Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

ناول :دل سکون.

رائٹر :زرناب چاند

قسط_پینتیس


کچھ ماہ بعد۔۔۔۔

یار ایک دو دن کا سٹے ہے بس پھر واپس آجاؤں گا
تمہیں پتہ ہے مننا کی برتھڈے ہے لاسٹ پر بھی میں نہیں جا سکا۔۔۔۔۔۔۔دلشیر پیکنگ کرتے ہوئے بولا

ہمم ٹھیک ہے اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔
مجھے بھی نکلنا ہے آج حمزہ گروپ آف انڈسٹریز کے ساتھ میٹنگ ہے آج۔۔۔
روحان گہری سنجیدگی سے کہتا اس سے مل کے وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔

دلشیر بھی اپنا سامان اٹھاتا ائیرپورٹ کے لیے نکل گیا
ان گزرے مہینوں میں بھی اس کے جزبات کم ہونے کے بجائے بڑھ گئے تھے عزہ سے محبت دن بدن شدت اختیار کرتا گیا
لیکن اس نے اللّٰہ سے دوستی بہت مظبوط کر لی تھی

اور یہی ایک اس کے سکون کی وجہ تھی
رات کے گیارہ بجے وہ کینیڈا پہنچا تھا اور
راستے سے اس نے کیک اور پھولوں کا ایک بڑا بوکے لے لیا تھا۔۔۔۔اب وہ اپنی بہن کے دروازے پر کھڑا بیل بجا کر کھلنے کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔

ہیپی برتھڈے ٹو یو
ہیپی برتھڈے ٹو مائ پرنسس
ہیپی برتھڈے مننا۔۔۔

نیند سے بوجھل آنکھوں سے ہمنہ نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے دلشیر کو دیکھ اس کی چیخ نکل گئی
وہ بھاگتے ہوئے اس کے گلے لگ گئ ۔۔۔۔۔۔تھینک یو سو مچ بھائی آپ نے بتایا کیوں نہیں آپ آرہے ہیں وہ اسے لیے اندر بڑھی اندر بڑھ گئی۔۔۔

……………………………………………………………….

ہالے میں نے کہا کھانا کھاؤ ورنہ دو تھپڑ لگاؤں گی عقل ٹھکانے آ جائے گی تنگ کر کے رکھا تم سب نے مجھے
فائزہ بیگم اسے ڈانٹتے ہوئے اسے کھانا کھلانے لگی
جو صبح سے بخار میں مبتلا تھی ۔۔۔

دو تین نوالے لینے کے بعد اس نے روک دیا
ماما میرا دل نہیں کر رہا پلیز مجھے نہیں کھانا بس
اس نے التجاء کی
فائزہ بیگم نے بھی اسے مزید تنگ نہیں کیا برتن اٹھاتے ہوئے
کمرے کی لائٹ آف کرتے نکل آئی۔۔۔

ان کے جاتے ہی کب سے رکے آنسو گالو پر بہنے لگے ۔۔۔
میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی آپ نے ہالے کو مار دیا ۔۔۔۔آپ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ اتنے خوش ہیں کہ آپ کو ایک بار بھی ہالے کی یاد نہیں آئی اب ہالے بھی کبھی آپ کو یاد نہیں کرے گی۔۔۔۔وہ تکیہ سینے میں دبوچے ہچکیوں سے رونے لگی۔۔۔۔۔۔

جب سے وہ گیا تھا یہی تو ہونے لگا تھا ہر رات وہ ایسے ہی اس سے ناراضگی کا اظہار کرتی تھی
لیکن اس نے روحان سے لاکھ ناراضگی کے با وجود اس کا کمرہ نہیں چھوڑا تھا
آج بھی وہ اس کے کمرے میں رہتی تھی اسے کمرے کی ہر چیز سے روحان کی خوشبو آتی تھی لیکن وہ پھر بھی روحان کو بلانے پر تیار نہیں تھی۔۔۔

نا ہی روحان نے دوبارہ حویلی آنے کی کوشش کی۔۔۔۔
کب روتے روتے وہ گہری نیند میں چلی گئی اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔

………………………………………………………………….

زریان اٹھیں
زر زریان کسی کے جھنجھوڑنے پر ہڑبڑا کے اٹھا تو آنا پیٹ پکڑے کراہ رہی تھی اس کی ڈیٹ تین دن بعد کی تھی
لیکن اچانک آدھی رات کو اس کی طبیعت خراب ہوگئی

زریان نے جلدی سے اسے تھاما کیا ہوا ہے زیادہ تکلیف ہے کیا وہ پریشانی سے اس سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔

مج مجھے درد ہو رہا بہ بہت ۔۔۔۔۔۔آنا نے اٹکتے ہوئے بتایا
زریان ن نے جلدی سے عالم صاحب کے نمبر پہ کال کر کے فائزہ بیگم کو بلایا ۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد وہ ہسپتال کے کاریڈور میں ادھر سے ادھر چکر لگا رہا تھا
زریان بیٹھ جاؤ بیٹا سب ٹھیک ہوگا تم دعا کرو۔۔۔۔فائزہ بیگم نے اسے بٹھاتے کہا
ماما اتنا ٹائم کیوں لگ رہا ہے وہ ٹھیک تو ہوگی نا پریشانی اس کے چہرے سے واضح تھی۔۔۔۔
بیٹا پریشان مت ہو دیکھنا سب ٹھیک ہوگا۔۔۔

عالم صاحب اور دادا جان اس کی پریشانی پر مسکرا دئیے

تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر ایک خوبصورت سے کمبل میں لپیٹے بچے کو لے کر آئی ۔۔۔۔
اور فائزہ بیگم کے ہاتھ میں تھما دیا

مبارک ہو ماشاء اللّٰہ بیٹی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کے الفاظ پر سب کے چہروں پر خوشی بکھر گئی ۔۔۔۔۔

زریان بے یقینی کے عالم میں اس وجود کو دیکھنے لگا

میری بہو تو ٹھیک ہے نا ۔۔۔فائزہ بیگم نے ڈاکٹر سے پوچھا

جی ماں اور بچہ دونوں ٹھیک ہے تھوڑی دیر میں ماں کو روم میں شفٹ کر دیا جائے گا پھر آپ لوگ مل سکتے ہیں
ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا اور واپس چلی گئی۔۔۔

دادا جان نے بچی کو گود میں اٹھایا اور گالوں پر بوسہ دیا

باری باری سب نے پیار کیا

بابا نے بچی زریان کے گود میں دی مبارک ہو بیٹا اللّٰہ نے تمہیں رحمت سے نوازا ہے۔۔۔

وہ جو ٹکٹکی باندھے کمبل میں موجود وجود کو دیکھ رہا تھا اپنی گود میں آنے پر ہوش میں آیا اور بے ساختہ اس کے روئی جیسے گالوں چوم لیا

اس کے لمس میں بہت نرمی تھی۔۔
آیک آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر بچی کے گال پڑا۔۔۔

سب مسکرا دئیے ۔۔۔۔
آنا کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا سب اس سے مل کر آگئے تھے
وہ کمرے میں گیا تو وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی
زریان بھاری قدم اٹھاتا اس تک پہنچا اور اسکے ماتھے پر بوسہ دیا

مجھے اتنا خوبصورت تحفہ دینے کا شکریہ زندگی ۔۔۔۔
آنا نے آنکھیں کھولیں اور اسے دیکھنے لگی خوشی اس کی آنکھوں میں بھی تھی لیکن جو خوشی اس نے زریان کی آنکھوں میں دیکھی اس کے آگے اپنی خوشی اسے کچھ بھی نہیں لگی۔ ۔۔۔۔۔

آپ خوش ہیں اس نے زریان کا گال چھوتے پوچھا زریان اسی پر جھکا ہوا تھا۔۔۔۔

خوشی شاید بہت چھوٹا لفظ ہے میں اپنی فیلینگز بتا نہیں پا رہا مجھے لگ رہا مجھے سب کچھ مل گیا ہے بس میری زندگی مکمل ہو گئی ۔۔

اس کی خوشی دیکھ آنا نے سکون سے آنکھیں موندے لیں اس کا باپ بھی اسی خاندان کا تھا لیکن اس نے صرف بیٹی پیدا کرنے کے جرم میں اس کی ماں کو دربدر کر دیا تھا

اور آج زریان نے ثابت کر دیا ہر مرد ایک جیسا نہیں ہو تا۔۔

ہالے کو جب پتہ چلا تو وہ بھی بی جان کو لیتی ڈرائیور کے ساتھ ہسپٹل آگئی تھی اب بچی کو بار بار گود میں لیتی چومنے میں مصروف تھی۔۔۔۔
بی جان یہ کتنی نرم ہے دل کر رہا ہے کھا ۔۔۔۔۔۔ابھی وہ اپنی بات مکمل کرتی کہ اسے روحان کا کہا ہوا جملہِ ایک دم سے یاد آگیا اس نے اپنے لب بھینچ لئے اور سب کی طرف دیکھا جو اسی کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔

میں بتا رہی ہوں اس کا نام میں رکھونگی آپو کے بے بی کا نام بھی میں ہی رکھوں گی۔۔۔۔۔

اس نے مسکراتے ہوئے بولا تو زریان اس کے پاس چل کر آیا
آنا بھی اتنے دنوں بعد اسے مسکراتے دیکھ بہت خوش تھی۔۔۔
ہاں سب سن لیجئے جو ہالے نام رکھے گی وہی ہوگا اور کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔۔۔۔۔زریان نے سنجیدگی سے سب سے کہا

ہالے نے فخریہ سب کو دیکھا۔۔۔۔
اچھا ہالے نام کیا رکھو گی تم اپنی بھتیجی کا۔۔۔۔۔
زریان نے اس کی گود میں موجود بچی کے گالوں کو ہاتھ سے چھو کر پوچھا۔۔۔۔۔

ہمممم اس نے سوچنے کی ایکٹنگ کی۔۔۔۔۔میں اس کا رواحہ رکھوں گی۔۔۔۔۔

سب کو اسکا نام بہت پسند آیا تھا۔۔۔

………………………………………………………………………………….

وہ فجر کی نماز ادا کرکے آیا تھا رات بھی مننا کے ساتھ باتیں کرتے وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا دیر سے سویا تھا
ویسے بھی اس کی پوری رات عزہ کو یاد کرتے گزر جاتی تھی نیند اسے شاذو نادر ہی آتی تھی ۔۔۔

ابھی وہ فلیٹ کے اندر جاتا کہ پیچھے والے فلیٹ سے اسے کسی کے چیخنے کی آواز آئی اس کا دل بہت بری طرح ڈھڑکا
یہ آواز عزہ کی تھی وہ لاکھوں میں پہچان سکتا تھا
اس کے قدم وہی جھکڑ گئے

اس نے بے چینی سے بند دروازے کو دیکھا لیکن اب بلکل خاموشی تھی۔۔۔۔

اس نے بے چینی سے دروازہ بجایا ۔۔۔۔۔۔
جو اگلے دو منٹ میں کھول دیا گیا تھا سامنے ریڈ سلک کی نائٹی میں ایک بہت ماڈرن سی لڑکی کھڑی تھی اس نے فوراً اپنی نظریں پھیر لیں ۔۔۔۔۔
اسے سامنے کھڑی لڑکی سے گھن آئی ۔۔۔۔۔۔آپ کے گھر سے مجھے کسی کے چیخنے کی اواز آئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے بنا نظریں ملائے تحمل سے پوچھا وہ بس چاہتا تھا کہ وہ اس کی غلط فہمی ہی ہو اس کا دل چند سیکنڈ میں ہی لاکھوں بار اپنے اللّٰہ کو پکار چکا تھا ۔۔۔۔۔

نہیں مسٹر آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے یہاں میرے اور میرے ہسبینڈ کے علاوہ کوئی نہیں ہے تو چیخنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔اس لڑکی نے جواب دیا اور دروازہ بند کر کے اندر چلی گئی۔۔۔۔

دلشیر نے اللّٰہ کا شکر ادا کیا اور اپنی بہن کے فلیٹ کے اندر چلا گیا۔۔۔۔لیکن اس کا دل بہت بے چین ہو رہا تھا وہ وہی رکھے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔

کچھ دیر بعد سب اٹھ گئے تھے ۔۔۔

وہ سب بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگے مننا کا شوہر عاطف کی نائٹ ڈیوٹی تھی اس لیے وہ صبح ہی آکر سویا تھا اس کی ساس اور چار سالہ بیٹھا۔ بھی ساتھ ہی بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔ابھی دلشیر نوالہ توڑ کر منہ میں ڈالتا کہ دھڑا دھڑ دروازہ بجنے لگا جیسے کوئی بہت زیادہ جلدی میں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔

سب پریشانی سے اٹھ گئے دلشیر دروازے کے پاس ہی تھا اس لیے اس نے جا کر جلدی سے دروازہ دروازہ کھولا
اور دروازہ کھولنے پر جو وجود اس پر آکر گرا اسے اپنے قدموں پر لڑکھڑانے ہر مجبور کر گیا۔۔۔

پھٹے ہونٹ بکھرے بال چہرے پر تھپڑ کے نشان جگہ جگہ سے پھٹا ہوا لباس ۔۔۔۔۔بنا دوپٹے کے وہ کہیں سے بھی وہ عزہ نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔جس سے اس نے محبت کی تھی جو ہمیشہ خود کو حجاب میں چھپائے رکھتی تھی۔۔۔۔

آج وہ بے حجاب اس کے سامنے تھی۔۔۔۔
ہوش تو اسے تب آیا جب مننا نے آکر عزہ کو اس سے الگ کر کے اپنے ساتھ لگایا تھا اور اپنا دوپٹہ اس کے گرد لپیٹا تھا اس کی حالت ایسی تھی بس کسی بھی وقت گر جائے گی۔۔۔۔

آپی آپی بچا لیں وہ وہ مار دیں گے میرے بچے کو مجھے بچا لیں ۔۔۔۔۔۔وہ ہمنہ کے گلے لگی کانپ رہی تھی

اسے یاد تھا وہ جب آرہا تھا اسے کچھ دیر پہلے ہی روحان عزہ سے بات کر رہا تھا اور وہ اس وقت بلکل نارمل تھی۔۔۔۔
لیکن اس کی حالت دیکھ کر تو ایسا لگ رہا تھا کہ یہ ظلم اس پر آج پہلی بار نہیں ہوا ۔۔۔۔بلکہ روز ہوتا ہوتا رہا ہے

اس نے اپنے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا اس کی حالت دیکھ کر اسے لگا وہ اپنا ظبط کھو دے گا۔۔۔۔
نشے میں دھت عاشر اسے دھکا دیتا اندر آیا اس سے پہلے کہ وہ عزہ پر ہاتھ اٹھاتا ۔۔۔۔

دلشیر اپنا ظبط کھوتا اس پر ہاتھ اٹھا گیا۔۔۔۔۔پیچھے وہ لڑکی بھی آگئی تھی…..

عاشر کی نظر جب عزہ پر پڑی تو ایک پل کو وہ بھی گھبرا گیا لیکن دوسرے ہی پل چہرے پر وہی شیطانی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔

اوہ تو یہ بات ہے یہ یہاں اپنے عاشق سے ملنے آتی تھی میں بھی بولوں کیسے یہ لوگ اس کے اتنے ہمدرد بن گئے اب سمجھ آیا وجہ تو میرے سامنے ہے مسٹر دلشیر خان عزہ عالم کا ایکس۔۔۔۔۔اوپس سوری ایکس نہیں کرنٹ بوائے فرینڈ ہے۔۔۔۔ایکس تو خرم ملک تھا

جس قدر غلاظت وہ بک سکتا تھا بک دیا۔۔۔
ہمنہ نے اور آنٹی نے حیرانگی سے دلشیر اور عاشر کو دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

اب کی بار عزہ نے لرزتی پلکیں اٹھا کر سامنے دیکھا تو نظریں دلشیر کی نظروں سے ٹکرائی اسے اپنے بلکل سامنے کھڑے دیکھ اس کا دل کیا زمین پھٹے اور اس میں سما جائے اتنی شرمندگی اتنی زلالت اللّٰہ اس نے آنکھیں میچے اللّٰہ کو پکارا

اوہ تو یہ بدکردار لڑکی تمہارا بچہ یہ اپنے پیٹ میں لئے گھ ۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنی گھٹیا بات مکمل کرتا دلشیر اس پر پھٹ پڑا اور اسے بے دردی سے مارنے لگا ۔۔۔۔

عاشر کے ساتھ آئی لڑکی چیختے ہوئے سیکیورٹی کو بلا کر لائی اندر سے عاطف بھی نکل آیا سب نے بہت مشکل سے اسے پیچھے کیا جو آج کسی بھی قیمت پر عاشر کو چھوڑنے کے حق میں نہیں تھا……عزہ کے زخمی وجود نے اس کے اندر کے سوئے جانور کو جگا دیا تھا۔۔۔

عاشر کا چہرہ بھی عزہ کی طرح جگہ جگہ سے زخمی ہو گیا تھا ۔۔۔۔

دلشیر کی آنکھیں لہو ٹپکانے لگی۔۔۔۔۔

تم گھٹیا انسان تمہاری ہمت کیسے ہوئی ان کے ساتھ اس طرح کا وحشیانہ سلوک کرنے کی۔۔۔۔۔

دلشیر کو روکنا سب کے لیے مشکل ہو گیا تھا وہ بار بار عشر کی طرف بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا

یہ اسی قابل ہے اس کے ساتھ یہی سب ہونا چاہیے تھا گھٹیا۔۔۔۔۔گالی۔۔۔۔۔ہے یہ۔۔۔۔
اس کی بات پر دلشیر نے خود کو چھڑا کر اپنے پاؤں کا وار اس کے سینے پر کیا تھا کہ عاشر دو قدم پیچھے گرا۔۔۔۔۔
عزہ کے منہ سے چیخ نکلی ۔۔۔۔۔۔

سب نے دلشیر کو قابو کیا کسی کو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا
عاشر اٹھا اور تین لفظ بولتا مغلظات بکتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔اس کے پیچھے وہ لڑکی بھی چلی گئی
پیچھے سب اپنی جگہ سن رہ گئے۔۔۔۔۔دلشیر کا وجود خودبخود ڈھیلا پڑ گیا۔۔۔۔اس نے کبھی بھی اس لڑکی کو تکلیف دینے کا نہیں سوچا تھا آج اس کی وجہ سے کیا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

عزہ لہرا کر ہمنہ کے بازوؤں میں جھول گئی۔۔۔۔۔

جاری ہے