ نے بن مانگے اسے اس کی زندگی میں دے دیا تھا
ایک آنسو ٹوٹ کر بہرام کے بالوں میں جذب ہو گیا۔ جو اسی کی گود میں بیٹھا دلچسپی سے سب دیکھ رہا تھا۔۔۔
مسٹر خان نے اپنے بیٹے کی حالت سمجھتے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
اس نے تشکر سے ان کی طرف دیکھا اور بے انتہا دھڑکتے دل کے ساتھ کہا۔۔
قبول ہے۔
قبول ہے ۔
قبول ہے ۔
زریان کو اپنی بہن کی قسمت پر رشک ہوا تھا جسے دلشیر جیسا ہمسفر ملا تھا۔۔۔
مبارک باد کا شور اٹھا وہ عالم صاحب نے بہرام کو اس کی گود سے لے کیا وہ باری باری سب سے ملا اس سے ملنے والا ہر شخص اس کی دھڑکنوں کی آواز بخوبی سن سکتا تھا ۔۔۔
دھڑکتے دل کے ساتھ وہ پھولوں کی لڑیوں کو ہٹاتا عزہ کے پاس آیا ۔۔۔۔
جھکی نظروں سے اپنی طرف بڑھتے قدموں کو دیکھ عزہ نے اپنی شرٹ کو مٹھیوں میں بھینچ لی۔۔۔۔
اپنے نام کے جوڑے میں سجی عزہ کو دیکھ اسے اپنے رب پر بے تحاشا پیار آیا ۔۔۔
بے شک تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ۔۔۔
وہ جھکا اسے کندھوں سے تھام کر اٹھایا اور اس کا گھونگھٹ الٹ دیا۔۔۔۔
اور جھک کر اپنی محبت کی پہلی مہر اس کے ماتھے پر ثبت کی۔۔۔۔۔
عزہ اس کے لمس پر مزید برادشت نا کر پاتے اسی کے بازوؤں میں جھول گئی۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
