Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

ناول; دل سکون

رائٹرز: رناب چاند

قسط;اکتیس

فون کی آواز پر زریان کی آنکھ کھلی تو وہ کہیں نہیں تھی بابا کی کال تھی ان کو آنے کا بول کے وہ واش روم میں گھس گیا تھوڑی دیر بعد فریش ہوتا وائٹ شلوار قمیض پہنے نیچے آیا اور تیاری دیکھنے لگا مہندی شروع ہونے میں کچھ ہی گھنٹے رہتے تھے

مہندی کی رسم صرف لڑکیوں کی ہونی تھی لیکن تیاری تو ساری مردوں نے ہی کرنی تھی اس لیے وہ سب انتظامات دیکھنے لگا

گرین شرارے کے ساتھ یلو کرتی پہنے بلیو کلر کا دوپٹہ سر پر جمائے خوبصورت زیورات پہنے وہ بہت حسین لگ رہی تھی اوپر سے بیوٹیشن نے اپنے ماہر ہاتھوں کے جادو سے اس کے حسین نین نقش کو مزید نکھار دیا تھا
اس کا کمسن حسن وہاں ہر ایک کو مات دے رہا تھا
ماشاء اللّٰہ میری چھوٹی سی بھابھی صاحبہ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں اللّٰہ تمہیں نظر بد سے بچائے ۔۔۔۔۔عزہ نے اسے پیچھے سے گلے لگائے کہا تو ہالے اس کے بھابھی کہنے پر لال ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔عزہ خود بھی فل یلو گرارہ اور شرٹ میں تیار تھی بالو کا جھوڑا بنائے دوپٹے کو ایک کندھے پر ڈالا تھا ہلکے سے میک اپ اور لائٹ جیولری میں وہ بھی بہت حسین لگ رہی تھی
آنا کو بیوٹیشن تیار کر رہی تھی تھوڑی دیر بعد بی جان کے بلاوے پر عزہ اور آنا دوسری لڑکیوں کے ساتھ ہالے کو تھام کر باہر لے گئی
اور اسٹیج پر بٹھا دیا
پھر باری باری گھر کی سبھی عورتوں نے رسم کی اس کے بعد رشتے دار اور گاؤں کی عورتیں رسم کرنے لگی
مرد سارے مردان خانے میں تھے زریان جب سے اٹھا تھا اسے نہیں دیکھا تھا اس لیے کام کے بہانے وہ حویلی کی لان کی طرف آیا جہاں مہندی کا انتظام تھا
اس نے سامنے دیکھا تو وہ گرین کام دار کرتی شلوار میں ہاتھوں میں بھر بھر کے گرین چوڑیاں پہنے نفاست سے کئے گئے میک اپ میں ہالے کے ساتھ بیٹھی اس کے دل کے آر پار ہو رہی تھی ۔۔۔۔اس نے جی بھر کر اسے دیکھا خود پر کسی کی نظریں محسوس کر کے اس نے نظر اٹھا کر دیکھا زریان اسے ہی مسکرا کر دیکھ رہا تھا آنا کا دل بے ساختہ دھڑکا اس نے جلدی سے نظریں جھکا لی ۔۔۔
اس کے چہرے پر حیا کے رنگ دیکھ کر وہ اندر تک سر شار ہوا اور واپس مردان خانے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔

………………………………………………………………….

آج پھر حویلی کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا وہی رونقیں تھی اس کے قدم بڑھنے سے انکاری تھے وہ اس دشمن جان کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا
او بھائی کہاں کھو گئے روحان گاڑی سے بیگ لے کر آیا تو وہ
وہی کھڑا حویلی کو دیکھ رہا تھا
ہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں
اچھا چلو اندر پہلے فریش ہو جاتے ہیں پھر مردان خانے چلیں گے سب وہی ہیں روحان اسے لئے حویلی کے اندر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔دلشیر فریش ہونے واشروم چلا گیا اور روحان کو زریان کی کال آئی تو وہ کال اٹھاتا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔
عزہ بیٹا جاؤ روحان آیا ہوا ہے تم ملازمہ سے کافی بنوا کر اس کے روم میں دے آؤ تا کہ سفر کی تھکاوٹ اتر جائے
فائزہ بیگم نے عزہ سے کہا جو ہالے کے ساتھ بیٹھی تھی
جی ماما میں ابھی جاتی ہوں ۔۔۔۔۔وہ کہہ کر حویلی کے اندر بڑھ گئی۔۔۔
وہ کافی لے کر روحان کے روم میں داخل ہوئی تو ڈریسنگ کے سامنے خود پر پرفیوم چھڑکتے دلشیر کو دیکھ کر وہ گھبرا گئی اور جلدی سےواپس جانے لگی ۔۔۔۔
آہٹ پر دلشیر نے دروازے کی طرف دیکھا تو جیسے نظروں نے نا ہٹنے کی قسم کھا لی پیلے جوڑے میں لگ بھی بہت حسین رہی تھی دل بہت بری طرح دھڑکنے لگا نظریں بے تاب ہو کر اس کے وجود کا طواف کرنے لگی کہ ایک دم دل بے ساختہ رکا
آنکھوں میں تحیر سمیٹ آیا دل نے جیسے سینے میں سر پٹخا اپنا وجود ہوا میں محسوس ہونے لگا کمرے میں آکسیجن کی کمی محسوس ہونے لگی قدم بری طرح ڈگمگائے تو اس نے ڈریسنگ کا سہارا لیا اس کے جسم میں ہوئی اس نئی تبدیلی نے اسے نئے سرے سے ازیت میں مبتلا کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
عزہ جلدی سے کمرے سے نکل کر جانے لگی کے سامنے سے آتے روحان کو دیکھ کر رک گئی۔۔۔۔
بھائی آپ کہاں تھے میں کافی لے کر آئی تھی آپ کے لیے ۔۔۔۔وہ روحان کے پاس آتے گھبرائی سی کہنے لگی….
عزو میں ایک کال کر رہا تھا اور گھبرائی ہوئی کیوں ہو تم اس نے عزہ کے ہاتھ سے کافی لیتے اسے ساتھ لگاتے پوچھا

وہ آپ کے دوست کمرے میں تھے مجھے نہیں پتہ تھا اس لیے میں جلدی سے آگئی۔۔۔۔عزہ نے جلدی سے بتایا
ا چھا اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے دلشیر تھا میرے روم میں اور تم جاؤ انجوائے کرو ہم آتے ہیں تھوڑا راستہ صاف کردینا اپنے بھائی کے لیے ۔۔اس نے شرارت سے کہا تو عزہ نے سر کو خم دیا اور مسکراتی ہوئی چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔

وہ جب کمرے میں داخل ہوا تو دلشیر ڈریسنگ کے سامنے ٹیبل پر بیٹھا ہوا تھا بٹھا ہوا تھا آنکھیں سرخ ہو رہی تھی شاید بہت مشکل سے اپنے آنسوؤں کو روکا ہو
لیکن ان کے بس میں نہیں تھا اگر منگنی بھی ہوتی تو وہ منگنی ختم کر کے عزہ سے دلشیر کی شادی کروا دیتے لیکن عاشر اور عزہ کا نکاح تھا اور عزہ اسکے بچے کی ماں بننے والی تھی اس صورت میں وہ اپنے دوست کے لیے کچھ نہیں کر پا رہے تھے لیکن وہ اسے یوں تڑپتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے۔۔۔۔

تم تیار ہوگئے یار دس منٹ میں بھی تیار ہو کر آتا ہوں پھر چلتے ہیں باہر تب تک تم یہ کافی ختم کرو وہ کپ ٹیبل پر رکھتا الماری سے اپنے کپڑے لیتا واشروم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔وہ دلشیر سے نظریں ملائے بغیر واشروم میں گھس گیا۔۔۔۔۔
دلشیر جیسے ہوش میں آیا اٹھا اور بیگ سے سگریٹ اور لائٹر نکالتا بالکنی میں چلا گیا اور سگریٹ پینے لگا

یہاں سے لان کا ہر منظر بہت صاف نظر آرہا تھا وہ لڑکی اس سے بے خبر وہاں اپنوں کے سنگ بیٹھی انجوائے کررہی تھی اس کے چہرے پر موجود مسکراہٹ بہت بھلی لگ رہی تھی اس کے دل نے اس وقت شدت سے دعا کی تھی۔۔۔۔۔۔۔اے اللّٰہ اگر عاشر کے ساتھ ان کی خوشیاں جڑی ہیں تو آپ ہمیشہ انہیں ساتھ رکھنا میرے لیے میری خوشیوں سے بڑھ کر ان کی مسکراہٹ عزیز ہے اسے ہمیشہ یوں ہی قائم و دائم رکھنا
ایک آنسوں نا چاہتے ہوئے بھی پلکوں کی باڑ توڑ کر گالوں پر بہہ نکلا جسے اس نے فورا اپنی ہتھیلی سے رگڑ کر صاف کر لیا۔۔۔۔۔

کون کہتا ہے مرد نہیں روتا جب آپ کا دل محبت سے عشق تک سفر طے کر لیتا ہے تو پھر یہ مظبوطی کا دکھاوا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔
عورت تو ہمیشہ سے محبت سے گندھی ہوتی ہے لیکن عورت میں نرمی بھی ہوتی ہے اسے جس طرف موڑا جاتا ہے وہ مڑ جاتی ہے ۔۔۔۔کبھی فیملی کے لیے کبھی عزت کے لیے کبھی معاشرے کے لیے وہ خود کو بدل لیتی ہیں
لیکن مرد کو اگر سچی محبت کسی سے ہو جائے تو پھر وہ اس عورت ہو چاہ کر بھی بھلا نہیں پاتا نا اس کی جگہ کسی اور کو دے سکتا ہے۔۔۔۔۔(لیکن شرط یہ ہے کہ محبت سچی ہو )

…………………………………………………………………

مردان خانے میں وہ سب سے ملا دادا جان بابا زریان
بابا جان اور دادا جان تو اسے پہلے ہی بہت اچھے سے جانتے تھے ان سے ملنے کے بعد روحان اسے بی جان سے ملوانے لایا

ملوانا تو ایک بہانہ تھا
اسے تو بس اپنی خرگوش کو سراہنا تھا۔۔۔

وہ جانا تو نہیں چاہتا تھا لیکن روحان جانتا تھا کہ بنا کسی سالڈ ریزن کے اسے اندر جانے کی پرمیشن نہیں ملے گی اس لیے اسے کھینچتا ہوا اپنے ساتھ لے آیا اس نے زریان کو مدد طلب نظروں سے دیکھا
لیکن اس نے چہرہ موڑ کر اسے ہری جھنڈی دکھا دی دلشیر نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔لیکن وہاں پرواہ کسے تھی

وہ اندر جانے ہی لگے تھے کہ آنا اور عزہ نے ان کا راستہ روک لیا ۔۔۔۔۔
دلشیر نے ایک نظر اسے دیکھا جلدی سے نظروں کا زاویہ بدلہ
ہان لیکن اس بار دوپٹہ اس کے سر پر بہت خوبصورتی سے ٹکا تھا۔۔۔۔

کہاں چلے دیور جی اندر دلہے کی اینٹری پر پابندی ہے ۔۔۔۔
آنا نے مسکراتے ہوئے جیسے اسے چڑایا
ارے بھابھی صاحبہ ہم تو صرف آپ کے دوسرے دیور کو بی جان سے ملوانے لے کر جا رہے ہیں ورنہ ہمیں کوئی شوق نہیں آپ کی دیورانی کا ہزار بار کا دیکھا ہوا منہ دوبارہ دیکھنے کا۔۔۔۔۔۔۔اس نے بھی ہنستے ہوئے فورا بدلہ لیا

بھیاااا آپ ہالے کے بارے میں ایک لفظ نہیں بول سکتے ۔۔۔۔
عزہ نے چھوٹی سی ناک چڑاتے غصے میں اپنے بھائی کو گھور کر دیکھا۔۔۔
دلشیر جو نظریں جھکائے سنجیدگی سے ان کی باتیں سن رہا تھا اس کی غصہ بھری آواز پر مسکراہٹ ہونٹوں پر بکھر گئی ۔۔۔۔۔
آنا نے پہلے دلشیر کو پھر گھور کر روحان کو دیکھا بھولیں مت آپ کی بھابھی کے ساتھ ساتھ ہم آپ کی سالی بھی ہیں تو اس لئے سوچ سمجھ کر بولئے گا ورنہ ہم اپنی لڑکی آپ کے ساتھ رخصت نہیں کریں گے۔۔۔۔۔
آنا نے اسے دھمکایا
اور اس کا خاطر خواہ اثر بھی ہوا
اچھا نا میری سالی پلس بھابھی صاحبہ اتنی ظالم تو نا بنے کچھ لین دین کر کے بات رفع دفع کرتے ہیں نا ۔۔۔۔۔۔۔
روحان نے مسکین سی شکل بنا کر بیچ کا راستہ نکالا
بھیا صرف بھابھی نہیں میں بھی ہوں ہم دونوں کے ساتھ ڈیل کرنی پڑے گی آپ کو
عزہ نے جلدی سے یاد دلایا کہ کہیں وہ اکیلے آنا کے ساتھ ڈیل نا کر لے۔۔۔۔۔
اچھا اچھا کتنا چاہئے بتاؤ تم دونوں
زیادہ نہیں بس تین لاکھ کیونکہ سب کے حصے میں ایک ایک لاکھ تو آنے چاہئیں ۔۔۔۔انا نے جلدی سے کہا
ایک ایک لاکھ مطلب ٹو ٹل دو لاکھ لیکن یہ ایک لاکھ ایکسٹرا کس خوشی میں روحان نے جیب سے کیش نکالتے ہوئے کہا۔۔۔۔جو اس کے پاس صرف ایک لاکھ ہی تھے۔۔۔
یار مدد کر تھوڑی اس نے دلشیر کے سامنے ہاتھ آگے کئے کہا
دلشیر نے اپنا پرس نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ ۔۔

ایک لاکھ میرے ایک بھابھی کے ایک ہالے کے ۔۔۔۔عزہ نے روحان کی انفارمیشن میں اضافہ کیا ۔۔۔۔روحان نے گھور کر دونوں کو دیکھا
یہ سالی اور بہن کا تو سمجھ آتا ہے لیکن دلہن کو کس چیز کا نیگ چاہیے۔۔۔۔بھئی نہیں جانا ہمیں اندر واپس چلتے ہیں دلشیر وہ دلشیر کا ہاتھ پکڑے مڑنے لگا
کہ فوراً عزہ نے آگے بڑھ کر اس کا وہی ہاتھ پکڑ لیا جس سے اس نے دلشیر کا ہاتھ پکڑا تھا بھیا پلیز رکے نا اچھا بس ہمیں دے دیں اپنی بیوی کو آپ سنبھال لیجیۓ گا۔۔۔۔۔

دلشیر تو اس کے ہلکے سے لمس پر ہی رک گیا تھا دھڑکنوں نے اچانک سے ادھم مچا دیا تھا
روحان نے ان سے کیا ڈیل کی کیا نہیں اسے پتہ نہیں چلا بس وہ ان کے ساتھ اندر چلتا گیا۔۔۔۔۔

بی جان ان کو راستے میں ہی مل گئی
ارے میرا بچہ آیا ہے ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو بی جان نے دلشیر کو اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
دلشیر ان کی اتنی محبت پر ہلکے سے مسکرا دیا ۔۔۔۔۔۔۔
روحان ان کو وہاں چھوڑتا آگے اپنی دلہن کی طرف بڑھ گیا جو خوبصورتی سے اس کے نام پر سجی بیٹھی تھی آج آج سنور کر اس پر الگ ہی روپ آیا تھا روحان سے صبر کرنا مشکل ہو گیا اس کا بس نہیں چلا کہ وہ اسے سب کے سامنے سے اٹھا کر اپنے کمرے میں لے جائے بس۔۔۔۔
وہ آگے بڑھا اور موقع کا فایدہ اٹھا کر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا کیونکہ اس وقت گھر میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں تھا بس کچھ رشتے دار لڑکیاں تھی۔۔۔۔

روحان کے اپنے اتنے پاس آکر اچانک بیٹھنے پر وہ گھبرا گئی
اور خود میں سمٹ گئی۔۔۔۔۔۔وہ بلکل اس کے ساتھ لگ کر بیٹھا تھا
سننے میں آیا ہے کوئی ہم سے نیگ لینے کے لیے بیت بے تاب ہو رہا ہے اس نے تھوڑا سا ہالے کی طرف جھک کر اس کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔اس کے اتنے پاس آنے پر ہالے کا دل سینے میں اچھلنے لگا اس نے گھبرا کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
روحان نے بہت گہری نظروں سے اپنی خرگوش کو دیکھا جو اس کے زرا سے پاس آنے پر ہی لال پہلی ہو جاتی تھی
لیکن یہ نیگ تو آپ کو تب ملے گا جب آپ پور پور میرے نام پر سجی میرے کمرے میں میرے بستر پر بیٹھی میری تمام تر تشنگی کو دور کر کے میرے دل کو سکون پہنچائے گی۔۔۔

روحان کے اس طرح کے بے باک جملے پر اس کے اوسان خطا ہو گئے اس کی گرم سانسوں سے اسے اپنا کندھا جلھستا محسوس ہوا اسے لگا اگر وہ وہاں سے نہیں ہٹا تو وہ وہی اپنی جان کی بازی ہار جائے گی۔۔۔۔
اس کے بعد جو اس نے کیا اس کی کسی کو بھی اس سے امید نہیں تھی ۔۔۔۔۔
ماما یہ مجھے تنگ کر رہے ہیں ۔۔۔۔ ہالےنے اچانک اسٹیج ہر کھڑے ہو کر فائزہ بیگم کو آواز لگائی تو سب مہمانوں سمیت حویلی والے بھی اس کی طرف دیکھنے لگے
روحان تو اپنی جگہ سے ہی اچھل پڑا اسے ہالے سے ایسی کسی حرکت کی امید نہیں تھی
بی جان اور فائزہ بیگم روحان کو گھور کر دیکھنے لگی آنا اور عزہ جلدی سے بھاگ کر ہالے کے پاس آئی ۔۔۔۔۔۔۔کہ کہیں وہ مزید کوئی گوہر افشانی نا کردے
سب کے ساتھ دلشیر بھی حیران نظروں سے کبھی ہالے تو کبھی روحان کو دیکھنے لگا
جو اپنی جگہ شرمندہ شرمندہ کان کھجا رہا تھا
بی جان نے اچھے سے جھڑک کر روحان کو باہر نکالا تو دلشیر بھی اس کے ساتھ باہر زریان کے پاس آگیا۔۔۔۔
دلشیر ابھی بھی حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگا
ویسے کیا تنگ کیا تھا تم نے بھابھی کو دلشیر نے اس سے پوچھا تو زریان نے نا سمجھی سے دونوں کی طرف دیکھا ۔۔

تو دلشیر نے اسے اندر ہالے کی حرکت اور روحان کی حالت کے بارے میں بتا دیا آج کافی مہینوں بعد اس کی آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔۔۔

بے ساختہ زریان کا قہقہہ گونجا اس کے قہقہے میں دلشیر کا قہقہ بھی شامل تھا اور اس کو ہنستے دیکھ لاکھ غصے کے بعد بھی روحان کو ہنسی آئی
ان تینوں کو پاگلوں کی طرح ہنستے دیکھ دادا جان نے مڑ
کر ان کو دیکھا اور ہمیشہ ایسے ہنستے رہنے کی دعا دی۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔