Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

ناول: دل سکون

رائٹر : زرناب چاند

قسط; پچیس

تین دن بعد ہالے اور روحان کی شادی تھی لیکن روحان صبح ہی دبئی گیا ہوا تھا اسے کل تک واپس آنا تھا زریان بھی اپنے بھائی کی شادی کی تیاری میں کوئی کمی نہیں رکھنا چاہتا تھا وہ عزہ کے لیے بھی بہت خوش تھا
بابا مہمانوں کو میں نے کارڈ پہنچا دیا ہے ایک بار پھر بھی لسٹ دیکھ لیجئے گا کوئی رہ تو نہیں گیا اور دادا جان آپ کے دوست فیاض بٹ صاحب کا نمبر میرے پاس نہیں ہے دے دیجئے گا مجھے
اس وقت وہ سب ہال میں بیٹھے تیاری کر رہے تھے
گھر کی خواتین تو صرف کپڑے میک اپ کے پیچھے ہی لگی تھی آنا نے چائے لا کر سب کو دی اور خود جا کر بی جان والوں کے ساتھ بیٹھ گئی زریان نے اسے مسکرا کر دیکھا اب اس کا جسم ہلکا ہلکا بھرنے لگا تھا ۔۔۔اور وہ اس حالت میں زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی
آنا عزہ یہ ختم کرو دونوں بی جان نے ان کو ملازمہ سے دودھ کا گلاس منگوا کے دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔عزہ نے منہ بنا کر بی جان کو دیکھا بی جان نے اسے ایک گھوری سے نوازا تو ناچار اسے بھی پینا پڑا
ہالے بھی وہاں بیٹھی بی جان کو گھور رہی تھی
کیا ہوا ہالے ۔۔۔۔۔فائزہ بیگم نے ہالے کو دیکھ کر پوچھا
ماما بی جان اب مجھ سے پیار نہیں کرتی بس آپو اور بھابھی سے کرتی ہیں اس نے رونے والی شکل بناتے کہا
بی جان نے حیرت سے اس آفت کی پرکالہ کو دیکھا انہوں نے بھلا کب فرق کیا تھا اپنی پوتیوں میں
ادھر آؤ زرا میں نے کب تم سے پیار نہیں کیا۔۔۔ بی جان نے حیرانگی سے پوچھا
آپ جب دیکھو بھابھی اور آپو کو کبھی یہ کھاؤ کبھی یہ پیو کچھ نا کچھ کھلاتی رہتی ہیں مجھے تو نہیں کھلاتی اس نے ناراضگی سے منہ پھلا کر کہا۔۔۔۔آنا اور عزہ نے مسکراہٹ دبائی
ارے فائزہ اپنی بیٹی کی باتیں سن رہی ہو آج اس کو بوڑھی بی جان سے شکایتیں ہونے لگ گئی۔۔۔
اب بھلا اسے بتاؤ کہ ا ن کے کھانے پینے کا خیال رکھنا کتنا ضروری ہے کیونکہ یہ ماں بننے والی ہیں دونوں۔۔۔بی جان نے افسوس سے کہا
تو بھئی مجھے نہیں پتہ میں چاہتی ہوں سب سے زیادہ آپ میرا خیال رکھے میں آپ کی ہالے ہوں نا چھوٹی سی تو مجھے بتائیں میں کیا کروں مجھے بھی ماں بننا ہے
اس نے جس قدر معصومیت سے کہا تھا اتنا ہی ایک دم سٹپٹا گئے تھے
ہالے چپ بلکل فائزہ بیگم نے اسے جھڑ کا شکر ہے وہاں کوئی مرد نہیں تھا ورنہ کیا ہوتا یہ لڑکی سب کے سامنے شرمندہ کروانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی تھی

دیکھا دیکھا اب بی جان کے ساتھ ماما بھی مجھ سے پیار نہیں کرتی کیسے ڈانٹ دیا مجھے نہیں کرنی شادی وادی اب مجھے بس ماں بننا ہے میں جا رہی دادا جان کے پاس وہ موٹے موٹے آنسو لیے وہاں سے اٹھ کر جانے لگی۔۔۔
آنا نے جلدی سے اس کو اٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا مبادی وہ سچ میں نا چلی جائے
چندا داداجان سے ایسی باتیں نہیں کرتے چلو کمرے میں میرے ساتھ میں بتاتی ہوں تمہیں اس نے ہلکے سے اس کے کان میں سرگوشی کی تاکہ بی جان اور ماما سن نا لیں

اور عزہ کو اشارہ کرتی ہوئی وہ ہالے کو وہاں سے لے گئی پیچھے عزہ بھی ان کے پیچھے چلی گئی۔۔۔۔

سب تمہارا کیا دھرا ہے جو میرے پوتے کو بھگتنا پڑے گا اب
بار بار کہتی تھی کچھ دنیا داری سکھا دو لیکن نہیں اماں ابھی بچی بچی ہے کر کے میرے پوتے کی عزت کا کباڑہ کرنا تم ماں بیٹی ۔۔۔بی جان نے فائزہ بیگم کو اچھے سے جھڑکا
تو کھسیانی سی ہو کر وہاں سے نکل گئی۔۔۔

………………………

مجھے نہیں پتہ بھاڑ میں جائے سارے کام تمہیں میرے ساتھ چلنا ہے دلشیر ۔۔۔۔۔۔روحان کب سے دلشیر کو اپنے ساتھ شادی پر چلنے کے لیے فورس کر رہا تھا لیکن وہ تھا کہ کبھی کوئی بہانہ کبھی کوئی بہانہ مان کے ہی نہیں دے رہا تھا

یار روحان میں معافی چاہتا ہوں لیکن میں تمہاری شادی میں شامل نہیں ہو سکتا یار بہت کام پینڈنگ میں ہیں یار

تمہارے لیے میری شادی سے زیادہ ضروری کام ہے روحان نے بھڑک کر اسے کہا ۔۔۔
یار میں گاؤں نہیں جانا چاہتا ایکسیڈنٹ کی وجہ سے میرا موڈ عجیب سا ہو گیا ہے ایک ڈر سا لگنے لگا ہے ۔۔۔۔۔۔اس نے بات بنانے کی کوشش کی
اوکے میں اپنی شادی کا ایونٹ کراچی میں رکھ لیتا ہوں اور حکم۔۔۔۔اس نے جیسے دلشیر کے اعتراض کو ختم کیا
یار روحان مجھے نہیں جانا تو نہیں جانا تم مجھے فورس مت کرو ۔۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔

وہ وہاں نہیں جانا چاہتا تھا کیونکہ وہاں عزہ بھی ہوگی اور عاشر بھی اوروہ انہیں ساتھ دیکھ کر اپنے زخموں کو ہرا نہیں کرنا چاہتا تھا اس میں مزید ہمت نہیں تھی وہ پہلے ہی تکلیف میں تھا لیکن اس میں مزید ہمت نہیں تھی

روحان جانتا تھا اس کے منع کرنے کی وجہ لیکن وہ اسے نارمل کرنا چاہتا تھا وہ چاہتا تھا کہ وہ بھی آگے بڑھ جائے عزہ کو خوش دیکھ کر وہ بھی اسے بھول کر لائف میں آگے بڑھ جائے کیونکہ اس کی جو حالت تھی اس کا اثر ان سب پر پڑ رہا تھا کیونکہ اس کی تکلیف سے سب کو تکلیف ہوتی تھی۔۔۔سب اس کو خوش دیکھنا چاہتے تھے تبھی تو زریان نے اسے بھیجا تھا دلشیر کو لینے لیکن اس کے ماننے کے دور دور تک آثار نظر نہیں آرہے تھے ۔۔۔۔

…………………………………

ہالے چندا کسی کے سامنے ایسی باتیں نہیں کرتے اب آپ بڑی ہو گئی ہو تو آپ کو خیال کرنا چاہیے ۔۔۔آنا نے اسے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی
لیکن بھابھی ( اس کو پتہ چلنے کے بعد بھی کہ آنا اس کی بہن ہے اسے بھابھی ہی کہتی تھی اس کا کہنا تھا کہ زریان اس کا بھائی ہے تو آنا اس کی بھابھی ہے کیونکہ لائف میں ایک بھابھی تو ہونی چاہیے )۔ ۔۔۔مجھے ماما نے منع کیا تھا تو میں اب کسی کے سامنے ان کی اور اپنی بات نہیں کرتی ۔۔اس نے جلدی سے سمجھداری دکھائی کہ کہیں وہ اسے بے وقوف نا سمجھ لیں ۔۔۔

عزہ نے تاسف سے سر ہلایا اور بیڈ پر لیٹ گئی آنا اور ہالے بیڈ کے دوسری سائیڈ بیٹھی تھی
اچھا تمہیں سچ میں بے بی چاہیے ۔۔۔۔اب کے آنا نے کچھ سوچ کر اس سے پوچھا
ہالے نے زورو شور سے سر ہلا دیا
تو بے بی تمہیں صرف روحان بھائی ہی دے سکتے ہیں تم بس ان سے مانگنا لیکن گھر میں کسی اور سے مانگنا بری بات ہوگی ۔۔۔۔اس نے بڑی بہن ہونے کے ناطے بہت آسان حل نکالا

اچھا آپ کو بھی بے بی زریان بھائی دے رہے ہیں ۔۔۔۔ہالے نے معصومیت سے پوچھا تو عزہ کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔جبکہ آنا کا چہرہ گلابی ہو گیا۔۔۔۔

ہاں یہ ہمارے پیار کی نشانی ہے اس نے شرماتے ہوئے بتایا ۔۔۔

سب کے بچے پیار کی نشانی نہیں ہوتے کچھ زبردستی کی نشانی بھی ہوتے ہیں ۔۔۔۔عزہ نے کمبل ٹھیک کرتے ہوئے بے دھیانی میں بولا۔۔

آنا اور ہالے نےاس کی طرف دیکھا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا آنا اسے بہت حیرت سے دیکھ رہی تھی
اس نے جلدی سے نظریں چرائی
ابھی کیا کہا تم نے عزہ کیسی زبردستی آنا نے جلدی سے عزہ کا ہاتھ پکڑ تے پوچھا
کیا کیا کہا ہے بھابھی میں نے ڈرامے نہیں دیکھتی کیا آپ یہی یہی تو ہوتا ہے ظالم مرد اپنی بیویوں کے ساتھ زبردستی کرتے ہیں مارتے پیٹتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ایک بچہ دنیا میں آ جاتا ہے کچھ کو پیدا ہونے سے پہلے مار دیا جاتا اور کچھ نا چاہتے ہوئے بھی دنیا میں رلنے آجاتے ہیں ۔۔۔۔۔عزہ کے لہجے میں کچھ تو ایسا تھا جسے نظر انداز کرنا مشکل تھا

عزہ تم ٹھیک ہو نا تم خوش ہو عاشر بھائی کے ساتھ آنا نے بہت محبت سے اس کا چہرہ تھام کر پوچھا اسے نا جانے کیوں لگتا تھا کہ عاشر جیسا دکھتا ہے ویسا ہے نہیں

جی بھابھی میں بلکل ٹھیک اور بہت خوش ہوں آپ پریشان مت ہوں عاشر میرا بہت خیال رکھتے ہیں اچھا ہالے ماما سے کہہ کر اسپیگھٹی بنواؤ نا اسپائسی سا جو وہ ہمیں بناکر کھلاتی تھی بھابھی کو بھی بہت پسند آئے گا
آنا کے سوالوں سے بچنے کے لیے اس نے آنا کو جواب دے کر جلدی سے ہالے کو مخاطب کیا
جی آپو
………………………….
آج شام ہالے کی مہندی تھی کل شادی تھی لیکن ابھی تک روحان نہیں آیا تھا زریان نے سب کو بے فکر کیا کہ شام تک آجائے گا
تین دن سے آنا بھی عزہ کے ساتھ ہالے کے کمرے میں قبضہ جمائے ہوئی تھی
اور وہ یہاں غصے سے بیچ و تاب کھا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
ایک تو وہ اتنے دنوں بعد گھر آیا تھا اور اس کی بیوی ہی غائب تھی
اس سے مزید برادشت نہیں ہوا تو وہ ہالے کے کمرے میں چلا آیا اور دروازہ ناک کیا
اور خوش قسمتی سے اسی دشمن جان نے دروازہ کھولا تو جیسے روح تک سکون اترتا چلا گیا۔۔۔
زریان کو سامنے دیکھ اس کے ہاتھ لرز گئے
ج جی کوئی کام تھا آپ کو۔۔۔۔اس نے اپنا لہجہ نارمل بنا کر پوچھا ۔۔۔۔۔
ہاں مجھے میری ایک فائل نہیں مل رہی جو میں نے کمرے میں ہی رکھی تھی بہت ضروری فائنل تھی کمرے میں آؤ اور ڈھونڈ کے دو مجھے ابھی بھجوانی ہے شہر۔۔۔۔۔
اس نے سنجیدگی سے کہا اور چلا گیا
پیچھے ہالے اور عزہ اسی کی طرف دیکھ رہے تھے اس لیے چاروناچار اسے بھی زریان کے پیچھے جانا پڑا ۔۔۔

ابھی وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی کہ زریان نے اسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع دئیے بغیر کھینچ کر دیوار سے لگایا اور اس کے ارد گرد دیوار پر اپنے ہاتھ رکھے
مجھ سے چپ مجھے تڑپا رہی ہو اس کے کان کے پاس جھک کر سرگوشی کی ۔۔۔۔۔
آنا کو اس کی گرم سانسوں سے اپنی گردن جھلستی محسوس ہوئی۔۔۔
ن نہیں ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔اس نے اٹکتے ہوئے جواب دیا
تو کیسا ہے تم جانتی ہو مجھے تمہاری ضرور ت ہوگی لیکن تم جان بوجھ کر کمرے میں نہیں آئی کیونکہ تمہیں اچھا لگتا ہے مجھے تڑپانا اس کی گردن پر ہلکے سے دانت گاڑتے
مدہوشی سے کہا
آنا نے سسکی لی پلیز زریان ۔۔۔
زریان اس کے چہرے پر جھکا اور اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو بہت بے تابی سے چھوکر محسوس کرنے لگا
اس کے ہونٹوں نے چہرے سے گردن تک سفر کیا اور وہاں اپنی محبت نچھاور کرنے لگا اس کے ہر لمس سے اس کی بے چینی عیاں تھی اس کے ہاتھوں کا بے باک لمس اپنی کمر پر رینگتے محسوس کر آنا کی جان لبوں پر آئی جذبات کا ٹھاٹھے مارتا طوفان اب تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔
زریان ۔۔۔۔ اس نے بہت بے چینی سے زریان کو پکارا۔۔۔۔۔۔۔

زریان نے اپنی خمار آلود نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔ان آنکھوں میں دیکھنا دنیا کا مشکل ترین کام تھا اس لیئے آنا نے جلدی سے نظریں جھکا لیں زریان جھکا اور آنا کی سانسوں کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں انڈھیلنے لگا۔۔
۔اس کی سانسوں کو محسوس کرتا اس کے ہاتھ کی انگلیاں آنا کے پیٹ میں گردش کرنے لگی۔۔۔۔۔۔آنا سے کھڑے ہونا مشکل ہو گیا تو اپنا سارا وزن اس پر ڈال دیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگی زریان نے اسے بازوؤں میں اٹھایا اور بیڈ پر جا کر لٹا دیا اور دروازہ اچھے سے بند کر کے لائٹ آف کرتا اس کے پاس آتا اسے اپنے پاس کرتا اس کے ہوش اڑانے لگا تشنگی تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی وہ مدہوش سا اسے خود میں سمیٹتا چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

……………..

مطلب تم نے سوچ لیا ہے تم مجھے لئے بغیر نہیں جاؤگے یار کل تمہاری شادی ہے کچھ تو خیال کرو دلشیر اس کے کمرے میں آتا اسے سمجھانے لگا
میں تمہیں فورس نہیں کر رہا لیکن میں تمہیں لئے بغیر بھی نہیں جاؤں گا روحان جیسے ضد کیے بیٹھا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے میں جانے کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔۔۔۔اس نے کس دل سے یہ کہا تھا وہی جانتا تھا۔۔۔۔۔لیکن وہ اپنی وجہ سے روحان کی شادی خراب نہیں کرسکتا تھا
اور کل شادی تھی آج اس کا پہنچنا ضروری تھا لیکن جس طرح روحان سکون سے لا پرواہی سے بیٹھا تھا یہ تو طے تھا وہ اس کے بغیر نہیں جائے گا اس لیے نا چاہتے ہوئے بھی اسے ماننا پڑا

جاری ہے۔۔۔۔