Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

ناول ۔۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔۔۔تئیس

وہ جھکا اور باری باری اس کی آنکھوں پر لب رکھے ۔۔

اس سے پہلے کے وہ دوبارہ ان ہونٹوں پر جھکتا
پیچھے سے قدموں کی آواز آئی تو اس سے الگ ہو کر ٹیبل پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

ارے روحان تم کب آئے مجھے جگا دیا ہوتا۔۔
فائزہ بیگم نے اسے کچن ٹیبل پر بیٹھے دیکھ کر کہا
ایک نظر ہالے کو بھی دیکھا جو ابھی تک اپنے سینے پر ہاتھ رکھے آنکھیں بند کئے گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔۔۔۔
وہ بہت کچھ سمجھ گئی تھی مسکراہٹ خودبخود ہونٹوں پر آ گئی۔۔۔
ان کے دیکھنے پر ایک نظر روحان نے بھی مڑ کر ہالے کی دیکھا تھا

اور اس کی حالت دیکھ کر وہ خود ہی شرمندہ ہو گیا تھا

ماما مجھے بھوک لگی ہے پلیز کچھ دے دیں کھانے کو اس نے اپنی شرمندگی مٹانے کو زرا تیز آواز میں کہا تا کہ ہالے بھی خیالوں سے باہر آجائے۔۔۔
ہوا بھی یہی اس نے بوکھلا کر آنکھیں کھولیں تو سامنے فائزہ بیگم کو دیکھا کھسیانی ہو کر جلدی سے چھولا بند کیا جہاں نوڈلز کے لیے پانی رکھا تھا جو ابل ابل کر سوکھ گیا تھا۔۔۔۔
ہالے بیٹھو میں کھانا دیتی ہوں تم دونوں کو فائزہ بیگم نے ہالے کو بیٹھنے کو کہا
ماما مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔۔ کہتے ہی وہ سو کی اسپیڈ سے کچن سے بھاگ گئی…
پیچھے دونوں کو مسکرانے پر مجبور کر گئی

…………………………………………..

وہ صبح چار بجے گھر پہنچا تھا کچھ گھنٹے آرام کرنے کے بعد اسے دوبارا واپس جانا تھا وہ کمرے میں داخل ہوا تو
وہ اسی کے بستر پر بڑے استحقاق سے کمبل اوڑھے لیٹی خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی یہ اس کے برسوں کی خواہش تھی
وہ الماری کی طرف بڑھا ایک سادہ سا ٹراؤزر شرٹ نکال کر فریش ہونے چلا گیا
آدھے گھنٹے بعد وہ فریش سا ٹاول سے بال رگڑ تا باہر آیا
ٹاول اسٹینڈ پر ٹاول لٹکا کر وہ بھی ایک طرف بیڈ پر لیٹ گیا ایک ہاتھ سے آنا کو کھینچ کر اپنے پاس کیا اور اسکی گردن میں ناک سہلانے لگا
اچانک کسی کے کھینچنے اور گردن میں ٹھنڈک محسوس ہونے پر جھٹ سے آنکھیں کھولیں تو زریان کو اپنے اوپر پایا

اس کی آنکھوں کا پیغام سمجھ کر آنا گھبرا کر شرم کے مارے کروٹ بدل گئی

آنا کی دودھیا گردن پر نظر پڑتے ہی زریان کو اپنے گلے میں کانٹے سے اگتے محسوس ہوئے
وہ جھکا اور جا بجا اس کی گردن پر ہونٹ ثبت کرنے لگا تشنگی تھی کہ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔۔۔۔
وہ خود میں اس کی طلب کو بڑھتا ہوا محسوس کرنے لگا اس نے کھینچ کر اسے سیدھا لٹایا اور اس کے اوپر آگیا

اور جھک کر اسکی سانسیں اپنی سانسوں میں انڈھیلنے لگا
اس کی قربت میں اتنی نرمی تھی کہ وہ چاہ کر بھی اس خود سے دور نا کر پائی۔۔۔۔
زریان سب بھلا چکا تھا دن بھر کی تھکاوٹ اور پریشانی کو وہ اس کی قربت میں سب بھلانے لگا اور اپنی محرم کے وخود میں گم ہونے لگا ۔۔۔

………………………………………………………………………

آنا جب سو کر اٹھی تو زریان نہیں تھا کمرے میں اسے لگا شاید باہر ہوگا وہ تیار ہو کر کافی دیر تک انتظار کرتی رہی لیکن جب دس بجے بھی وہ نہیں آیا تو خود ہی شرمائی شرمائی سی باہر آئی ۔۔۔

فائزہ بیگم سارہ بیگم اور بی جان لاؤنج میں صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی وہ بھی چل کر ان کو سلام کر کے ان کے پاس ہی بیٹھ گئی بی جان جہاند یدہ عورت تھی اس کے رنگ روپ کو دیکھ کر ہی بہت کچھ سمجھ گئی تھی ۔۔۔۔
اللّٰہ تم دونوں کی جوڑی ہمیشہ سلامت رکھے اللّٰہ تم دونوں کو جلدی سے نیک اولاد سے نوازے۔۔۔
بی جان نے اسے دل سے دعا دی جس پر اس کے گال سرخ ہو گئے ۔۔۔۔ماما نے دل میں اس کی نظر اتاری۔۔
آنٹی ہالے کہاں ہے۔۔۔۔۔اس نے بی جان کی نظروں سے بچنے کے لیے ہالے کا پوچھا ۔۔
میں تمہاری آنٹی نہیں زریان کی طرح تم بھی مجھے ماما کہا کرو۔۔۔۔۔۔
ارے بھابھی رہنے دیں اس کو کیا پتہ خاندانی طور طریقوں کا کسے سمجھا رہی ہیں آپ ۔۔۔۔۔سارہ بیگم نے نخوت سے کہا
جس پر آنا نے حیرت سے انہیں دیکھا۔۔۔
سارہ تم چپ رہو یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے اور اب یہ اسی خاندان کی ہے یہی اس کا سب کچھ ہے۔۔۔۔۔بی جان نے بیٹی کو جھٹکا۔۔۔۔
اماں پتہ کیا ہے آپ لوگوں نے کہ اس کے آگے پیچھے کون ہے کون نہیں کس خاندان سے ہے باپ کون ہے اس کا بھئی ایسی بھی کونسی بیماری جو اس کی ماں یہاں شادی میں ہی شامل نہیں ہو سکی مجھے تو لگتا ہے کوئی اور ہی بات ہوگی۔۔۔سارہ بیگم بھی اپنے اندر کے شہر کو نکالنے سے روک نہیں پائی

اس کی آنکھوں میں بے ساختہ آنسو آگئے ۔۔۔۔۔

سارہ۔۔۔۔۔جلال مرزا کی دھاڑ پورے لاؤنج میں گونجی کہ
سب گھبرا کر اٹھ گئے ۔۔۔۔وہ چلتے ہوئے آنا کے پاس آئے ۔۔
آج کے بعد خبردار آپ نے ہماری بیٹی کے خلاف کچھ بھی الٹا سیدھا کہا ورنہ ہم بھول جائیں گے کہ آپ ہمارا ہی خون ہے جو رشتے جو خاندان زریان کا ہے وہی سب آنا کا بھی ہے
آئیندہ ان کے خاندان کے بارے میں آپ کے منہ سے کچھ بھی الٹا سیدھا نا سنوں میں!!!!
انہوں نے ایک ایک لفظ سارہ بیگم کو دیکھتے چبا چبا کر کہا۔۔۔
بابا جان میں تو بس۔۔۔سارہ بیگم نے اپنی صفائی دینے کی کوشش کی لیکن ان کی ایک سخت نظر پر ہی چپ ہوگئی۔۔۔

دادا جان آنا کو ساتھ لئے وہاں سے سیڑھیاں چڑھ گئے ۔۔۔۔۔
وہ دونوں ٹیرس پر آگئے جہاں ہالے پہلے ہی اپنے کبوتروں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔
ان کو آتے دیکھ فوراً دادا جان کے سینے سے لگی۔۔۔اور ہاتھ آگے کیا دادا جان نے ڈیری ملک نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیا وہ چاکلیٹ کی دیوانی تھی اس سے اگر کوئی کام کروانا ہو تو صرف ایک ڈیری ملک ہی کافی تھی ۔۔۔۔

دادا جان نے ایک ڈیری ملک آنا کو بھی دی جو اس نے جھجھکتے ہوئے تھام لی۔۔۔۔

دادا جان وہی رکھی ایک چئیر پر بیٹھ گئے اور آخبار پڑھنے لگے
جبکہ آنا اور ہالے دنیا بھلائے ٹیرس میں رکھے گملوں کی صفائی کرکے اور جگہ چینج کر کے ان کو نیا لک دینے لگی

ان دونوں نے کھانا بھی اوپر منگوا لیا تھا تھوڑی دیر بعد دادا جان نیچے چلے گئے تھے۔۔۔۔
ان دونوں کو عزہ کی بھی بہت یاد آرہی تھی جو تھوڑی دیر میں ہی آنے والی تھی کب شام کے چار بج گئے پتہ ہی نہیں چلا ان کو ایک دوسرے کے ساتھ ٹائم گزارنا بہت اچھا لگا

بی جان کا بلاوا آیا تو وہ دونوں بھی جلدی سے فریش ہو کر
نیچے آگئی تھی۔۔۔

عزہ آپو کیسی ہیں آپ ہالے اس سے مل کر پوچھنے لگی
میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو میں بھی ٹھیک ہوں میری جان

ہالے کے بعد وہ آنا سے ملی
اور بھابھی آپ کیسی ہیں عزہ نے آنا سے پوچھا
لیکن آنا کی نظریں اس کے گردن کے تھوڑا نیچے موجود نشان پر تھا دوپٹے
ہم ٹھیک ہیں دونوں نے گرمجوشی سے جواب دیا گھر میں سب ہی خوش تھے عزہ کو خوش دیکھ کر ۔۔۔
نیہا اپنے چاچا کے گھر گئی ہوئی تھی جب کہ سارہ بیگم خاموش خوش تھی ۔۔۔۔

عاشر نے سب کو کل اپنے اور عزہ کے جانے کی خبر دی تو سب اتنی جلدی پر پریشان ہو گئے لیکن اس نے سب کو تسلی دی کہ وہ جلدی عزہ کو ملوانے لائے گا لیکن کل جانا ضروری ہے اس کی چھٹیاں ختم ہو گئی تھی ۔۔۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی سب مان گئے

دادا جان نے روحان اور زریان کو بھی کل صبح حویلی پہنچنے کا حکم دیا تھا تا کہ اچھے سے عزہ کو وداع کر سکے۔۔۔۔

…………………………………………………………………….

زریان اور روحان دلشیر اور اس کی فیملی کو چھوڑنے کراچی آئے تھے دلشیر بلکل خاموش تھا جیسے وہ کوئی روبوٹ ہو سب نےاس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن ہمم ہاں سے زیادہ اس نے کوئی جواب نہیں دیا
انکو چھوڑ کر وہ دونوں بھائی واپسی کے لیے نکلے تھے
تھکاوٹ اتنی تھی کہ بس کوئی حد نہیں لیکن فیملی اور دوستی کے لیے ہر وقت تیار تھے۔۔

صبح فجر کے ٹائم وہ گھر پہنچے تھے روحان تو جا کر بنا فریش ہوئے بستر میں گر گیا تھا البتہ زریان اچھے سے فریش ہوا نماز پڑھی پھر بستر میں لیٹ کر آنا کو اپنے سینے میں بھینچا آنا نے بھی نیند میں زریان کو پاس پا کر اس کے گرد بازوؤں کا حصار باندھا تھا اور سو گئے۔۔۔۔

خود پر کوئی بوجھ محسوس کر کے صبحِ نو بجے کے قریب آنا کی آنکھ کھلی تو زریان کو خود پر سارا وزن ڈالے لیٹے دیکھا
زریان اٹھیں اس نے لال ہوتے چہرے سے زریان کو پکارا۔۔۔
زریان نے مزید اس کو خود میں بھینچ لیا ۔۔۔۔۔
زریان چھوڑیں ورنہ بہت برا ہوگا اس نے دھمکی دی
زریان آنکھیں کھول کر اسے دیکھا جو لال ہو رہی تھی اب یہ سرخی شرم کی تھی یا غصے کی کون جانتا تھا
زریان میں آخری بار وارن کر رہی ہوں اس نے بہت ظبط سے اسے وارن کیا
زریان نے ایک آئبرو اچکا کے اسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو سیرئیسلی۔۔۔

آنا نے بھی غصے میں کچھ نہیں دیکھا اس کے سینے میں جھک کے کاٹنے ہی والی تھی کہ زریان نے راستے میں ہی اس کے ہونٹوں کا بہت بری طرح شکار کر لیا بچاری پھڑپھڑا کر رہ گئی۔۔۔
وہ اپنی مرضی سے خود کو پر سکون کر کے پیچھے ہٹا اور مسکرا کر آنا کے ماتھے پر بوسہ دیا
شکریہ میری فیملی کو عزت دینے کے لیے۔۔زریان نے اس کے گال پر لب رکھے۔۔۔۔
شکریہ مجھے قبول کرنے کے لیے ۔۔۔۔اس کی ناک پر بوسہ دیا۔۔۔
شکریہ مجھے سکون دینے کے کے لیے ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ اس کی گردن پر جھکتا دروازے کی آواز پر بدمزہ ہو کر پیچھے ہٹا
آنا بچاری شرم سے گردن ہی نہیں اٹھا پا رہی تھی دروازہ مسلسل بج رہا تھا زریان اٹھ کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا تو مجبوراً آنا نے اٹھ کر دروازہ کھولا

وہ جی بیگم صاحبہ بی جان آپ دونوں کو ناشتے پر بلا رہی ہے ملازمہ نے بی جان کا پیغام دیا۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے آپ جائے ہم آرہے ہیں اس نے دروازہ بند کیا اور جلدی سے ایک سوٹ لے کر واشروم میں بند ہو گئی فریش ہو کر نکلی جلدی جلدی جلدی تیار ہو کر اچھے سے دوپٹہ خود پر پھیلایا۔۔۔
اتنے میں اسکن کلر کے شلوار قمیض پہنے زریان بھی تیار سا باہر نکلا ایک نظر آنا کو دیکھا تو نظریں پلٹنے سے انکاری ہوگئ گرین شیفون کے سوٹ میں وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی اس سے پہلے کے وہ کوئی گستاخی کرتا
آنا اس کی نظریں خود پر محسوس کرتی جلدی سے کمرے سے بھاگ گئی ۔۔۔
پیچھے زریان کا قہقہہ پورے کمرے میں گونجا ۔۔مجبورا اسے بھی آنا کے پیچھے نکلنا پڑا ۔۔۔

دونوں ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر آئے تو سب کے دل سے ماشاء اللّٰہ نکلا سوائے تین لوگوں کے وہ ساتھ بہت خوبصورت لگ رہے تھے۔۔۔۔

ہالے بھی ان کے پیچھے پیچھے آئی تھی مہرون لان کی کرتی ٹراؤزر پہنے وہ بہت معصوم لگ رہی تھی ۔۔۔

آج پوری فیملی موجود تھی بی جان اور اور دادا جان سربراہی کرسی پر براجمان تھے
بی جان کے پاس دائیں طرف سارہ بیگم فاروق صاحب ٫ عاشر عزہ اور عالم صاحب بیٹھے تھے۔۔۔۔
بائیں طرف نیہا روحان زریان آنا ہالے اور فائزہ بیگم بیٹھی تھی ۔۔۔
دائیں طرف جگہ ہونے کے باوجود نیہا بائیں جانب روحان کے ساتھ بیٹھی تھی یہ بات کسی نے نوٹ کی یا نہیں لیکن آنا نے بہت نوٹ کی اسے بلکل اچھا نہیں لگا اپنی بہن کے شوہر کے ساتھ بیٹھی وہ لڑکی نا جانے کیوں نیہا اسے ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی ۔۔۔۔۔
۔اور اب تو ہالے اس کے لیے بہت خاص ہو گئی تھی ایک اس کی معصومیت دوسرا وہ بھی اس کی طرح باپ دھتکاری ہوئی تھی۔۔۔
بہت دنوں بعد سب نے ایک ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کیا تھا
سب بہت خوش تھے روحان کی موجودگی کی وجہ سے ہالے بھی خاموش تھی لیکن ایک چور نظر بار بار اس پر بھی ڈال رہی تھی جو روحان بخوبی محسوس کر رہا تھا

وہ چھوٹی لڑکی بہت جلدی اپنے مزاجی خدا کو اپنے دل کے سلطنت کا بادشاہ بنا بیٹھی تھی شاید انجان تھی بہت جلد وہی بادشاہ اس کے دل کی دنیا کو الٹنے والا تھا

ناشتے کے بعد سب لاؤنج میں بیٹھے تھے تھوڑی دیر میں فاروق صاحب عاشر اور عزہ نے چلے جانا تھا سب اداس تھے لیکن نیہا اور سارہ بیگم نے ابھی کچھ دن اور رکنا تھا
جب سے ہالے کو پتہ چلا تھا وہ روئے جا رہی تھی
کہاں سے لاتی ہے یہ لڑکی اتنا پانی کیا ٹینکی فٹ کر رکھی ہے روحان نے کوفت سے سوچا۔۔۔

عزہ کو خوش دیکھ کر دونوں بھائی بھی بہت خوش تھے
عاشر بیٹا یہ آپ کی شادی کا تخفہ ہماری طرف سے دادا جان نے ایک اینڈولپ عاشر کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔

اس نے مسکراتے ہوئے تھام لیا ۔۔۔تھینک یو نانا جان
اس کے بعد بابا جان نے عزہ کو اپنے پاس بلایا تو وہ بھی اٹھ کر ان کے پاس بیٹھ گئی

بابا نے کچھ پیپرز اور ایک اینڈولپ عزہ کے ہاتھ میں دیا۔۔۔

جیساکہ سب جانتے ہیں بیٹی کی شادی کے وقت اپنے باپ کی جائیداد پر جو اس کا حصہ ہوتا ہے اس کے حوالے کر دیا جاتا ہے سارہ کی شادی کے وقت بھی بابا جان نے اس کا حصہ اسے دے دیا تھا اب عزہ کا حصہ بھی میں اس کے حوالے کر رہا ہوں اب یہ سب عزہ کا ہے وہ جو چاہے کر سکتی ہے ۔۔۔۔
اس کے بعد بھی میری بیٹی کے لیے اس گھر کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں آپ کو جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہو گی آپ بے جھجھک اپنے بابا۔ دادا جان اور بھائیوں سے کہنا
ہم کبھی اپنی بیٹی کو منع نہیں کرینگے آپ کا حق ہم سب پر ہمیشہ رہے گا
اور اس اینڈولپ میں میری بیٹی داماد کے لیے ایک گفٹ جو آپ کو کینیڈا جا کر ملے گا۔۔۔
بابا مجھے نہیں چاہیے کچھ بھی آپ نے بہت کچھ کیا ہے مجھے کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی مجھے یہ سب نہیں چاہیے ۔۔۔
عزہ نے بابا کو منع کیا اسے بار بار رونا آرہا تھا سب سے دور جانے کا سوچ کر ابھی تو وہ آئی تھی تو اور ابھی اسے جانا پڑ رہا تھا
ارے عزہ بیٹا یہ ہمارے خاندان کی روایت ہے تم اس کو منع نہیں کر سکتی تمہیں یہ رکھنا پڑے گا
سارہ بیگم نے جلدی سے کہا کہیں عالم صاحب واپس نا رکھ لے
ہاں بیٹا یہ تمہارا حق ہے تمہیں ہی رکھنا پڑے گا بی جان نے بھی کہا
جبکہ زریان خاموشی سے عاشر کو دیکھ رہا تھا اس کی سوچ دور کہیں دلشیر کے پاس اٹکی ہوئی تھی ۔۔۔
اگر عاشر کی جگہ دلشیر ہوتا تو وہ کبھی بھی ایک پائی بھی لینا پسند نہیں کرتا وہ ایک خوددار مرد تھا ۔۔۔خیر جو نصیب وہ بس اپنے دوست کے لیے صبر کی دعا کرسکتا تھا
سب کے کہنے پر عزہ نے وہ فائل اور اینڈولپ اپنے پاس رکھ لی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد سب کو الوداع کہتے وہ بھی چلے گئے تھے سب بہت اداس تھے سب سے زیادہ ہالے اداس تھی وہ بہت اٹیچ تھی اس کے ساتھ ۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔