Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Last updated: 3 July 2025
Rate this Novel
Dil Sakoon By Zarnab Chand
وہ اپنی دو دن کی بیٹی کو سینے سے لگائے اس شخص سے رحم کی بھیک مانگ رہی تھی کیا بیٹی پیدا کرنا اس کا جرم تھا ؟ بیٹیاں تو اللّٰہ کی رحمت ہوتی ہیں پھر وہ کیسا ظالم شخص تھا جو بیٹی پیدا کرنے کے جرم میں اپنی ہی بیوی کو طلاق دےرہا تھا نہیں تمہاری میری زندگی م میں کوئی جگہ نہیں مجھے بیٹا چاہیئے تھا جو میرا سہارا بنتا یہ بیٹی بھلا میرا کیا سہارا بنے گی تم مجھے ایک بیٹی نہیں دے سکی اس لیے تمہارا میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں اس لیے میں سکندر مرزا اپنے پورے ہوش و ہواس میں
تمہیں طلاق دیتا ہوں تمہیں طلاق دیتا ہوں تمہیں طلاق دیتا ہوں
اس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہوتی دو مہربان بازوؤں نے اسے تھام لیا تھا
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
یہ ایک اسپتال کا منظر جہاں وہ آپریشن تھیٹر کے سامنے بینچ پر بیٹھے کسی غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے گہری سوچ میں تھا سامنے اس کے عزیز بابا جان کا آ پر یشن چل رہا تھا جن کو کندھے پر گولی لگی تھیوقفے وقفے سے کسی کی سسکیاں اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی کچھ گھنٹوں میں اس کی پوری زندگی بدل گئی تھی اس نے تو کبھی اس نظر سے دیکھا تک نہیں تھا وہ تو اسے ایک چھوٹی بچی سمجھتا تھا پھر کیسے دھڑلے سے اسکی زندگی میں شاملِ ہوگئی تھی وہ شاید انہی سوچوں میں رہتا کہ ڈاکٹر کی آواز آئی پیشنٹ کے ساتھ کون ہے وہ ڈاکٹر کی آواز پر خیالوں سے باہر آیا اس سے پہلے کہ وہ ڈاکٹر کو جواب دیتا وہ بھاگتی ہوئی اس کے آگے کھڑی ہوئی اور ڈاکٹر کے سامنے ہاتھ جوڑے پلیز میرے بابا جانی کو بچا لیں پلیز انہیں کچھ مت ہونے دیں میں مر جاؤنگی۔۔ ڈاکٹر کو اس معصوم کی شکل دکھ کر بہت ترس آیا جو بمشکل پندرہ سولہ سال کی تھی اس وقت اسکی حالت قابل رحم تھی جی میں ہوں ان کا بیٹا بتائیے بابا کیسے ہیں وہ ٹھیک تو ہے نا اس سے پہلے کہ وہ روتے روتے بے ہوش ہو جاتی اس نے اسے کندھوں سے تھام لیا اور ڈاکٹر سے اپنے بابا کی کنڈیشن پو چھنے لگا جی آپ کے فادر اب خطرے سے باہر ہیں تھوڑی دیر میں ہم انہیں وارڈ میں شفٹ کر دینگے تو آپ ان سے مل سکتے ہیں ڈاکٹر اپنے پیشہ ورانہ انداز میں کہہ کر آگے بڑھ گئ کیا ہوا ہے بابا کو وہ ٹھیک ہیں ؟ اس سے پہلے کے وہ اسے چپ کرواتا پیچھے سے اسے اپنے بھائی کی آواز سنائی دی وہ اسے بازوؤں سے پکڑ کے الگ کرتا اپنے بھائی سے ملنے لگا اور مختصر ا اسے سب بتاتا چلا گیا
