Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8


ناول ۔۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔۔۔آٹھویں

ماما میں سچی بول رہی ہوں انہوں نے مجھے بیڈ ٹچ کیا لیکن کوئی میری بات پہ یقین نہیں کررہا
وہ رونے والی ہو گئی تھی اور فائزہ بیگم کو اپنی بات کا یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی

لیکن چندہ ایسی باتیں سب کے سامنے نہیں کرتے یہ پرسنل باتیں ہوتی ہیں وہ اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھیں

لیکن ماما آپ نے کہا تھا کوئی بھی آپ کو بیڈ ٹچ کرے تو سب سے پہلے گھر میں بے بتانا
فائزہ بیگم کو وہ وقت یاد آیا جب عزہ گیارہ سال کی تھی اور ہالے نو سال کی اس وقت زریان اور روحان پڑھائی کی وجہ سے شہر والے بنگلے میں رہتے تھے

تب انکے گاؤں کی ایک دس سالہ بچی کے ساتھ اس کے سوتیلے چاچا نے زیادتی کی کوشش کی تھی لیکن وقت رہتے اسے لوگوں نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا اور اسے سخت سزا بھی دی گئی تھی اس لیے وہ نہیں چاہتی تھی یہ حادثہ کسی کے بھی ساتھ پیش آئے
تب حالات کے پیش نظر انہوں نے عزہ اور ہالے کو اپنے پاس بٹھایا تھا
بیٹا کبھی بھی اگر کوئی بھی مرد آپ کو غلط طریقے سے چھونے کی کوشش کرے تو آپ نے ڈر کے چپ نہیں رہنا آپ سب سے پہلے گھر میں کوئی بھی ہو میں یا آپ کے بابا دادا جان بی جان یا کوئی بھی ہو ان کو بتانا تو ہم انہیں سخت سے سخت سزا دینگے

کاش وہ اسے یہ بھی سمجھا دیتی کہ شوہر کا چھونا بیڈ ٹچ نہیں ہوتا تو آج ان کے بیٹے کو سب کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑتا

لیکن بیٹا وہ تو میں نے گندے لوگوں کے لیے کہا تھا لیکن روحان تو اچھا ہے اور وہ آپ کا شوہر ہے آپ کو چھو سکتا ہے اس کی بات ماننا آپ پر فرض ہے ورنہ اللّٰہ ناراض ہو جائے گا وہ جتنا آسان لفظوں میں اسے سمجھا سکتی تھی سمجھا رہی تھی کیونکہ بچپن سے ہی سب نے اسے کسی چھوٹے بچے کی طرح لاڈ پیار دیا تھا کبھی اس نے ایسا کوئی ماحول دیکھا ہی نہیں تھا کہ اسے ان سب چیزوں کی سمجھ ہو
لیکن بابا بھی تو آپ کے شوہر ہے وہ تو آپ کو بیڈ ٹچ نہیں کرتے نا ڈانٹتے ہیں
اس کی بات سن کر فائزہ بیگم کا دل کیا کہ وہ اپنا سر دیوار پر مار دیں پتہ نہیں کب بڑی ہوگی ان کی یہ لاڈلی انہیں تو اپنے بیٹے کی فکر لگ گئی تھی

بس ہالے اب زیادہ بحث مت کرو آج کے بعد آپ روحان اور اپنی ایسی باتیں کسی کو نہیں بتاؤ گی وہ آپ کا شوہر ہے اس کا حق ہے وہ آپ سے جیسے چاہے پیار کرسکتا ہے
آپ بھی ان سے پیار کرنا ان کا خیال رکھنا وہ بھی آپ کا خیال رکھیں گے مزید شکایت نہ سنو میں انہوں نے سختی سے کہا
سمجھ گئی نا انہوں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا جہاں اسکے گالوں پر ہلکا ہلکا گلابی پن تھا
اس نے اثبات پر سر ہلایا
انہیں خوشی ہوئی چلو سب نا سہی کچھ کچھ تو وہ سمجھ گئی تھی

وہ کون تھا اس سے پہلے تو اس نے کبھی اسے نہیں دیکھا سفید شلوار قمیض پہنے کندھوں پر براؤن شال لیے چھ فٹ سے نکلتا قد ماتھے پر بکھرے بال سبز گہری آنکھیں جس سے وہ اسے ہی گھور رہا تھا مغرور ناک بینچھے لب ہلکی بیئرڈ وہ بہت پر کشش شخص تھا کون تھا وہ اسے کیوں
لایا تھا

لیکن وہ کون تھا وہ اسے کیوں لایا تھا کیا وہ اغوا ہوگئ تھی یہ سوچ ہی اس کی جان نکالنے کے لیے کافی تھی

ک کو کون ہیں آپ کانپتے ہوئے اس نے پوچھا جو اسے ہی گھورنے میں ہی مصروف تھا اس کی نظریں اسے اپنے جسم کے آر پار ہوتی محسوس ہوئی

زریان عالم۔۔
اس کا نام تھا یا کوئی پہاڑ جو اس کے سر پر گرا تھا یہ وہ نام تھا جو وہ بچپن سے اپنی ماں کے منہ سے سنتی آرہی تھی لیکن یہی وہ نام تھا جو وہ کبھی سننا نہیں چاہتی تھی وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی تو کیا اس نے اپنے پیسوں کے بلبوتے پر اسے اغوا کر لیا تھا

تھوڑی دیر میں ہمارا نکاح ہے جتنی جلدی ہو سکے آپ خود کو پریپئیر کر لیں اس نے سرد لہجے میں کہا اور پلٹ گیا
وہ ابھی ایک صدمے سے نکل نہیں پائی تھی ایک اور صدمہ وہ جلدی سے اس کے پیچھے بھاگی ۔۔۔

دیکھیں میں آپ کو نہیں جانتی پلیز مجھے جانے دیں آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے
آپ غلطی سے مجھے لے آئے ہیں پلیز مجھے جانے دیں میرا نکاح ہے میری امی انتظار کررہی ہیں گھر میں میرا میں اگر وہاں نہیں ملی تو میری امی پریشان ہو جائیں گی پلیز مجھے جانے دیں

وہ روتے ہوئے اس کے پیچھے چلتے منتیں کر رہی تھی

لیکن وہ رکا نہیں اور باہر نکل گیا اس نے پور چ پہ کھڑے گارڈز سے کچھ کہا اور گاڑی میں بیٹھتے باہر نکل گیا
اور گارڈز نے اس کا راستہ روک لیا لیکن نظر اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہیں کی
میم پلیز آپ اندر جائیں
پلیز بھائی مجھے جانے دیں میری امی پریشان ہو رہی ہونگی پلیز مجھے جانے دیں وہ ہاتھ جوڑے منتیں کر رہی تھی
دیکھیں میم آپ اندر جائیں ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے

لیکن وہ خود اپنے مالک کے حکم کے غلام تھے وہ کیسے اس کی مدد کرتے
وہ سمجھ گئی تھی اب وہ یہاں سے نکل نہیں سکتی جب تک زریان اسے خود نہیں چھوڑتا
اسے ان مردوں کے بیچ کھڑے رہنا مناسب نہیں لگا اس لیے لاؤنج میں آکے روتے ہوئے بیٹھتی چلی گئی اسے اس وقت بس اپنی ماں کی فکر تھی پتہ نہیں کس حال میں ہونگی وہ لوگوں نے کیا کیا باتیں بنائی ہونگی اس کے غائب ہو نے پر اسے نفرت تھی اس خاندان سے جس نے ان ماں بیٹی کو دربدر کیا اس کے باپ نے اپنی امیری کے غرور میں اس کی ماں کو کھلونے کی طرح استعمال کر کے پھینک دیا

نا جانے اسے روتے روتے کتنا وقت گزر گیا اسے اپنے پیچھے سے قدموں کی آہٹ سنائی دی وہ جانتی تھی آنے والا کون ہے اس لیے اٹھتے ہی مڑ کے اس کا گریبان پکڑ لیا
کیا چاہتے ہو تم کیوں مجھے یہاں لے کر آئے ہو صرف مجھے بدنام کرنے کے لیے کیا بگاڑا ہے ہم نے تمہارا میری ماں تو تمہارا نام لیتے نہیں تھکتی اور تم نے ان کی ہی عزت کو بھرے بازار میں رسوا کر دیا
وہ غصہ سے چیخ رہی تھی۔۔۔سوجھی آنکھیں مٹا مٹا سا میک اپ کپکپا تے ہونٹ وہ کسی کا بھی ایمان ڈھگمگا سکتی تھی

ہاتھ ہٹاؤ۔۔۔۔وہ جب بولا تو آواز سخت تھی ایک پل کو وہ بھی گھبرا گئی لیکن اگلے ہی لمحے خود پر قابو پایا

نہیں ہٹاونگی تم میری عزت پر ہاتھ ڈال سکتے ہو لیکن میں تمہارا گریبان بھی نہیں پکڑ سکتی وہ بھی اسی کی طرح بولی تھی

اچھا عزت میں ہاتھ ڈالنا کسے کہتے ہیں میں بتاؤ تمہیں یہ کہتے ہی اس نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کے اسکی کمر سے لگا کے اسے اور قریب کر لیا
اسے اپنے ماتھے پہ اس کی سانسوں کی گرمائش محسوس ہوئی اس نے خود کو چھڑانے کی بہت کوشش کی لیکن اس کی گرفت بہت مضبوط تھی

اسے اسکی بے باک نظروں سے بہت خوف محسوس ہوا
اسکی مزاحمت پر اس نے آرام سے اسے خود سے الگ کیا لیکن اس کا ہاتھ نا چھوڑا اور اسے کمرے میں لا کر چھوڑا

ریڈی ہو جاؤ مولوی صاحب آنے والے ہیں

آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے نفرت کرتی ہوں میں آپ سے میں یہ نکاح کسی صورت نہیں کرونگی گھن آتی ہے مجھے آپ سے آپ کی نظروں سے آپ کےوجود سے

چیختے چیختے اس کا گلا بیٹھ گیا تھا
اسکی سوجھی آنکھیں اسکے رونے کا پتہ دے رہی تھی لیکن سامنے والے پر اس کے رونے اور چیخنے کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا
اس شخص کے چہرے پر اطمینان قابلِ دید تھا
اوکے چوائس اس یور فیصلہ تمہارا اپنا ہے ایسا تو پھر ایسے ہی صحیح مجھے تمہارا فیصلہ دل و جان سے قبول ہے رہنا تو تمہیں اسی گھر میں ہے اب نکاح کر کے رہو یا نکاح کے بغیر
اس کی گھمبیر آواز کمرے میں گونجی
آپ کو۔ کیڑے پڑے آپ غریب ہو جاؤ آپ گنجے ہو جاؤ آپ کو کبھی کوئی بھی خوشی نہ ملے
آپ مر جاؤ
مر جاو
مر جاؤ
اس وقت اسے جتنی بد دعائیں آتی تھی روتے ہوئے سب دے ڈالی
جب کچھ نا بن پڑا گھٹنوں میں سردئیے رونے لگی
اٹھو اپنی حالت صحیح کرو اس نے پکارا

مجھے تم سے نکاح نہیں کرنا تم مجھے مار دو لیکن مجھے نکاح نہیں کرنا وہ چیخی تھی

اوکے ہمیشہ کے لیے اپنی ماں کو بھول جانا تم کیونکہ یہاں سے تو تم نکاح کے بغیر نکل نہیں سکتی اور پتہ نہیں اس وقت وہ کس حال میں ہونگی
اس لیے اگر ان سے ملنا چاہتی ہو تو اٹھو اپنی حالت درست کرو
پانچ منٹ میں مولوی صاحب آئینگے تو شرافت سے نکاح نامے پر سائن کر دینا
وہ کہہ کر با ہر چلا گیا
اس کے پاس نکاح کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا اسے بس یہاں سے نکلنا تھا اور اپنی ماں سے ملنا تھا پتہ نہیں ان کا کیا حال ہوا ہوگا۔۔

کچھ ہی دیر میں اس نے اپنے تمام جملہ حقوق اس ظالم شخص کے سپرد کر دیئے نکاح نامے پر سائن کرتے ہوئے وہ اتنا روئی کہ مولوی کو بھی اس لڑکی پر رحم آگیا لیکن وہ زریان کو بہت اچھے سے جانتے تھے کہ وہ کچھ غلط نہیں کرے گا

جاری ہے۔۔۔