Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
ناول ۔۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔۔۔چوبیس
مجھے معاف کردیں عاشر میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا غلطی سے جل گیا
میں دوسرا بنا دیتی ہوں وہ کان پر ہاتھ رکھے چیخی تھی
لیکن عاشر اسے بالوں سے گھسیٹتا ہوا کمرے میں لے گیا اور بیڈ پر دھکا دیا اور اپنی شرٹ اتار کر کر دور پھینکی اور اس پر جھک آیا نہیں اب مجھے بھوک نہیں میری بھوک مٹانا تو تمہارا کام ہے کہہ کر اس نے عزہ کی مزاحمت کو نظر انداز کر کے اپنی درندگی اسے وجود پر دکھانے لگا
انہیں کینیڈا آئے ہوئے دو ہفتہ ہو گئے تھےلیکن یہاں آکر دوسرے ہی دن عاشر نے اسے اپنی اصلیت دکھانا شروع کر دی تھی
یہ دو کمرے کا بہت خوبصورت فلیٹ تھا جو شادی کے تحفے کے طور پر عالم صاحب نے ان کے لیے خریدا تھا
فاروق صاحب اپنے گھر چلے گئے تھے ۔۔۔لیکن وہ عزہ کو لے کر اسی فلیٹ پر آگیا تھا جو عالم صاحب نے انہیں دیا تھا
پراپرٹی کے کاغزات بھی اس نے اپنے پاس رکھ لیے تھے
گھر کا سارا کام وہ خود کرتی تھی لیکن عاشر بات بے بات اسکی غلطی نکال کر اسے سزا دینے لگا تھا وہ شام کا نکلتا صبحِ نشے میں گھر لوٹتا تھا اور سارا دن سوتا تھا
لیکن اس نے ایک لفظ اپنے گھر والوں کو نہیں بتایا وہ دوبارہ اپنی وجہ سے انکو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی
لیکن روز روز کی ازیت برداشت کرنا بھی اس کے بس میں نا تھا
……………………………………………
دلشیر کی حالت کی وجہ سے روحان بھی عزہ کے جانے تیسرے دن دبئی آگیا تھا
ابھی ابھی وہ آفس سے لوٹا تھا کہ اس کے فون پر زائش کی کال آنے لگی۔۔۔اس نے اگنور کیا آج کل ویسے بھی اس کا دل صرف ہالے کو سوچنے لگا تھا اور اس نے سوچ لیا تھا وہ اپنے رشتے کو ایک موقع دے گا ہالے چھوٹی تھی لیکن وہ جانتا تھا وہ اسے پسند کرنے لگی ہے اور کہیں نا کہیں اس کا دل بھی ہالے کی جانب ہمکنے لگا تھا
آتے ہوئے وہ دادا جان سے کہہ کر آیا تھا کہ وہ واپسی پر انکی خواہش پوری کر کے جائے گا
اور زائش ایک پڑھی لکھی خوبصورت لڑکی تھی وہ اس کی بات سمجھے گی زائش کو اس سے بہتر مل جائے گا
اور ویسے بھی اسے زائش صرف پسند تھی لیکن وہ خود کو۔ جھوٹی تسلی دیتا تھا یہ کہہ کر کہ اسے زائش سے محبت ہے لیکن وہ اب سمجھ گیا تھا محبت وہ تھی جو وہ ہالے کے لیے محسوس کرنے لگا تھا
فون کی آواز پر وہ خیالوں سے باہر آیا تو دوبارہ زائش کا نام دیکھ کر اس کی پیشانی پر بل پڑ ے وہ ابھی کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا وہ اس وقت صرف ہالے کو سوچنا چاہتا تھا
وہ موبائل آف کرنے ہی والا تھا کہ زائش کا میسج آیا کچھ سوچ کر اس نے میسج کھولا تو وہ پریشانی سے کھڑا ہو گیا
اور اسے کال کرنے لگا جو دوسری ہی بیل پر اٹھا لی گئی
روحان پلیز مجھے بچا لو میں مرجاونگی ڈیڈ میری شادی اپنے کسی بڈھے دوست سے کروا نے والے ہیں میں موم کے ساتھ چپ کر دبئی آگئی ہوں پلیز تم آجاؤ ورنہ مجھے کچھ ہو جائے گا۔۔۔۔۔بتاتے ہوئے زائش رونے لگی
ایک دم روحان بھی پریشان ہو گیا اور ایڈریس پوچھ کر گاڑی لے کر نکل گیا۔۔۔
وہ جب ہوٹل پہنچا تو دروازہ زائش کی ماں نے کھولا وہ اندر اگیا تو سامنے ہی زائش بہت بری حالت میں تھی بکھرے بال آنسو بھری آنکھیں ملگجے کپڑے وہ زائش تو بلکل نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔
روحان کو دیکھ کر وہ بھاگتی ہوئی اس کے سینے سے لگ گئی ۔۔۔
اپنی ماں کے سامنے یوں گلے لگنے پر وہ بھی شرمندہ ہو گیا اس نے آرام سے زائش کو خود سے دور کیا اور صوفے پر بٹھایا اور کچھ فاصلے پر خود بھی بیٹھ گیا اس کی ماں بھی سامنے صوفے پر بیڈ پر گئی
دیکھو روحان بیٹا زائش کے ڈیڈ اپنے بزنس کے چکر میں اس کی شادی اپنی عمر سے بھی بڑے انسان سے کروانا چاہ رہے ہیں لیکن میں اپنی بیٹی کی زندگی برباد نہیں ہونے دے سکتی وہ تم سے پیار کرتی ہے وہ کسی اور سے شادی نہیں کر سکتی اس لیے میں اسے یہاں لے کر آگئی اب تم ہی اسے ان سب سے بچا سکتے ہو۔۔۔پلیز اس سے نکاح کر لو ۔۔۔۔
زائش کی ماں اسے روتی ہوئی اسے ساری بات بتاتی گئی
روحان کو کچھ سمجھ نہیں آیا کیا کرے کیونکہ وہ کچھ اور فیصلہ کر چکا تھا وہ اس معصوم کو اب تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا پہلے کی بات اور تھی اب تو اس نے بھی ہالے کی آنکھوں میں محبت کے دیپ جلتے دیکھے تھے۔۔۔۔
دیکھیں آنٹی میں آپ کی بات سمجھ رہا ہوں لیکن نکاح اس مسئلے کا حل نہیں ہم کوئی اور راستہ نکال لیں گے آپ پریشان نا ہو روحان نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔۔
کیا مطلب ہے روحان تمہاری اس بات کا مطلب میں یہاں اپنے ڈیڈ سے چپ کر آئی ہوں میری موم میری وجہ سے میرے ڈیڈ کے خلاف یہاں آئی ہیں اور تم یہ کہہ رہے آخر کیا وجہ ہے نکاح نا کرنے کی کبھی نا کبھی تو کرنی ہے نا تم نے وعدہ کیا تھا مجھ سے ۔۔۔۔۔۔زائش بھی ہزیانی ہو کر چلائی
دیکھو زائش سمجھنے کی کوشش کرو یہ وقت جزبات میں آنے کا نہیں ہے ہمیں سوچ سمجھ کر کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔۔۔
باقی رہی نکاح کی بات وہ بعد کی بات ہے لیکن میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں اس بڈھے سے شادی کرنے سے بچا لونگا میں
روحان نے تحمل سے اسے سمجھانے کی کوشش کی جبکہ زائش کی موم ان دونوں کی طرف دیکھ رہی تھی
اچانک زائش نے فروٹ باسکٹ سے چھری اٹھائی اور اپنی کلائی پر رکھ لی بولو اب بھی نہیں کرو گے نکاح مجھ سے وہ چیختے ہوئے بولی
سائز کی موم بھی گھبرا کر کھڑی ہوگئی اور روتے ہوئے روحان کی منتیں کرنے لگی۔۔۔پلیز میری بیٹی کو بچا لو پلیز روحان روکو اسے مر جائے گی
اگر تم نے مجھے ابھی نکاح نہیں کیا تو میں ہوٹل کے اسی کمرے میں اپنی جان دے دوں گی مجھے تمہاری قسم ہے
زائش اس وقت کوئی پاگل ہی لگ رہی تھی
زائش یہ کیا پاگل پن ہے ہٹاؤ اسے روحان نے پریشانی سے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھی پلیز بیٹا روکو اسے میری اکلوتی بیٹی ہے اس کی بات مان لو ورنہ اس کے ساتھ ساتھ میں بھی مر جاؤں گی
اوکے میں تیار ہوں تم سے نکاح کے لیے آخر روحان نے ہار مان لی کیونکہ اسے لگ رہا تھا کہ جو بھی کچھ ہو رہا تھا سب کی وجہ وہ خود تھا اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا اگر وہ انکار کرتا تو وہ ایک قاتل بن جاتا
زائش کی ماں نے اپنے کسی جاننے والے کو مولوی کے ساتھ ہوٹل آنے کا بولا جب تک نکاح نہیں ہو گیا زائش نے چھری کلائی سے دور نہیں کی
تھوڑی ہی دیر میں قبول و ایجاب کا مرحلہ طے پایا
تو وہ پر سکون ہو کر بیٹھ گئی
لیکن روحان کا چین و سکون سب غارت ہو گیا جس لڑکی پر وہ زرا سی تکلیف برداشت نہیں کرسکتا تھا اس پر آج خود ہی سوتن کے آیا تھا
وہ جانے لگا تو زائش کی موم نے اسے روک لیا
بیٹا اپنی امانت اپنے ساتھ لے کر جاؤ مجھے اب واپس جانا ہوگا ورنہ اس کا باپ ہمیں ڈھونڈتے ہوئے یہاں جائے گا اس لیے میرا جانا ضروری ہے ۔۔۔
وہ ابھی نکاح جیسا عمل کر کے نہیں سنبھلا تھا کہ اب ساتھ رکھنے والی بات پر تو ظبط کرنا مشکل ہو گیا۔۔۔
آنٹی اب آپ کے ہسبینڈ زائش کی شادی کہیں اور نہیں کرواسکتے اس لیے آپ بے فکر ہو کر اسے لے جائیں
کچھ وقت بعد میں اسے لینے آجاؤں گا ۔۔۔
اس نے نا چاہتے ہوئے بھی سرد لہجے میں جواب دیا
روحان ڈیڈ مجھے جان سے مار دیں گے پلیز مجھے نہیں جانا جب تک ان کا غصہ کم نہیں ہو جاتا پلیز مجھے اپنے ساتھ لے جاؤ ۔۔۔
زائش اس کے بازو سے لگی رونے لگی ۔۔۔
بیٹا زائش ٹھیک کہہ رہی ہے اسکے ڈیڈ غصے میں کسی کا لحاظ نہیں کریں گے پلیز تم اسے اپنے ساتھ لے ج۔۔۔۔
روحان نے مزید کچھ نہیں سنا اور اس کا ہاتھ پکڑے کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
پیچھے زائش کی موم کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی کمرے سے اپنی اور زائش کی ساری چیزیں سمیٹ کر وہ بھی باہر نکل گئی۔۔۔۔۔۔۔
…………………………………………………………………………
زریان آج شام آنے والا تھا اس لیے وہ فائزہ بیگم کے ساتھ کچن میں کھڑی اس کی پسند کے چکن کوفتے اور چکن جلفریزی بنا رہی تھی اس نے زبردستی ہالے کو بھی ساتھ کھڑا کیا تھا تا کہ وہ بھی سیکھ لے اور روحان کو بنا بنا کر کھلا سکے جس پر آج وہ شرمانے کے بجائے خاموش تھی
آنا سکندر کی بیٹی ہے اس بات سے فائزہ بیگم زریان اور روحان ہی واقف تھے
وہ سب ہی بہت خوش تھے ہالے اور آنا کی محبت سے عزہ بھی انہیں فون کر کے اپنی طرف سے بے فکر رہنے کو کہتی تھی۔۔۔
روحان کے ساتھ زریان بھی چلا گیا تھا شہر لیکن ان دو ہفتوں میں وہ دو دن کے لیے گاؤں آیا تھا اس نے آنا کو بھی ساتھ چلنے کو کہا تھا لیکن ہالے کی وجہ سے وہ کچھ ٹائم اور یہاں رہنا چاہتی تھی جس پر زریان کا دل تو نہیں مانا لیکن وہ چاہتا تھا کہ آنا زیادہ سے زیادہ فیملی کے ساتھ ایڈجسٹ ہو جائے اس لئے وہ مان گیا
وہ کچن سے نکلی تو سیڑھیاں اترتی نیہا دکھائی دی جو آج ضرورت سے زیادہ تیار تھی ۔۔۔آنا نے اسے اگنور کیا اور کمرے میں چلی گئی اور ریڈ شیفون کا سوٹ نکالا اور فریش ہونے چلی گئی فریش ہونے کے بعد اچھے سے تیار ہوئی ریڈ ہی لپ اسٹک لگائی اور بھر بھر کر دونوں آنکھوں پر کاجل لگائی اور دوپٹہ اچھے سے کندھے پر پھیلا کر باہر آگئی۔۔
اوے ہوئے بھیا کے آنے کی اتنی خوشی ۔۔ہالے نے آکر اس کے ساتھ بیٹھتے کندھے پر کندھا مارا تو آنا شرما گئی
بڑی ہوں تم سے شرم کرو مجھے چھیڑوگی تم اس نے آنکھیں دکھانے کی کوشش کی ۔۔۔
ہائے بھابھی آپ کو نا چھیڑیں تو کس کو چھیڑیں ایک تو عزہ آپو کو بھی عاشر بھائی ہی ملے تھے جن کی وجہ سے وہ اتنی دور چلی گئی اب آپ ہی بتائیں کس کو چھیڑیں ۔۔
اس نے مصنوعی افسوس سے کہا
بیٹا صبر کرو روحان بھائی کو آنے دو گن گن کر بدلے نا لئے تو کہنا۔۔۔اس نے بھی حساب برابر کیا
نا جانے کیوں آج وہ ظالم بہت شدت سے یاد آرہا تھا جیسے کچھ تو ہوا ہو شام سے ہی اس کا دل گھبرا رہا تھا
کسی کو بتا بھی نہیں سکتی تھی کہ سب اس کا مزاق بنائے گے
اس کو کال کرنے کی ہمت بھی نہیں تھی کہ نکاح کے بعد اتنی بے تکلفی کبھی تھی نہیں اس کا دل بہت گھبرانے لگا تھا وہ اٹھی اور بی جان کے پاس چلی گئی
بی جان میں آجاؤں اس نے باہر کھڑے ہو کر پوچھا ویسے اسے اجازت لینے کی عادت نہیں تھی لیکن دادا جان کی۔موجودگی میں وہ اجازت کے کر آتی تھی
آجاؤ ہالے ۔۔۔اندر سے بی جان کی آواز آئی تو وہ اندر آگئی
دادا جان صوفے پر بیٹھے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے
اور بی جان بیڈ پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھی وہ آئی اور انکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی
دادا جان نے کتاب سے نظریں ہٹا کر ایک نظر اپنی پوتی کو دیکھا جو آج اداس ادا سی لگی۔۔۔
بی جان نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا کیا بات ہے آج ہالے اداس کیوں ہے ۔۔۔بی جان نے پو چھا
بی جان میرا دل بہت گھبرا رہا ہے جیسے میں مرنے والی ہوں ۔۔ اس نے اداسی سے کہا
اللّٰہ نا کریں ہالے کیا اول فول بول رہی ہو بی جان نے اسے ڈپٹا
سچی بی جان دل بہت دھک دھک کر رہا جیسے کچھ برا ہو رہا آپ آپ ان کو فون کر کے پوچھیں نا وہ ٹھیک ہے نا۔۔
اس نے جھجھکتے ہوئے اپنے دل کی بات کہہ دی۔۔۔اور سامنے دادا جان کو دیکھا جو اسے ہی غور سے دیکھ رہے تھے
فوراً آنکھیں بند کر لی
ان کو کن کو بی جان نے انجان بنتے پوچھا
بی جان آپ جانتی ہیں میں کن کی بات کررہی ہوں اسنے بے بسی سے کہا
دادا جان کو بھی اس کی دل کی پریشانی کا احساس ہوا تو
اس کو دیکھتے ہوئے روحان کو کال ملائی
جو اس نے ریسیو نہیں کی شاید بزی تھا ۔۔۔۔
کال نہیں اٹھائی تو وہ اور پریشان ہو گئی جلدی سے اٹھی میں ماما کا فون لاتی ہوں اس سے فون کرنا دادا جان وہ کہتے بھاگ گئی دادا جان اپنی معصوم پوتی کی بے قراری خوب سمجھ رہے تھے ۔۔
لیکن انہیں اطمینان تھا یہ بے قراری اپنے محرم کے لیے ہے اس لیے وہ بے فکر تھے ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ فون لے کر بھاگتی ہوئی آئی یہ لیجیے دادا جان اس سے کریں فون وہ اٹھا لیں گے دیکھنا اس نے فون دادا جانکی طرف بڑھاتے کہا
ہالے آپ فون لے کر اپنے روم میں جاؤ اور آپ خود فون کر کے خیریت پوچھ لینا کیونکہ میں زرا اس سے ناراض ہوں ابھی بات نہیں کرسکتا۔۔۔
دادا جان نے اس کو وضاحت کے ساتھ ساتھ مشورہ بھی دے ڈالا
اسے بھی یہ ٹھیک لگا تاکہ اس کے دل کو سکون آجائے۔۔۔وہ فون لے کر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
کمرے میں آکر اس نے بنا سوچے سمجھے کال ملا دی جو اگلے ہی لمحے اٹھا لی گئی تھی۔۔۔۔۔
اسلام علیکم ماما فون سے اس کی گھمبیر آواز گونجی
ہالے کا دل بے ساختہ دھڑکا اسے سمجھ نہیں آیا کیا کہے
لفظوں نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا
وہ جو غصے و پریشانی میں زائش کو فلیٹ کے باہر اتار کر خود بے مقصد سڑک پر گاڑی چلانے پر مصروف تھا اچانک فون بجنے پر اسکرین پر چمکتا ماما کا نام دیکھا اور کال ریسیو کر کے سلام کیا۔۔۔
لیکن دوسری طرف خاموشی تھی ہلکی ہلکی سانسوں کی آواز آرہی تھی
اسے سیکنڈ لگا سمجھنے میں کہ فون کرنے والا کون ہے
ہالے۔۔۔اس نے محبت سے پکارا۔۔
اسے بہت ضرورت تھی اس وقت ہالے کی اگر پاس ہوتا تو شاید اپنی ساری پریشانی اس کی گود میں سر رکھ کر بہا دیتا
اپنے نام کی پکار پر ہالے کے دل نے ایک سو بیس کی اسپیڈ پکڑی جیسے ابھی باہر نکل کر آجائے گا اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور لمبی لمبی سانسیں لے کر خود کو نارمل کرنے لگی۔۔۔۔
روحان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی وہ فون کے اس پار سے بھی اس کی ایک ایک حرکت سے واقف تھا ابھی صرف آواز سن کر یہ حال تھا جب وہ اپنی بے چینی اور بے قراری اس کے وجود پر اتارے گا تو کیسے برداشت کرے گی وہ نازک جان۔۔۔۔
ہالے ۔۔۔۔ اس نے دوبارہ پکارا
ج جی۔۔۔۔۔۔اس کی ہلکی سی آواز آئی ۔۔۔۔
آئی مس یو بیڈلی مائی لو۔۔۔۔۔روحان کی جزبات سے بھرپور گھمبیر آواز گونجی۔۔۔۔۔
فون ہالے کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا گال خود بخود سرخ پڑ گئے اس نے اپنے خشک لبوں پر زبان پھیرا
ہالے ۔۔۔۔روحان نے سرگوشی میں پکارا۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
