Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
ناول۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔چھٹی
اس وقت وہ دونو۔ رات کا کھانا کھا رہی تھیں وہ پچھلے دو دن سے انتظارِ کررہی تھی کب اسکی ماں عرفان کے رشتے کی بات کریں
اور وہ ہامی بھر لیں لیکن آج تیسرا دن تھا انہوں نے زکر تک نہیں کیا تھا وہ سمجھ گئی تھی وہ اس رشتے کہ حق میں نہیں ہیں اس لیے ہمت کر کے اس نے خود ہی بات شروع کی
امی راحیلہ خالہ کے پرپو زل کے بارے میں سوچنا چاہیے آپ کو
مجھے عرفان میں کوئی ایسی برائی نظر نہیں آتی اچھا کماتا ہے سب سیٹ ہے اور میں نے راحیلہ خالہ کی باتیں سنی تھی مجھے وہ ہر لحاظ سے اچھا لگا
رائمہ بیگم تو اس کی باتیں سنتی سکتے میں آگئ تھی
تمہارا دماغ خراب ہے وہ ایک بچی کا باپ ہے اور شراب پی کر اپنی پہلی بیوی کو دن رات مارتا تھا تم سے کچھ چھپا تو نہیں ہے ۔۔
اور ویسے بھی تم جانتی ہو تمہارا رشتہ بچپن ہی میں نے طہ کردیا ہے
کہاں کردیا ہے جہاں سے میری ماں کو دھکے دے کر نکالا گیا جنہوں نے کبھی دیکھنے کی زحمت نہیں کی کہ ہم مرگئے کہ
زندہ ہیں
امی کا خواب میں جی رہی ہیں آپ کوئی نہیں آئے گا ہمیں پو چھنے اور اگر کبھی کوئی آ بھی گیا تو میں مر کر بھی اس خاندان میں شادی نہیں کرونگی
میں شدید نفرت کرتی ہوں ان لوگوں سے
اس لیے آپ عرفان کےلئے ہاں کر دیجئے پلیز امی میرے لیے وہ کہ کر رکی نہیں
یہ ان کی آنا تو نہیں تھی وہ کب سے اتنی نفرت کرنے لگی اوہ تو بہت محبت کرنے والی تھی وہ بس سوچ سکی
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
عزہ بی بی باہر کوئی آیا ہے جی کہہ رہا زریان صاحب نے بھیجا ہےآپ کو کوئی فائل دینی ہے
وہ کالج کے لیے تیار ہو رہی تھی ریشماں ( ملازمہ) نے اسے اطلاع دی
تھوڑی دیر پہلے ہی اسے زریان کی کال آئی تھی کہ ایک فائل آئے گی جسے اس نے لاکر میں سنبھال کر رکھنی تھی
وہ ان کے پیچھے ہی ڈرائنگ روم میں آئی تھی تو سامنے ہی ایک بہت خوبصورت نو جوان بیٹھا ہوا موبائل میں مصروف تھا جو شکل سے ہی انگریز معلوم ہو رہا تھا
اسلام علیکم
اس نے سلام کیا وہ جو موبائل میں بھی تھا نظر اٹھا کر دیکھا تو نظروں نے پلٹنے سے انکار کر دیا
سفید یونیفارم میں سفید ہی شوز پہنے گلابی اسکارف پہنے سبز گہری آنکھیں پنکھڑیوں جیسے گلابی لب چھوٹی سی ناک جس پہ باریک گولڈ کی تار وہ بے تحاشہ حسین تھی
عزہ تو اس اجنبی کی آنکھوں سے ہی پریشان تھی جو اس کا جائزہ لینے میں مصروف تھا اس کی نظروں سے گھبر اکر اس نے ماتھے سے اسکارف نیچے کیا
اسے گھبرا تے دیکھ اس نے فوراً نظروں کا زاویہ بدلہ
عزہ نے دوبارہ سلام کیا کہ شاید اس نے سنا نہ ہو
اس بار اس نے شرافت سے سلام کا جواب دیا
ہیلو مائ سیلف دلشیر خان یہ پیاری لڑکی یقیناً زریان کی سسٹر ہیں
اس نے اپنے تعارف کے ساتھ پوچھنا ضروری سمجھا
وہ تو پیاری لڑکی کہنے پر ہی گھبرا گئی تھی اور جلدی سے ہاتھ آگے کر دیا
وہ مسکرا کر اس کا ہاتھ تھامنے ہی لگا تھا عزہ نے فوراً ہاتھ ہاتھ ہٹا لیا وہ تو اپنی ہی حرکت پر شرمندہ ہو گئی
جو دینے آئے ہیں وہ دیجئے اس نے دھیمے سے ہاتھ بڑھانے کا مقصد بیان کیا اس کے گھبرانے پر دلشیر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئ
جو اس نے لب بھینچ کر روکنے کی کو شش کی اور خاموشی سے فائل آگے بڑھا دی
اوکے بائے پھر ملیں گے جاتے جاتے بھی وہ اسے خوب رہا کر گیا
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
آج پھر راحیلہ بیگم جواب لینے آئی تھی تو رائمہ بیگم نے انہیں مثبت جواب دیا تھا آنا نے ان کےلئے کوئی راستہ چھوڑا ہی نہیں تھا
انہوں نے بہت کوشش کی ان لوگوں سے رابطہ کرنے کی مگر نہیں ہو سکا آخر مجبور ہو کر انہوں نے اپنی بیٹی کے آگے ہتھیار ڈال دیئے شاید یہی قسمت میں تھا
بہت اچھا فیصلہ کیا تم نے اسی جمعہ کو سادگی سے نکاح کروا کر لے کر جاؤنگی جس میں صرف گھر کے ہی لوگ ہو نگے تمہیں کوئی اہتمام کرنے کی ضرورت نہیں ہم سب کر لیں گے
تم شام کو میرے ساتھ چلنا زرا نکاح کا جوڑا لینے تم اس کی پسند بہتر جانتی ہو ابھی میں چلتی ہوں سب کو خوشخبری سنانی ہے
پیچھے وہ خاموشی سے بیٹھ گئ اور کوئی چارہ ہی نہیں تھا
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
جب تمہیں میں نے کہا تھا جا کر روحان کو بلا کر لاؤ تو مہرانی جا کر خواب خرگوش کے مزے لینے لگی کوئی زمہ داری کا احساس ہے کہ نہیں میں یہاں انتظار کرتی رہی
بی جان اسے ڈانٹ رہی تھی بی جان کی بات پرتو وہ رونے والی ہو گئی
بی جان میں انکو بلانے گئ تھی لیکن انہوں نے مجھے ڈانٹا اور دھمکی بھی دی انہوں نے مجھے بیڈ ٹچ بھی کیا میری کمر کو چھوا میرے گال ابھی وہ کچھ اور بھی کہتی دادی نے فوراً اسے ٹوکا
ارے باؤلی کیا بکے جا رہی ہو پتہ بھی ہے تمہیں اسی لیے میں فائز سے کہتی تھی اتنا لاڈ پیار نہ دکھائے گھر داری سکھائے تمہیں لیکن نہیں سب نے بچی بنا کر رکھا ہے تمہیں اور تم میرے پوتے کو سب کے سامنے شرمندہ کروانے پر تلی ہو
اس سے پہلے کہ دادی اسے اور ڈانٹتی اور سمجھاتی باہر سے جلال مرزا کی آواز آنے لگی
دادی سے پہلے وہ بھاگتی ہوئی نکلی اور دادا جان کے سینے سے لگ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
داد جان تو اپنی پوتی کے رونے پر ہی گھبرا گئے اور روحان جو دادا جان کو لے کر آیا تھا وہ تو پریشانی سے اسے دیکھنے لگا
ارے میرا بچہ مت رو دیکھو میں آگیا ہوں نا اتنے دن بھی تم سے دور نہیں رہا اگر زیادہ یاد آرہی تھی تو مجھے فون کرکے بلا لیتی چلو شش رونا بند کرو چپ ہو جاؤ
وہ اسے پچکارنے لگے
میں آپ کی وجہ سے تو نہیں رو رہی دادا جان
ان کی آواز سن کر فائزہ بیگم اور کمال صاحب بھی کمرے سے باہر آگئے تھے اور اس کی بات پر مسکرا ہٹ روکنے لگے
روحان کے بھی ہلکے سے ڈمپل نمودار ہوئے جو جلد ہی چپ گئے
جب کہ دادا جان کو تو یہ سراسر اپنی بے عز تی ہی لگی اس لئے منہ بنا گئے
میں تو بی جان کی وجہ سے رو رہی ہوں وہ مجھ سے پیار ہی نہیں کرتی وہ صرف عزہ آپو اوران سے پیار کرتی ہیں
اس نے انگلی روحان کی طرف کر کے کہا
جب کے عزہ کے نام پر بی جان اور فائزہ بیگم نے امید بھری نظروں سے عالم صاحب کی طرف دیکھا لیکن وہ نظریں چرا گئے
روحان تو اسکی دلیری پر اسے گھورنے لگا
انہوں نے رات کو مجھے ڈانٹا بہت یہ بہت گندے ہیں اپنے کمرے میں شرٹ کے بغیر تھے انہوں نے مجھے بیڈ ٹچ کیا
اور مجھے کم۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید گوہر افشانی کرتی دادا جان نے نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا
( بی جان کل ہی ان کو روحان اور ہالے کے نکاح کا فون پر بتا چکی تھی)
باقی سب سٹپٹا گئے روحان تو دھواں دھواں ہو گیا اس کا بس نہیں چلا اس دو لگا کر سیدھا کر دے۔۔۔
