Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 39 ( Part 2)
No Download Link
Rate this Novel
Episode 39 ( Part 2)
ناول:دل سکون.
رائٹر: زرناب چاند
قسط:اانتالیس
وہ جو آج روحان کی وجہ سے پورے ایک سال بعد اپنے کمرے میں آگئی تھی سونے کے لئے ۔۔۔۔۔۔
نیند میں کھٹ پھٹ کی آواز پر آہستہ سے آنکھیں کھولیں خود پر جھکے انسان کو دیکھ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ۔۔۔۔
اسی سے بچنے کے لیے تو وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی کیونکہ وہ ابھی اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن وہ یہاں بھی آگیا تھا۔۔۔اور اس کے بیڈ پر اسی ہر جھکا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ جھٹکے سے اسے دھکا دیتی خود بیڈ سے اتر کر دور کھڑی ہو گئ نا جانے آج اس میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی تھی ۔۔۔۔۔نیم اندھیرے میں بھی روحان نے اس کانپنا بخوبی دیکھا تھا۔۔۔۔
ک کیا کیا کر رہے ہیں آپ آپ یہاں ۔۔۔۔۔اٹکتے ہوئے اسنے پوچھا ۔۔۔
روحان بنا کوئی جواب دیئے اسی کے بیڈ پر پھیل کر لیٹ گیا ۔۔۔۔
اور دلچسپی اس کو دیکھنے لگا جو پہلے سے تھوڑی بڑی بڑی لگ رہی تھی۔۔۔اور پہلے سے بھی زیادہ حسین ہو گئی تھی۔۔۔۔
جائیں یہہ یہاں سے ورنہ میں بابا کو بلا لوں گی ۔۔۔۔ اس کی نظروں سے تنگ ہو کر ہالے نے اسے دھمکی۔۔۔۔
روحان اس کی بات پر بیڈ سے اٹھا۔۔۔۔۔اس نے شکر ادا کیا کہ اس کی دھمکی کام کر گئی ۔۔۔۔لیکن ابھی وہ ٹھیک سے خوش بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک دم سے اپنے ہونٹوں پر اس کا حملہ ہوتا دیکھ اسکی آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہو گئی۔۔۔۔
ہالے نے اس کے سینے پر مکے مارے روحان نے اس کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پر اپنی انگلیاں پھنسا کر اسے بنا چھوڑے لے جاکر اس کے ساتھ بیڈ پر گر گیا۔۔۔۔
اس کے لمس میں اتنی شدت تھی کہ اسے اپنے منہ میں خون کا ذائقہ محسوس ہوا ۔۔۔۔
آنسو گالوں پر بہنے لگے۔۔۔۔اس کو روتے دیکھ روحان نے اس کے لبوں کو جان چھوڑی۔۔۔
روحان نے جھک کر وہ آنسو اپنے لبوں سے چنے۔۔
جائیں یہاں سے جیسے پہلے چھوڑ گئے تھے۔۔۔۔جائیں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہیں مجھے آپ کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔میں نفرت ۔۔۔۔۔۔ہالے کی بات کی بات پوری نہیں ہو پائی تھی۔۔۔۔وہ دوبارہ اس کے ہونٹوں پر بڑے جارخانہ انداز میں جھکا اور اس کے لفظوں کو اپنے لبوں سے پی گیا۔۔۔
ہالے کو لگا آج وہ اپنے ہونٹوں سے اس کے جان لے کر رہے گا۔۔۔۔۔۔ وہ سینے میں سانس اٹکنے کی وجہ سے بری طرح مچلی تب روحان نے اسے آزادی بخشی ۔۔۔۔۔۔لیکن اس کے اوپر اسے اٹھا نہیں ۔۔۔۔۔ہالے اسی کے رحم و کرم پر گہرے گہرے سانس لینے لگی۔۔۔۔۔۔
آئیندہ مجھ سے نفرت کا اظہار کرنے سے پہلے ہزار بار نہیں لاکھوں بار سوچنا کیونکہ تمہارے دل و دماغ اور جسم پر صرف اور صرف روحان عالم ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔
سمجھ میں آئی بات تمہارے اس چھوٹے سے دماغ میں یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ انگلی اس کے ماتھے پر مارے پوچھنے لگا۔۔۔۔
ن نہیں نہیں مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا ۔۔۔۔۔وہ اس کی ہٹ دھرمی پر اندر تک زخمی ہوئی جو اپنی غلطی ماننے کے بجائے اسی پر روعب جما رہا تھا۔۔۔۔
اچھا میری خرگوش تو مجھ سے دور رہ کر بہت بہادر ہو گئی اب جواب دینا بھی سیکھ گئی ۔۔۔۔
اس کے چہرے ہر تمسخر بھری مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔۔
ہالے کو لگا وہ اس کا مزاق اڑا رہا ہے۔۔۔وہ رونے لگی۔۔۔۔ ایک اس کا بات بات پہ رونا روحان کو بلکل پسند نہیں تھا۔۔۔
وہ اٹھا اور ہالے کو بھی اپنے ساتھ اٹھا کر اپنی تھائی پر بٹھا لیا۔۔۔
تم جانتی ہو بہت محبت کرتا ہوں تم سے یار یہ ایک سال میں نے کیسے گزارا میں جانتا ہوں ۔۔۔۔۔پلیز خود سے دور مت کرو میری جان یہ ہجر اور برادشت نہیں مجھے۔۔۔۔
اپنے آپ میں گم کردو میں گزرے ماہ وہ سال کو بھولنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔
وہ اسی کے بالوں میں اپنا چہرہ چھپائے شکست خوردہ لہجے میں بولا اس کے لفظوں میں برسوں کی تھکاوٹ تھی۔۔۔۔۔
ہالے کو بے ساختہ اس پر ترس آیا لیکن وہ اپنےساتھ ہوئی بے وفائی کیسے بھلا دیتی کیسے بھلا دیتی کہ وہ اس کا حق اس سے پہلے ہی کسی اور کو دے چکا تھا۔۔۔۔۔۔
اور اب بھی وہ ایک سال سے اسی کے ساتھ رہ رہا تھا ایک بار بھی اسے منانے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔۔یہی خیال اس کی جان نکالنے کو کافی تھا کہ اسے اسکی ایک بار بھی یاد نہیں آئی بلکہ آج بھی وہ اپنی بہن کی وجہ سے آیا تھا۔۔۔۔
اس نے کسمسا کر خود کو روحان سے الگ کرنے کی کوشش کی ۔۔۔روحان نے اپنا چہرا اٹھا کر اسے دیکھا اس کی آنکھوں میں موجود شکوے دیکھ ۔۔۔۔
اسے خود پر غصہ آیا تھا اس معصوم کو اس نے کس قدر تکلیف دی تھی ۔۔وہ جو اسے سبق سکھانے آیا کہ اس نے اتنے دن ایک بار بھی اسے نہیں پکارا
اس کی نم آنکھوں میں اسے اپنے ارادے بہتے نظر آئے ۔۔۔۔
اس نے ہالے کو کھینچ کر سینے میں بھینچ لیا ۔۔۔۔۔۔
میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔۔اس نے نا چاہتے ہوئے بھی صفائی دی۔۔۔..
آپ نے اس سے نکاح کیا تھا اور آپ اس کے ساتھ رہتے ہیں۔۔۔۔روتے ہوئے اس نے شکوہ کیا۔۔۔
ہاں نکاح کیا تھا لیکن اس نے یہ سب دھوکے سے کروایا تھا۔۔۔۔میں نے بعد میں اسے چھوڑ دیا تھا اور بخدا اس پورے سال میں میں نے اس کی شکل تک نہیں دیکھی نا دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔روحان اب بھی اسے سینے سے لگائے ہوئے تھا ۔۔
ہالے کو یاد آیا سب کے سامنے اس نے زائش کو طلاق دی تھی۔۔۔۔اور یہ بات اسے اندر تک پر سکون کر گئی کہ وہ اتنے مہینوں سے اس کے ساتھ نہیں تھا۔۔۔
وہ آپ کے بچے کی ماں بننے والی تھی ۔۔۔۔۔۔یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے اسے جھجھک ہوئی تھی ۔۔۔
اس بات کا جواب میں تمہیں کل دوں گا۔۔۔۔۔لیکن میرے دل اور زندگی میں ہالے کے علاوہ کوئی نہیں یقین رکھو مجھ پر ۔۔۔۔۔۔
روحان کی بات پر نا چاہتے ہوئے بھی وہ ایمان لے آئی شاید وہ خود بھی اس کی دوری مزید برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔اس نے اپنے دونوں بازوں اس کے گرد باندھ دئیے وہ اس وقت کچھ بھی سوچنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
تب روحان نے اسے ایسے ہی تھامے بیڈ پر لٹایا تھا اور ایک ہاتھ سے اس نے ہالے کے کندھے سے اس کی شرٹ نیچے کھسکائی ۔۔۔۔۔۔ہالے نے اس کا وہی ہاتھ تھام لیا اور سختی سے آنکھیں میچ نفی میں گردن ہلائی۔۔۔۔۔
روحان نے اس کے ہاتھ میں انگلیاں پھنسا کر قابو کیا۔۔۔۔
اور جھک کر جا بجا اس کی گردن پر اپنا لمس چھوڑنے لگا۔۔۔۔
اور دوسرا ہاتھ اس کے پیٹ میں حرکت کرنے لگا ۔۔۔۔
وہ اس وقت سہی معنوں میں اسے ظالم ہی لگا
جو بنا اس کی حالت کی پرواہ کئے بس اپنی ہی منمانیاں کر رہا تھا۔۔۔۔۔اس کے لب کندھے سے نیچے تک کا سفر بہت بے باکی سے کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔
ہالے نے گھبرا کر اس کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑ لی۔۔۔۔۔۔
مگر وہ رفتہ رفتہ ہر حد پار کرتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔
ہالے نے برداشت نا کر پاتے اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کی لیکن روحان کے لمس میں مزید شدت آگئ۔۔۔۔۔
کمر پر بندھا ہاتھ جیسے جسم میں پیوست ہو رہا تھا۔۔۔۔اس کی جان نکلتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ آج اس کے لمس اور قربت میں جو شدت و دیوانگی تھی۔۔۔۔۔۔ وہ ہالے کی گھبراہٹ بڑھا چکی تھی۔۔۔۔دونوں کی معنی خیز دھڑکنوں کے شور نے ماحول کو رومانوی بنا دیا تھا۔۔۔۔
تبھی گھبرا کر اس ظالم سے پناہ چاہی۔۔۔۔
رو روحان مج مجھے سانس۔۔۔۔۔۔وہ اس کی بات مکمل سنے بغیر اس کے لبوں کو قید کر گیا۔۔۔۔۔۔
لیکن آج پہلی رات کی طرح اس کے لمس میں نرمی کے بجائے بہت شدت تھی۔۔۔۔شاید گزرے ماہ و سال کا حساب تھا جو وہ اس سے لے رہا تھا۔۔۔۔۔
آج وہ سارے لحاظ بھلائے اسے پور پور اپنی شدتوں کی بارش میں بھگونے لگا۔۔۔۔۔۔
…………………………….
دلشیر جب فریش ہو کر باہر آیا تب تک وہ بہرام کو چپ کروا چکی۔۔۔۔وہ ڈریسنگ کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔
آج پہلی بار عزہ نے اسے غور سے دیکھا تھا وہ بے تحاشہ خوبصورت تھا بلکل یونانی دیوتاؤں کی طرح
سفید کاٹن کا شلوار قمیض اس کے دراز قد پر بہت جچ رہا تھا ۔۔۔۔۔اور کہاں وہ ایک طلاق یافتہ ایک بچے کی ماں اس کے لیے ایک بوجھ سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔۔۔
نا جانے کیوں دلشیر سے نکاح کے بعد وہ کیوں اتنا منفی سوچنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔
آپ کا ہی ہوں کہے تو پاس آ کر بیٹھ جاتا ہوں پھر جی بھر کر نہار لیجئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔عزہ کی نظریں خود پر دیکھ اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔۔۔۔
عزہ جلدی سے سٹپٹا کے بہرام کو لئے واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
اس کی جلد بازی پر وہ مسکرایا اور واش روم کے باہر سے آواز لگائی۔۔۔
بہرام کی ساری چیزیں میرے وارڈروب میں ہے وہاں لے لیجئے گا آپ دونوں آرام سے تیار ہو جائے میں زرا باہر جا رہا ہوں۔۔۔۔
وہ کہہ کر کمرے سے نکل گیا تاکہ وہ ایزی ہو کر تیار ہو جائے ۔۔۔
عزہ واشروم سے بہرام کو نہلا کر ٹاول میں لپیٹ کر باہر آئی اور بڈ پر لٹا دیا اور جا کر وہی وارڈروب کھولا ۔۔۔۔۔
جس میں سے صبح دلشیر نے اپنا سوٹ نکالا تھا ۔۔۔۔۔۔
اس میں بہرام کے کپڑوں سمیت اس کی ضرورت ہر ہز تھی جو نہایت ہی خوبصورت اور قیمتی تھے ۔۔۔۔اسے حیرات ہوئی دلشیر پر وہ کیوں اتنا مہربان ہو رہا تھا اسپر اور اس کی اولاد پر ۔۔۔۔ایک بار پھر اسے احساس ندامت ہوئی۔۔۔۔۔
کاش وہ بزدل نا ہوتی تو آج دلشیر کی زندگی یوں برباد نا ہوتی۔۔۔۔۔۔۔
جب وہ آدھے گھنٹے بعد واپس آیا تو بہرام نک سک سا تیار بیڈ پر لیٹا اپنے ہاتھ پاؤں ہلا کے کھیل رہا تھا۔۔۔۔۔
اور وہ خود ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے گیلے بالوں کو ٹاول سے صاف کر رہی ۔۔۔۔۔..
وہ قدم قدم چلتا اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا لیکن نا جانے وہ کن خیالوں میں تھی کہ اسے دلشیر کے آنے کی خبر ہی نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔
دلشیر نے اس کے پیٹ میں ہاتھ لپیٹ کر اسے قریب کیا اور اس کی گردن پر اپنی توڑی رکھ رکھ آنکھیں موندے لیں ۔۔۔۔
وہ جو خود پر عاشر کے کئیے گئے ظلموں کے حصار میں تھی
ایکدم گھبرا کر گھومی اور اسے خود سے دور جھٹکا ۔۔۔۔۔
دور دور رہیں دور رہیں ۔۔۔۔
دلشیر جو اس کے بالوں کی بھینی بھینی خوشبو کو محسوس کر رہا تھا ایک دم یو جھٹکنے پر حیرت سے عزہ کو دیکھا ۔۔۔۔
جو اپنے کانوں میں ہاتھ رکھے آنکھیں میچے زمین پر کسی معصوم بچے کی طرح بیٹھے روتے ہوئے کچھ بڑ بڑا رہی تھی۔۔۔۔
ما معاف معاف کر دیں دوبارہ ن نہیں ہوگا معاف کر دیں ۔۔۔۔مجھے مت ماریں۔۔۔۔ عاشر م میں مر جا جاؤں گی۔۔۔
اس کی سسکیاں آہستہ آہستہ بلند ہونے لگی۔۔۔۔۔
دلشیر اس اچانک افتاد پر حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
آہستہ آہستہ اسے سب سمجھ آتا گیا وہ اس کے قریب زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔اور اسے کھینچ کر سینے میں بھینچ لیا۔۔۔۔
وہ اس لڑکی سے عشق کرتا تھا وہ اس کی زندگی سے ان دو سالوں کو نکال تو نہیں سکتا تھا ہاں اس کی زندگی میں رنگ بھر کر ان دردناک پرانی یادوں کو مندمل ضرور کر سکتا تھا۔۔۔۔
عزہ نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی لیکن وہ ایسے ہی اسے خود سے لگائے رہا ۔۔۔جب اس کا رونا بند ہوا تو دلشیر نے اس کا سر اپنے سینے سے نکالا ۔۔۔۔
روئی روئی جھکی آنکھیں ٹماٹر کی طرح لال گال۔ بھیگے ہونٹ وہ کسی کا بھی ایمان ڈھگمگا سکتی تھی۔۔۔۔
وہ تو اس کا محرم تھا کیسے وہ خود پر ظبط کرتا۔۔۔
وہ جھکا اور اس کے ہونٹوں کو نرمی سے چھو لیا۔۔۔۔
عزہ نے سختی سے سینے سے اس کی شرٹ بھینچ لی۔۔۔۔
وہ جو عاشر کے ڈر و خوف میں مبتلا تھی ۔۔۔۔۔۔
اس کے لمس پر ہوش کی دنیا میں واپس آئی اور گھبرا کر
سہارے کے لیے اس کی شرٹ تھام لی۔۔۔۔
دلشیر اسے دلچسپی سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
عزہ اس کی نظروں سے گھبرا کر اسے دور ہوئی ۔۔۔۔۔
اگر آپ چاہتی ہیں کہ مزید کوئی گستاخی نا کروں تو جلدی سے تیار ہو جائیں ہمیں باہر جانا ہے سب ناشتے پر ہمارا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ کہہ کر بہرام کی طرف بڑھ گیا تاکہ وہ جلدی سے نارمل ہو جائے ۔۔۔
…………………………
ڈائننگ ٹیبل پر اس وقت مسٹر خان عائزہ بیگم۔۔۔۔ہمنہ عاطف اور شاہ زر ہی بیٹھے ہوئے تھے ۔۔
ہمنہ بیٹا جاکر بھائی بھابھی کو بلا کر لاؤ ناشتے کے لئے ۔۔۔۔
جی ڈیڈ۔۔۔۔۔مسٹر خان کی آواز پر وہ اٹھ کر جانے لگی۔۔۔۔
وہ دونوں ساتھ سیڑھیاں اترتے نظر آئے۔۔۔
گرے کلر کے کام دار جوڑے میں حجاب کی طرح دوپٹہ اوڑھے شرمائے گھبرائے روپ میں وہ دلشیر کے ساتھ چلتی کوئی معصوم پری ہی لگی۔۔۔۔
دلشیر کے گود میں بہرام تھا جو اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے سب کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
ان کے پاس آنے پر عائزہ بیگم اپنی جگہ سے اٹھی اور عزہ کا ماتھا چوم لیا۔۔۔۔۔
وہ جو گھبراہٹ کا شکار تھی ناجانے دلشیر کے گھر والوں کا رویہ اس کے ساتھ کیسا ہو کیونکہ وہ ایک طلاق یافتہ لڑکی تھی ۔۔۔۔۔۔
ان کی اتنی محبت پر حیرانگی سے ان کو دیکھا ۔۔۔۔۔
ادھر آؤ آج سے تمہاری جگہ دلشیر کے ساتھ یہاں بیٹھو۔۔۔
انہوں نے اسے تھام کر دلشیر کے برابر کرسی پر بٹھایا ۔۔۔۔
اب کہ بہرام ہمنہ کی گود میں تھا۔۔۔۔
وہ جھجھکتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔بھوک اتنی تھی کہ نا چاہتے ہوئے بھی سب کی محبت وہ اپنائیت پر اس نے پیٹ
بھر کر ناشتہ کیا۔۔۔۔۔
…………
دن کے دس بجے روحان کی آنکھ موبائل فون پر ہوتی بیل ہر کھلی ۔۔۔۔۔
کمرے میں نظر دوڑائی تو وہ کہیں پر بھی نہیں تھی وہ جلدی سے اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔۔
آج ایک بہت امپورٹنٹ کام تھا جو اسے انجام دینا تھا۔۔۔۔
الماری سے ایک سوٹ نکال کر فریش ہونے چل دیا۔۔۔۔
جلدی جلدی تیار ہو کر وہ اپنا ضروری سامان اٹھاتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
اسلام علیکم ماما۔۔۔۔۔سامنے بیٹھی فائزہ بیگم کو اس نے گلے لگا کر سلام کیا ۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام بیٹا ۔۔۔۔جیتے رہو خوش رہو آباد رہو اللّٰہ تمہیں جلدی نیک اور صالح اولاد سے نوازے۔۔۔۔
ان کی دعا ہر اس نے مسکرا کر دل سے آمین کہا اور ان کو اللّٰہ حافظ کہتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔
۔یہ آپ کا بیٹا گھوڑے ہر سوار کہاں گیا ہے۔۔۔۔عالم صاحب دور سے ہی اسے دیکھ فائزہ بیگم کے پاس آکر پوچھنے لگے۔۔۔
کہہ رہا تھا ایک بہت ضروری کام سے گیا ہے شام تک لوٹ آئے گا۔۔۔۔
ہاں آپ کے بیٹے اور ان کے ضروری کام ہم تو آپ کی نظر میں فارغ انسان ہیں نا آپ کو ہم کہا اچھے لگے گے ۔۔۔۔۔انہوں نے مصنوعی ناراضگی سے کہا۔۔۔۔۔
فائزہ بیگم کی ہنسی نکل گئی۔۔۔جو اس عمر میں بھی اپنے ہی بچوں سے جیلس ہو۔۔۔
کل ہالے کے پاس جانے سے پہلے ہی روحان نے سب کو حقیقت بتا کر سب سے معافی مانگ لی تھی۔۔۔۔وہ بھی آخر کب تک ناراض رہتے ۔۔۔جو بھی غلطیاں اس نے کی تھا تو ان کا بیٹا ہی اور کہیں نا کہیں معاف کرنے کی سب سے بڑی وجہ بھی ہالے تھی وہ ہالے کو ایسے اداس زندگی گزارتے نہیں دیکھ سکتے تھے وہ چاہتے تھے ان کے تینوں بچے ہی اپنے اپنے ہمسفر کے ساتھ ہنسی خوشی رہے ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
