Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
ناول ۔۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔۔تیرھویں
وہ جو کان لگائے اپنا سارا وزن دروازے پر ڈالے کھڑی تھی دروازہ کھلنے پر خود کو سنبھال نہیں پائی اور روحان کے سینے سے لگے پیچھے گر پڑی
اور بے دھیانی میں اس کے ہونٹ روحان کے سینے پر ثبت ہو گئے اپنی بانہوں میں ایک نرم و نازک وجود اور سینے پر اس کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر کے اسے خود پر کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا
ہالے نے گھبراتے ہوئے اس کے اوپر سے اٹھنے کی کو شش کی لیکن گیلے فرش کی وجہ سے وہ دوبارہ اس پر گری۔۔۔تو اس کے گالوں پر سرخی اتر آئی
مزید روحان سے برداشت نہیں ہوا تو اس کے بالوں کو مٹھیوں میں بھر کے اسے خود پر جھکایا اور اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کر کے اسے قطرہ قطرہ پینے لگا تشنگی تھی جو مٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
ہالے کی سانسیں اٹکنے لگی اس نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن روحان تو کسی اور ہی دنیا کو سیر کو نکلا تھا ہالے سے برداشت نہیں ہوا تو وہ اسی بانہوں میں گر گئی
جب اپنی بیوی کے وجود میں کوئی جنبشِ نہیں ہوئی تو اس نے ہالے کو خود سے دور کر کے دیکھا تو وہ آنکھیں بند کئے ہوئے تھی وہ اٹھا اور سیدھا کر کے اسے بانہوں میں اٹھایا اور باہر نکل کے اپنے بیڈ پر لٹایا
ہئے اٹھو ہالے کیا ہوا وہ اس کا گال تھپتھپانے لگا اسے اپنی حرکت پر انتہائی افسوس ہوا اس نے ہالے کی نبض چیک کی جو نارمل چل رہی تھی شاید ڈر کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی ۔۔۔۔
اس نے جلدی جا کر الماری سے اپنے کپڑے لئے اور ڈریسنگ روم میں جا کر چینج کیا
با ہر آکر ہالے کو اپنے بازوؤں میں اٹھایا اور چلتا ہوا ہالے کے کمرے میں لا کر اسے بیڈ پر لٹایا اور اس کے اوپر کمبل ڈالا
ایک نظر کمرے کے چاروں طرف ڈالی پنک تھیم کا وہ کمرہ کسی معصوم پرنسس کا معلوم ہو رہا تھا
اس نے سوچ لیا تھا اب اسے کیا کرنا ہے پھر وہ وہاں سے اپنے کمرے میں اکر وہ بستر پر ڈھے گیا نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔
………………………………………………………………….
عزہ کے ساتھ اس کا بہت اچھا وقت گزرا تھا وہ بہت سادہ دل لڑکی تھی مرزا خاندان کی ہونے کےباوجود وہ اسے بہت اچھی لگی تھی دو دن سے جو دل و دماغ پر بوجھ تھا وہ تھوڑا کم ہوا تھا دونوں نے کھانا بھی ساتھ کھایا تھا البتہ زریان کو آفس سے کوئی کال آگئ تھی اس لیے وہ آفس چلا گیا تھا اس لیے آنا بھی مطمئن تھی
اس سب سے فارغ ہو کر کمرے میں آگئی
یہ کمرہ زریان کا تھا یہاں موجود اس کی ہر چیز اس بات کی گواہ تھی لیکن وہ کل رات بھی روم میں نہیں آیا تھا اس لیے وہ بلکل مطمئن تھی کہ وہ نہیں آئے گا
الماری میں نظر پڑتے ہی اسے اپنا حق مہر یاد آگیا
اسے نہیں پتہ تھا اس کا حق مہر کتنا ہے لیکن جتنا امیر وہ آدمی تھا ایک دو لاکھ تو ہوگا ہی
اور اسے بھی اپنی ماں کے علاج کے لیے کچھ اتنے پیسوں کی ہی ضروت تھی۔
اس نے الماری میں موجود لاکر چیک کیا تو اس میں ہزار کے نوٹ کی پچیس گڈیاں تھی
اس نے کبھی اپنی زندگی میں اتنے پیسے نہیں دیکھے تھے امیر باپ کی بیٹی ہونے کےباوجود بہت غریبی دیکھی تھی اس نے یہ
سوچ آتے ہی ایک تلخ سی مسکراہٹ ہونٹوں پر بکھرگئ
اس نے ایک گڈی اٹھائی اور پیسے کاؤنٹ کرنے لگی وہ ایک لاکھ کی گڈی تھی
اس کا مطلب یہاں پچیس لاکھ ہے لیکن مجھے کیسے پتہ ہوگا کہ میرا حق مہر کتنا ہے
اس نے سوچا وہ زریان سے صبح خود لےکر اپنی ماں کے پاس جائے گی اور ویسے بھی وہ اس کا حق مہر تھا کسی کا صدقہ یا احسان نہیں تھا تو اسے شرمندگی نہیں ہونی چاہیے
………………………………………….
مجھے وہ لڑکی ہر قیمت پر چاہیے اسی ہفتے تم کچھ بھی کرو لیکن مجھے وہ لڑکی چاہے ورنہ تمہاری زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں وہ فون پر چیخ رہا تھا اور سامنے بیٹھی اس کی ماں فخر سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی
……………………………………………………………….
رات کا نا جانے کون سا پہر تھا جب اسے اپنے کانوں پر گرم سانسیں اور پیٹ پر ایک سخت گرفت محسوس ہوئی سوئی جاگی کیفیت میں اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولی لیکن اندھیرا ہونے کی وجہ سے اسے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا یہ خوشبو پچھلے دو دن سے وہ بہت بار اپنے قریب محسوس کر چکی تھی وہ بنا دیکھے پہچان گئی تھی کہ وہ کون ہے
اس نے اپنی سانسیں روک لی گھبراہٹ شرم غصہ کیا۔ کچھ نا۔ تھا اس کا دل کیا اس شخص کو جان سے مار دے جو اس کو کسی پل سکون کا نا لینے دیتا تھا
غصے سے اس کے جسم میں چیونٹیاں رینگنے لگی لیکن بہت مشکل سے اس نے اپنے آپ پر قابو پایا اور سوتے بن گئ اتنا تو وہ جان چکی تھی کہ اس کو جتنا دور کرنے کی کوشش کرے گی اتنا پاس آئے گا اس لیے وہ بلکل سوتی بن گئ تاکہ تنگ آکر خود ہی دور ہو جائے
زریان جو اس کا جاگنا اور سانس روکنا محسوس کر چکا تھا گہرا مسکرایا اور کندھے سے بال ہٹا کر وہاں ہلکے سے اپنے دانت گاڑے
بہت مشکل سے آنا نے اپنی چیخ روکی آنسو ضبط کے باوجود آنکھوں سے بہنے لگے
زریان جو بس اسے تنگ کر رہا تھا ایک دم اسے چھوڑا
کیا اس کا چھونا اتنا نا قابل برداشت تھا
اس نے غصے میں اپنا تکیہ اور کمفرٹر اٹھایا اور صوفے پر جا کر لیٹ گیا
اور بازوں آنکھوں پر رکھ لیا یہ بات ہی اس کو غصہ دلانے کے لیے کافی تھی کہ اس کی بیوی کو اس کی قربت پسند نہیں ۔۔۔۔جب کافی دیر تک نیند نا آئی تو کمرے سے ہی نکل گیا
………………………………………………..
بی جان کو صبح صبح ہی اپنی بیٹی سارہ کی کال آئی تھی وہ اپنی فیملی کے ساتھ کچھ دن کے لیے حویلی آرہے تھے بی جان اور فائزہ بیگم خوشی سے صبح سے ان کے لیے تیاریاں کررہی تھی
ہالے کو صبح سے بہت تیز بخار تھا فائزہ بیگم اسے دوائی کے ساتھ زبردستی تھوڑا سا ناشتہ کروا کے آرام کرنے کا کہتی باہر آگئ تھی
اوراب ملازموں کو ہدایت دے رہی تھی
وہ کمرے سے فریش سا باہر آیا اور ایک نظر گھر میں مچی افرا تفری پر ڈالی
اور سر جھٹک کر دادا جان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا
اس نے دروازے پر دستک دی
آجاؤ۔۔۔۔اندر سے دادا جان کی آواز آئی
اسلام علیکم ۔۔اس نے سلام کیا
دادا جان شاید کہیں جانے کی تیاری کررہےتھے سرکےاشارے سے سلام کا جواب دیا
اور برخوردار خیریت میں تشریف لائے ہیں آپ ورنہ تو آپ کو فرصت ہی نہیں اپنے گھر والوں کے لیے اب تو ایک عدد بیوی بھی موجود ہے پھر باہر کون سے ایسے کام ہوتے ہیں کہ گھر آنے کا ٹائم ہی نہیں ملتا
وہ آج ہاتھ آیا تھا تو دادا جان نے بھی خوب آڑے ہاتھوں لیا
نہیں دادا جان ایسی کوئی بات نہیں آپ کو تو پتہ ہے نا دبئی میں نیا پراجیکٹ اسٹارٹ کیا ہے دلشیر کے ساتھ مل کر بس اس کا کچھ کام یہاں بھی رہتا تھا وہ مکمل کرنے میں مصروف تھا اس نے وضاحت دی
ہممم اب کیسے آنا ہوا یہاں دادا جان نے مصروف انداز میں پوچھا
جی اجازت چاہیئے آپ کی اصل میں دبئی میں ہماری کمپنی میں شروع میں ہی ہم دونوں کا ٹائم دینا ضروری ہے اس لیے مجھے دبئی جانا ہے کچھ دنوں کے لئے پلیز میرا خواب ہے منع مت کیجئے گا
اچھا چلے جانا لیکن رخصتی کے بعد ہالے کو بھی لے جانا
دادا جان نے شال پہنتے ہوئے کہا
وہ ابھی بہت چھوٹی ہے دادا جان اس لیے میں رخصتی نہیں چاہتا جب وقت آئے گا دیکھ لیں گے اس نے بھی صاف منع کر دیا
دیکھو روحان تم میرے پوتے ہو مجھے بہت عزیز ہو اسی طرح وہ بھی میری پوتی ہے اور مجھے تم سے زیادہ عزیز ہے
نکاح تو ہو چکا ہے اس لیے میں لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع ہر گز نہیں دونگا
تم جانتے ہو رخصتی کے بغیر میاں بیوی کا ایک ہی گھر میں رہنا کتنا معیوب سمجھا جاتا ہے
اور ویسے بھی ہالے سولہ سال کی ہے اور جب تمہاری بی جان کی شادی ہوئی تھی مجھ سے وہ صرف پندرہ سال کی تھیں
۔۔۔
دادا جان رخصتی بھی کر لیں گے لیکن میرے آنے کے بعد کیونکہ میرا آج جانا بہت ضروری صبح ایک بہت بڑی کمپنی کے ساتھ ہماری میٹنگ ہے
اجازت دیجئے جلدی آؤنگا میں ۔۔
اسے بس کسی بھی طرح یہاں سے نکلنا تھا پھر بعد میں وہاں نا کر وہ آرام سے اس مسئلے کا حل نکالنا چاہتا تھا دادا جان کو بھی مانتے ہی بنی
پھر تقریباً بارہ بجے کے ٹائم وہ سب سے ملتا شہر کے لیے نکلا بی جان اور ماما تو بہت ناراض ہوئی لیکن وہ ان کو مناکر آیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اتنی جلدی وہ واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا
شام چھ بجے کے قریب وہ زریان کے پاس پہنچا وہ آنا سے بھی ملا جس کا رویہ اس کے ساتھ نارمل تھا نا برا البتہ عزہ کے ساتھ وہ اچھے سے پیش آرہی تھی یہی بات زریان اور روحان کو سکون دے گیا پھر وہاں سے ڈنر کر کے نکلا
زریان اسے ائیرپورٹ چھوڑ نے جا رہا تھا پیچھے گارڈ کی گاڑی بھی تھی
گاڑی کی خاموشی کو زریان کی آواز نے توڑا
کب تک بھاگو گے حقیقت سے روحان
زریان کی گھمبیر آواز گونجی
