Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
ناول: د ل سکون
رائٹر: زرناب چاند
قسط:ستائیس
وہ روحان کو سہارا دے کر کمرے میں لے گئی وہ نیم بے ہوشی میں تھا اس نے روحان کو بیڈ پر لٹایا اور اس کی شرٹ کے بٹن کھول کر اتار دی اب وہ صرف بلیک بنیان اور پینٹ میں تھا
اس نے نفرت سے روحان کی طرف دیکھا
تمہیں کیا لگا تھا تم مجھے دھوکا دے کر اپنی کزن سے نکاح کر لو گے اور میں خاموش رہوں گی کبھی نہیں
تمہیں حساب دینا ہوگا تم پر بہت وقت ضائع کیا ہے میں نے تم یوں مکر نہیں سکتے
تمہیں کیا لگا میں انتظار کرتی کہ کب تم آؤگے اور مجھے چھوڑ دو گے کبھی نہیں تمہاری نیت تو میں اس وقت سمجھ گئی تھی جب تم مجھے اگنور کرنے لگے تھے
اس لیے موم کے ساتھ مل کر یہ ساری پلاننگ کی میں نے
اب دیکھو میں تمہارے ساتھ تمہاری بیوی کی حیثیت سے تمہارے کمرے میں ہوں
وہ شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی لیکن روحان ہوش میں ہوتا تو سنتا۔۔
وہ آگے بڑھی اور اس کی بیلٹ اور بنیان بھی اتار دی
اپنی شرٹ پھاڑ کے اتار دی اور بیڈ سے نیچے پھینک دی اپنی گردن ناخن سے نشان ڈالے اور لپسٹک بری طرح پھیلا دی روحان کے سینے پر ناخن گاڑھے اور جھک کر اس کے گال اور ہونٹوں پر لپ اسٹک پھیلا دی اپنے بال بکھیرے اور اپنے کام سے مطمئن ہو کر وہ بیڈ پر لیٹ گئی اور روحان کو کھینچ کر خود پر گرایا اتنے میں ہی اس کا سانس پھولنے لگا تھا اس نے غصے میں اس کے بازو پر دانت گاڑھے
اب اسے صبح کا انتظار تھا ایک شیطانی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر رقصاں تھی اچھی طرح سے اپنی آنکھوں کو رگر کر کالا کر ڈالا تا کہ دیکھنے والے کو لگے کہ پوری رات روتی رہی ہے اور آنکھیں موندے لی
……………………………………………………………………………….
کیسی ہو میری جان ہمیں تمہاری بہت یاد آتی ہے بیٹا
فائزہ بیگم عزہ سے باتیں کرتے ہوئے اداس ہو رہی تھی
لیکن وہ مسکرا کر اپنی ماں کو مطمئن کر رہی تھی فائزہ بیگم نے آنا کے بارے میں اسے سب بتا دیا تھا وہ بھی بہت خوش ہوئی
ماما میں بلکل تھیک ہوں پریشان مت ہوں اور عاشر بھی میرا بہت خیال رکھتے ہیں
اللّٰہ خوش رکھے میری بچی کو ہمیشہ ۔۔۔
کل تمہاری پھوپھو بھی آجائیں گی تو اچھے سے رہنا مجھے میری بیٹی پر پورا بھروسہ ہے وہ کسی کو شکایت کا موقع نہیں دے گی فائزہ بیگم نے پیار سے کہا
لیکن ماما ہم تو بابا نے جو فلیٹ ہمیں لے کر دیا ہے اس میں رہتے ہیں عاشر یہی رہنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا آفس یہاں سے پاس ہے ۔۔۔
اچھا اچھا چلو کوئی بات نہیں پھر بھی تم سب کا خیال رکھنا ۔۔۔
جی ماما عاشر آگئے ہیں میں آپ سے بعد میں بات کرتی ہوں
اس نے فون بند کر دیا عاشر مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا کچھ دنوں سے اس کا رویہ بہت اچھا ہو گیا تھا عزہ کے ساتھ اور عزہ اتنے میں ہی خوش تھی وہ پچھلی باتوں کو پکڑ کر بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھی
وہ مسکرا کر آگے بڑھی تو عاشر نے اسے سینے سے لگایا وہ شرما گئی۔۔۔
آج ہم باہر چلتے ہیں کھانے ریڈی ہو جاؤ وہ عزہ کو بولتا فریش ہونے چلا گیا
وہ جب سے آئی تھی ایک بار بھی باہر نہیں نکلی تھی اس لیے خوشی خوشی تیار ہونے چلی گئی
پورا دن انہوں نے بہت اچھے سے گزارا شادی کے بعد یہ عزہ کے لیے پہلا خوشگوار دن تھا کچھ دنوں سے اسے کمزوری محسوس ہو رہی تھی لیکن کھلی ہوا میں گھومنے کی وجہ سے اس کی طبیعت پر اچھا اثر پڑا تھا ہاتھ میں ہاتھ ڈالے وہ قریبی پارک میں واک کر رہے تھے
عزہ ۔۔۔۔۔عاشر نے اسے پکارا
جی ۔۔۔۔وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوئی
مجھے معاف کر دو میرا رویہ جو بھی رہا تمہارے ساتھ اس کے لیے ۔۔۔۔اس نے عزہ کے سامنے کھڑے ہو کر اس کے ہاتھ تھامے
عزہ کو وہ سب یاد آتا گیا جو عاشر نے اس کے ساتھ کیا اس کے کردار پر کیچڑ اچھالنے سے لے کر اسکی نسوانیت کو روندنے تک کیا کچھ نہیں کیا تھا اس نے اس کی آنکھوں میں بے ساختہ آنسو بھر گئے۔۔۔۔عاشر کی آنکھوں میں حقارت صاف تھی لیکن وہ اسے نظر اٹھا کر دیکھتی تو پتہ چلتا
اس کی ماں کہتی تھی کہ مردوں سے ضد نہیں لگانی چاہیے
اگر نرمی سے پیش آؤ گی تو ہمیشہ اپنے گھر کو جنت بنا کر رکھو گی ۔۔۔
میں آپ سے ناراض نہیں ہوں ۔۔۔ایک بار پھر اس نے سب بھلا کر اسے معاف کر دیا
عاشر نے مسکرا کر اسے گلے لگا لیا
میں نیا کام شروع کر رہا ہوں تمہاری ہیلپ چاہیے کروگی؟؟
اس نے عزہ کا ہاتھ پکڑے چلتے ہوئے پوچھا
جی جی آپ بولیں مجھ سے جو ہو سکا میں ضرور کروں گی۔۔۔۔
مجھے اپنے بزنس کے لیے کچھ اماؤنٹ کی ضرورت ہے میرے پاس جو بھی تھا میں نے لگا دیا ہے لیکن اب اینڈ میں جا کر کچھ مشینری منگوانی ہے اگر وہ نہیں منگوا سکا تو میرا سارا پیسا ڈوب جائے گا۔۔۔
لیکن عاشر اس کے لیے میں کیا کرسکتی ہوں ۔۔
تم زریان سے مانگ لو تمہارا حق بنتا ہے اپنے بھائیوں پر ابھی نہیں کرینگے تو کب کریں گے۔۔۔۔۔عاشر نے بے شرمی کی حد کردی۔۔
لیکن میں کیسے ۔۔۔۔اس نے کچھ کہنے کی کوشش کی
کیا کیسے لیکن ویکن کچھ نہیں تم بیوی ہو میری اور میرا جو بھی ہوگا تمہارا ہوگا ڈونٹ وری ادھار مانگنا تم میرا کام چلتے ہی دے دوں گا۔۔۔۔
اس لیے اب گھر جا کر تم سب سے پہلے زریان کو کال کروگی
کیونکہ مجھے کل تک پیسے چاہیے ۔۔۔۔۔عاشر نے بات ہی ختم کی اور گھر کی طرف چل دیا۔۔۔۔
عزہ پریشانی سے اس کے ساتھ چلتی گئی۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنے بھائی سے کیا کہے گی
………………………………………………………………………………..
دلشیر جب ائیرپورٹ پر نکلا اسے وہ دن یاد آیا جب آج سے دو مہینے پہلے وہ روحان کے ساتھ اسی ائیرپورٹ سے بہت خوشی خوشی پاکستان گیا تھا اس وقت خوشی سے اس کی آنکھیں چمک رہی تھی اس نے ارادہ کیا تھا کہ جب واپس آئے گا عزہ کو اپنے نام پگوا کر آئے گا کتنا خوش تھا وہ ۔۔۔۔
لیکن آج جب وہ آیا تو ان آنکھوں میں جلتے دیے بجھ چکے تھے بکھرے بال بکھرا حلیہ وہ کہیں سے بھی ایک بزنس مین نہیں لگ رہا تھا
لیکن اس حالت میں بھی وہ ہزاروں لڑکیوں کے دل دھڑکنے کا باعث بن رہا تھا
بہت لوگ اس اداس شہزادے کو مڑ مڑ کر دیکھ رہے تھے لیکن وہ اپنا بیگ گھسیٹتا ہوا ٹیکسی تک آیا اور بیٹھ کر فلیٹ کے لیے نکل گیا
اس نے کسی کو بھی اپنے آنے کا نہیں بتایا
ہمیشہ ہنسنے ہنسانے والا شخص کچھ ہی دنوں میں دنیا سے بیزار ہو گیا تھا۔۔۔۔
فلیٹ کے باہر گاڑی رکی تو وہ کرایہ ادا کرتا اوپر چڑھ گیا
چابی اس کے پاس پہلے سے موجود تھی روحان کی نیند خراب نا ہو اس لیے اس نے اپنی چابی سے لاک کھولا اور اندر بڑھ گیا اندر کی حالت اسے غیر معمولی لگی کھانا ٹیبل پہ پڑا تھا ایسا لگ رہا تھا دو لوگوں نے کھایا ہو اور صفائی نہیں کی
لاؤنج کی لائٹ بھی جل رہی تھی جبکہ روحان کو اندھیرا کرکے سونے کی عادت تھی
روحان کے روم کا دروازہ اندر سے لاک تھا شاید
اس کے سر میں بھی شدید درد تھا
اس نے لاؤنج میں صوفے پر ہی بیٹھ کر آنکھیں موندے لی
اور اپنی محبت کی ناکامی یاد کرنے لگا اس نے ملائکہ سے منگنی ختم کرلی تھی اور اپنے بیٹے کو موت کے منہ سے واپس آتا دیکھ اس کے باپ نے بھی اپنی ضد چھوڑ دی تھی
ملائکہ نے بھی اس سے کوئی شکایت نہیں کی شاید وہ دیکھ چکی تھی کہ دلشیر پہلے والا دلشیر نہیں رہا بلکہ وہ ایک زندہ لاش کی طرح بن گیا تھا
ابھی صبح کے سات بج رہے تھے اسے اچانک روحان کے کمرے سے اس کے چیخنے کی آواز آنے لگی۔۔۔۔
روحان کی جب آنکھ کھلی درد سے اس کا سر پھٹ رہا تھا اس نے مندی مندی آنکھیں کھول کے آس پاس دیکھنے کی کوشش کی تو وہ خود کسی لڑکی کے وجود پر پوری طرح جھکا ہوا تھا
وہ کرنٹ کھا کر جھٹکے سے بستر سے اٹھا آس پاس کمرے میں نظر دوڑائی تو اسکے کپڑے نیچے فرش پر گرے تھے دوسری طرف زائش کے کپڑے پڑے تھے اس نے ایک نظر خود کو دیکھا تو اسے چار سو والٹ کا جھٹکا لگا اس کے بستر پر زائش جس حالت میں پڑی تھی کوئی اندھا بھی دیکھ کر کہہ سکتا تھا یہاں کیا ہوا ہوگا
اس نے جلدی سے اپنی شرٹ اٹھا کر پہنی اور جھٹکے سے زائش کو اٹھایا اور چہرہ موڑ کر کھڑا ہو گیا
جلدی سے کپڑے پہنو اور نکلو میرے کمرے سے
وہ بولا نہیں دھاڑا تھا اور اس کی دھاڑ باہر بیٹھے دلشیر نے بہت اچھے سے سنی تھی
کیوں نکلوں میں رات تم نے میرے ساتھ کیا کیا دیکھو اپنی درندگی اپنی آنکھوں سے وہ بنا ڈرے اس کے سامنے آکر اس اپنے گلے اور چہرے پر نشان دکھانے لگی
زائش میرا ہاتھ اٹھ جائے گا مجھے مجبور مت کرو پہلے کپڑے پہنو اب کے اس نے سختی سے آنکھیں میچے بہت ظبط سے کہا تھا
اب کے زائش نے شرافت سے جا کر اپنی قمیض اٹھا کر پہن لی روحان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کمرے سے باہر نکالا روحان کو دیکھ اس کے بڑھتے قدموں کو بریک لگی
روحان کی حالت بھی اس سے مختلف نہیں تھی روحان کے کمرے سے اس کے ساتھ زائش جس حالت میں نکلی تھی روحان کے لیے بہت بڑا شاکڈ تھا ۔۔۔
وہ روحان کی عادت سے بہت اچھے سے واقف تھا وہ حرام رشتہ بنانے والوں میں سے نا تھا لیکن جیسی حالت زائش کی تھی اور روحان کے چہرے پر لپ اسٹک کے نشان اسے بہت کچھ سمجھا گئے تھے۔۔۔۔
دلشیر نے اپنا رخ ان کی طرف سے موڑ لیا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے لیکن اس سچویشن میں اسے وہاں کھڑے رہنا اچھا نہیں لگا۔۔
دلشیر کو اچانک اس طرح دیکھ کر روحان کو بہت شرمندگی ہوئی ۔۔۔۔
لیکن یہ شرمندگی اس دکھ کے آگے کچھ نہیں تھا جواس وقت وہ محسوس کر رہا تھا
اس نے زائش کو کھینچتے ہوئے لاونج میں چھوڑا
وہ گرتے گرتے بچی اس وقت اس کا چہرہ اہانت سے لال ہو رہا تھا وہ بپھر کے اس کی طرف بڑھی اور روحان کا گریبان پکڑ لیا ۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی پوری رات میرے اس جسم کو نوچتے رہے اور اجالا ہوتے ہی کسی اچھوت کی کی طرح پھینک دیا۔۔۔وہ تیز آواز میں پھنکار ی تھی تاکہ اس کی آواز اندر دلشیر بھی اچھے سے سن لے۔۔۔۔
روحان نے اس کا وہی ہاتھ پکڑ کر موڑ دیا زائش کی چیخ نکلی۔۔۔۔
آئندہ میرے سامنے اپنے ہاتھ اور زبان کو کنٹرول میں رکھنا روحان کی سرسراتی ہوئی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔۔۔۔
اس نے زائش کے بال مٹھی میں دبوچ لئے ۔۔۔
میرے کھانے میں کیا ملایا تھا تم نے روحان نے نفرت سے اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے
زائش کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ۔۔ک کچھ کچھ نہیں اس کی زبان لڑکھڑا گئی۔۔۔۔۔
اسے پتہ نہیں تھا وہ اتنی جلدی پکڑی جائے گی
مجھے پتہ نہیں تھا ایک عورت ہو کر تمہارے اندر اتنی آگ لگی ہے اور اتنی بڑی پلاننگ کروگی
میں اب سمجھا تم نے اپنی ماں کے ساتھ مل کر مجھے ٹریپ کیا مجھے کل رات ہی سمجھ جانا چاہیے تھا جب میں نے تمہارے ہاتھ میں وہی رنگ دیکھی جو اس رات تمہاری ماں کے ہاتھ میں تھی مجھے تو گارڈ نے بھی بتایا تھا کہ ایک عورت یہاں میرے فلیٹ میں آئی تھی لیکن میں نے اگنور کیا۔۔۔وہ اس قدر جارحانہ انداز میں بولا تھا کہ زائش کو لگا
وہ آج اسے جان سے مار دے گا
اسے امید نہیں تھی کہ وہ اتنی جلدی پکڑی جائے گی اسے لگا تھا وہ صبح اٹھ کر اپنی حرکت پر شرمندہ ہوگا اور اس سے معافی مانگے گا اور اسی شرمندگی میں وہ ہمیشہ اس کی بات مانے گا۔۔۔۔
دیکھو روحان تم جیسا سمجھ رہے ویسا نہیں ہے تم غلط سمجھ رہے ہو اس نے روحان کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی لیکن اس نے زائد کا ہاتھ جھٹکا
اپنی ماں کو فون ملاؤ ابھی وہ چیختے ہوئے بولا
روحان موم یہاں یہاں نہیں ہیں ۔۔۔۔۔اس نے بات سنھبالنے کی کوشش کی
لیکن روحان روم میں چلا گیا اچھی وہ سنبھلتی کہ وہ اچانک پستول لے کر روم سے نکلا اور اسکی کنپٹی پر رکھ دی۔۔۔۔ زائش کی آنکھیں ابل کر باہر آنے والی تھی اس کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی
میں نے کہاں اپنی ماں کو بلاؤ یہاں ورنہ تمہاری جان کی زمہ داری میری نہیں ۔۔۔اس وقت وہ ایک زخمی شیر بنا ہوا تھا ۔۔۔۔کر کرتی ہوں کرتی ہوں وہ جلدی سے فون لے کر آئی اور اپنی ماں کو کال ملائی
دلشیر جو کب سے اندر بیٹھا سب سن رہا تھا مزید برداشت نہیں ہوا تو کمرے سے نکل آیا اس کو ڈر تھا کہیں وہ کچھ الٹا سیدھا کر کے اپنے لیے مشکل نا پیدا کر لے۔۔۔
دوسری طرف سے کال اٹھاتے ہی زائش بولی موم آپ کہاں ہیں ؟؟؟اس کی آواز بھی ٹھیک سے نہیں نکل رہی تھی۔۔۔
زائش میں ابھی تمہارے انکل کے گھر ہوں تم کیسی ہو کام ہوا یا نہیں رات کو روحان کو کوئی شک تو نہیں ہوا نا۔۔۔
اس سے پہلے کہ دلشیر روحان سے جاکر گن چھینتا حقیقت سن کے وہی رک گیا روحان کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی زائش کا چہرہ لٹھے کے مانند سفید پڑ گیا ۔۔۔۔
روحان نے ٹریگر پر انگلی رکھی اور زائش کو اشارہ کیا
موم پلیز جلدی سے یہاں آجائیں مجھے آپ کی بہت ضرورت ہے پلیز جلدی اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی روحان نے فون چھین کر کال کاٹ دی۔۔۔
دلشیر حیرانگی سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جس کو اپنی عزت کا بھی خیال نہیں تھا اسے ملائکہ زائش کی نظر میں سو گنا بہتر لگی جس نے اس کی خوشی کی خاطر اپنا راستہ بدل لیا لیکن اس کے سر پر سوار نہیں ہوئی
دلشیر اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑا رہا اور روحان ادھر سے ادھر چکر لگانے لگا زائش صوفے پر بیٹھی تھر تھر کانپ رہی تھی
پندرہ منٹ ہی گزرے تھے کہ دروازہ بجنے لگا روحان نے جا کر دروازہ کھولا زائش کی مام روحان اور زائش کی حالت دیکھ کر شاکڈ ہو گئی انہوں نے ایسا تو نہیں سوچا تھا روحان کے ہاتھ میں گن دیکھ کر ڈر کے مارے ان کی سانس رک گئی
وہ آہستہ سے چل کر زائش کے پاس گئی اور اسے سینے سے لگا لیا وہ خود بھی بہت ڈر گئی تھی
روحان نے چئیر اٹھائی اور ان کے سامنے رکھ کے اس میں بیٹھ گیا۔۔۔۔
دلشیر خاموش تماشائی بنا کھڑا رہا
اب آپ سچ بولیں گی یا میں اپنے طریقے سے نکلواؤ کیونکہ میں بہت بدتمیز انسان ہوں آپ کی عمر کا بھی لحاظ نہیں کروں گا جس طرح کی گھٹیا حرکت آپ نے اپنی بیٹی سے کروائی ہے۔۔۔۔روحان نے سنجیدگی سے پوچھا
دیکھو روحان بیٹا تم کس بارے میں بات کر رہے ہو اور تم نے زائش کے ساتھ کیا کیا ہے میری بیٹی کی یہ کیا حالت بنا دی ۔۔۔۔وہ تو ایسے بیہیو کر رہی تھی جیسے کچھ جانتی ہی نا ہو۔۔۔۔۔۔
دلشیر صرف ان پر افسوس ہی کر سکتا تھا کیونکہ روحان کے غصے سے وہ اچھی طرح واقف تھا
مجھے سچ سننا ہے ورنہ آپ کی یہ بیٹی یہاں سے زندہ تو نہیں نکل سکتی۔۔۔روحان نے زہر خند لہجے میں کہہ کر گن زائش کی طرف کردی
وہ دونوں تو چیخ پڑی ۔۔۔
بتاتی ہوں تم گن نیچے کرو ہاں کل رات زائش نے تمہارے کھا
شروع سے آخر تک روحان نے بات کاٹی
پھر وہ شروع سے لے کر آخر تک اسے سب بتاتی گئی کیسے پیسوں کے لیے اسے شادی پر مجبور کیا اور یہ سب کیسے کیا۔۔۔
اتنا سننا تھا روحان نے کچھ بھی نہیں دیکھا ایک زور دار تھپڑ زائش کے گال پر جھڑ دیا وہ کیسے اسے پھنسا سکتی تھی صرف پیسوں کے لیے وہ ایک بار کہتی تو وہ اس سے جتنے مانگتی دے دیتا وہ اس کی دوست تھی وہ اسے پسند کرنے لگا تھا
میں روحان عالم تمہیں طلاق دیتا ہوں
میں روحان عالم تمہیں طلاق دیتا ہوں
میں روحان عالم تمہیں طلاق دیتا ہوں
وہ اس کے منہ پر تین لفظ مار کر فلیٹ سے ہی نکل گیا
دلشیر کو اس سے اس بے وقوفی کی امید نہیں تھی کہ وہ ہالے کے ہوتے ہوئے زائش سے نکاح کرے گا خیر جو بھی ہوا ہالے تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا یہ اچھا ہوا ورنہ اپنی محبت کو کسی اور کے پہلو میں دیکھنے کی تکلیف اس سے بہتر کون جانتا تھا وہ تو مرد تھا سارے زخم دل میں لئے بھی زندہ تھا لیکن شاید وہ چھوٹی لڑکی زندہ نہیں رہ پاتی۔۔۔۔
زائش کو لگا پورا آسمان اس کے سر پر گرا ہو اتنی بے عزتی اتنی محنت کے بعد ہاتھ آیا بھی تو کیا صرف زلالت۔۔۔۔۔۔
وہ اسے کچھ خوش رہنے نہیں دے گی وہ خالی ہاتھ رہ گئی تھی تو وہ بھی خالی ہاتھ ہی رہے گا انتقام کی ایک نئی سوچ لے کر وہ اٹھی ایک غصے بھری نظر دلشیر ہر ڈالی اور اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
