Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
ناول۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔۔۔۔۔ساتھویں
وہ ابھی اسکول سے آئی تھی سیدھے اپنی ماں کے کمرے میں گئی
وہ آنکھیں موندے چارپائی پر لیٹی تھی
وہ جانتی تھی وہ جاگ رہی ہیں اس لیے دھیمے سے انہیں پکارا
امی۔۔۔۔
ہنہ کب آئی تم وہ اٹھ کر بیٹھی آنکھیں لال ہو رہی تھی
ابھی آئی ہوں آپ کو کیا ہوا ہے امی طبیعت ٹھیک ہے نا آنکھیں کیوں لال ہو رہی ہیں
وہ انکو پریشانی سے دیکھ کر پوچھنے لگی
ہاں بلکل ٹھیک ہوں جمعہ کو نکاح ہے تمہارا شام کو راحیلہ کے ساتھ مارکیٹ جانا ہے تمہارا جوڑا لینے جلدی سے فریش ہو کر آؤ کھانا لگاتی ہوں
وہ کہہ کر وہاں سے جانے لگی ورنہ زیادہ دیر ضبط نہیں کر پاتی آنسو چھلکنے کو بے تاب تھے
امی۔۔۔ اس نے تڑپ کر پکارا
اور کسی معصوم بچہ کی طرح ان کے بانہوں میں سما گئی ۔۔
امی میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گی آپ پریشان نہ ہوں یہ فیصلہ ہم دونوں کے لیے بہتر ثابت ہوگا
آمین ۔۔۔چلو اب باہر آؤ جلدی سے میں کھانا لگاتی ہوں
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
وہ آج عزہ کو شاپنگ کروانے لایا تھا شاپنگ کے بعد وہ ایک ریسٹورنٹ میں آکر بیٹھے اور کھانا آرڈر کیا
زریان کی ایک کال آگئ تھی اس لیے وہ کال پہ بھی ہو گیا وہ بھی بور ہو کر آس پاس نظر دوڑانے لگی
کہ نظر سامنے ایک منظر پر اٹک گئ سامنے ہی اس دن والا لڑکا کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہنس رہا تھا اور لڑکی ہنستے ہوئے اس کے بازو پر چپت لگا رہی تھی
زریان کی ان کی طرف پیٹھ تھی اس لیے وہ انہیں دیکھ نہیں سکا
دلشیر جو خود پر کسی کی نظریں شدت سے محسوس کر رہا تھا نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی اس کے دیکھنے پر جلدی سے نظریں ہٹا لی
ہلکے گلابی کاٹن کے سوٹ پر گلابی ہی دوپٹہ سر پر اچھے سے ٹکائے نیوی بلیو شال اچھے سے خود پر اوڑھے وہ بہت پیاری لگی
اور ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھی لڑکی پر ڈالی جو اس کی کزن کے ساتھ منگیتر بھی تھی بلیو جینز کے ساتھ وائٹ ہالف والی شرٹ پہنے جو بہ مشکل اس کی کمر تک تھی وائٹ ہیلز اور بوب کٹ بال بالوں کے ساتھ خوبصورت نین نقش اوپر سے نفاست سے کئے ہوئے میک اپ نے اسے مزید حسین بنا دیاتھا
لیکن ناجانے کیوں اسے اس میں زرا دلچسپی نہیں ہوئی اس کا دل تو ہمک ہمک کر بس سامنے بیٹھی اس لڑکی کی طرف جارہا تھا انجانے میں ہی وہ ان دونوں کا موازنہ کرنے لگا تھا
کہاں کھو گئے ؟
ملائکہ نے اس کے آنکھوں کے آگے چھٹکی بجائی تو وہ خیالوں سے باہر آیا
ارے کہیں نہیں وہ سامنے زریان ہے میں زرہ اس سے مل کر آتا ہوں کچھ کام ہے
ارے رکوں میں بھی چلتی ہوں تمہارے ساتھ اس نے کہا
لیکن وہ سنا ان سنا کر کے آگے بڑھ گیا تو وہ بھی اس کے پیچھے آئی
ہیلو بڈی یہاں کیسے ہو تم اس نے زریان کے کندھے پر ہاتھ
رکھا
میں عزہ کو شاپنگ پر لے کر آیا تھا تو سوچا ڈنر کر کے گھر چلتے ہیں
لیکن تم یہاں کیسے ؟وہ اس سے بغلگیر ہو تے ہوئے پوچھنے لگا کہ سامنے سے ملائکہ نظر آئی جس نے آتے ہی زریان سے ہاتھ ملایا
ہم بھی ڈنر کے لیے ہی آئے تھے دلشیر نے جواب دیا جبکہ عزہ تو ایسے بیٹھی تھی جیسے اس کے علاوہ وہاں کوئی نہ ہو
عزہ۔۔۔زریان نے اسے پکارا تو وہ اس کے پکارنے کا مقصد سمجھ کر فوراً سے کھڑے ہو کر ان کو سلام کیا البتہ ہاتھ بڑھانے کی غلطی اس نے دوبارہ نہیں کی کہ وہ چھچھورا آدمی پکڑ ہی نہ لے
زریان نے ان دونوں کا تعارف کروایا عزہ یہ میرا دوست دلشیر خان ہے اور یہ ان کی منگیتر پلس کزن ہیں
اور یہ میری چھوٹی بہن عزہ عالم ہے اسٹڈیز کی وجہ سے میرے ساتھ یہی رہتی ہیں
تعارف کے بعد اس نے ان دونوں کو بھی اپنے ساتھ ڈنر پر روک لیا اور دلشیر تو جیسے اسی انتظار میں تھا خوشی خوشی بیٹھ گیا
جبکہ ملائکہ کا موڈ خراب ہو گیا تھا وہ دلشیر کے ساتھ اکیلے میں ٹائم اسپینڈ کرنا چاہتی تھی
پچھلے ایک مہینے سے وہ اسے ملنے کے لیے فورس کررہی تھی لیکن آج جا کر وہ مانا تھا اور اب سارہ موڈ خراب کردیا
تب تک ان کا آرڈر بھی آگیا تو وہ کھانے لگے لیکن دلشیر نے نوٹ کیا عزہ اس کی موجودگی میں کمفرٹیبل نہیں تھی بار بار پہلو بدل رہی تھی
اس لیے جلدی ہی وہ الوداعی کلمات ادا کر کے باہر نکل آئے تھے
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
اس نے کمرے کی ہر چیز تہس نہس کردی کوئی ایک چیز بھی اپنی صحیح حالت میں نہیں تھی
کیسے وہ دونوں بھائی ایک بار پھر اسے مات دے گئے تھے اس کو جب سے سے ہالے اور روحان کے نکاح کا پتہ چلا تھا غصہ سے پاگل ہو رہا تھا
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مرزا خاندان کے ہر فرد کو تڑپا تڑپا کے مارے
پہلے زریان نے اس کے بنے بنائے پلین پر پانی پھیر دیا تھا اور اب روحان نے اس کی سالوں کی محنت پر پانی پھیر دیا تھا
وہ نفرت کرتا تھا مرزا خاندان کے لوگوں سے
وہ ہر ایک شخص کو تڑپتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا
اس نے سوچ لیا تھا اب سامنے سے کھیلے گا بہت شرافت کا ڈرامہ کر لیا تھا اب اسے اپنے انتقام کے لیے کسی بھی حد تک جا نا تھا
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
جلدی سے فائزہ بیگم آگے آئی اور ہالے کو زبردستی اسے پکڑ کر اپنے کمرے میں لے گئ
روحان نے شکوہ کناں نظروں سے باپ کی سمت دیکھا
یہی بچی ملی تھی آپ کو میرے لیے
بہت غلط کیا آپ نے بابا میرے ساتھ خوش تو بہت ہونگے آپ مجھے زلیل ہوتا دیکھ اس نے غصہ میں عالم صاحب سے کہا
جب تمہیں پتہ تھا بچی ہے تو کس نے کہا تھا ابھی سے تنگ کرو صبر نہیں ہو رہا تھا تمہاری ہی تھی
انہوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا
ان کی بات پر تو وہ اندر تک جل گیا اس کا بس نہیں چلا اس بچی کو جا کر دو رکھ کے لگائے سب کے سامنے زلیل کردیا تھا غصہ میں وہ حویلی سے ہی باہر نکل گیا
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
آج اس کا نکاح تھا محلے کی ہی ایک لڑکی صبح اسے مہندی لگا کرگئی تھی وہ اپنے ہاتھوں میں لگی مہندی کو غور سے دیکھ رہی تھی جس کا رنگ بہت گہرا تھا باہر وہ بہت پر سکون تھی لیکن اس کے دل میں ایک شور تھا بے
چینی تھی وہ تو پہلے ہی اس کی گندی نظروں سے تنگ تھی لیکن اب تو نکاح کر کے اس کے دسترس میں جانے والی تھی وہ بہت خوفزدہ تھی لیکن اپنی ماں کے لیے اسے یہ سب کرنا تھا
وہ خیالوں میں اس قدر گم تھی کہ اسے خبر ہی نہیں ہوئی کب رائمہ بیگم اس کے ساتھ آکر بیٹھی
کیا سوچ رہی ہے میری گڑیا
انہوں نے پیار سے پو چھا اس نے چونک کہ انکی طرف دیکھا جو پہلے کی طرح اداس نہیں لگ رہی تھی
امی آپ مجھ سے ناراض تو نہیں اس نے اپنی ماں کے ہاتھوں کو تھام کر پو چھا
اُنہوں نے اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرا
کیا میں کبھی بھی اپنی آنا سے ناراض ہو سکتی ہوں
سوال کے بدلے انہوں نے سوال کیا
نہیں امی کبھی نہیں وہ روتے ہوئے ان گے گود میں سر رکھ گئی۔۔
وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی
میری آنا میرا غرور ہے میں کبھی اپنی آنا سے ناراض ہو ہی نہیں سکتی
تمہیں پتہ ہے آنا جب تم پہلی بار میرے ہاتھوں میں آئی تھی نا تو تمہیں چھو کر ایسا لگا جیسے مجھے پوری دنیا مل گئی ہو تم میرے وجود کا حصہ ہو میں بہت زیادہ خوش تھی بہت زیادہ اور آج بھی میں خوش ہوں کیونکہ میری چھوٹی سی آنا دلہن بننے والی ہے
انہوں نے اس کے بالوں پر بو سہ دیا کل تم کسی کے نکاح میں چلی جاؤ گی کوئی اور تمہارا سر پرست بن جائے گا اپنے اس نئے رشتے کو پوری ایمانداری سے نبھانا نکاح بھلے جیسے بھی حالات میں ہو بیوی پر سب سے زیادہ حق شوہر کا ہوتا ہے اس سے بد تمیزی مت کرنا کچھ برا لگے تو در گزر کرنا اس کی ہر بات ماننا اس کے حقوق پورے کرنا کبھی اس سے ناراض مت ہونا نا کبھی اسے ناراض کرنا کیونکہ میاں بیوی کی ناراضگی سے اللّٰہ ناراض ہو تا ہے
وہ اسے سمجھا رہی تھیں اور وہ وہ بہت سکون سے ان کی باتیں سن رہی تھی اس کے لیے یہی کافی تھا کہ اس کی ماں خوش ہے
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
وہ دلہن بنی آئینے میں خود کو دیکھ رہی تھی
وہ دلہن بنی اپسرا لگ رہی تھی آف وائٹ کلرکی میکسی جس کے گلے اور بازو پر باریک نگو کا خوبصورتی سے کام کیا ہو ا تھا نفیس گولڈ کی جیولری سیٹ پہنے ہلکے سے نفاست سے کیا ہوا میک اپ وہ بہت حسین لگ رہی تھی
اس کے جسم پہ سجی ہر چیز لاکھوں میں تھی کیا عرفان اتنا امیر ہوگا ا سے امید نہیں تھی وہ اس پر اتنا خرچ کرے گا لیکن اسے خوشی بھی ہوئی اس کی امید بڑھ گئ تھی کہ وہ اس کی ماں کا علاج کروائے گا
میم آپ کے ہونے والے ہسبینڈ آپ کو لینے آئے ہیں باہر گاڑی میں آپ کا ویٹ کر رہے ہیں
پارلر والی نے آکر اسے انفارم کیا کچھ گھنٹے پہلے ہی رائمہ بیگم اسے پارلر چھوڑ کے گئی تھی وہ آنا تو نہیں چاہتی تھی لیکن ان کی خوشی کے لیے مان گئ
انہوں نے کہا تھا کہ وہ تھوڑی دیر میں اسے لینے آجائینگی لیکن انہوں نے عرفان کو کیوں بھیجا تھا
خیر وہ بس سوچ سکی۔۔
اس کے ساتھ جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا
پارلر والی اسے اچھے سے چادر سے گھونگھٹ کر کے تھام کے باہر لائی اور بیک سیٹ پر بٹھا دیا
اس نے آگے بڑھ کر پارلر والی کو کچھ پیسے دئیے اور ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ کے گاڑی زن سے بھگا لے گیا
دونوں نے ایک دوسرےکو مخاطب نہیں کیا منزل پہ پہنچ کر اسنے گاڑی روکی اور گھوم کے اس کے سائیڈ کا دروازہ کھولا اور اسے بازو سے پکڑ کے اسے لئے آگے بڑھ گیا
اس کی گرفت اسکے بازو پر بہت سخت تھی
اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ لیکن یہ خاموشی اور چمچماتی سنگ مر مر کی فرش اس کے گھر کی تو نہیں تھی اس سے پہلے کے وہ سمجھتی وہ اسے لئے ہال میں آیا اور اس کا بازو چھوڑا
اس کا دل سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا کچھ انہونی کا پتہ دے رہا تھا اس نے جھٹکے سے اپنا گھونگھٹ الٹ دیا اور سامنے کھڑے شخص پر جب نظر پڑی وہ پتھر کی ہوگئ ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔
