Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
ناول ۔۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔۔سولہ
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔اس نے زائش کو خود سے دور کرتے غصے میں پوچھا
میں نے سنا تم دبئی آئے ہو تو سوچا تم سے مل۔لوں میں بھی یہاں دوستوں کے ساتھ گھومنے آئی تھی اس نے اپنے بالوں کو جھٹکتے ایک ادا سے کہا
وہ صبح ہی صبح اس کے اپارٹمنٹ میں موجود تھی دلشیر تو صبح ہی چلا گیا تھا
وہ گہری نیند میں تھا کہ ڈور بیل کی آواز پر اٹھا دروازہ کھولا تو سامنے پنک ٹاپ اور بلیو جینز میں زائش کھڑی تھی وہ آکر اس کے گلے لگ گئی
گلے تو وہ پہلے بھی لگتی تھی ناجانے کیوں اس بار روحان کو اس کی یہ بے باکی ایک آنکھ نہیں بھائی
نا جانے اس کا ایڈریس اس لڑکی کو کس نے دے دیا تھا وہ فلحال اکیلا رہنا چاہتا تھا لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا تھا
اب کیا گھورتے ہی رہو گے مجھے۔۔۔۔
زائش نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور اسے ہٹا کر اندر آگئی
وہ بھی دروازہ بند کرتا اس کے پیچھے آیا اور لاؤنج میں رکھے صوفے پر بیٹھ گیا
وہ گھر کا معائنہ کرنے لگی
یہ دو کمروں کا ایک چھوٹا مگر بہت خوبصورت اپارٹمنٹ تھا دو کمرے اور بڑا سا لاؤنج تھا صاف ستھرا اوپن کچن بہت خوبصورت تھا
بڑا پیارا گھر ہے تمہارا اس نے تعریف کی۔۔
میرا نہیں دوست کا ہے
ہممم۔۔۔
تم مجھے اگنور کیوں کر رہے ہو روحان کوئی پروبلم ہے کیا اس نے روحان کے ہاتھ تھام کے معصومیت سے پوچھا
کتنے دنوں سے وہ اس کے ڈرامے برداشت کر رہی تھی
یار اگنور نہیں کر رہا کام بڑھ گیا ہے بلکل ٹائم نہیں مل پاتا اس نے ہاتھ چھڑا کے کچن میں جاتے کہا
کیا پیوگی۔۔۔ اس نے زائش کا دھیان بٹانے کے لیے پوچھا
کچھ نہیں یار چلو باہر چلتے ہیں۔۔زائش نے اسے کچن سے باہر نکالا
چلو تم بیٹھو میں دس منٹ میں ریڈی ہو کر آتا ہوں وہ اسے لاؤنج میں بٹھا کر کمرے میں چلا گیا
روحان جانتا تھا اب وہ اسے بلکل نہیں چھوڑنے والی اور بند گھر میں اس کے ساتھ اکیلے رکنا مناسب نہیں لگ رہا تھا اس لیے باہر جانا ہی زیادہ لگا
زائش روحان کی کلاس فیلو تھی ان دونوں میں شروع سے ہی دوستی تھی یہ دوستی محبت میں کب بدلی اسے پتہ ہی نا چلا پچھلے دیڑھ سال سے وہ دونوں ریلیشن میں تھے
اور روحان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس سے شادی کرے گا
………………………………………………..
وہ سیدھا گھر پہنچا تھا لیکن وہ اسے کہیں نظر نہیں آئی
اس نے پورا گھر چھان مارا وہ کہیں نہیں تھی وہ بھاگتا ہوا گیٹ پہ کھڑے گارڈز کے پاس آیا اس سے پوچھنے
جی سر بیگم صاحبہ تو آپ کے جاتے ہی کریم ( ڈرائیور) کے ساتھ اپنی امی کی طرف گئی ہیں اور کریم کو واپس بھیج دیا انہوں نے کہا کہ وہ خود کال کر کے کریم کو بلا لیں گی
گارڈ کی بات سن کر اس نے رائمہ بیگم کو کال کی
السلام علیکم چاچی کیسی ہیں آپ کال ا ٹھاتے ہی زریان سے حال دریافت کیا
وعلیکم السلام بیٹا بلکل ٹھیک ہوں آنا کے ساتھ تم بھی چکر لگاتے
جی میں تھوڑا مصروف تھا اس وقت آپ آنا سے کہیں ریڈی
رہیں میں 30 منٹ میں پہنچ رہا ہوں اللّٰہ حافظ
وہ کہہ کر کال کاٹنے لگا لیکن ان کی بات پر رک گیا
کیا اسے سننے میں غلطی ہوئی تھی؟
کیا کہا آپ نے پلیز دوبارہ کہیے گا
بیٹا آنا تو دو گھنٹے سے زیادہ ہو گئے گھر سے نکلی ہے رشیدہ کی بیٹی نے بتایا کہ اس نے رکشے والے کو تمہارے گھر کا ایڈریس بتایا تھا تو اسے اب تک تو پہنچ جانا چاہیے تھا رائمہ بیگم تو پریشان ہی ہوگئی
میں آرہا ہوں ابھی آپ کے پاس کہہ کر اس نے کال کاٹ دی
اگر تمہاری بیگم صاحبہ آئے تو سب سے پہلے مجھے کال کر کے بتانا اوکے اس نے گارڈ کو ہدایت دی اور اپنی گاڑی میں بیٹھتا گاڑی زن سے بھگا لے گیا
اس کے گارڈز کی ایک گاڑی اس کے پیچھے ہی تھی ٹینشن اے اس کا برا حال تھا
تیس منٹ کا راستہ پندرہ منٹ میں طے کرتا وہ ان کے پاس پہنچا تھا
کہاں جا سکتی ہے وہ اس کی کوئی دوست کوئی بھی جس کے پاس وہ جاسکتی ہو پلیز بتائیں مجھے
بے چینی اس کے ہر حرکت سے ظاہر ہو رہی تھی
رائمہ بیگم بھی بہت پریشان تھی
زریان بیٹا اسکی کوئی دوست نہیں نا ہی وہ آج تک کبھی کہیں گئی ہیں ایسے میرا دل گھبرا رہا ہے میری آنا کے ساتھ کچھ ہو نا گیا ہو رشیدہ کی بیٹی بتا رہی کہ جس رکشے والے کے ساتھ گئی تھی وہ تین گلی چھوڑ کرہی رہتا ہے میں
رکو میں زرا اس کے گھر جا کر پوچھ کے آتی ہوں میری بچی کسی مصیبت میں نا ہو وہ پریشانی سے چادر کے لیے اٹھی
چاچی آپ بیٹھے میں کرتا ہوں کچھ وہ جہاں بھی ہوگی ٹھیک ہوگی زریان نے انہیں کندھوں سے تھام کر بٹھایا
اس نے اپنے گارڈ کو کال ملائی رشیدہ اور اسکی آٹھ سالہ بیٹی ایک کونے پر بیٹھی پریشانی سے یہ سب دیکھ رہی تھی
اگر تم نے جان بوجھ کر مجھے تنگ کرنے کے لیے یہ حرکت کی ہے تو میں تمہیں پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا اور ایسی سزا دونگا دوبارہ کچھ کرنے کا سوچوگی بھی نہیں
وہ خیالوں میں ہی اس سے مخاطب تھا دس منٹ ہی گزرے تھے اسے اپنے گارڈ کی کال آئی
زریان نے رائمہ بیگم اور شیدہ کو کمرے میں بھیج دیا
اور کچھ ہی سیکنڈ میں اس کا گارڈ ایک شخص کو
کالر سے پکڑ کر کھینچا ہوا اس کے پاس لے کر آیا وہ بہت ڈرا ہوا تھا وہ شکل سے ہی شریف لگ رہا تھا لیکن اس کی بیوی غائب تھی کوئی چھوٹی بات نہیں
تین بجے کے ٹائم تمہارے رکشے میں ایک اکیلی لڑکی بیٹھی تھی کہاں چھوڑا اس کو تم نے
اس نے سرد لہجے میں پوچھا
وہ بچارا طوطے کی طرح سب بتاتا چلا گیا
اور یہ سب سن کر زریان کی گردن کی تھیں ابھر گئی مٹھیاں بھینچ کر اس نے اپنے آپ کو قابو کرنے کی کوشش کی
صاحب میں نے اس کی گاڑی کا نمبر لکھ کے رکھا تھا میرا کوئی قصور نہیں میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں مجھے جانے دیں
رکشے والے نے ایک چھوٹا سا کاغذ زریان کی طرف بڑھاتے ہوئے ہاتھ جوڑے
اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کو کہا
رکشے والا تو اپنی جان بچنے پر ہی خدا کا شکر ادا کرتا نکل گیا
مجھے اگلے دس منٹ تک اس بندے کے ساتھ ساتھ آنا کا لوکیشن چاہے ورنہ گیارہویں منٹ تم میں سے کوئی بھی نہیں بچے گا
اس کی دھاڑ سن کر ہی گارڈ نے وہ کاغذ پکڑا اور نکل گیا
ان کے نکلتے ہی رشیدہ کو رائمہ بیگم کا خیال رکھنے کا کہتے وہ خود بھی اسے ڈھونڈ نے نکل گیا
…………………………………………….
روحان نے پورا دن زائش کے ساتھ گزارا اب وہ اسے چھوڑے جا رہا تھا
روحان ہم شادی کب کریں گے
زائش کے سوال پر ایک پل کو روحان کے ہاتھ تھمے لیکن دوسرے ہی پل اس نے خود کو نارمل کر لیا تھا
بس ایک ضروری کام رہتا ہے وہ ہو جائے پھر بہت جلد میں تمہیں اپنے نکاح میں لونگا میں اپنی فیملی کو تمہارے گھر بھیجوں گا
اوہ لو یو روحان وہ لاڈ سے اس کے بازوؤں سے لگ گئی روحان کو عجیب لگا اس کا یوں چپکنا
اچھا مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے سیدھی بیٹھو
یار ورنہ ڈرائیو نہیں ہو پائے گی مجھ سے
دیکھو زائش تم میری عادت اور پسند سے واقف ہو
میں نے کبھی تم پہ روک ٹوک نہیں کیا لیکن اب جب ہم شادی کرنے والے ہیں اچھا ہے کہ تم اس طرح کی ڈریسنگ چھوڑ دو جس میں جسم واضح ہو اور اس طرح اکیلے کہیں بھی آنا جانا مجھے نہیں پسند اپنے شہر میں تو ٹھیک ہے لیکن فیملی کے بغیر لڑکی کا ملک سے باہر گھومنا مجھے نہیں پسند
ہاں تم میرے ساتھ اپنی فیملی میمبر کے ساتھ کہیں بھی جاؤ مجھے کوئی اعتراض نہیں اس نے بہت تحمل کے ساتھ اپنی بات زائش کے سامنے رکھی
اس کی بات پر زائش مسکرا دی
تم مجھے پہلے بتاتے تو میں تمہارے لیے خود کو بدل لیتی لیکن ابھی بھی وقت ہے میں بلکل ویسی ہو جاؤنگی جیسی تم چاہتے ہو ۔۔۔
زائش کے مان جانے پر اسکے دل میں ڈھیروں سکون اتر گیا۔۔۔
……………………………………………………………………..
اسے یہاں بند ہوئے دو گھنٹے ہو گئے تھے جو لوگ اسے اغوا کرکے لائے تھے وہ اسکا ہاتھ باندھ کر ایک کمرے میں بند کر کے چلے گئے تھے جہاں صرف کاٹ کباڑ تھا
روتے روتے اس کی آنکھیں سوجھ گئیں تھیں
اس کے دل نے بارہا زریان کو پکارا تھا اسے کتنی ہی نفرت صحیح لیکن وہی تو اس کا محرم تھا
اسے دروازے کے باہر سے قدموں کی آواز سنائی دی
اب ناجانے اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا وہ گھبرا کے کھڑی ہو گئی
سوائے عزت کے اس کے پاس تھا ہی کیا وہ کسی بھی قیمت پر اپنی عزت پر آنچ نہیں آنے دے سکتی تھی
کسی نے دھاڑ سے دروازہ کھولا تو آنا نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لی۔۔۔
………………………………………………………………………
وہ سب لوگ لاونج میں ہی بیٹھے تھے شام کے ٹائم
سب عزہ کے آنے پر بہت خوش تھے عزہ اور ہالے کی تو باتیں ہی ختم نہیں ہو رہی تھی باقی سب بھی ان کو دیکھ دیکھ مسکرانے لگے تھے
صاحب جی وہ حسن ملک کے پوتے خرم ملک اور ان کی والدہ آئی ہیں
آپ سے ملنے
میں نے ان کو ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا ہے
ملازمہ نے انہیں اطلاع دی
جبکہ خرم ملک کے نام پر عزہ کا رنگ متغیر ہو گیا تھا ہاتھ پیر کپکپانے لگے تھے اسکی آنکھیں ڈر و خوف سے پھیل گئی تھی ۔۔۔
۔کیا جس چیز سے زریان اسے بچا کر لے گیا تھا وہ سب کچھ دوبارہ ہونے والا تھا اس نے بند ہوتی انکھوں سے سب کو دیکھا
کوئی بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا
دادا جان اور بابا ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے ڈر ائنگ روم میں چلے گئے تھے
آپو۔ووووو۔۔۔۔۔۔ہالے کی چیخ پر سب نےاس کی طرف دیکھا تو وہ عزہ کے بے ہوش وجود کو سنبھالنے کی کوشش کررہی تھی فائزہ بیگم بھاگتی ہوئی بیٹی کے پاس پہنچی اور اسے تھام کر صوفے پر لٹایا
بی جان کا تو دل پر ہاتھ پڑا تھا ۔۔۔۔۔
جاری ہے
