Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
ناول ۔۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔۔پندرہ
آپ جانتے ہیں آپ کے پوتے نے کیا گل کھلایا ہے شہر میں
شروع سے ہی اس کی ہر ضد پوری کر کے آپ لوگوں نے اسے خود سر بنا دیا ہے آج اس کو کسی کی ضرورت نہیں ہر بار اپنی مرضی کرتا ہے
کسی کی بیٹی کو زبردستی اغوا کر کے نکاح کیا ہے اس نے۔۔۔۔
کچھ دیر پہلے ہی وہ عزہ کو لے کر حویلی پہنچے تھے سب لوگ عزہ سے مل کر بہت خوش ہوئے تھے ہالے تو عزہ کو دیکھ کر ہی ٹھیک ہوگئی تھی بی جان اور ماما کی خوشی کا کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا سارہ بیگم عاشر اور نیہا کے ساتھ اپنی نند کے گھر گئی تھی ملنے اس لیے ان سے ملاقات نہیں ہو سکی
تھوڑی دیر کے بعد ہالے اور عزہ کو عالم صاحب نے کمرے میں بھیج دیا تھا
اب وہ سب پر بھڑک رہے تھے
کل کو لوگ آکر ہم پر سوال کریں گے کیا ایسی پرورش کی تھی ہم نے اس کی کسی کی بہن بیٹی کو یو اغواء کرے
اگر وہ لڑکی اسے پسند تھی بھی تو ہم سے بات کر سکتا تھا کیا ہم نے کبھی کسی چیز کے لیے اسے منع کیا ہے
ا ن کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا
بی جان اور دادا جان عالم کا غصہ کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے
جبکہ فائزہ بیگم سر جھکائے بیٹھی تھی
کیونکہ وہ سب پہلے سے جانتی تھی انہوں نے زریان سے کہا بھی تھا کہ اپنے دادا جان اور بابا سے اجازت لے کر کرو لیکن جس قدر جلدی میں سب ہوا اس نے سب کو بعد میں منانے کا سوچا تھا اسے نہیں پتہ تھا معاملہ اتنا بگڑ جائے گا
اسے اور اس کی بیوی کو حویلی بلاؤ ۔۔دادا جان نے فیصلہ سنایا
جو عالم صاحب کو تو ہر گز پسند نہیں آیا ۔۔
نہیں بابا اب اس کا ہم سے کوئی واسطہ نہیں وہ اس حویلی میں نہیں آئے گا
میری والی غلطی مت دہراؤ عالم ایسا نا ہو میری طرح خالی ہاتھ رہ جاؤ
انہوں نے اسے بہت کچھ باور کروایا تو وہ خاموش ہو گئے
ٹھیک ہے جو مرضی آئے کریں آپ لوگ وہ کہہ کر حویلی سے نکل گئے
…………………………………………………
وہ اپنے گھر آئی تھی ناراضگی اپنی جگہ لیکن اس حالت میں وہ رائمہ بیگم کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی تھی
لیکن اس کے گھر میں ایک دوسرے فرد کا اضافہ دیکھ وہ چونکی تھی
پھر امی نے بتایا کہ وہ زریان کے گھر کام کرنے والی ریشماں کی بہن ہے رشیدہ بیوہ ہیں اس کی ایک بیٹی بھی تھی آٹھ سال کی وہ بہت باپردہ خاتون تھی اور رائمہ بیگم کا اکیلے رہنا بھی ٹھیک نہیں تھا اس لیے زریان نے اس کو انکے گھر رکھوا یا تھا تا کہ تنہائی کا احساس بھی نا ہو اور اس عورت کا بھی بھلا ہو جائے
ان کے بار بار منع کرنے کے بعد بھی گھر کی ہر ضرورت کا سامان اس نے رکھوایا تھا
زریان نے تو انکو کہا تھا کہ ساتھ چل کے ان کے ساتھ رہیں لیکن وہ راضی نہیں ہوئی۔۔
یہ سب سن کے اسے اپنی صبح والی حرکت پر افسوس ہوا لیکن سر جھٹک دیا اس نے کچھ غلط تو نہیں کہا تھا جو سچ تھا صرف وہ بتایا تھا
تھوڑی دیر وہ ان کے ساتھ بیٹھی باتوں میں مصروف رہی
امی اٹھیں ہمیں اسپتال جانا ہے اس نے اپنی ماں سے کہا۔۔
ارے بیٹا کل ہی تو مجھے زریان ایک بہت بڑے ہسپتال لے کر گیا تھا دوائی بھی لی ڈاکٹر نے کہا کہ اگر پراپر میڈیسن لونگی اور خوش رہوں گی تو جلدی ٹھیک ہو جاؤنگی تم پریشان مت ہو
وہ تو زریان نامے سے ہی تنگ آگئی تھی
اسے کیا لگتا تھا یہ سب کر کے وہ میرے دل میں جگہ بنا لیگا تو غلط فہمی ہے اس کی
وہ کچھ بھی کر لے لیکن میری نفرت کم نہیں ہوگی کیونکہ وہ مرزا خاندان کا ہے
اس نے سوچ لیا تھا اس کا ایک ایک روپیہ ادا کر دے گی
اس نے دل میں سوچا اور رائمہ بیگم سے مل کے گھر سے نکل آئی
ڈرائیور کو اس نے پہلے ہی بھیج دیا کہ وہ خود کال کر کے بلا لے گی لیکن بعد میں خیال آیا کہ اس کے پاس فون ہی نہیں
اس لیے وہ کال نہیں کرسکی اور رکشہ میں بیٹھ کر گھر کے لیے نکل گئی
ابھی آدھے راستے پر ہی پہنچے تھے کہ ایک گاڑی نے ان کا راستہ روک لیا اور اس میں سے پانچ ہٹے کٹے مرد نکل آئے جن کے ہاتھ میں گن تھی
رکشے والے کے ساتھ ساتھ وہ بھی گھبرا گئی اس نے فوراً اپنا منہ چھپا لیا دوپٹہ سے
ان میں سے ایک آدمی آگے آیا اور اسے کچھ سمجھنے کا موقع دئیے بنا بازو سے دبوچ کر کھینچتے ہوئے گاڑی کے بیک سیٹ پر پھینکا
وہ چیختی رہ گئی لیکن ان میں سے ایک نے اس کے منہ پر ٹیپ لگا دیا اور گاڑی اپنے راستے پر چلنے لگی
رکشے والا تو گن دیکھ کر ہی چپ ہو گیا تھا
………………………………………………………………….
وہ آفس میں کسی فائل میں پوری طرح غرق تھا موبائل بیپ بھی اس نے نام دیکھا تو سیکنڈ سے پہلے کال اٹھائی یقیناً خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی ہے
السلام علیکم دادا جان
وعلیکم السلام برخوردار کل شام سے پہلے پہلے آپ کو حویلی میں موجود ہونا ہے اپنی بیوی کے ساتھ
اپنی بات کہ کر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا دادا جان نے کھٹاک سے کال کاٹ دی
دادا جان نے کہا تھا تو لازمی جانا تھا
کچھ سوچ کر وہ گھر کے لیے نکل گیا
…………………………………………………………..
تمہیں نہیں آنا چاہیے تھا یار میں سنبھال لیتا یہاں
دلشیر نے اس سے کہا جو کافی بنا رہا تھا اپنے لیے
بس یار دونوں مل کے کریں گے تو زیادہ اچھا کام ہوگا
اور تم کیوں بار بار میرے آنے پر شکوہ کر رہے جیسے یہاں ملائکہ کو بلانے کا ارادہ ہو تمہارا
دلشیر کی بار بار کی رٹ پر تو اسے غصہ ہی آگیا
استغفرُللہ ایسے برے دن تو میرے آئے نہیں ہاں البتہ تم ہالے بھابھی کو بلانا چاہو تو بلا لو میں چلا جاتا ہوں
دلشیر نے بھی حساب برابر کیا
اس سے پہلے کے میں تمہارا گلا دبا دوں شکل گم کرو اپنی
اس نے غصہ سے کہا
ایک تو اس معصوم کا خیال اسے چین نہیں لینے دے رہا تھا اسی سے بھاگ کر تو یہاں چلا آیا تھا
اور یہاں بھی اسی کا زکر اسے غصہ دلا گیا
اچھا اچھا چل ان کو چھوڑو زائش کو بلا لو آخر کو دل کا قرار ہے وہ آپکے
روحان نے کھینچ کر تھپڑ اس کی گدی میں مارا
دلشیر بچارا تو گردن سہلا کر رہ گیا
اسے اس قدر ظلم کی امید ہر گز نہیں تھی۔۔۔
………………………………………………………………………………………………………
وہ لوگ اسے ایک کھنڈر نما گھر میں لائے تھے اسے سب نظر آرہا تھا لیکن بول نہیں پا رہی تھی آنسو آنکھوں سے بہنے لگے
اسے کھینچ کر گاڑی سے باہر نکالا اور آگے چلنے کا اشارہ کیا وہ بہت ڈر گئی تھی وہ ان کی باتوں پر عمل کرتے ہوئے آگے چلنے لگی
اس کے دل سے پورے راستے میں بس ایک ہی دعا نکلی اللّٰہ پاک بس کہیں سے بھی زریان کو بھیج دیں
ان حبشی نما مردوں کے بیچ اسے اپنی جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی
اوپر سے انکے ہاتھ میں موجود گن نے باقی کی کسر پوری کردی تھی وہ بہت مشکل سے کانپ رہی تھی اس سے اپنا وجود اٹھانا بھی مشکل ہو گیا۔۔۔۔
جاری ہے
