Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
ناول۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔چوتھی
زریان بیٹا اب تو ناراضگی چھوڑ دو تمہارے بابا کو گولی لگی تھی تم پھر بھی نہ آئے ایسی بھی کیا ناراضگی میں اپنے گھر کو بکھرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی میرے بچے اب تو لوٹ آؤ ایک عرصہ ہوگیا میں نے اپنے بچوں کو سینے سے نہیں لگایا وہ زریان سے بات کرتے ہوئے ہمیشہ ایسے ہی آبدیدہ ہو جاتی تھی
میری پیاری ڈارلنگ یار کچھ وقت دیں ہم آجائیں گے آپ روٹھی محبوبہ بن جاتی ہیں فوراً رونا شروع اب تو دادا جان بھی نہیں ہیں کون آپ کو سینے سے لگا کر آنسو پونچھے گا کیوں مجھ معصوم کو فنا کرنا چاہ رہی ہیں
وہ فون کے اس پار سے محسوس کر سکتا تھا اس کی بی جان شرما رہی ہوگی اوروہ یہی چاہتا تھا تاکہ وہ ان کے گھر نہ آنے پر اداس نہ ہو
ہٹ بدمعاش دادی سے مسخری کرے گا فون رکھ مجھے نماز پڑھنی ہے تو بھی نماز پڑھ جا کر
اوکے اللّٰہ خافظ بی جان اپنا خیال رکھیے گا
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
ہاں الطاف بولو کیا خبر ہے؟
سر یہ رہی ساری ڈیٹیلز اس میں سب کچھ مینشن ہے
اوکے ابھی تم جاؤ آگے کا کام میں تمہیں بعد میں سمجھا دونگا۔۔
اس کے جانے کے بعد وہ ایک ایک چیز پڑھنے لگا
تو یہاں ہو تم اب تو ملنا پڑ گیا آخر کو میرا سکوں برباد کیا ہے تم نے میرا فرض بنتاہے تمہاری نیندیں حرام کردوں
وہ خیالوں میں ہی اس سے مخاطب تھا
زریان عالم اپنے نام کی طرح ہی طر ح ہی سحر انگیز پرسنیلٹی کا مالک تھا چھ فٹ سے نکلتا قد ہلکی بئیرڈ گہری سبز آنکھیں مونچھوں تلے عنابی لب کھڑی مغرور ناک پٹھانوں کی طرح سرخ سفید رنگ روپ ہلکے براؤن بال ہمیشہ جیل سے سیٹ کیے ہوتے تھے وہ ہمیشہ فارمل ڈریسنگ میں ہوتا تھا وہ اپنے دوست اور بھائ کے ساتھ مل کر بزنس کرتا تھا جو باہر ممالک تک پھیلی ہوئی تھی لیکن وہ کراچی میں رہائش پزیر تھا
دوسری طرف روحان عالم اپنے بھائی کی طرح نین نقش وہی خوبصورتی وہی قد کاٹھ ان میں فرق تھا تو بس اتنا روحان کا رنگ روپ گندمی تھا اور اس کے گالوں میں پڑتا ڈمپل اسے بہت پرکشش بناتا تھا وہ اپنے باپ کے ساتھ زمینوں کا حساب کتاب کے ساتھ اپنے بھائی کے ساتھ بزنس بھی دیکھتا تھا اور جب دونوں ساتھ کھڑے ہو جائے تو لوگ سمجھ نہیں پاتے تھے زیادہ خوبصورت کون ہے
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
نکاح کے بعد آج اس کا سامنا ہوا تھا
دوپٹہ سے بے نیاز نیلے رنگ کی کرتی سفید ٹراؤزر میں وہ اس وقت آنکھیں بند کئیے کانپ رہی تھی سیاہ گہری آنکھیں اس وقت بند تھی لرزتی پلکیں گلابی ہونٹ جو اس وقت اس کے ہاتھوں تلے چھپے ہوئے تھے اس نے ہاتھا ہٹا لیا وہ بہت خوبصورت تھی اگر اس کی جگہ کوئی اور مرد ہوتا تو بہک جاتا لیکن یہاں بھی روحان تھا جو اسے بیوی ماننے کو تیار ہی نہ تھا
اس کی خاموشی پر ہالے نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولی وہ نیند سے بوجھل آنکھوں سے اسے ہی گھور رہا تھا
چھ چھوڑیں روحان بھیا
وہ جو پہلے ہی غصے میں تھا اس کے بھیا کہنے پر مزید اس کا پارہ ہائی ہوا مانا کہ وہ اس کو بیوی نہیں مانتا تھا لیکن ان کا نکاح تو تھا نا وہ کیسے نکاح کے بعد بھی اسے بھیا کہہ سکتی تھی
غصے میں اس نے اس کی کمر پر گرفت سخت کی
ہالے کو اپنے کمر پہ اس کی انگلیاں دھنستی ہوئی محسوس ہو ئی
دو بارہ بھیا مت کہنا ایک رکھ کے کان کے نیچے لگاؤں گا اور تمہارا دوپٹہ کہاں ہے آج کے بعد اگر بنا دوپٹے کے دیکھا تو مار کے تمہاری لاش بور ی میں بند کر کے کھیتوں میں پھینک آؤں گا پھر جنگلی کتے تمہاری بوٹی بوٹی کھا لیں گے
اس نے صرف اسے ڈرانے کے لئے کہا تھا لیکن
وہ جو پہلے ہی ڈر سے کانپ رہی تھی زور و شور سے رونے لگی
اسے روتے دیکھ اس نے دو بارہ اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا
چپ ایک دم چپ آواز نہ آئے آج کے بعد اس کمرے میں مت آنا ورنہ اچھا نہیں ہوگا وہ اس کے کان کے پاس غرایا اور جھٹکے سے اسے چھوڑا
وہ جیسے سپیڈ میں آئی تھی ویسے ہی بھاگی اپنے کمرے میں جا کے دم لیا اب اس نے سوچ لیا تھا وہ مر کے بھی اس جلاد کے کمرے میں نہیں جائے گی اسنے اسے بیڈ ٹچ بھی کیا تھا سوچ کے ہی اس کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا تھا
