Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

ناول: دل سکون.

رائٹر :زرناب چاند

قسط :بتیس

آج ہالے کی رخصتی تھی رخصتی بھی کیا بس ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جانا تھا لیکن گھبراہٹ سے اس کی جان نکل رہی تھی
کل رات آنا نے اس کی حرکت پر اسے میاں بیوی کے رشتے کی نزاکت کے بارے میں جتنا سمجھا سکتی تھی سمجھا دیا تھا ۔۔۔۔۔
اور ہالے کو ابھی سے سوچ کر گھبرا ہٹ اور شرمندگی ایک ساتھ ہو رہی تھی ۔۔۔۔
ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی صرف سترہ سال اور وہ اپنی عمر کی لڑکیوں کی طرح تیز نہیں تھی فائزہ بیگم نے ہمیشہ اسے اپنے بازوؤں میں چھپا کر رکھا تھا اس لیئے وہ دوسروں سے بہت معصوم اور سادہ تھی۔۔۔

آپو مجھے ڈر لگ رہا ہے بہت وہ عزہ کی گود میں لیٹی پریشانی سے بولی۔۔۔
میری جان پریشان ہونے کی کیا بات ہے بھیا تمہارا بہت خیال رکھیں گے ۔۔۔۔اس نے ہالے کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا اس نے کبھی بھی ہالے کو کزن نہیں بلکے سگی بہن سمجھا تھا اس لیے اس سے محبت بھی بہت تھی۔۔۔

لیکن وہ مجھے کل کی وجہ سے ڈانٹیں گے دیکھا نہیں تھا کیسے گھور رہے تھے مجھے کل ۔۔۔۔اس نے اپنی پریشانی بتائی
اس کا بھی ایک حل ہے ۔۔۔۔۔۔عزہ کی آنکھیں شرارت سے چمکی۔۔۔۔۔
کیا وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی اور سوالیہ نظروں سے عزہ کی طرف دیکھا
تم جیسے بھائی تمہارے پاس بیٹھیں گے تو بس ان سے کہنا تمہیں بے بی چاہیے تمہیں بھی ماما بننا ہے دیکھنا وہ تمہیں
فوراً معاف کر دینگے۔۔۔۔۔۔۔۔
سچ کہہ رہی ہیں آپ وہ مجھے ڈانٹنے تو نہیں لگ جائے گے
اس نے پوچھا
نہیں پکا دیکھنا وہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔۔۔۔۔عزہ نے اسے یقین دلا یا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی آنا اور فائزہ بیگم کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔
اٹھو لڑکیوں جلدی سے اپنا سامان اٹھاؤ باہر زریان انتظار کر رہا ہے وہ تم تینوں کو پارلر چھوڑ کر آئے گا
پھر زریان ہی تم تینوں کو ہال میں لے کر آئے گا ۔۔جلدی کرو پانچ منٹ میں نیچے پہنچو ۔۔۔۔۔وہ تینوں کو جلدی سے کہہ کر نیچے چلی گئی پیچھے وہ جلدی سے تیار ہو کر زریان کے ساتھ پارلر چلی گئیں۔۔۔۔۔۔۔

………………………………………………………………………………………………………….

حویلی مہمانوں سے بھرا پڑا تھا دلشیر بھی حویلی میں رکا ہوا تھا وہ وہاں رہنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن بی جان کی ڈانٹ پر آگے سے منع نہیں کر سکا ۔۔۔

سارہ بیگم نے نیہا کے پیپرز کا کہہ کر شادی میں آنے سے معزرت کر لی تھی باقی عاشر کا فون دو دن سے نہیں لگ رہا تھا اس لیے اس کا کچھ پتہ نہیں تھا ۔..
ہر طرف افراتفری مچی ہوئی تھی …سب ہی کوئی نا کوئی کام کرنے میں مصروف تھا
رخصتی کا فنکشن وہاں کے سب سے خوبصورت بینکوئٹ میں منعقد کیا گیا تھا۔
دادا جان بی جان عزہ دلشیر اور عالم صاحب کو روحان کے ساتھ بارات لے کر جانا تھا
زریان اور فائزہ بیگم وہاں بارات کے استقبال کے لئے پہلے سے موجود تھے ۔۔۔۔۔

ڈیپ ریڈ لہنگے کے ساتھ بھاری زیورات پہنے وہ نظر لگ جانے کی حد تک حسین لگ رہی تھی اوپر سے اس کا کم سن حسن کسی کو بھی اپنا گرویدہ کر سکتا تھا وہ آئینے میں آپنا روپ دیکھ خود سے ہی شرمائے جا رہی تھی
عزہ آنا نے بے ساختہ اسکی نظر اتاری۔

اس وقت وہ بیٹھی عالم صاحب کا انتظار کر رہی تھی آنا اور ہالے کو زریان لے کر جا چکا تھا چونکہ عزہ نے بارات کے ساتھ جانا تھا اس لیے وہ عالم صاحب کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔

میم آپ کے گھر سے آپ کو لینے آئے ہیں باہر آپ کا ویٹ کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔چوکیدار نے آکر اسے پیغام دیا تو وہ جلدی سے اٹھ کر سامان اٹھاتی بمشکل چلتی باہر نکل آئی
اسکن کلر کا گرارہ پہنے اس سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا وہ جلدی سے خود کو سنبھالتی باہر نکلی دلشیر پر نظر پڑی تو
اپنی جگہ جم گئی۔۔۔۔

وہ کیوں آیا تھا اسے لینے تو بابا آنے والے تھے اسے دلشیر کی آنکھوں میں عجیب سی تکلیف نظرآتی تھی پہلے تو وہ ہمیشہ ہنس مکھ رہتا تھا
نا جانے ایسا کونسا غم ملا تھا جو وہ اپنے بیزار ہو گیا تھا۔

اسے ہمیشہ دلشیر سے گھبراہٹ ہوتی تھی۔۔۔۔۔

دلشیر نے جب اسے دیکھا تو فوراً اپنی نظریں جھکائی اور گاڑی کا بیک ڈور کھولا اور خاموشی سے ڈرائیونگ سیٹ پر جاکر بیٹھ گیا
ناچار عزہ کو بھی اسکی گاڑی میں بیٹھنا وہ بار بار اپنے ہاتھوں کو مسل رہی تھی۔۔۔۔۔
اس نے گاڑی روڈ پر ڈال دی۔۔۔۔۔۔انکل کو کام زیادہ تھا مہمان آنا شروع ہو گئے تھے اس لیے وہ لینے نہیں آسکے مجھے بھیج دیا ۔۔۔۔۔دلشیر نے ایک نظر اس کے ہاتھوں پر ڈالی اور اسے آگاہ کیا تا کہ وہ ایزی ہو کر بیٹھ جائے
تھوڑی دیر بعد ہی وہ آرام سے بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
اس کے بعد وہ سب بارات لے کر نکلے ۔۔۔۔۔۔۔
۔
وہ اور آنا بینکوئٹ میں برائڈل روم میں بیٹھے ہوئے تھے جب ہی بارات کی آمد کا شور اٹھا وہ جو اتنی دیر بلکل ریلیکس بیٹھی تھی اچانک دل بہت زور سے ڈھڑکا اور اس نے جلدی سے آنا کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے بھابھی بہت وہ رونے والی ہو گئی۔۔۔
چندہ کیا ہو گیا ہے ہالے تو بہت بہادر ہے کیوں گھبرا رہی ہو کونسا تم دوسرے گھر جا رہی ہو سب تمہارے اپنے تو ہیں ۔۔۔

حد ہے مجھے تم سے ہرگز اتنی بزدلی کی امید نہیں تھی ۔۔۔۔
اب یہ پانی پیو اور بلکل ریلیکس ہو جاؤ۔۔۔۔۔وہ اسے پانی کا گلاس کا پکڑاتی باہر آگئی تھی تا کہ فائزہ بیگم کی مدد کر سکے۔۔۔
فل آف وائٹ شیروانی میں شہزادوں کی سی آن بان لیئے اپنے دراز قد کے ساتھ وہ بے حد شاندار لگ رہا تھا۔۔۔اسکی پرسنیلٹی سب پر چھائی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
دلشیر نے آف وائٹ کاٹن کا سوٹ پہنا ہوا تھا اور زریان نے
گرے سوٹ کے ساتھ بلیک شال کی ہوئی تھی
وہ تینوں ہی بے حدحسین لگ رہے تھے ۔۔۔

ماشاء اللّٰہ دیور جی آپ تو آج چھا گئے ۔۔۔۔۔۔آنا نے اسے ہار پہناتے ہوئے کہا تو اس نے سر کو خم دے کر اپنی تعریف وصول کی وہ آکر فائزہ بیگم اور زریان کے گلے لگا اس کے بعد اسٹیج کی طرف بڑھ گیا۔
آنا اور عزہ ہالے کو۔ تھام کر آہستہ آہستہ اسٹیج تک لائی روحان تو اس پر سے اپنی نظریں ہٹانا بھول گیا
اسے پتہ نہیں تھا دلہن کے لباس میں وہ اس قدر حسین لگ سکتی ہے وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔۔۔۔
روحان ہاتھ آگے کرو۔۔۔۔۔
زریان کی بھاری آواز پر وہ ہوش۔ میں آیا اور جلدی سے ایک قدم اسٹیج سے نیچے اترا اور اس کا ہاتھ تھام کر اسے اوپر لے آیا۔۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ وہ واضح محسوس کر سکتا تھا اسے لا کر صوفے پر بٹھایا اور اس سے کچھ
فاصلے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔

کیونکہ اس کی کل کی حرکت وہ بھولا نہیں تھا وہ کمرے میں جا کر ایک ایک چیز کا حساب لینے والا تھا۔۔۔
عزہ کی نظر اچانک دادا جان کے ساتھ باتیں کرتے عاشر پر پڑی اس کے قدم بری ڈگمگائے ابھی وہ گرنے ہی لگی تھی کہ
دلشیر نے اس کی قمیض کی آستین سے اسے پکڑ کر گرنے سے بچایا ۔۔۔۔۔۔عزہ نے ڈر کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا

اور ایک نظر دلشیر کو دیکھا جس نے کسی فرشتے کی طرح اسے گرنے سے بچایا اگر وہ اسٹیج سے گر جاتی تو آگے کے بارے میں وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی
دلشیر نے آرام سے اس کی آستین چھوڑ دی۔۔۔۔

عزہ نے بھی دلشیر کی یہ چیز نوٹ کی کہ اس نے عزہ کو غلطی سے بھی ہاتھ نہیں لگایا ۔۔۔۔۔ وہ بنا کچھ کہے اسٹیج سے اتر گئی۔۔۔۔۔
عاشر کی نظر بھی اس پر پڑ چکی تھی اور اس نے ایک مسکراہٹ عزہ پر اچھالی تو عزہ نے نے گڑبڑا کر نظریں جھکا لیں
روحان اور ہالے کی جوڑی کو سب نے خوب سراہا بی جان نے تو کئی بار دونوں کی نظر اتاری۔۔۔۔۔۔
کس کا ہے یہ وہ ایک کونے میں عزہ کے بازو کو دبوچے اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔اس کا اشارہ اپنے پیٹ کی طرف دیکھ کر عزہ کا دل کیا زمین پھٹے اور اس میں سما جائے ۔۔۔۔

وہ کیسا شخص تھا جو اپنی ہی اولاد کو کسی اور کا کہہ رہا تھا کیا اپنی بیوی کی پاکیزگی پر اسے اب تک یقین نہیں ہو سکا تھا کہاں اس کے کردار میں جھول تھا جو وہ اسے اپنے ہاتھوں کے ساتھ لفظوں سے بھی ازیت دیتا تھا

چھوڑیں مجھے آپ اس طرح کی گھٹیا بات کر کیسے سکتے ہیں میں آپ کی بیوی ہوں ۔۔۔۔۔۔الفاظ ادا کرتے ہوئے آنسو خود بخود اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے ۔۔۔۔
اس کے موبائل میں کال آئی تو اس نے کال اٹھائی عزہ کا بازو ابھی بھی اس کی سخت گرفت میں تھا
ہاں اچھا ویٹ دو منٹ بعد کرتا ہوں کال۔۔۔۔۔
نا جانے وہاں سے کیا کہا گیا اس نے عزہ کی طرف دیکھا۔۔۔

بس چپ کرو اب یہ رونا دھونا رات کو بات کرتا ہوں تم سے اب جاؤ یہاں سے اس نے ناگواری سے عزہ کو جانے کو کہا

وہ بھاگتے ہوئے وہاں سے نکلی تو سامنے سے دلشیر کو آتا دیکھ اس کے قدم آہستہ ہوئے اس نے جلدی سے اپنا چہرہ صاف کیا اور اس کے پاس سے گزر گئی
دلشیر ایک کال ریسیو کرنے اس طرف آیا تھا تھا لیکن عزہ کو روتا دیکھ اس کا دل دکھا تھا وہ کیوں رو رہی تھی اتنا لیکن اسے حق نہیں تھا کہ وہ اس سے سوال کرے
اس لیے پریشانی سے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
Yes my love…..

Darling just be patient for a few days….

دلشیر نے آواز کی سمت دیکھا یہ وہی لڑکا تھا جس سے عزہ کی شادی ہوئی تھی۔۔۔۔

Love you too baby

دلشیر کو حیرت ہوئی وہ کس سے اتنی محبت کا اظہار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
اسے عزہ کا روتے ہوئے جانا بھی یاد آیا کیا وہ خوش نہیں تھی عاشر کے ساتھ ۔۔۔۔اس سے آگے وہ سوچنا ہی نہیں چاہتا تھا وہ وہاں سے نکل گیا

باہر آیا تو عزہ آنا کے ساتھ مل کر روحان کو گھیرے ہوئے تھی پتہ نہیں کون کون رسمیں کر کے اس کو لوٹ رہی تھی

اب اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی
دلشیر کو وہ سب اپنی غلط فہمی لگی۔۔۔۔۔وہ بھی خاموش ہو گیا۔۔۔

…………………………………………………………………….

اسے بہت ساری رسموں کے بعد فائزہ بیگم روحان کے کمرے میں بٹھا کر گئی تھی کمرہ بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ۔۔۔
اس کی ہتھیلی پسینے سے تھر تھی گھبراہٹ اس کے چہرے سے عیاں تھی
روحان اچھا خاصا آنا اور عزہ سے لٹ کر کمرے میں آیا تھا
وہ دشمن جان اس کے بستر پر اسی کے لیے آج سج سنور کر بیٹھی تھی
وہ قدم قدم چلتا اس کے پاس آیا
اس کے ہر قدم پر ہالے کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا وہ کھسک کر پیچھے ہوئی۔۔۔۔۔
روحان نے اس کے پاس بیٹھا اور اس کا ہاتھ تھام لیا
ہالے کو لگا بس وہ اگلی سانس نہیں لے پائے گی
اس کی دھڑکنوں کی آواز دور بیٹھے بھی روحان بخوبی سن سکتا تھا ۔۔۔۔وہ تھوڑا اور قریب ہوا
ہالے نے زور سے اپنی آنکھیں میچ لی
آنکھیں کھولو ہالے اور میری آنکھوں میں دیکھو۔۔۔۔۔۔روحان کی بھاری گھمبیر آواز کمرے میں گونجی۔۔۔
روحان کی آواز پر اس کے جسم پر کپکپی شروع ہوگئی
اس نے آنکھوں کو اور زور سے میچ کر نفی میں سر ہلایا

آنکھیں کھولو ہالے کل رات کی سزا بھی تو دینی ہے تمہیں اس کی سرد آواز پر ہالے نے ڈر کر جلدی سے آنکھیں کھولیں
وہ سرخ آنکھوں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

وہ واش روم دیکھ رہی ہو نا اس نے واش روم کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔۔ہالے نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا
آج پوری رات اکیلے وہاں بند رہو گی تم یہ تمہاری سزا ہے
اس کی سرسراتی ہوئی آواز پر ہالے نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو چمک رہے تھے ۔۔۔
بھ۔روحان مجھے معاف کر دیں ۔۔۔۔۔روحان کے گھورنے پر اس نے اپنا جملہِ درست کیا۔۔۔
معافی نہیں ملے گی تم جانتی ہو نا میں کون ہوں تمہارا پھر بھی سب کے سامنے تم نے مجھے شرمندہ کیا
اس نے گہری سنجیدگی سے کہا
دل تو ہالے کے خوفزدہ چہرے پر قہقہہ لگانے کا تھا لیکن اسے ڈرانا بھی ضروری تھا تا کہ آئیندہ اس کی عزت کا فالودہ نا کرے۔۔۔۔۔۔
وہ اٹھا اور ہالے کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے لگا۔۔۔۔
رو روحان مجھے ماما بننا ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ جو اسے اٹھانے لگا تھا
اس کی بات پر جھٹکے سے مڑا اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنی چھوٹی سی بیوی کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یقیناً یہ اس کے دماغ کی۔کارستانی نہیں ہو سکتی تھی
اسے چند پل لگے تھے سمجھنے میں۔۔
وہ واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔اور پر شوخ نظروں سے ہالے کو دیکھنے لگا جو اپنا منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی
اس نے دو انگلیوں سے اس کا منہ بند کیا دل تو کر رہا تھا
اسے اپنے طریقے سے بند کرے لیکن تھوڑا صبر کرنا بھی ضروری تھا۔۔۔۔
تمہیں سچ میں ماما بننا ہے اس نے خمار آلود نظروں سے اسے دیکھا
ہالے نے زور زور سے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
آپو اور بھابھی نے کہا کہ میں آپ سے بے بی مانگوں مجھے بہت پسند ہے روحان بے بی اس نے جلدی سے روحان کو بتایا جیسے وہ اسی وقت اسے بے بی کا کر دے دے گا
میری جان بہت معصوم ہے۔۔۔۔اس نے جھک کر اس کے ماتھے پر پیار کیا تو ہالے خود میں سمٹ گئی۔۔
بے بی لانے کے لیے میں جو بولوں گا تمہیں کرنا پڑے گا۔۔۔۔
کروگی نا جانان ۔۔۔۔۔
اس نے ہالے کے گال کو انگلی سے چھوتے کہا ۔۔۔
میں میں سب کرونگی ۔۔۔۔ہالے نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا جیسے اسے کتنی جلدی ہو بے بی کی
ایسے مت دیکھو روح من تمہاری یہ آنکھیں مجھے ہوش ہواس سے بے گانہ کر دیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارے یہ لب مجھ پر نشہ سا طاری کر دیتی ہیں ایک بار چھونے کے بعد بھی میں کئی دنوں تک پیاسا رہتا ہوں۔۔۔۔
وہ مدہوشی سے اسے بیڈ پر لٹائے اس پر جھک آیا۔۔۔
ہالے نے بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں بھینچ لیا اور آنکھیں سختی سے میچ لیں دھڑکنوں نے آج شور مچانے کی قسم کھائی تھی ۔۔۔
میں بہت پیاسا ہوں آج مجھے سیراب کر دو میری جان روحان نے اسکا گلال چہرہ سہلاتے ہوئے محبت بھری سرگوشی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالے نے اس کا وہی ہاتھ سختی سے تھام لیا اور بند آنکھوں سے ہی نفی میں سر ہلایا
روحان نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور ایک ایک کر کے اس کی جیولری اتارنے لگا اس کی انگلیوں کے لمس سے اسے اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی
روحان نے اس کا دوپٹہ اتار کے صوفے پر پھینکا
اور اپنی شیروانی اتار کے دوبارہ اس پر جھک گیا اور اس کی گردن پر لب رکھے۔۔۔۔۔ اس نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں اور اسے ہٹانے کی کوشش کی لیکن وہ اور اس کے قریب ہو گیا۔۔۔۔
مجھے مت روکو میری جان مجھے خود میں گم کرلو اور مجھے دنیا بے گانہ کر دو تا کہ میں تمہارے سوا کچھ نہ دیکھوں نا کچھ سوچوں وہ سرگوشی میں اس کے کان پر بول رہا تھا روحان کے ہونٹ گردن پر بہت بے باکی سے سفر کر رہے تھے

روحان نے اسکا چہرہ توڑی سے پکڑ کر اوپر کرتے ہوئے اسکے ہونٹوں کو بے چینی سے دیکھا اور اگلے ہی لمحے اس پر جھک گیا اور ان ہونٹوں کا رس پینے لگا ہالے نے اس کی پیٹھ پر ناخن گاڑے اسے دور کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے کام میں مگن رہا اور اپنے ہاتھوں کو اس کے جسم پر کھلا چھوڑ دیا جو بے باکی سے اسے چھونے لگے تھے

روحان نے کچھ پل کے لیے اسے چھوڑا تو وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔۔۔۔۔پلیز نہیں کریں مجھے ڈر لگ رہا۔۔۔۔۔

اس نے روحان کے سینے پر ہاتھ جمائے کہا۔۔۔چہرہ شرم سے لال تھا اور آنکھیں خوفزدہ
میں تمہارا ہر ڈر سمیٹ لوں گا مجھے مت روکو وہ اس کے کندھے سے شرٹ نیچے کرتے بھاری آواز میں بولا۔۔۔۔۔۔
وہ دوبارہ اس کے ہونٹوں پر جھکا اسکے لبوں کو قید کرکے جیسے آزاد کرنا بھول چکا تھا ۔۔۔۔ہونٹوں کو چھوڑ وہ اس کی گردن پر جھکا اور وہاں جا بجا اپنے لمس چھوڑتے نیچھے کا سفر کرنے لگا

اس میں اتنی ہمت بھی نہیں بچی تھی کہ ہاتھ پیر چلا کر اسے خود سے دور کر دیتی اسے لگا جیسے اسکا سانس رکنے والا ہو اس نے سہارے کے لیے روحان کے گلے میں بازو ڈال دیئے
تم نے میری نیندیں اڑا دی ہیں تم میرے حواسوں میں ایسے چھا گئی ہو کہ مجھ جیسے انسان کو کسی کام کا نہیں چھوڑا تمہیں پانے کی جو تشنگی تھی وہ آج مزید بڑھ گئی ہے میں یہاں تک آکر پیاسا نہیں جانا چاہتا۔۔۔۔۔
اس کی سرگوشی پر وہ گھبرائی ہوئی لڑکی مزید گھبرا چکی تھی۔۔۔۔
روحان نے لائٹ آف کی اور اس پر جھک گیا۔۔۔
اسکی بڑھتی گستاخیاں ہالے کا حلق تک خشک کر چکی تھیں اس نے گھبرا کر اپنا آپ ڈھیلا چھوڑ دیا
روحان بہت نرمی اور محبت سے اسے خود میں سمٹتا گیا۔ کھڑکی سے جھانکتا چاند نے مسکرا کر بادلوں میں چپ گیا ۔۔

دور کھڑی قسمت ان کے ملن پر دکھ سے مسکرائی۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔