Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40 (Last Part 2)

ناول: دل سکون.
رائٹر :زرناب چاند
قسط: چالیس

مجھے لگتا تھا کبھی بھی سسرال والے بہو کو بیٹی نہیں سمجھ سکتے لیکن جب میری آپ سے شادی ہوئی نا جب میں حویلی آئی تب پتہ چلا کہ سارے سسرال والے ایک جیسے نہیں ہوتے مام نے مجھے بھی اتنا ہی پیار دیا جتنا وہ عزہ اور ہالے کو دیتی ہیں ۔۔۔۔بی جان بابا دادا جان سب نے مجھے کبھی بہو کی طرح ٹریٹ نہیں کیا۔۔۔۔
۔مجھے کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ میں اس گھر کی بہو ہوں ۔۔۔۔۔

اور اتنے دکھوں کے بعد اللّٰہ نے عزہ کو بھی ویسا ہی سسرال دیا جیسا مجھے ملا اس کی نند اس کے ساتھ ایسے پیار سے پیش آرہی تھی جیسے سگی بہن ہو ۔۔۔۔۔

میرا دل سکون سے بھر گیا ۔۔۔۔۔زریان گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا جب وہ اس کا بازو تھامے محبت سے بولی ۔۔۔
زریان نے جھک کر اس کے ماتھے پر لب رکھے۔۔۔۔اور ڈرائیو کرنے لگا۔۔۔

اچانک اس کی گاڑی کے سامنے ایک شخص آگیا اس نے جلدی بریک لگائی آنا نے دیش بورڈ پر ہاتھ رکھ کے خود کو گرنے سے بچایا۔۔۔۔

وہ جو کوئی بھی تھا وہ گر چکا تھا۔۔۔زریان گاڑی سے اترنے لگا۔۔۔

نن نہیں زریان کوئی چور ڈاکو ہو سکتا ہے پلیز باہر مت جائیں ۔۔۔آنا نے اس کو روکنے کی کوشش کی۔۔۔وہ خوفزدہ ہو چکی تھی کیونکہ آس پاس بلکل اندھیرا تھا شارٹ کٹ کے چکر میں زریان نے دوسرا راستہ چنا تھا جہاں بہت کم
گاڑیاں گزرتی تھی۔۔۔

میری جان کچھ نہیں ہوگا اور کچھ بھی ہو جائے تم باہر مت نکلنا اوکے میں بس دیکھ کر آرہا ہوں کوئی ضرورتمند بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔

وہ سیٹ کے نیچے سے گن نکالتا اپنی پینٹ میں اڑھستا باہر نکل گیا ۔۔۔آنا بس بے بسی سے اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔

زریان جب باہر نکلا تو ایک شخص ملگجے سے حلیے میں زمین پر پڑا تھا۔۔۔۔
وہ موبائل ٹارچ جلاتا اس تک پہنچا۔۔۔۔اور جو چہرہ اسے نظر آیا
اسے لگا ساتوں آسمان ایک ساتھ اس پر گرے ہوں۔۔۔۔

…………………………………………………………..

ب س بس کریں مجھے سانس۔ نہیں آرہا ۔۔۔۔وہ بہت مشکل سے اس سے خود کو چھڑا کر بیڈ سے ٹیک لگا کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگی۔۔۔

دلشیر بھی اٹھ کر بیٹھ گیا اور غور سے اسکے چہرے پر بے زاری ڈھونڈنے لگا۔۔۔۔۔

لیکن شرم و حیا کے علاو کوئی دوسرا رنگ اسے ڈھونڈ کر بھی نہیں ملا اور آج اس کا رویہ اسے بہت کچھ سمجھا رہا تھا شاید ہو نا ہو آنا اسے سمجھا کر گئی تھی جس کا اثر تھا یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پر سکون ہو کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔

کی کیا دیکھ رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔عزہ نے کہتے ہی اپنے دونوں ہاتھ اس کی آنکھوں پر رکھ دئیے یہ ایک بے اختیاری میں کیا گیا عمل تھا اس سے پہلے کہ وہ ہاتھ ہٹاتی۔۔۔۔
دلشیر نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر اس کی گلابی ہتھیلیوں پر اپنے سلگتے لب رکھے تھے۔۔۔۔۔
اور ہاتھ آگے بڑھا کر سائیڈ لیمپ آف کر دیا۔۔۔۔
اب کمرے میں نیم اندھیرا تھا۔۔۔۔لیکن عزہ کو۔ اس کی بے باک نظریں اپنے جسم کے آر پار ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔وہ خود میں سمٹ گئی۔۔۔۔۔

دلشیر اٹھا اور اپنی ٹی شرٹ اتار کر نیچے پھینک دی۔۔۔۔عزہ اس کی حرکت پر شرم سے دوسری جانب چہرہ موڑتی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتی نظریں چرا گئ۔۔۔۔۔۔۔ اس کا دل کانوں میں دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔
دلشیر تھوڑا دور ہوا اور سائیڈ ڈرار سے ایک چھوٹا سا باکس نکالا ۔۔۔۔۔اور اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔۔۔
عزہ نے اس کے شرٹ لیس کسرتی چٹانی سینے سے بری طرح نگاہیں چرائیں تھی۔۔۔جو دلشیر نے مسکرا کر نوٹ کیا۔۔۔

میری جان آپ کا ہی ہوں دل کھول کر دیکھیں ۔۔۔۔وہ اسکا چہرہ توڑی سے تھامے اپنی طرف کرتا ۔۔۔۔۔جھک کر عزہ کی کی جھکی پلکوں پر دھیرے سے لب رکھتا وہ اسے کانپنے پر مجبور کرگیا۔۔۔۔۔۔

دلشیر کی پرتپش انگلیاں اسے اپنے گلے پر رینگتی محسوس ہوئی تو عزہ نے نے سختی سے آنکھیں میچ لی۔۔۔۔۔۔ وہ مسکرا کر اس سے دور ہوا۔۔۔۔
عزہ نے اپنے گلے میں چھو کر دیکھا تو وہ بہت پیارا سا پینڈنٹ تھا جس پر چھوٹے چھوٹے سے لیٹر میں
E ❤️D
لکھا ہوا تھا وہ بہت خوبصورت تھا ۔۔۔۔

اور عزہ کو نرمی سے بیڈ پر لٹاتے خود اس پر جھک آیا۔۔۔۔۔

“ش شیرر۔ عزہ نے پیچھے کھسکنے کی کوشش کی لیکن پیچھے بیڈ کراؤن ہونے کی وجہ سے کوشش ناکام ہو۔۔۔۔۔
عزہ کے لبوں سے اپنا نام اسے اتنا پیارا لگا کہ وہ بے خود ہو کر اس کے لبوں پر جھکا تھا۔۔۔۔اور قطرہ اس کی سانسیں اپنی سانسوں میں انڈھیلنے لگا ۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھ عزہ کی کمر پر گردش کرنے لگے۔۔۔۔۔جب اسے لگا وہ سانس نہیں لے پائے گی اس کے ہونٹوں کو آزاد کر کے وہ اس کی گردن پر جھکا اور اس کی نائٹی کی ڈوری کھول دی۔۔۔۔عزہ نے گھبرا کر اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔
دلشیر نے بہکی مخمور نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
اجازت ہے؟؟؟….دلشیر کے اجازت مانگنے پر اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آگئے۔۔۔۔۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے، عزہ کی بات پر اچھنبے سے اسے دیکھا۔۔۔۔

کس سے۔۔۔۔
“آپ سے۔۔۔۔روتے روتے اسنے بتایا۔۔۔۔دلشیر نے ایک گہری سانس لی وہ جانتا تھا اس نے بہت کچھ سہا ہے اسے اتنی جلدی یہ سب نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔وہ خاموشی سے اس کے پاس سے اٹھنے لگا۔۔۔۔
پلیز مت جائیں م میں پچھلا سب بھولنا چاہتی ہوں مت جائیں ۔۔۔۔۔عزہ نے بے بسی سےاس کا بازو تھام لیا۔۔۔

“میں اپنی محبت کو کبھی تکلیف ۔نہیں دوں گا میں کبھی ان آنکھوں میں آنسوں نہیں آنے دوں گا بھروسہ رکھیں مجھ پر میں ان اداس آنکھوں میں اپنی محبت کے رنگ بھر دوں گا۔۔۔۔۔۔ کہتے ساتھ وہ اس کی آنکھوں میں لب رکھتا اسے اپنی پناہوں میں جکڑ چکا تھا۔۔
ش شیر عزہ نے اٹکتے ہوئے پکارا۔۔۔۔۔
ششش کچھ نہیں ہوگا ریلکس بس مجھے محسوس کریں۔۔۔۔۔ اس نے سرگوشی میں کہا۔۔۔۔
اور اس کے بعد وہ اسے نرمی سے خود میں سمیٹتا چلا گیا۔۔۔ اور عزہ کے دل و دماغ میں بس اپنا نقش چھوڑتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔

……………………………………………………………………………………..

وہ غور سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو بہت زیادہ بیمار لگ رہا تھا لیکن یا اس کی شکل اسے زریان سے ملتی جلتی لگ رہی تھی۔۔۔
زریان کون ہیں یہ۔۔۔۔اس نے بے چینی سے پوچھا۔۔۔

وہ جب زریان کو روڈ پر پڑے ملے تو زریان کی حالت کے پیش نظر ان کو اسپتال لے آئے تھے ڈاکٹر ان کو ڈرپ وغیرہ
لگا کر جا چکے تھے۔۔۔۔

کب سے دل میں مچلتا سوال وہ آخر زبان پر لے آئی۔۔۔
روحان آرہا ہے تم اسکے ساتھ چلی جاؤ تم تھک گئی ہو گی

میں ان کی ڈرپ ختم ہوتے ہی گھر آتا ہوں پھر بتاتا ہوں تمہیں ۔۔۔۔اس آنا کے سوال کا الٹ ہی جواب دیا۔۔۔
ابھی اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا ۔۔۔
پلیز میری جان میں آتا ہوں نا کوئی سوال مت کرو۔۔۔

اس نےآنا کے گالوں پر ہاتھ رکھتے التجاء کی ۔۔۔۔وہ بھی کنفیوز سی خاموشی سے روحان کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد روحان دور سے آتا دکھائی دیا اس نے زریان سے کچھ بات کی پھر اس وارڈ کے اندر چلا گیا جہاں اس آدمی کو رکھا تھا۔۔۔۔

پانچ منٹ بعد باہر آیا بنا کچھ کہے آنا کو آنے کا اشارہ کرتا باہر نکل گیا ۔۔۔وہ بھی خاموشی سے اس کے ساتھ حویلی اگئی۔۔۔۔
تقریباً صبحِ سات بجے باہر کسی کے بولنے آواز پر وہ اٹھی
رواحہ ابھی بھی اس کے ساتھ سوئی ہوئی تھی مطلب زریان ابھی تک نہیں آیا تھا۔۔۔۔وہ پیروں پر چپل اڑھستی باہر نکل آئی۔۔۔۔۔

اس نے نیچے جھانک کر دیکھا تو بی جان اس ایکسیڈنٹ والے آدمی کو گلے لگائے تو رہی تھی۔۔۔۔

وہ پریشانی سے سیڑھیاں اترتے نیچے آگئی ۔۔ہالے آنسو بھری آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
دادا جان چہرے پر ناراضگی کئے بیٹھے تھے زریان خاموشی سے کھڑا تھا ۔۔۔۔اسے آتا دیکھ وہ فوراً اس کے پاس آیا
تم نیچے کیوں آئی ہو جاؤ کمرے میں آرام کرو ورنہ طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔۔۔وہ اسے تھامتا اوپر جانے لگا ۔۔۔۔

نہیں میں ٹھیک ہوں یہ کون ہیں ۔۔۔۔اس کی نظریں ابھی بھی اس شخص پر ٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔
سکندر مرزا۔۔۔۔۔۔زریان کو بھی مزید چھپانا مناسب نہیں لگا پتہ تو اسے لگ جانا تھا۔۔۔۔
اس نے بے یقینی سے زریان کو دیکھا۔۔۔۔۔۔ سوائے روحان کے کسی کا بھی دھیان ان کی طرف نہیں تھا

یہ یہ یہاں کیوں آئے ہیں زریان۔۔۔۔۔ اس کی زبان کر کھڑا گئی۔۔
میں تمہیں سب بتاتا ہوں تم چلو میرے ساتھ۔۔۔۔۔وہ اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے گیا اور بیڈ پر بٹھا دیا۔۔۔۔

خود آنا کے ساتھ بیٹھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔دیکھو

مجھے مجھے کچھ نہیں سننا کیوں آئے ہیں اب وہ جب ہم دونوں بہنوں کو پیدا کر کے چھوڑ گئے تھے اب کیوں آئے ہیں۔۔۔وہ غصے سے چیخ پڑی تھی۔۔۔۔۔
اس نے زبردستی آنا کو سینے سے لگا لیا۔۔۔۔۔۔۔تاکہ وہ اپنا سارا غبار نکال دے۔۔۔۔

میں چھوٹی تھی جب اسکول میں پییرنٹس ٹیچر میٹنگ ہوتی تھی نا تو سب کے ابو ان کے ساتھ ہوتے تھے لیکن میرے ابو نہیں ہوتے تھے میں امی سے پوچھتی تھی کہ میرے ابو کہاں ہیں وہ ہمیشہ کوئی نا کوئی بہانہ بنا دیتی تھی۔۔۔۔لیکن جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی۔۔۔مجھے سب سمجھ آتا گیا ۔۔۔ایک ایک دن میں اسکول سے جب گھر آئی تو وہاں کی ایک راحیلہ آنٹی کو امی سے بات کرتے سن لیا
وہ امی سے کہہ رہی تھی کہ میرا ددھیال ظالم ہیں میرے باپ نے نا صحیح لیکن میرے دادا دادی تو مجھ سے ملنے آسکتے تھے مجھے قبول کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نہیں کیا اور امی کو طلاق بھی ابو نے دادا دادی کی وجہ سے دی
کیونکہ ان کو ہوتا چاہیے تھا جو میری ماں نہیں دے سکی
اس لیے ابو نے ان کو چھوڑ دیا۔۔۔۔۔
اس دن مجھے سب سے نفرت ہو گئی۔۔۔۔۔۔لیکن وہ نفرت آپ نے میرے دل سے ختم کی جب میں بی جان اور دادا جان سے ملی تب پتہ چلا مجھے کہ بی جان اور دادا جان کا اس میں کوئی قصور نہیں تھا۔۔۔۔

اب جب میں سب کی عادی ہو گئی ہوں تو وہ کیوں میری زندگی برباد کرنے آئے ہیں۔۔۔۔وہ اس کے سینے سے لگی ہچکیوں میں اپنی ساری تکلیفیں بتاتی چلی گئ۔۔۔۔۔

جب اس کا رونا کم ہوا تو اس نے آنا کا چہرہ اوپر کیا آنکھیں سوجھ گئی تھیں ۔۔۔۔۔

تم جانتی ہو وہ کچھ دنوں کے مہمان ہیں پھر چلے جائیں گے۔۔۔۔۔لہجہ بہٹ ٹوٹا ہوا تھا جیسے کوئی بھی فیصلہ کرنا اس کے لیے بہت مشکل ہو۔۔۔۔

میں ایک دن بھی ان کے ساتھ نہیں رہونگی ۔۔۔۔اس نے اپنا حتمی فیصلہ سنایا اور کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔۔

ان کو کینسر ہے اور وہ لاسٹ اسٹیج پر ہیں ۔۔۔۔۔الفاظ تھے یا کوئی پہاڑ جو اس کے سر پر گرا تھا۔۔۔۔
آنا جھٹکے سے مڑی اور بے یقینی سے اس کو دیکھا۔۔۔۔۔
نہ نہیں آپ آپ جھوٹ بول رہے ہیں ۔۔۔۔۔
میں سچ بول رہا ہوں اور بی جان بھی اسی وجہ سے رو رہی ہیں ۔۔۔۔۔اور تم جانتی ہو ہم سب بی جان کا رونا برداشت نہیں کرسکتے یار ۔۔۔۔۔

میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم ان کو ایک باپ کی حیثیت سے قبول کر لو۔۔۔۔۔تم بس یہ سمجھو کہ وہ میرے چاچو ہیں بی جان کے بیٹے ہیں بس اور کوئی رشتہ مت رکھو۔۔۔۔

پلیز بی جان کی وجہ سے اتنا برداشت کرلو۔۔۔

وہ اسے کندھوں سے تھامے پیار سے التجاء کر رہا تھا جس کے آنکھیں بے یقینی سے پھیلی ہوئی تھیں اور ان میں سے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔

زریان کو اس پر ترس آیا۔۔۔۔۔
کیا تم اب بھی جانا چاہتی ہو۔۔۔۔کسی خدشہ کے تحت اس نے پوچھا۔۔۔۔

آنا کا سر خودبخود نفی میں ہل گیا۔۔۔۔۔اس نے سختی سے اسے سینے میں بھینچ لیا ۔۔۔سہار پاتے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔۔اب یہ آنسو ان کی بیماری کے تھے یا اپنے خسارے کے یہ تو وہی جانتی تھی۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

زریان کے جاتے ہی روحان ہالے کو اپنے ساتھ کے آیا تھا وہ اس کا مزید رونا برداشت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔کمرے میں آتے ہی وہ اس کے سینے سے لگ کر ہچکیوں سے رونے لگی۔۔۔۔

ہاں اس نے کبھی بھی اپنے باپ کو یاد نہیں کیا تھا کیونکہ عالم صاحب نے اسے اپنی اولاد سے بڑھ کر محبت کی۔۔۔
آج وہ تو بی جان کی وجہ سے رو رہی تھی وہ اپنی انسانیت کی وجہ سے رو رہی تھی جو کسی کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ پاتی تھی ۔۔

روحان نے اسے رونے دیا۔۔۔۔۔

…………………………………………………………

چار سال بعد۔۔۔۔

ماما مجھ سے چلا بھی نہیں جا رہا اور بھابھی کہہ رہی ہیں میں موٹی بھی ہو گئی ہوں ۔۔۔۔ہالے منہ بسورتے بولی ۔۔۔

آنا نے مسکراہٹ دبائی۔۔۔

آنا کیوں میری بچی کو تنگ کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔فائزہ بیگم نے مصنوعی گھوری سے نوازا۔۔۔۔
ہالے کی کھلکھلاہٹ لاؤنج میں گونجی۔۔۔۔
لڑکی آرام سے مجھے تسبیح بھی سکون سے نہیں پڑھنے دیتی۔۔۔۔بی جان نے اسے گھور کر دیکھا ۔۔۔
اب کے ہنسنے کی باری آنا کی تھی۔۔۔۔اس کی گود میں دو سالہ زاران سو رہا تھا۔۔۔۔اور ہالے کا ساتواں مہینہ چل رہا تھا۔۔۔۔اور ڈاکٹر نے اسے جڑواں بچے بتائے تھے

تین سال پہلے ہی سکندر مرزا کا انتقال ہو چکا تھا انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں سے معافی مانگی تو انہوں نے بھی کھلے دل سے معاف کر دیا تھا۔۔۔آخر ایک مرنے والے انسان کو معاف نا کر کے وہ کیا حاصل کر لیتے۔۔۔۔

اور اسکے ایک سال بعد ہی دادا جان بھی اس دنیا سے چلے گئے تھے۔۔۔۔
ان کے جانے کا غم تو بہت زیادہ تھا بی جان تو پوری طرح ٹوٹ گئی تھی لیکن زاران کے آنے پر ہ آہستہ آہستہ سنبھل گئی۔۔۔۔پورے خاندان میں وہ ان کا سب سے پسندیدہ بچہ تھا ۔۔۔
چلو آنا جلدی تیار ہو جاؤ زریان ویٹ کر رہا ہوگا۔۔۔۔۔فائزہ بیگم نے آنا کو کمرے میں بھیجا آج خان مینشن میں عزہ کی برتھڈے پارٹی تھی۔۔۔ہالے اور بی جان کے علاوہ سب جارہے تھے۔۔۔۔
…………………………………………………………………..

میری بیٹی اپنے ڈیڈی کے ساتھ جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں میری روحی اپنے چاچو کے ساتھ جائے گی ۔۔۔۔

اس وقت وہ دونوں بھائی آپس میں اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ رواحہ ان کے ساتھ دلشیر کے گھر جائے گی۔۔۔

وہ جینز کے ساتھ جینز کی ہی جیکٹ پہنے وائٹ جاگرز کے ساتھ آنکھوں پر گلاسس لگائے اسوقت پوری پٹاخہ لگ رہی تھی

وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی پھولے گالوں والی بچی ہونٹوں پر شرارتی مسکان لئے بے انتہا حسین لگ رہی تھی ۔۔…

وہ دونوں گھٹنوں کے بل اپنے دونوں بازوں کھولے اسے اپنے پاس آتا دیکھ رہے تھے ۔۔۔
وہ ان کے بیچ میں سے راستہ بناتی ۔۔۔۔۔۔بھاگتی ہوئی عالم صاحب کے گلے لگ گئی۔۔۔۔
وہ دونوں کبھی اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتے توکبھی اپنے پیچھے بابا کے گلے لگی اس پلجھڑی کو شرارت میں انسب کی دادی تھی ۔۔۔۔۔

………………………………………………………………………………..

یہ ایک مینشن کے ہال کا منظر تھا جسے پنک رنگ کے تازہ فلاورز سے بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔اور وہاں صرففیملی کے لوگ ہی تھے ۔۔۔۔
سامنے ہی دلشیر کے ساتھ نزاکت سے چلتی گولڈن کلر کے پلازو سوٹ پہنے عزہ انکی طرف آرہی تھی۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پر ان چار سالوں میں خوبصورتی کے ساتھ ساتھ کانفیڈنس کا بھی اضافہ ہوا تھا۔۔۔۔
دلشیر نے اسے بے انتہا محبت اور عزت دی تھی۔۔۔جس سےوہ دن بدن اور نکھرتی گئی تھی۔۔۔۔
وہ آکر عالم صاحب سے ملی پھر باری باری سب سے ملی ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد کیک کا ٹا گیا۔۔۔۔۔سب نے اسے ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ تخائف بھی دئیے۔۔۔۔
وہ چھوٹا سا بچہ کب سے اپنے باپ کو گھورے جا رہا تھا جو آج اس کے ہوتے ہوئے بھی اس کی ماں کو زیادہ توجہ دے رہا تھا۔۔۔۔
واٹ ہیپن ینگ مین ۔۔۔مسٹر خان نےاس کے ساتھ بیٹھتے اس کے کندھے پر بازوں پھیلائے ۔۔۔۔۔
ڈیڈ مجھ سے پیار نہیں کرتے۔۔۔۔

وہ چھوٹا سا بچہ ناک پھلائے بولا
But why do you think so?

وہ سمجھ تو گئے تھے اپنے پوتے کی جیلیسی۔۔۔جو خود سے زیادہ اپنے آپ کی توجہ کسی اور پہ برداشت نہیں کر پاتا تھا۔۔۔
بی کوز وہ آج زیادہ موم کو دیکھ رہےہیں یو نو نا دادو مجھے نہیں پسند بلکل بھی ڈیڈ کا موم کو پیار کرنا ۔۔۔اس نے اپنی پریشانی بتائی۔۔۔
مسٹر خان کا قہقہ پورے ہال میں گونجا سب نے حیرانی سے دادا پوتے کو دیکھا۔۔۔۔۔
دلشیر کی بھی نظر اپنے بیٹے پر گئی جو اسے گھور رہا تھا۔۔۔۔
وہ سمجھ گیا آج اس کی خیر نہیں وہ جلدی سے اسے اکسکیوز کرتا اس کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
لو بھئی اپنے بیٹے کو مناؤ اب میں تو چلا ۔۔۔۔۔مسٹر خان دلشیر سے کہتے عالم صاحب کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔۔

پھر تقریباً ایک گھنٹہ لگ گیا تھا اسے اپنے بیٹے کو منانے میں ۔۔۔۔۔۔تب جا کر وہ اپنے لاڈ صاحب کو منا پایا تھا۔۔۔

::::::::::::
عزہ آنا اور ہمنہ تینوں ایک کی ٹیبل میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔

ویسےعزو اب تمہیں بہرام کے لیے ایک بھائی یا بہن کے بارے میں سوچنا چاہیے ۔۔۔۔آنا آئس کریم سے انصاف کرتی ہوئی بولی ۔۔۔
عزہ ان کی بات پر سٹپٹا گئی۔۔۔وہ وہ مجھے نہیں پتہ سب شیر کو پتہ ہے وہ اداسی سے بولی۔۔۔
کیوں نہیں پتہ بھئی اب تو بہرام بڑا ہو گیا ہے اسکول بھی جانے لگا ہے آخر کس دن کا انتظار کر رہے ہیں ؟
آنانے حیرانگی سے کہا۔۔۔
ارے چھوڑو آنا تم ان سب باتوں کو تم بتاؤ تمہارا تیسرے کرنے کا کب ارادہ ہے۔۔۔۔ہمنہ نے عزہ سے اس کا دھیان ہٹانے کے لیے توپوں رخ اس کی طرف موڑ دیا۔۔۔۔
پھر جو آنا کی دہائیاں اور توبہ شروع ہوئے سب ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔۔۔۔

شام گئے سب گھر لوٹنے لگے۔۔۔۔ہمنہ بھی پاکستان شفٹ ہو گئی تھی اس لیے عاطف کے اشارے پر وہ بھی نکل گئی۔۔۔۔

وہ جو کب سے اس پر نظریں جمائے بیٹھا تھا اپنی ماں کے بلانے پر زبردستی اسے گود میں اٹھا کر باہر لے جانے لگا۔۔۔۔۔
مرزا ہاؤس کی سب سے نڈر اور شرارتی بچی اس کو دیکھتے ہی ڈر کر چپ جاتی تھی۔۔۔۔
اکثر ہی دلشیر کے گھر میں ان کی ملاقات ہو جاتی تھی اور اسے وہ لڑکا بلکل نہیں پسند تھا جو اسے اپنی آنکھیں دکھاتا تھا۔۔۔۔
شاہ زر بیٹا ان کو کیوں لے کر آئے ہو چلو مامی کو واپس دے کر آؤ ۔۔۔۔
نو موم شی از مائین ۔۔۔۔میں اسے واپس نہیں کروں گا۔۔۔
وہ آٹھ سالہ بچہ ایک چار سالہ بچی کو گود میں اٹھائے سنجیدگی سے بولا۔۔۔
اس کی بات پر اسکے ماں باپ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی ۔۔
اس چھوٹے سے بچے نے گھور کر دونوں کو دیکھا ۔۔۔جیسے اسے ان کا ہنسنا پسند نہیں آیا ہو۔۔۔۔
اس کے ماں باپ نے فوراً اپنی۔ہنسی کو بریک لگائی ۔۔۔۔
وہ بچی بار بار اسکی گود سے اترنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن شاہ زر کی گرفت اس عمر میں بھی بہت مظبوط تھی

بیٹا پہلے آپ بڑے تو ہو جاؤ پھر اسے ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے جانا ابھی ایسے تھوڑی لے کر جا سکتے ہیں بری بات ہوتی ہے ۔۔۔ میرا بیٹا توبہت نیک اور پیارا ہے وہ کوئی غلط کام تھوڑی کر سکتا ہے۔۔۔۔

اس کے باپ نے اس پیار سے سمجھایا سب جانتے تھے وہ کتنا پاگل تھا اس بچی کے پیچھے ۔۔۔۔

اوکے ڈیڈ۔۔۔۔ابھی اس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ
اس بچی نے زور سے اپنے دانت اسکے کندھے پر گاڑھ دیئے ۔۔۔
شاہ زر نے اسے گود سے اتارا اور اپنے ہاتھ کا ایک زور دار تھپڑ بچی کے گال پر جھڑ دیا ۔۔۔۔
وہ بچی گلا پھاڑ کر رونے لگی۔۔۔۔
جبکہ بچے کے باپ نے بھی ایک تھپڑ بچے کے گال پر دے مارا
تم اتنے غصے والے کیوں ہو شاہ زر اگر ایسی ہی حرکتیں تمہاری رہی تو یہ تمہارے پاس کبھی نہیں آئے گی۔۔۔۔انہوں نے غصے سے کہا۔۔۔
شاہ زر اسے گھور کر گاڑی کا دروازہ کھول کر پیچھے بیٹھ گیا ۔۔۔
اس کی ماں بچی ہو چپ کروانے لگی ۔۔۔۔

اسے آنا تو میرے پاس ہی پڑے گا۔۔۔۔ رہے گی بھی میرے ساتھ ہی بھلے اپنی مرضی سے آئے یا زبردستی ۔۔۔
لیکن یہ میری ہیں اور بس میری ۔۔۔

وہ اپنی باتوں سے کہیں سے بھی آٹھ سالہ بچہ نہیں لگ رہا۔۔۔

ہمنہ نے اپنے بیٹے کی حرکت پر ماتھا پیٹا اور اس بچی کو پیار سے منا کر چپ کروا کر واپس اندر چھوڑ آئی ۔۔۔۔۔

………………………………………………………………………………..
مہمانوں کو فارغ کر کے وہ جب کمرے میں آیا تو عزہ پریشانی سے بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ کیونکہ وہ خود بھی چاہتی تھی کہ اس کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا اور ہو لیکن دلشیر تھا جو ہمیشہ یہ کہہ کر اسے چپ کروا دیتا کہ اس کے لیے بہرام ہی کافی ہے۔۔۔۔
لیکن آج اس نےسوچا لیا تھا کہ وہ دلشیر سے بات کر کے رہے گی ۔۔۔۔
کیا ہوا میرے دل کو آج اتنی پریشان کیوں ہیں وہ اس کے پاس آتا اسے اپنےساتھ لگاتا پوچھنے لگا۔۔۔۔۔
مجھے ب بچہ چاہیے شیر۔۔۔۔۔ وہ ہچکچا کر بولی ۔۔۔۔

وہ کبھی بھی اس طرح کی بات اس سے کرنے کی ہمت نہیں کر پاتی لیکن چار سال ہونے کے بعد بھی وہ شخص اپنی ضد پر اڑا ہوا تھا۔۔۔
ہمارا بیٹا ہے نا بہرام۔۔۔اس نے مسکرا کر عزہ کے ماتھے پر بوسہ دیا ۔۔

لیکن۔۔۔۔۔ ابھی وہ بول ہی رہی تھی۔۔ جب دلشیر اسے کھینچتا اپنے سینے پر گرا گیا۔۔۔۔۔
“شش بس کچھ نہیں سننا مجھے ۔۔۔۔۔۔اس بات پر میں کوئی بحث نہیں چاہتا ۔۔۔۔

اس وقت مجھے صرف آپ کو محسوس کرنا ہے ۔۔…اس کی گھمبیر لہجے ہر وہ خود میں سمٹی ۔۔۔

دلشیر اس کے گالوں کو چومتے آنکھیں میچنے پر مجبور کر گیا۔۔۔وہ اس لڑکی کے لیے دن رات تڑپا تھا اور اللّٰہ نے اس کے صبر کے عوض اس لڑکی کو اس کے محرم کے طور پر اس کی زندگی میں بھیج دیا تھا۔۔

ختم شد