Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

ناول ;دل سکون.

رائٹر: زرناب چاند

قسط: چھتیس

وہ زریان اور روحان کو فون کر کے بلا چکا تھا اس نے پوری بات نہیں بتائی تھی بس اتنا کہا تھا کہ دونوں جلدی آجاؤ
ان کی بہن کو ان کی ضرورت ہے۔۔۔۔

اندر اس کا آپریشن تھا ہمنہ بھی اس کے ساتھ تھی کیونکہ ہمنہ اسی ہسپتال میں ڈاکٹر کی ڈیوٹی سر انجام دے رہی تھی
ہمنہ کی ساس اور شوہر بھی وہی بیٹھے تھے۔۔۔۔۔
کسی نے اس سے کچھ نہیں پوچھا تھا نا کوئی سوال کیا تھا۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ہمنہ ایک بہت چھوٹے سے بچے کو کمبل میں لپیٹ کر باہر لائی اور اپنی ساس کے حوالے کر دیا۔۔۔

دلشیر کی اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اس بچے کو چھو کر دیکھ لے
سب بہت اداس تھے ۔۔۔۔اس نے ایک پیارے سے بیٹے کو جنم دیا تھا۔۔۔۔۔
لیکن اس کی خود کی حالت بہت خراب تھی ۔۔۔بی پی خطرناک حد تک لو ہو گیا تھا
اب نارمل ہو کر ہی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔اس لئے وہ ابھی تک انڈر آبزرویشن تھی۔۔۔۔

دلشیر نے اس بچے کے کانوں میں آزان دی تھی اور اس کا گال چوما تھا۔۔۔۔
اسے وہ اپنے ہی وجود کا حصہ لگا۔۔۔۔

رات بھی وہی بیٹھے گزر گئی تھی لیکن عزہ کی حالت میں کوئی سدھار نہیں آیا تھا
وہ نماز پڑھ کے آیا تھا تھوڑی دیر کے بعد اسے روحان آتا نظر آیا دلشیر اٹھا اور اس کے سینے سے لگ گیا کچھ نہیں کہا بس خاموش تھا ۔۔۔۔
روحان کا دل کسی انہونی کے احساس سے گھبرانے لگا۔۔۔اس نے دلشیر کو خود سے الگ کیا۔۔۔۔

کیا ہوا ہے عزہ کو وہ ٹھیک ہے نا ۔۔۔۔اسے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی

دل نے شدت سے دعا کی کہ عزہ ٹھیک ہو۔۔۔

ہاں وہ ٹھیک ہیں ابھی اندر ہیں ابھی وہ کچھ کہتا کہ اندر سے ہمنہ آگئی

بھائی پریشان مت ہو شکر ہے اب عزہ ٹھیک ہے اس کا بی پی نارمل ہو گیا ۔۔۔۔۔

دلشیر نے سکون کی ایک گہری سانس لی۔۔۔۔
کیا ہوا تھا عزہ کو تم بتاتے کیوں نہیں اب روحان غصے سے چیخا تو ہمنہ نے اس روحان کی طرف دیکھا۔۔۔

وہ دونوں پہلے بھی بہت بار مل چکے تھے وہ اس کے بھائی کا دوست تھا لیکن اس طرح اس کا اپنے بھائی پر چیخنا اسے اچھا نہیں لگا۔۔۔۔

عزہ آپ کی کیا لگتی ہے ؟اس نے حیرانی سے روحان کو دیکھا ۔۔۔۔۔

وہ بہن ہے میری مننا تم مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے اسے وہ ٹھیک تو ہے نا اور اس کا بچہ وہ کیسا ہے ۔۔۔۔اس نے بے چینی سے پوچھا
روحان بھائی آج دلشیر بھائی کی وجہ سے ہی آپ کی بہن ٹھیک ہے اور اس کا بچہ بھی ٹھیک ہے
اتنی دیر میں ہمنہ کی ساس بھی وہاں آگئی اور بچے کو روحان کے حوالے کیا۔۔۔

روحان نے بے ساختہ اس بچے کو تھام لیا اور اسے چومنے لگا۔۔۔۔یہ اس کی بہن کا خون تھا ۔۔
ہمنہ اسے عزہ کے پاس لے گئی دلشیر باہر ہی رک گیا اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ اسے دوبارہ اس حالت میں دیکھ پاتا ہے۔۔۔۔۔۔
عزہ بے ہوشی کی حالت میں تھی لیکن عزہ کی حالت دیکھ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔۔۔
یہ کس نے کیا ہے میری بہن کے ساتھ کیا ہوا ہے اس کے ساتھ ۔۔۔۔ اس کی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔۔۔

ہمنہ نے نظریں چرائی ۔۔۔
آپ کون ہیں اس بچی کے ڈاکٹر نے اس سے پوچھا جو بہت بے چین نظر آرہا تھا۔۔۔
میں بھائی ہوں اس کا کیا ہوا ہے میری بہن کے ساتھ۔۔۔کوئی مجھے بتاتا کیوں نہیں

آپ کی بہن کو بہت بری طرح مارا پیٹا گیا ہے ان کے جسم میں جگہ جگہ نیل پڑے ہیں کیسے بھائی ہیں آپ لوگ بہنوں کو کسی ظالم کے ساتھ رخصت کر کے اسے بھول جاتے ہیں
دوبارہ اس سے پوچھنے کا خیال نہیں آتا کہ وہ زندہ ہے یا مر رہی ہے ۔۔۔۔
بہت مشکل سے جان بچی ہے ورنہ ان کو مارنے میں کوئی قصر نہیں چھوڑی ۔۔۔۔۔ڈاکٹر کا لہجہ انتہائی سرد تھا ۔۔۔

ڈاکٹر کی بات پر اس کا اندر تک زخمی ہوا تھا
اس نے آس پاس نظر دوڑائیں اسے اب عاشر کا خیال آیا
عاشر کہاں ہے۔۔۔۔۔۔کس نے کیا تھا اس کی بہن کا ایسا حال

ہمنہ کی ساس اسے باہر کے آئی ۔۔۔۔
پھر اسے سب بتاتی چلی گئی جیسے جیسے وہ سنتے جا رہے تھے دونوں کے لیے وہاں سانس لینا مشکل ہو گیا انہوں نے یہ بھی بتایا پچھلے دو مہینے سے ان کے گھر میں ایک اور لڑکی بھی رہنے لگی تھی۔۔۔۔

کیسے اس لڑکی نے اپنی فیملی کو بھنک بھی نہیں پڑنے دی ہمیشہ جب بھی بات کرتی ہنستی مسکراتی رہتی تھی

انہیں کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ وہ اندر ہی اندر اتنا سب کچھ برادشت کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

لیکن عاشر نے یہ سب کیوں کیا روحان کو سمجھ نہیں آیا اگر اس کی بہن اسے اتنی ہی بری لگتی تھی تو شادی ہی کیوں کی۔۔۔۔
وہ غصے میں اٹھ کر وہاں سے نکل کے اس کے فلیٹ میں پہنچا دروازے پر تالا لگا تھا اس نے اپنے ہاتھ کا مکہ بنا کر دیوار پر مارا۔۔۔۔سارہ بیگم کے گھر چلا گیا اسے اپنی بہن کا حساب چاہیے تھا اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔

دھاڑ سے دروازہ کھول وہ اندر چلا گیا ۔۔۔۔۔

نیہا اور سارہ بیگم دونوں ہی ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی اسے اس طرح جارحانہ انداز میں آتے دیکھ دونوں ڈر گئی تھی
روحان بیٹھا تم کب آئے اور اتنے غصے میں کیوں ہو۔۔۔۔۔انہوں نے گھبراتے ہوئے پوچھا
بیٹا مت کہیں مجھے اس وقت میں آپ سے کسی طرح کی کوئی بد تمیزی نہیں کرنا چاہتا بس مجھے یہ بتائیں آپ کا بے غیرت بیٹا کہاں ہے۔۔۔۔۔۔اس نے چیختے ہوئے پوچھا

سارہ بیگم نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے مجھے بتاؤ کیا کیا ہے عاشر نے ۔۔۔۔انہوں نے نرمی سے پوچھا

مجھے صرف اتنا بتائیں عاشر کہاں ہے ورنہ میں اس پورے گھر کو آگ لگا دوں گا ۔۔۔۔۔۔اس کے لہجے میں چٹانوں سی سختی تھی

قسم لے لو ہمیں نہیں پتہ وہ کہاں ہے اور نا وہ ہمیں اپنے گھر آنے دیتا یے۔۔۔۔انہوں نے جلدی سے صفائی دی

اس سے پہلے کہ وہ اور کچھ کہتا فون بجنے پر کال اٹھائی اور الٹے قدم بھاگا

دلشیر کی کال پر وہ دوبارہ اسپتال چلا آیا تب تک زریان بھی پہنچ چکا تھا ہمنہ اور اس کی ساس اسے ہر ایک بات بتا چکی تھی۔۔۔۔۔
زریان عزہ کے پاس بیٹھا اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا
لیکن عزہ کمرے کی چھت کو تک رہی تھی اسے آس پاس کی کوئی خبر نہیں تھی ۔۔

عزہ میرا بچہ بھائی کی طرف دیکھو ۔۔۔۔۔۔زریان نے بھرائی ہوئی آواز میں اسے پکارا

دلشیر ایک طرف دیوار سے ٹیک لگائے ایک پاؤں فولڈ کئے نظریں زمین پر ٹکائے کھڑا تھا اس کے بیڈ کو دونوں طرف اس کے بھائی بیٹھے تھے

ہمنہ اور اس کی ساس بچے کو لیے صوفے پر بیٹھی تھی
انہوں نے جتنا ہو سکا عزہ کا خیال رکھا تھا

لیکن وہ کبھی عاشر کے خلاف کچھ بھی کرنے کو تیار نہیں تھی نا اپنی فیملی کو بتانے کو تیار تھی اس کا کہنا تھا بے بی کے بعد وہ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔لیکن نتیجہ آج ان کے سامنے تھا۔۔

عزو چپ مت رہو کچھ تو بولو ورنہ کچھ ہو جائے گا ہمیں ایسے پ مت رہو روحان کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر اس کے ہاتھ پر بہہ گیا۔۔۔

عزہ نے خالی خالی نظروں سے روحان کو دیکھا پھر زریان کو ۔۔۔۔۔

اس کی آنکھوں میں جو خالی پن تھا اس نے کمرے میں موجود ہر شخص کو اندر تک توڑ دیا تھا۔۔۔۔۔

مت کرو عزہ ہم برداشت نہیں کر پائیں گے زریان نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔۔۔

ہمنہ اٹھی اور اس کا بچہ لاکر اس کی گود میں رکھ دیا شاید بچے کو دیکھ کر ہی کچھ بولیں ۔۔۔۔۔

جب سےوہ ہوش میں آئی تھی وہ ایک لفظ نہیں بولی تھی

اچانک ایک نرم گرم وجود محسوس کر اس نے اپنی گود میں دیکھا آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر اسے چھوا۔۔۔۔۔

دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھیں آنسؤں سے بھر گئی
وہ اس بچے کو سینے سے لگا کر جو روئی تو کمرے میں موجود ہر انسان کو رلا گئی
اس کی آواز میں جو درد تھا وہ وہاں ہر انسان کو رلا گیا
زریان اور روحان سے اسے سنبھالنا مشکل ہو گیا ۔۔۔۔

دلشیر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔اس میں ہمت نہیں تھی اس کو اس حالت میں دیکھنے کی۔۔۔۔۔وہ مسجد میں آکر وضو کر کے سجدے میں گر گیا ۔۔۔۔۔

اللّٰہ میں اسے اس حال میں نہیں دیکھ سکتا اللّٰہ اسے صبر دے دیں اس کے دل و دماغ سے وہ ساری اذیتیں تکلیفیں مٹا دیں جو اسے تکلیف دے رہی ہے

وہ اللّٰہ سے خشوع وخضوع سے دعا مانگنے لگا۔۔۔۔

……………………………………………………………….

زریان کو گئے دو دن ہو گئے تھے آنا بھی اسپتال سے گھر آگئی تھی سب اس کا بہت خیال رکھ رہے تھے

عزہ کے لیے بھی سب بہت خوش تھے حویلی میں سب نے کہا تھا کہ وہ پاکستان آ جائے لیکن اس کی کنڈیشن کی وجہ سے عاشر نے منع کر دیا تھا ۔۔۔۔اس کا کہنا تھا کہ عزہ کا بہت خیال رکھے گا

زریان نے جاتے ہوئے بھی کسی کو نہیں بتایا وہاں پہنچ کر بس فون کر کے بتایا کہ وہ عزہ کے پاس ہے ۔۔۔۔۔

گھر میں خوشی کا سماں تھا لیکن عزہ سے ابھی تک کسی کی بات نہیں ہو سکی تھی زریان نے کہا تھا کہ وہ عزہ کو اپنے ساتھ کے کر آئے گا۔۔

اس لیے سب انتظار میں تھے۔۔۔

ہالے کا اب سارا دن رواحہ کے ساتھ گزرتا تھا وہ اب دوبارہ سے ہنسنے بولنے لگی تھی۔۔۔۔

……………………………………………………….

آج پانچواں دن تھا دلشیر اور زریان ہر وقت اسپتال میں ہی تھے عزہ کی طبیعت پہلے سے بہتر تھی لیکن وہ بلکل خاموش ہو گئی تھی۔۔۔۔

ہمنہ اور اس کی ساس بھی وقفے وقفے سے اس سے ملنے آتی رہی تھی۔۔۔۔
اتنے دنوں میں دلشیر ایک بار بھی اس کے سامنے نہیں گیا تھا۔۔۔

عزہ ۔۔۔۔۔شام تک ہمیں نکلنا ہے بیٹا آپ کی طبیعت بہتر ہے نا
زریان نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
وہ جو بچے کو چینج کروا رہی تھی خاموشی سے بس سر ہلا دیا۔۔۔
زریان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور سامان وغیرہ چیک کرنے لگا۔۔۔
روحان کی آواز پر وہ باہر گیا۔۔۔۔
آج اس کو پتہ چلے گا اس نے کس کی بہن کے ساتھ یہ سب کیا ہے پوری زندگی یاد رکھے گا چکی پیستے ہوئے ۔۔۔۔روحان نے نفرت سے کہا ۔۔۔۔۔۔

زریان کے سوالیہ نظروں پر اس نے مسکراتے ہوئے کام ہونے کی اطلاع دی۔۔۔۔
اتنے دنوں بعد دلشیر کے چہرے پر بھی سکون بکھر گیا۔۔۔
وہ لوگ کافی دنوں سے عاشر کی تلاش میں تھے اور تین دن پہلے انہیں اس کے ٹھکانے کا پتہ چل گیا تھا ۔۔۔۔۔اسے ڈھونڈتے ہوئے اس کے بارے میں کچھ ثبوت ملے تھے اس نے دو لوگوں کا قتل کیا تھا اور وہ بہت سے غیر قانونی کاموں میں بھی ملوث تھا۔۔۔۔
زریان کے اشارے پر ان دونوں نے سارے ثبوت جمع کر کے
پولیس کو دئیے تھے اور اس کے ٹھکانے کا بھی بتایا ۔۔۔۔

خرم نامی کانٹا بھی انہوں نے عزہ کی زندگی سے ایسے ہی نکالا تھا
اور انہوں نے عزہ کی طرف سے بھی اٹیمپ ٹو مرڈر کا کیس کیا تھا جس پر عاطف اور بلڈنگ کے کچھ اور لوگوں نے بھی گواہی دی تھی۔۔۔۔
اور آج آخر کار پولیس اس کو اور اس کی گرلفرینڈ کو گرفتار کر چکی تھی ۔۔۔ان پر اتنے سارے کیس تھے ساتھ ثبوت بھی کہ وہ چاہ کر بھی باہر نہیں آسکتے تھے۔۔۔۔۔۔۔

زر یان بچے کو گود میں لئے عزہ کا ہاتھ پکڑے ڈرائیور کا ویٹ کر رہا تھا جو دو منٹ بعد آتا دکھائی دیا
وہ عزہ کو لے کر گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔

دلشیر اور روحان دوبارہ دوبئی جا چکے تھے۔۔۔۔
شام کے قریب وہ حویلی پہنچے تھے عزہ کی حالت دیکھ ایک ماتم سا مچ گیا تھا ہر آنکھ اشک بار تھی اس کی حالت ہر زریان نے سب کو حقیقت سے آگاہ کر دیا تھا

بابا کی ہمت بھی نہیں ہوئی کہ وہ آنا کا سامنا کر سکے کہیں نا کہیں آج بھی ان کو ایسا لگ رہا تھا۔ اس کی حالت کے زمہ دار وہی تھے ۔۔۔

عزہ آج بھی سب کے بیچ خاموشی سے بیٹھی تھی
سب کے رونے پر بھی ایک آنسو اس کی آنکھوں سے نہیں نکلا ۔۔۔۔۔
سب نے بہت کوشش کی اسے ہنسانے کی لیکن وہ ایسے ہی گھنٹوں خاموشی سے بیٹھی رہتی

عزہ کے بیٹے کا نام بھی دادا جان نے رکھا تھا بہرام ۔۔۔۔۔

…………………………………………………………………..

کیا سوچا ہے تم دونوں نے اپنی اپنی زندگی کے بارے میں کب تک ایسے رہنے کا ارادہ ہے ۔۔۔۔۔۔آج زریان اسپیشلی ان دونوں سے ملنے آیا تھا۔۔۔۔

عزہ کے ساتھ ہوئے حادثے کو بھی چھ مہینے گزر چکے تھے

اس وقت وہ تینوں کافی پی رہے تھے۔۔۔۔۔۔روحان نے نظریں اٹھاکر زریان کو دیکھا۔۔۔۔البتہ دلشیر پر سکون بیٹھا تھا

آپ اپنی بہن کو اپنے پاس بٹھا کر رکھیں کیونکہ وہ میرا حویلی آنا برداشت نہیں کرسکتی۔۔۔۔اور یہ اس کا فیصلہ تھا میں اس کے فیصلے کا احترام کررہا ہوں۔۔۔۔۔روحان نے سکون سے جواب دیا۔۔۔۔

اچھا تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ پوری زندگی ایسے گزارنے کا ارادہ ہے تم جانتے ہو ایک سال شادی کو ہو گیا ہے تم نے ایک بار اسے منانے کی کوشش کی ایک بار بھی اس کو حقیقت سے آگاہ کیا ۔۔۔۔اپنی بے گناہی ثابت کی تم نے ۔۔۔۔

زریان کا لہجہ شرمندہ کرنے والا تھا لیکن سامنے بھی روحان تھا جس نے شرمندہ ہونا سیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔

کیوں کروں یہ سب ۔۔۔۔۔اس نے سوال کیا۔۔۔
کیونکہ بیوی ہے وہ تمہاری تمہارا فرض بنتا ہے اس کی غلط فہمی دور کرو نا کہ اسے بڑھاؤ ۔۔۔۔۔

تو کیا میں اس کا شوہر نہیں اس کو مجھ پر یقین ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔ اس کے لیے یہی کافی ہونا چاہیے تھا کہ میں اس سے پیار کرتا ہوں کچھ بھی ہو جائے اسے خود کو مجھ سے دور نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن اس نے میرے ساتھ رہنے سے زیادہ اپنی موت کو ترجیح دی یہ میرے لیے نا قابل برداشت ہے۔۔۔۔

اس کے لہجہ بھی انتہائی سرد تھا جیسے اسے نا جانے کتنا غصہ ہو ہالے پر ۔۔۔۔۔

زریان نے خاموشی سے اسے دیکھا پھر دلشیر کو ۔۔۔۔۔

اب تم بھی بتا دو کیا ارادہ ہے تمہارا تمہاری وجہ سے انکل آنٹی پریشان رہنے لگے ہیں اب اپنا نہیں تو انکا سوچ لو ہر انسان کو سب کچھ نہیں ملتا اور جو نہیں ملتا اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر بھول جانا چاہیے ۔۔۔۔۔

زریان کی بات پر دلشیر چونکا اور اس کی طرف دیکھا
اس کی آنکھوں میں جو آگاہی تھی ایک پل کو وہ گھڑبڑا گیا۔ ۔۔۔۔
لیکن جب بولا تو ارادہ اٹل تھا
میں ان سے نکاح کرنا چاہتا ہوں جب قسمت نے انہیں مجھ سے چھین لیا تھا تب قسمت کا لکھا قبول کر لیا تھا۔۔۔۔۔
لیکن اللّٰہ نے مجھے دوبارہ موقع دیا ہے اور یہ موقع میں گنوانا نہیں چاہتا۔۔۔۔وعدہ کرتا ہوں ان کو اور بہرام کو ہمیشہ خوش رکھوں گا۔۔۔

اس نے سنجیدگی سے کہا اور ایک نظر دونوں بھائیوں کو دیکھا جو حیرانگی سے اسے ہی دیکھ رہے تھے

تم جانتے ہو وہ ایک طلاق یافتہ لڑکی ہیں اور ایک بچے کی ماں بھی ۔۔۔۔وہ شاید تمہارے معیار پر پوری نا اترے۔۔۔ اور آس پاس کے لوگ بہت باتیں بنائیں گے ۔۔۔۔اور شاید تمہاری فیملی بھی ان کو قبول نا کر پائے۔۔۔۔

اپنی ہی بہن کے بارے میں ایسا کہتے ہوئے اسے بہت شرمندگی اور دکھ تھا۔۔۔۔
لیکن اسے آنے والے وقت سے آگاہ کرنا بھی ضروری تھا۔۔۔

میرے لیے یہ ساری باتیں بے معنی ہیں کیونکہ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے وہ ایک با کردار اور پاکیزہ لڑکی ہیں اور رہی بات بہرام کی وہ میرا ہی بیٹا کہلائے گا پوری زندگی۔۔۔۔۔
اور آس پاس کے لوگوں سے مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔

جہاں تک میری فیملی کی بات ہے انہیں پوری دنیا سے زیادہ میری خوشیاں عزیز ہیں ۔۔۔۔۔

اس لیے ان کو میری فیملی کی طرف سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی یہ دلشیر خان کا وعدہ ہے تم سے ۔۔۔۔۔۔اس کے لہجے سے اس کی باتوں کی پختگی صاف واضح تھی۔۔۔۔

زریان نے ایک گہری سانس لی ٹھیک ہے میں کوشش کروں
ابھی وہ بات مکمل کرتا دلشیر بول اٹھا۔۔۔۔

کوشش نہیں مجھے دس دن کے اندر اندر ان کو اپنے نکاح میں لینا ہے۔۔۔بس دس دن کا ٹائم ہے تمہارے پاس۔۔۔

دلشیر کی بات پر زریان نے اسے گھور کر دیکھا اور کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔

مسٹر روحان عالم کان کھول کر سن لو اگر ایک ہفتے کے اندر تم حویلی نہیں پہنچے تو اپنی بہن کو پوری زندگی تمہارے نام پر بٹھانے کا میرا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔۔۔۔
اس لیے دلشیر کے ساتھ مجھے تم بھی حویلی میں چاہیے ہو ۔۔۔وہ سختی سے بہت کچھ اسے باور کروا کر نکل گیا۔۔۔۔

آج عرصے بعد دلشیر کے چہرے پر ایک گہری مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔

روحان نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں

جاری ہے ۔۔۔۔