Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
ناول ۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔۔۔پہلی
نہیں سکندر خدا کے لیے مت کریں میرے ساتھ یہ ظلم
میں کہاں جاؤنگی میرا اس دنیا میں آپ کےسوا کون ہے
رحم کریں سکندر یہ تمہاری بیٹی ہے ایسا ظلم مت کریں
وہ اپنی دو دن کی بیٹی کو سینے سے لگائے اس شخص سے رحم کی بھیک مانگ رہی تھی
کیا بیٹی پیدا کرنا اس کا جرم تھا ؟
بیٹیاں تو اللّٰہ کی رحمت ہوتی ہیں پھر وہ کیسا ظالم شخص تھا جو بیٹی پیدا کرنے کے جرم میں اپنی ہی بیوی کو طلاق دےرہا تھا
نہیں تمہاری میری زندگی م میں کوئی جگہ نہیں مجھے بیٹا چاہیئے تھا جو میرا سہارا بنتا یہ بیٹی بھلا میرا کیا سہارا بنے گی تم مجھے ایک بیٹی نہیں دے سکی اس لیے تمہارا میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں
اس لیے میں سکندر مرزا
اپنے پورے ہوش و ہواس میں
تمہیں طلاق دیتا ہوں
تمہیں طلاق دیتا ہوں
تمہیں طلاق دیتا ہوں
اس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہوتی دو مہربان بازوؤں نے اسے تھام لیا تھا
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
یہ ایک اسپتال کا منظر جہاں وہ آپریشن تھیٹر کے سامنے بینچ پر بیٹھے کسی غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے گہری سوچ میں تھا سامنے اس کے عزیز بابا جان کا آ پر یشن چل رہا تھا جن کو کندھے پر گولی لگی تھی
وقفے وقفے سے کسی کی سسکیاں اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی کچھ گھنٹوں میں اس کی پوری زندگی بدل گئی تھی اس نے تو کبھی اس نظر سے دیکھا تک نہیں تھا وہ تو اسے ایک چھوٹی بچی سمجھتا تھا
پھر کیسے دھڑلے سے اسکی زندگی میں شاملِ ہوگئی تھی
وہ شاید انہی سوچوں میں رہتا کہ ڈاکٹر کی آواز آئی
پیشنٹ کے ساتھ کون ہے وہ ڈاکٹر کی آواز پر خیالوں سے باہر آیا اس سے پہلے کہ وہ ڈاکٹر کو جواب دیتا وہ بھاگتی ہوئی اس کے آگے کھڑی ہوئی اور ڈاکٹر کے سامنے ہاتھ جوڑے پلیز میرے بابا جانی کو بچا لیں پلیز انہیں کچھ مت ہونے دیں میں مر جاؤنگی۔۔
ڈاکٹر کو اس معصوم کی شکل دکھ کر بہت ترس آیا جو بمشکل پندرہ سولہ سال کی تھی اس وقت اسکی حالت قابل رحم تھی
جی میں ہوں ان کا بیٹا بتائیے بابا کیسے ہیں وہ ٹھیک تو ہے نا اس سے پہلے کہ وہ روتے روتے بے ہوش ہو جاتی اس نے اسے کندھوں سے تھام لیا اور ڈاکٹر سے اپنے بابا کی کنڈیشن پو چھنے لگا
جی آپ کے فادر اب خطرے سے باہر ہیں تھوڑی دیر میں ہم انہیں وارڈ میں شفٹ کر دینگے تو آپ ان سے مل سکتے ہیں ڈاکٹر اپنے پیشہ ورانہ انداز میں کہہ کر آگے بڑھ گئ
کیا ہوا ہے بابا کو وہ ٹھیک ہیں ؟
اس سے پہلے کے وہ اسے چپ کرواتا پیچھے سے اسے اپنے بھائی کی آواز سنائی دی
وہ اسے بازوؤں سے پکڑ کے الگ کرتا اپنے بھائی سے ملنے لگا اور مختصر ا اسے سب بتاتا چلا گیا
کیسے وہ لوگ ہالے کو اغوا کرکے لے کرنا رہے تھے لیکن بابا کے ہوتے ہوئے یہ ممکن نہ تھا تو ان لوگوں نے عالم صاحب پر گولی چلا دی یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ گولی ان کے کندھے کو چھو کر گزر گئی اور اسی وقت روحان وہاں پہنچا تو وہ سب ڈر کے بھاگ گئے اس نے بر وقت عالم صاحب کو اسپتال پہنچایا اس بیچ وہ اپنے اور ہالے کی نکاح والی بات گول کر گیا
کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے بھائی اور باپ کے بیچ مزید غلط فہمیاں آئے سب سن کر زرحان نے اپنی مٹھیاں بھینچ لی
اس سے اپنا غصہ کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا لیکن یہ وقت جزبات میں آ کر کچھ بھی کرنے کا نہیں تھا صبر سے کام لینا تھا اس یہ تو آنے والا وقت ہی بتاتا اس کا یہ صبر کیا طوفان لانے والا تھا
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
دو کمروں کے چھوٹے سے اس مکان میں اس وقت بریانی کی خوشبو ہر جگہ پھیلی ہوئی تھی
ایک خاتون چھوٹے سے کچن میں بڑے مصروف انداز میں ہاتھ چلا رہی تھی کہ فون کی گھنٹی نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا
وہ ہاتھ پونچھ کر فوراً موبائل لینے کمرے کی طرف بھاگی جیسے ہی ان کی نظر موبائل میں نظر آتے نام پر پڑی
ان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی فوراً کال اٹھا لی
اسلام علیکم کیسی ہو
دوسری طرف سے انہیں آواز سنائی دی
میں ٹھیک ہوں تم کیسی ہو تمہیں تو میری یاد ہی نہیں آتی انہوں نے شکواہ کیا
دوسری طرف سے نا جانے کیا کہا گیا وہ مسکرانے لگی
جی میں انتظار کرونگی اللّٰہ خافظ انہوں نے فون رکھ دیا خوشی ان کے انگ نگ سے ظاہر ہورہی تھی
آخر وہ وقت بہت قریب تھا جس کے لیے اتنے سال انتظار کیا انہوں نے۔۔۔
