Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
ناول ۔۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔۔۔بائیس
صبح جب آنا کی آنکھ کھلی کمرہ تب بھی خالی تھا تو کیا وہ پوری رات نہیں آیاتھا
یہ سوچتے ہی اسے بہت غصہ آیا تھا وہ اٹھی بالوں کا سادہ جوڑا بنایا اور الماری سے ایک پنک کلر کا ہلکا سا کام والا سوٹ نکالا اور واشروم چلی گئی فریش ہونے کے لیے
تھوڑی دیر بعد وہ نکھری نکھری سی باہر آئی اور ہلکا سا میک اپ کیا اور کمرے میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگی
تھوڑی ہی دیر بعد ہالے اس کے کمرے میں آگئی تھی
اس نے بتایا کہ رات سے روحان اور زریان دونوں ہی گھر نہیں آئے تھے ان کے دوست کا بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور ان کی حالت بہت خراب ہے اس وجہ سے وہ دونوں ہی بہت پریشان تھے
تھوڑی دیر پہلے جو اسے غصہ آرہا تھا اپنی سوچ پر بہت شرمندگی ہوئی
پھر وہ ہالے کے ساتھ نیچے ناشتہ کرنے چلی گئی ۔۔۔۔
………………………………………………………………………….
دلشیر کی پوری فیملی ہسپٹل میں موجود تھی جیسے ہی انہیں خبر ملی وہ بھاگے چلے آئے تھے دلشیر کی ماں اور بہن کی تو رو رو کر حالت بری ہو گئی تھی وہ سجدے میں گری دلشیر کے لیے رو رو کر اللّٰہ سے فریاد کر رہی تھی باپ بھی بہت پریشانی سے بیٹھے تھے
روحان اور زریان کی حالت بھی ان سے مختلف نہیں تھی
دس گھنٹے ہو گئے تھے لیکن ابھی تک کوئی تسلی بخش خبر نہیں ملی تھی
بھیا آپ جا کر چینج کر کے آئے گھر میں بھابھی بھی انتظار کر رہی ہو نگی
روحان نے اس کی حالت کے پیش نظر اسے تھوڑی دیر کیلئے گھر بھیجنا چاہا۔۔
نہیں یار جب تک ڈاکٹر کوئی اچھی خبر نہیں دیتا مجھے سکون نہیں ملے گا تم جا کر زرا ڈاکٹر سے پوچھو کیا کنڈیشن ہے۔ اب دلشیر کی۔۔۔۔۔
……………………………………………………………….
صبح جب عاشر کی آنکھ کھلی تو بیڈ ک ے پس نیچے پڑی عزہ کی حالت دیکھ وہ گھبرا گیا۔۔۔
وہ جلدی سے عزہ کے پاس آیا اور اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور اسے اٹھانے لگا جب بلانے پر بھی نہیں اٹھی تو اس کی سانسیں چیک کرنے لگا
جو بہت دھیمی چل رہی تھی ۔۔۔۔رات اس نے بہت زیادہ پی لی تھی اس لیے اسے کچھ پتہ نہیں چلا کہ یہ سب کیسے ہو گیا وہ یہاں تو یہ سب ہرگز نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
اس نے جلدی سے اس کے کپڑے درست کیے اور خود اٹھ کے فریش ہو کر چینج کیا ۔۔۔
ڈاکٹر کو کال کرنے کے لیے اس نے فون اٹھایا تو حویلی سے بہت ساری کالز تھی ان کو بعد میں فون کرنے کا سوچتے اس نے اپنے ایک دھدیالی کزن کو ڈاکٹر لانے کا بول کر فون کاٹ دیا
وہ پریشانی سے ادھر ادھر چکر لگانے لگا۔۔۔۔۔پریشانی اس کے ہر انگ انگ سے ظاہر ہونے لگی ۔۔۔
اگر عزہ نے سب کو بتا دیا تو سب بر باد ہو جائے گا۔۔۔
تھوڑی دیر میں ہی ڈاکٹر آگئ تھی اور اسے چیک کیا
دیکھیں مسٹر عاشر
اس لڑکی کے ساتھ ریپ ہوا ہے اور جگہ جگہ اسے سگریٹ سے جلایا گیا ہے ۔۔۔۔۔بہت زیادہ ڈر کی وجہ سے یہ بے ہوش ہو گئی ہیں میں نے ڈرپ لگا دی ہے کچھ دیر تک ہوش آجائے گا۔۔۔۔اور یہ پولیس کیس ہے آپ کو پولیس کو انفارم کرنا چاہیے
ڈاکٹر نے اسے عجیب نظروں سے دیکھ کر بتایا اتنا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ اس لڑکی کا شوہر ہے اور اسی نےاس لڑکی پر اپنی درندگی دکھائی تھی۔۔۔۔
بہت شکریہ آپ کا امید کرتا ہوں جو کچھ یہاں دیکھا آپ نےوہ بات باہر نہیں نکلے گی ۔۔۔۔۔۔نوٹو کی ایک گڈی ڈاکٹر کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے کہا جس پر ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے اسے بے فکر رہنے کو کہا اور چلی گئی۔۔۔
تو وہ بھی کمرے میں آکر اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگا تاکہ اسے منا سکے۔۔۔۔
…………………………………………………………….
آخرکار کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد دلشیر کو ہوش آگیا تھا سب کے چہروں پر سکون کی لہر دوڑ گئی
سب سے پہلے عائزہ بیگم گئی۔۔۔
کچھ ہی گھنٹوں میں اس کی کیا حالت ہو گئی تھی کل ہی تو ان سے بات کی تھی اپنے دل کی بات ان کو بتائی تھی
اور آج ان کالخت جگر پٹیوں سے جھکڑا آنکھیں موندے دنیا سے بے خبر پڑا تھا ان کا کلیجہ منہ کو آیاتھا
وہ پاس رکھی اسٹول پر بیٹھ گئی۔۔
دلشیر میرا بچہ انہوں نے انہوں نے تڑپ کر ان کا ہاتھ تھام لیا
وہ جو آنکھیں موندے لیٹا تھا دھیرے سے آنکھیں کھولیں تو سامنے اپنی ماں کو روتے ہوئے پایا۔۔۔
وہ ازیت سے انہیں دیکھنے لگا آنسو اسکی آنکھوں سے نکل کر کنپٹی پر بہنے لگا۔۔۔۔
کیا ہوا ہے میرے بچے کیوں اپنا خیال نہیں رکھتے تمہیں کچھ ہو جاتا تو تمہاری ماں جیتے جی مرجاتی
موم میں نے اسے کھو دیا۔۔۔۔جب بولا تو اسے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی۔۔۔۔
مجھے لگا تھا میں اسے حاصل کر لونگا۔۔۔۔
لیکن میں نے اسے کھو دیا آپ جانتی ہیں جب میں نے اسے کسی اور کے ساتھ دلہن کے روپ میں دیکھا تو میں تو اسی وقت مر گیا تھا
وہ کسی اور کی دلہن بنی کسی اور کے لئے سجی بیٹھی تھی آپ آپ کا دلشیر تو اسی وقت ختم ہو گیا تھا موم
وہ چھت کو گھورتے ہوئے اپنی بے بسی اپنی ماں کے سامنے عیاں کر رہا تھا
اور عائزہ بیگم کا دل کیا وہ اپنے بیٹے کے ہر غم کو اپنے اندر چپا لے ان کی آنکھوں سے آنسوں رواں تھے وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔۔
………………………………………………………………
عزہ کو کسمساتے دیکھا تو عاشر فوراََ اس کے پاؤں کے پاس پاس سر جھکائے بیٹھ گیا
جب اس نے آنکھیں کھولی تو اپنے پیروں کے پاس عاشر کو بیٹھے دیکھ اس کی چیخ نکل گئی
پلیز جانے جانے دیں میں نے کچھ نہیں کیا مجھے معاف کردیں وہ ڈرتے ہوئے رونے لگی اس میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ اٹھ کر بھاگ سکے
عاشر نے اس کے پاؤں پکڑ لئے ۔۔۔۔۔
پلیز تم مجھے معاف کر دو میں نے بہت غلط کیا مجھے معاف کر دو میں تمہارے بغیر مرجاؤ گا پتہ نہیں میرےدوستوں نے کولڈ ڈرنک میں کچھ ملا کر پلا دیا تھا مجھے میں اپنے ہوش میں نہیں رہا عزہ میری جان
تم مجھے معاف کر دو میں تمہارا مجرم ہوں
اگر تم منے مجھے معاف نہیں کیا تو میں خود کو سزا دوں گا
اس نے کہتے ہوئے پاس رکھے فروٹ باسکٹ سے چھری اٹھا لی اور اپنی کلائی پر رکھ لی
عزہ تو اسکے معافی مانگنے اور چھری رکھنے پر ہی گھبرا گئی تھی وہ نرم دل لڑکی کہا سمجھتی تھی چالاکیاں
اس نے نظر اٹھا کر عاشر کی آنکھوں کی طرف دیکھا جو بہت شرمندگی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا
اس نے نظریں جھکا لیں
اس کے ساتھ جو رات جانوروں جیسا سلوک عاشر نے کیا
وہ تو اس کے دل و دماغ پر نقش ہو گیا تھا
شاید ہیوی کبھی سنبھل پاتی لیکن اس نے ناراض رہنا سیکھا کب تھا
وہ اپنی نئی زندگی میں کوئی ناراضگی نہیں چاہتی تھی اس لیے اپنے دل کے خلاف جا کر اس نے عاشر معاف کردیا
تھینک یو تھینک یو سو مچ میری جان اس نے جھک کر عزہ کے گال پر بوسہ دیا تو وہ دوبارہ ڈر گئی۔۔۔
میں نے حویلی کال کر کے بتا دیا ہے کہ ہم کل صبح آئیں گے
آج کا دن ہم ایک دوسرے کے ساتھ گزاریں گے ۔۔۔
عاشر نے محبت سے عزہ کا گال چھو کر کہا تو وہ شرما گئی
اور پھر واقع اس نے پورا دن عزہ کا بہت خیال رکھا اپنے ہاتھوں سے بنا کر کھانا کھلایا ۔۔کبھی اس کے ساتھ چھیڑ خانی کرتا تو کبھی کوئی مزاق کبھی اس کی تعریف تو کبھی کبھی کوئی پیار بھری گستاخی
وہ بھی اس کے ساتھ بہل گئی ۔۔۔۔
………………………………………………………………………….
تھوڑی دیر پہلے ہی سب اس سے ملکر گئے تھے اب زریان اس کے پاس بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا جو آنکھیں بند کئے لیٹا تھا
لیکن وہ جانتا تھا کہ وہ جاگ رہا ہے
لیکن اسے مخاطب کرنے کی ہمت نہیں تھی کیسے وہ اپنے دوست کے دل سے بے خبر رہا۔۔۔
تم کیا مجھے گھورنے آئے ہو آخر دلشیر سے اس کی نظریں برداشت نہیں ہوئی تو چڑ کر کہا
ہاں ایسا ہی سمجھ لو کیونکہ میں دیکھنا چاہ رہا ہوں کہ آخر تمہیں خودکشی کیوں کر سوجھی۔۔زریان نے اس پر نظریں جمائے کہا۔۔۔۔۔دلشیر نے آنکھیں چرائی کہیں وہ اس کی آنکھوں سے دل کا حال نا جان لے ۔۔۔
بکواس نہیں کر مجھے یہاں سے جانا ہے ڈاکٹر سے بات کر یار دم گھٹ رہا میرا یہاں ۔۔۔
اب کہ وہ جھنجھلا کر بولا۔۔تو زریان بھی بعد میں بات کرنے کا سوچتے وہاں سے نکل گیا۔۔۔
وہ رات کے ایک بجے گھر آیا تھا زریان ابھی بھی ہسپٹل میں تھا
لیکن اسے اپنے کپڑوں سے الجھن ہو رہی تھی اس لیے وہ چینج کرنے آیا تھا ۔۔۔بھوک بھی بہت لگی تھی جلسے بھوکا تھا
کچن سے کھٹ پٹ کی آواز پر وہ کچن کی طرف مڑ گیا
بےبی پنک ٹراؤزر میں بے بی پنک ہی شرٹ پہنے دوپٹہ سے بے نیاز وہ نوڈلز بنا رہی تھی لمبے براؤن بال کمر پہ بکھرے ہوئے تھے
وہ قدم قدم چلتا اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا
اور اس کے بالوں کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا۔۔۔۔
اپنے بہت پاس اس کی خوشبو محسوس کرکے اس کے ہاتھ رک گئے۔۔وہ گھبرا کر پلٹی تو اس کے چوڑے سینے سے ٹکرائی ۔۔
ہالے کی تو مانو اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی ہو اسے پاس دیکھ کر۔۔۔۔
وہ بمشکل اس کے سینے تک آتی تھی لیکن اس خرگوش نے کئی راتوں سے اسے بے چین رکھا تھا
وہ جھکا اور پوری شدت سے اس کے لبوں کو اپنی دسترس میں لیا اور قطرہ قطرہ اپنی روح کو سیراب کرنے لگا
ہالے تو اس کے اس قدر نزدیکی پر گھبرا گئی بے ساختہ اس کی قمیض کو سینے سے سختی سے بھینچ لی وہ اپنی مرضی سے پیچھے ہٹا
وہ اسی کے سینے میں سر ٹکائے لمبی لمبی سانسیں لینے لگی ۔۔۔
روحان جب بھی اس کے پاس ہو تا تھا سب بھول جاتا تھا اپنا وعدہ عہد سب کچھ یاد رہتا تو صرف اتنا کہ ہالے اس کی بیوی ہےاس کے نکاح میں ہے بس ۔۔۔۔۔۔
ہالے ہوش میں آتے ہی ہڑ بڑا کر اس سے دور ہوئی اور بھاگنے لگی
روحان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا کہ وہ اس کے سینے سے آ لگی۔۔۔۔
بڑی بڑی گہری آنکھیں حیرانی سے اور بڑی ہو گئی ۔۔۔۔۔۔
وہ جھکا ان آنکھوں میں باری باری لب رکھے۔۔۔۔
