Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

ناول ۔۔۔۔۔دل سکون

رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند

قسط۔۔۔۔چودھویں

کب تک بھاگو گے حقیقت سے روحان
گاڑی میں اس کی گھمبیر آواز گونجی

نہیں بھائی ایسی تو کوئی بات نہیں میں کیوں بھاگو نگا
تم بھول رہے ہو کہ میں تمہیں تم سے زیادہ جانتا ہوں

لیکن پھر بھی تم بتانا نہیں چاہ رہے تو میں تمہیں فورس نہیں کرونگا اچھی بات ہے خود کو اور اپنے اس رشتے کو ٹائم دو ہالے بہت معصوم ہے
اور مجھے بہت عزیز بھی اسے تکلیف دینے کا سوچنا بھی مت ورنہ میں اپنے بھائی کا بھی لحاظ نہیں کرونگا زریان نے جیسے اسکی سوچ پڑھ لی تھی اس لیے اسے وارن کرنا ضروری سمجھا

آپ کو نہیں لگتا آپ کو حویلی جانا چاہیے کب تک بابا سے ناراض رہیں گے وہ پیشمان ہیں روحان نے بات ہی بدل دی

تم اچھی طرح جانتے ہو مجھے بابا سے کبھی کوئی ناراضگی نہیں رہی ہاں بچپن سے ہماری سوچ نہیں ملتی لیکن اس کے باوجود ہم ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں لیکن انہوں نے عزہ کے ساتھ اچھا نہیں اپنی ہی اولاد پر بھروسہ نہیں کیا تم جانتے ہو اگر اس دن میں وہاں نہیں جاتا تو آج عزہ ہمارے ساتھ نہیں ہوتی
لیکن وہ خود کو آج بھی صحیح سمجھتے ہیں اور بابا نے ہی ہمیں حویلی سے نکالا تھا

سچ کہوں تو میں خود چاہتا ہوں عزہ واپس حویلی چلی جائے وہ یہاں بہت اداس رہتی ہے میں نے دیکھا ہے ان چھ مہینوں میں وہ بہت یاد کرتی ہے بی جان ماما اور ہالے کو

اس نے اپنا دل کھول کے رکھ دیا تھا روحان کے سامنے
ہمم انشاء اللہ بابا کو جلد احساس ہوگا۔ روحان نے دل سے دعا دی
اور تمہیں پتہ ہے میں نے آنا سے نکاح بھی عزو کی تنہائی دور کرنے کے لیے کیا

اس کی بات پر جن نظروں سے روحان نے اسے دیکھا
اس کا خوبصورت قہقہ گاڑی میں گونجا روحان بھی مسکرا دیا

……………………………………………………………

سارہ بیگم اپنے بچوں کے ساتھ آئی تھی ان کے شوہر کو ایک ہفتے بعد آنا تھا
بی جان تو اپنی بیٹی اور نوازی نوازے سے مل کر بہت خوش ہو رہی تھی باقی سب بھی بہت خوش تھے

سب ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے کھا نا کھا رہے تھے
بھابھی آپ کے بچے کہاں ہیں کیا وہ گھر کی روایت بھول گئے ہیں پورے دو سال بعد آئی ہوں میں لیکن انہوں نے مجھ سے ملنے کی زحمت نہیں کی
سارہ بیگم نے طنزیہ لہجے میں شکوہ کیا
ارے نہیں سارہ ایسی بات نہیں اصل میں روحان کمپنی کے کام سے دبئی گیا ہے تم تو جانتی ہو زریان زیادہ تر شہر میں رہتا ہے اور اصل میں تمہارے آنے کا اسے پتہ نہیں ورنہ ضرور آتا بی جان نے فوراً اپنے پوتوں کی سائیڈ لی

اچھا چھا ٹھیک ہے اماں لیکن یہ عزہ اور ہالے کہاں ہیں

عزہ کو کچھ کتابیں اور سامان چاہیے تھا اس لیے وہ زریان کے ساتھ شہر گئی ہے کل تک میں جا کر اسے لے آؤنگا اور ہالے کو صبح سے ہی بخار ہے
اس سے پہلے کہ کوئی اور جواب دیتا ۔۔۔عالم صاحب سرسری سا بتا کر کھانا کھانے لگے

جب کے بی جان اور فائزہ بیگم نے بے یقینی سے انہیں دیکھا تھا کیا وہ سچ کہہ رہا تھا
ہاں عالم صاحب کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے
سب کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ گئی

…………………………………………………………………………….

رات بھی وہ روحان کو ائیرپورٹ چھوڑ کر بہت دیر سے گھر آیا تھا لیکن اپنے کمرے میں جانے کی زحمت نہیں کی کیونکہ وہ کل رات کی حرکت بھولا نہیں تھا

وہ اسٹڈی میں ہی کام کرتے کرتے سو گیا تھا صبح اس کی آنکھ دس بجے کے قریب کھلی وہ اٹھا وہی سے ہی ایک ڈریس نکال کر فریش ہونے چلا گیا

تھوڑی دیر بعد براؤن تھری پیس می وہ خوشبوؤں میں نہایا باہر آیا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر تیار ہونے لگا تیار ہو کر اس نی اپنی واچ موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھائی اور نیچھے بڑھ گیا

لاؤنج میں وہ دونوں بیٹھی باتوں میں مصروف تھی
عزو آپ کالج کیوں نہیں گئی ۔۔۔اس نے آنا کو پوری طرح
اگنور کیا اور عزہ سے مخاطب ہوا

جی بھیا بس آج دل نہیں کیا اس لیے نہیں گئی لیکن میں کلاس میٹ سے نوٹس لے کر کور کر لونگی۔۔آپ فکر نہ کریں
اس نے مسکرا کر اسے مطمئن کیا

زریان نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور اس دوران اس نے آنا کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا بوسہ دے کراس کا گال تھپتھپایا اور باہر کی طرف بڑھ گیا

ابھی وہ پورچ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف بڑھا ہی تھا کہ چوکیدار نے مین گیٹ کھول دیا اور ایک گاڑی آکر اس کے پاس رکی
اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا کل ہی تو اس نے روحان سے بابا کی بات کی تھی
اور آج وہ اس کے سامنے اس کے گھر میں کھڑے تھے
وہ جا کر بابا کے گلے لگ گیا بابا نے نے اس کا شانا تھپتھپایا
وہ قد میں عالم صاحب سے ایک انچ اونچا ہی تھا اور آج جس مقام پر وہ تھا انہیں اپنے دونوں بیٹوں پر فخر تھا

کیسے ہیں بابا آپ أنے سے پہلے بتا دیا ہوتا تو میں آپ کو لینے آ جاتا وہ خوشی سے بولا
اور ان کو لیے اندر بڑھا

لاؤنج میں پہنچتے جیسے ہی عزہ کے ساتھ بیٹھی آنا پر اسکی نظر پڑی اسے شدت سے اپنی غلطی غلطی کا احساس ہوا وہ تیار نہیں تھا کسی بھی چیز کے لیے

عزو۔۔۔۔۔
وہ جو باتوں میں مصروف تھی اس آواز پر جھٹکے سے اٹھی اور مڑ کےحیرت سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی

کیا وہ سچ میں اس کے سامنے تھے کتنا یاد کیا تھا ان چھ مہینوں میں اس نے اپنے بابا کو اس کے قدموں نے ہلنے سے انکار کردیا اس سے ایک قدم آگے نا بڑھایا گیا
وہ ویسے ہی کھڑی رہی آنسوؤں نے رکنے سے انکار کر دیا

عالم صاحب آگے آئے اور اسے سینے میں چھپا لیا
باپ کا لمس ملتے ہی وہ بلک بلک کر رونے لگی

بابا مجھے معاف کر دیں بابا مجھے لے جائیں میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی پلیز میں آئندہ کبھی بھی آپ سے کچھ نہیں چھپاؤ نگی
میرا یقین کریں وہ سب جھوٹ تھا میں نے کچھ نہیں کیا تھا
وہ روتے روتے اپنے باپ کو یقین دلا رہی تھی

میری جان میں بہت شرمندہ ہو ں تم مجھے معاف کر دو
بیٹا اپنے بابا کو معاف کر دو
وہ اسے سینے سے لگائے اپنی بیٹی سے معافی مانگنے لگے
نہیں بابا آپ سب سے اچھے بابا ہیں پلیز مت بولیں کچھ بھی

آنا تو یہ سب دیکھ کر ہی حیران تھی بہت سارے سوال تھے اس کے زہن میں لیکن وہ تو ایک باپ کی آنکھوں میں اپنی بیٹی کے لیے محبت دیکھ کر رشک کرنے لگی
اسے پتہ ہی نہیں چلا کب آنکھوں میں آنسو آگئے

عالم صاحب عزہ کو لیے صوفے پر بیٹھ گئے زریان بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا لیکن نظر یں آنا پر ہی ٹکی تھی جو بہت حسرت سے عزہ اور باباکو دیکھ رہی تھی

میں عزہ اور تمہیں لینے آیا ہوں چلو گھر چلو سب تم لوگوں کا انتظار کررہے ہیں۔۔۔ عالم صاحب نے کہا

زریان نے اسی لمحے بابا کو بتانے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ چھپانے کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی
بابا مجھے آپ کو کچھ بتانا ہے پلیز مجھے سمجھنے کی کوشش کیجئے گا اس نے التجاء کی
عالم صاحب نے غور سے اسے دیکھا

زریان اٹھا اور آنا کا ہاتھ تھامتا بابا کے سامنے لے آیا
بابا یہ میری بیوی ہے چار دن پہلے ہی ہمارا نکاح ہوا ہے بس
کچھ ایمرجنسی کی وجہ سے میں آپ کو بتا نہیں سکا مجھے معاف کر دیجیئے
وہ گھٹنوں کے بل ان کے سامنے بیٹھتا ان کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگا

عالم صاحب جو اتنی دیر سے اسے آنا کی دوست سمجھ رہے تھے زریان کی بیوی کے روپ میں دیکھ کر غصہ سے لال ہو گئے
ایک بار پھر اس نے ہمیشہ کی طرح ان سے کچھ پوچھنا ضروری نہیں سمجھا
اور اپنی من مانی کی
جب تمہیں سب کچھ خود ہی کرنا تو ماں باپ کی کیا ضرورت ہے بیٹا ۔۔۔انہوں نے کہا تو لہجہ کافی سرد تھا

نہیں باب۔۔اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتا اسے آنا کی آواز سنائی دی
آپ کے بیٹے نے زبردستی نکاح کیا ہے مجھ سے مجھے میری شادی میں سے اغوا کرلیا تھا اور اپنے گھر میں بندی بناکر رکھا
اسے موقع ملا تھا تو وہ کیسے گنواتی اس لیے ساری حقیقت عالم صاحب کے سامنے رکھ دی
انہوں نے قہر بار نظروں سے زریان کو دیکھا اور عزہ کا ہاتھ پکڑے اسے لیے گاڑی میں بیٹھ گئے زریان نے انہیں روکنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ چلے گئے

زریان نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا جس کے آنکھوں میں آنسوں کے ساتھ ساتھ مسکراہٹ بھی تھی اس کا دل کیا اس لڑکی کو جان سے مار دے
لیکن ظبط کر کے گاڑی میں بیٹھا اور خود بھی نکل گیا
اگر وہ رکتا تو یقیناً بہت بڑا نقصان ہو جاتا اس لیئے وہ گھر سے ہی باہر نکل گیا
سب کے جانے کے بعد آنا بھی دوسری گاڑی میں آکر بیٹھ گئی تو ڈرائیور نے خاموشی سے گاڑی چلا دی شاید اسے پہلے ہی زریان نے سمجھایا تھا اس لیے آج کسی نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی

……………………………………………………………………….

وہ جیسے ہی دبئی ایئرپورٹ سے باہر نکلا ہر کوئی مڑ مڑ کر اسے دیکھ رہا تھا بلو جینز کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے بکھرے بالوں کے ساتھ وہ بہت وجیہہ لگ رہا تھا اوپر سے اس کے بھینچے ہونٹوں کی وجہ سے ابھرتا ڈمپل سب کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا

جاری ہے۔۔۔۔