Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 39 ( Part 1)

ناول: دل سکون.
رائٹر: زرناب چاند
قسط:اانتالیس

سب پریشانی ہو گئے تھے روحان نے جلدی سے عزہ کو دلشیر کے بازوؤں سے اٹھایا تھا اور اوپر کمرے کی طرف بڑھ گیا

ہمنہ ہالے اور آنا بھی ان کے ساتھ تھیں ۔۔۔
دلشیر وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔۔۔زریان نے مہمانوں کے لیے کھانا کھلوا دیا ۔۔۔۔تاکہ سب کا دھیان آنا سے ہٹ جائے

زریان دلشیر ناراض ہو کر گیا ہے کیا مجھے تو گھبراہٹ ہورہی ہے ۔۔۔۔۔۔عالم صاحب نے پریشانی سے زریان سے پوچھا۔۔جو مسٹر خان نے سن لیا۔۔۔

ارے عالم صاحب کیوں پریشان ہو رہے ہیں مجھے یقین ہے وہ کسی مسجد میں بیٹھ کر اپنے رب کا شکر ادا کر رہا ہوگا۔۔۔
اس کی برسوں کی خواہش جو پوری ہوئی ۔۔۔۔۔
اوروہ میرا بیٹا ہے اتنا کم ظرف بلکل نہیں کہ وہ عزہ کے پاسٹ کا سایہ بھی اس کے فیوچر میں پڑنے دیں اس لیے بے فکر رہیں آپ ۔۔۔
مسٹر خان کی بات پر عالم صاحب کا دل پر سکون ہوگیا اور انہوں نے مسٹر خان کو گلے لگا لیا۔۔۔

تھوڑی دیر بعد اسے ہوش آگیا تھا اور دلشیر بھی لوٹ آیا اور وہ روتی دھوتی سب کی دعاؤں کے ساتھ سب سے ناراض ہو کر دلشیر کے ساتھ رخصت ہو کر خان ولا آگئی تھی ۔۔۔۔
فائزہ بیگم نے بہرام کو اپنے پاس رکھنا چاہا لیکن دلشیر کا کہنا تھا کہ وہ اب اس کا بیٹا ہے تو اسی کے ساتھ رہے گا۔۔۔

ایک گاڑی میں عائزہ بیگم کی گود میں بہرام سو رہا تھا اور فرنٹ سینٹ پر دلشیر اور شاہ زر تھا
دوسری گاڑی میں عزہ کے ساتھ ہمنہ بیٹھی تھی اور آگے ڈرائیور کے ساتھ مسٹر خان بیٹھے تھے۔۔۔

……………………………………………………………..

رات کے ایک بجے وہ لوگ خان ولا پہنچے تھے عزہ کو دلشیر کے کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا۔۔۔ اس کا بہت دل چاہا کہ وہ بہرام کو مانگ لیں لیکن اندر ایک ڈر تھا کہیں وہ لوگ برا نا مان لیں اسی ڈر کے ساتھ وہ بیٹھی رہی ۔۔۔۔اور کمرے کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔۔ان۔کی حویلی کے کمرے بھی بہت خوبصورت تھے لیکن یہ کمرہ ان سب سے خوبصورت تھا بلکل دلشیر کی طرح
ہر چیز پرفیکٹ تھی فرنیچر سے لے کر دیواروں پر لگی پینٹنگز تک بہت قیمتی اور خوبصورت تھی ۔۔۔
بیڈ کے دائیں طرف روم کے کونے میں ایک چھوٹا سا روم فریج تھا ۔۔۔
جب کے بائیں جانب ایک دروازہ تھا شاید اٹیچ باتھ تھا
اور بلکل سامنے ایک شیپ صوفہ تھا ۔۔۔
یہ سب دیکھ وہ اور زیادہ احساس کمتری کا شکار ہوگئی ۔۔۔
دلشیر کو کس چیز کی کمی تھی ملائکہ سے تو وہ خود ملی تھی کتنی خوبصورت اور کانفیڈنٹ لڑکی تھی اور اس کے ساتھ اچھی بھی بہت لگتی تھی۔۔۔۔اور کہاں وہ ایک بزدل اور طلاق یافتہ لڑکی جو کبھی اپنے حق کے لیے بول ہی نہیں پائی ایک بچے کی ماں بھلا اس کے ساتھ کیسے سروائیو کر سکتی تھی۔۔۔۔۔دلشیر کو دینے کے لیے اس کے پاس تھا ہی کیا اس کی روح کے ساتھ ساتھ اس کا جسم تک زخمی تھا جن سے آج بھی خون رستا تھا جنہیں اس نے کبھی بھرنے ہی نہیں دیا تھا۔۔۔۔۔
ایک دم مزید شرمندگی نے اسے آگھیرا پہلے صرف اس کی فیملی اس کی وجہ سے پریشان تھی لیکن آج ایک دوسرا خاندان بھی اس کی بدبختی کی سزا پانے والا تھا ۔۔

آج اس کا دل بہت دکھا تھا وہ اپنے آپ کو ایک بے کار چیز سمجھنے لگی ۔۔۔جو ہر کسی پر ہمیشہ بوجھ ہی رہی تھی تو اس کے بھائیوں نے اپنا بوجھ کم کرنے کے لیے دلشیر کو مجبور کر کے اس کے حوالے کر دیا تھا۔۔۔۔

اچانک دروازے کی آواز پر اس کا دل بہت زور سے دھڑکا وہ جلدی سے اٹھی اور صوفے کے پیچھے جا کر چپ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔اسے وہ سب یاد آنے لگا جو شادی کی پہلی رات عاشر نے اس کے ساتھ کیا تھا۔۔۔اس کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔۔۔۔
اس نے سختی سے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔

دلشیر نے کمرے میں قدم رکھا تو کمرہ خالی تھا لیکن اس کی خوشبو اسے آس پاس محسوس ہو رہی تھی بے قرار سی متلاشی نگاہیں چاروں طرف دوڑائی تو اس کی نظر صوفے کے پیچھے جم گئی۔۔۔۔
اس نے ایک نظر اپنی گود میں سو رہے بہرام کو دیکھا۔۔۔۔۔

وہ آرام سے چلتا بیڈ تک آیا اور بہرام کو بلکل بیڈ کے بیچوں بیچ لٹا دیا اور اس کے دونوں طرف تکیے رکھ دئیے تاکہ وہ نیند میں گر نا جائے ۔۔۔۔

وہ عزہ کا دوپٹہ دیکھ چکا تھا لیکن اس کا ڈر سمجھ کر وہ وارڈروب کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
اور اپنے لیے ایک سادہ سا ٹراؤزر شرٹ نکال ہر واش روم کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
دروازہ بند ہونے کی آواز پر اس نے آہستہ سے سر نکال کر باہر دیکھا تو کمرے میں کوئی نہیں تھا
لیکن جب نظر بیڈ پر لیٹے بہرام ہر پڑی تو وہ بے تابی سے اٹھ کر اس کی طرف بڑھی دوپٹہ نیچے ہی گر گیا تھا۔۔۔

میرا بچہ سارا دن ماما کے پاس نہیں آیا ماما آپ سے بہت ناراض ہے وہ بے تحاشہ اسے چومنے لگی ۔۔۔۔۔
اپنی نیند برباد ہونے پر بہرام نے گلا پھاڑ کر رونا شروع کر دیا۔۔۔۔عزہ بھی گھبرا گئی۔۔۔
کیونکہ وہ پہلے کبھی ایسے نہیں رویا اور کبھی روتا بھی تھا تو بی جان ماما ہالے آنا سب اسے چپ کروا لیتے تھے لیکن آج اکیلے وہ اسے سنبھال نہیں پا رہی تھی۔۔۔

دلشیر اس کا زیادہ رونا سن کر بنا شرٹ پہنے صرف ٹراؤزر میں جلدی سے باہر آگیا اور عزہ کی گود سے بہرام کو لے لیا۔۔۔۔
وہ جو پہلے ہی پریشان تھی دلشیر کو ایسے دیکھ شرم سے نظریں نہیں اٹھا پائیں اور جلدی سے مڑ گئی۔۔۔۔

آہستہ آہستہ بہرام کا رونا کم ہوتے ہوتے بند ہو گیا شاید وہ سو گیا تھا۔۔۔۔لیکن عزہ کا مڑ کر دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔۔
دلشیر اسے بیڈ پر لٹا کر قدم قدم چلتا عزہ کے پیچھے آ رکا
اور اس کے پیٹ میں ہاتھ لپیٹے اچانک اسے کھینچ کر اس کی پشت سینے سے لگا لی۔۔۔۔۔۔
عزہ کا جسم بری طرح کپکپانے لگا ۔۔۔۔اسے دلشیر سے ایسی کسی بے باکی کی امید نہیں تھی۔۔۔۔کیا وہ بھی عاشر کی طرح اسے روندھنے والا تھا۔۔۔۔۔

آپ جانتی ہیں آآج آپ کو اپنے کمرے میں اپنی شریک حیات کی حیثیت سے دیکھ میرا دل کس قدر دھڑک رہا ہے۔۔۔۔

دلشیر کی بھاری گھمبیر سرگوشی اسے اپنے کانوں میں سنائی دی۔۔۔۔۔اور اس کی دھڑکنوں کا شور پیچھے سے بھی وہ بآسانی سن سکتی تھی۔۔۔۔
آپ کو اپنے شریک حیات کے روپ میں دیکھ کر میرا دل کر رہا ہے میں پوری دنیا میں اعلان کروا دوں ہاں آج دلشیر خان مکمل ہو گیا آج اس کا رب نے اس پر بہت زیادہ مہربان ہو گیا۔۔۔۔
اس کی سرگوشی اور اس کے لہجے میں خوشی محسوس کر عزہ کی آنکھیں حیرات سے پھیل گئی۔۔۔۔

یاد ہے آپ کو آپ نے نکاح سے دو دن پہلے مجھ سے کچھ سوال کئیے تھے ۔۔۔۔اس نے عزہ سے پوچھا آواز وہی سرگوشی میں تھی۔۔۔
اور میں نے آپ سے کہا تھا میں آپ کے تمام سوالوں کا جواب آپ کو اپنے کمرے میں اس وقت دوں گا جب آپ میری محرم بن کر یہاں موجود ہوں گی۔۔۔
آج میں آپ کوان تمام سوالوں کے جواب دینا چاہتا ہوں ۔۔۔

آپ کی پہلی بات تھی کہ میں آپ پر ترس کھا کر شادی کر رہا ہوں۔۔۔۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ دلشیر خان کو آج تک دنیا میں کوئی مجبور نہیں کر سکا۔۔۔ اور آپ سے شادی کرنا میری زندگی وہ ان کہی خواہش ہے جو میرے مانگنے سے پہلے میرے مانگنے سے پہلے میرے رب نے پوری کردی۔۔۔

آپ کی دوسری بات کہ آپ مجھے سوائے دکھوں کے کچھ نہیں دے سکتی ۔۔۔۔۔
اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کا میری
زندگی اور میرے کمرے میں ہونا ہی سب سے بڑی خوشی ہے اس کے سوا مجھے کچھ نہیں چاہیے ۔۔۔
اور آپ کی تیسری بات کہ آپ ایک بیٹے کی ماں ہیں
تو آج سے میں بھی ایک بیٹے کا باپ ہوں بہرام ہمارا بیٹا ہے ۔۔۔

اور آپ کی چوتھی بات کہ میری منگیتر آپ سے زیادہ خوبصورت ہے ۔۔۔۔

اس کا جواب یہ ہے کہ وہ میری منگیتر تھی۔۔۔۔اور آپ میری بیوی اور میری بیوی دنیا کی سب سے حسین ترین لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔

نہیں ہوں میں حسین نہیں ہوں میں اچھی بلکل بھی میں آپ کے قابل نہیں ہوں پلیز مجھے اس کمرے میں نہیں رہنا
آپ مجھے اور بہرام کو کوئی دوسرا کمرہ دے دیں ہم ہم آپ کو تنگ نہیں کریں گے آپ دوسری شادی کر لیں ملائکہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس سے خود کو چھڑا کر چیخی تھی مسلسل اتنا رونے کی وجہ سے اس کا گلا بیٹھ گیا تھا۔۔۔

وہ حیرانگی سے اس لڑکی کو دیکھنے لگا کتنا غبار بھرا ہوا تھا کتنا احساس کمتری کا شکار تھی وہ لڑکی ۔۔۔۔۔ وہ بنا کچھ کہے کھڑا اسے دیکھے جا رہا تھا۔۔۔۔
دلشیر کی آنکھوں میں جذبات کی تپش جب زیادہ ہوئی تو اسے اپنے حلیے کا خیال آیا ۔۔۔۔سہ کب سے بنا دوپٹے کی اس کے پاس کھڑی تھی اسے ٹوٹ کر دلشیر سے شرم آئی اور وہ بھاگتے ہوئے واش روم میں گھس گئی ۔۔۔۔۔

واش روم میں پہلے ہی اس کا سادہ سا سوٹ لٹکا ہوا تھا شاید ہمنہ لٹکا کر گئی تھی ۔۔
جب وہ باہر آئی تو دلشیر بہرام کو بازوں میں لٹائے خود آنکھیں بند کئے لیٹا تھا۔۔۔۔

وہ بیڈ کے پاس کافی دیر تک کشمکش میں مبتلا کھڑی رہی۔۔۔۔
بیڈ پر لیٹ جائیں آپ فکر مت کریں کچھ نہیں کروں گا آپ کی مرضی کے بغیر ۔۔۔۔لیکن اگر ایسے ہی کھڑی رہی تو میں اپنی گارنٹی نہیں دے سکتا۔۔۔۔

دلشیر کی بات پر وہ جلدی سے دوسری طرف لیٹ گئی اور اچھے سے کمفرٹر خود پر اوڑھ گئی۔۔۔کہ۔کہیں وہ سچ میں کچھ کر نا دیں۔۔۔
اور ہلکے سے مڑ کر اس کی طرف دیکھا جو ابھی تک آنکھیں بند کئیے لیٹا تھا۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد خود بھی نیند کی وادیوں میں اتر گئی۔۔۔۔۔

جب اس کی آنکھ کھلی تو بہرام کو اس کے سینے میں لیٹے پایا ۔۔۔اور دلشیر کا ایک ہاتھ بہرام کے اوپر تھا
اور وہ خود بہرام کی جگہ اب دلشیر کے بازو میں لیٹی تھی
۔۔۔۔۔۔کافی دیر تک وہ اس منظر میں کھوئی رہی ۔۔۔۔
بہرام آج پر سکون نیند سو رہا تھا ورنہ وہ رات میں بہت بار جگاتا تھا لیکن آج وہ نہیں جاگا۔۔۔۔اسے حیرت ہوئی اپنے بیٹے کی نیند پر اور خود پر بھی کہ وہ کیسے نیند میں اس کے اس قدر پاس ہوگئی۔۔۔
ایسی ہی ایک خواہش اس نے کی تھی کبھی لیکن اس میں دلشیر کی جگہ عاشر تھا ۔۔۔۔

اور اس خیال کے آتے ہی وہ جھٹکے سے وہاں سے اٹھی لیکن واپس لیٹنا پڑا اسے کیونکہ دلشیر نے اپنا بازو اس کی گردن کے گرد لپیٹ دیا تھا۔۔۔۔

اس نے اپنی سانسیں تک روک لی۔۔۔اور گھبرا کر اس کی طرف دیکھا جو اب بھی آنکھیں موندے لیٹا تھا۔۔۔

چھ چھوڑیں ۔۔۔۔اس نے غرا کر کہا نا جانے کیوں جو غصہ اس نے کبھی آج تک کسی پہ نہیں کیا وہ دلشیر پر کیوں کرنے لگی تھی۔۔۔۔

اگر نا چھوڑوں تو۔۔۔۔۔اب کے اس نے آنکھیں کھول کے اپنی آنکھیں اس کی آنکھوں پر گاڑھ دیں۔۔۔۔لیکن ایک خوبصورت مسکراہٹ ہونٹوں پر رقصاں تھی۔۔۔۔

اس سے پہلے وہ کوئی جوابی کاروائی کرتی بہرام کے رونے پر دلشیر کی گرفت ڈھیلی ہوئی اور جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔

اور بہرام کو عزہ کے حوالے کر کے خود واشروم چلا گیا تا کہ فریش ہو سکے۔۔۔

………………………………………………………..

زریان آپ کو یقین ہے نا وہ خوش رہے گی ؟دیکھا نہیں تھا کتنا رو رہی تھی ۔۔۔۔۔مجھے تو سوچ سوچ کر دکھ ہو رہا ہے

وہ زریان کے بازو پر لیٹی اس سے عزہ کے بارے میں بات کرنے لگی۔۔۔۔
مجھے یقین ہے یہ فیصلہ شاید میری زندگی کا سب سے بہترین فیصلہ ہے جو میں نے عزہ کے لیے کیا کاش عاشر کبھی ہماری زندگی میں آیا ہی نہیں ہوتا ۔۔۔۔
زریان نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے کہا۔۔۔۔

ہاں مجھے بھی دلشیر بھائی کی آنکھوں میں عزہ کے لیے محبت اور اور احترام ساتھ نظر آتا ہے ۔۔۔اس نے جو دیکھا بتا دیا۔۔۔
ہممم۔۔۔
زریان ۔۔۔۔اس نے دوبارہ پکارا شاید آج اس کا زریان کو سونے دینے کا کوئی ارادہ نا تھا اور رواحہ کو بھی فائزہ بیگم اپنے ساتھ لے گئی تھی۔۔۔۔
ہمم بولو۔۔۔۔

مجھے لگتا ہے عزہ ہم سے ناراض ہو گئی ہے ۔۔۔

وہ بہت جلد مان جائے گی تم پریشان مت ہو سو جاؤ۔۔۔۔زریان اس کا سر اپنے سینے سے لگاتا اسے چپ کروا گیا۔۔۔۔

……………………………………………………………………

وہ جو آج روحان کی وجہ سے پورے ایک سال بعد اپنے کمرے میں آگئی تھی سونے کے لئے ۔۔۔۔۔۔

نیند میں کھٹ پھٹ کی آواز پر آہستہ سے آنکھیں کھولیں خود پر جھکے انسان کو دیکھ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ۔۔۔۔

جاری ہے