Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 34
No Download Link
Rate this Novel
Episode 34
ناول :دل سکون.
رائٹر :زرناب چاند
قسط: چونتیس
ہالے سفید ترکش برائڈل گاؤن پہنے
روحان کے ساتھ سہج سہج کر قدم اٹھاتی آگے بڑھ رہی تھی
بلیک تھری پیس میں وہ اپنی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ ہالے کا ہاتھ تھامے وہ اینٹرس سے آگے بڑھنے لگا ان کو دیکھنے والی ہر آنکھ میں ان کے لیے ستائش تھی۔۔۔۔
وہ اس کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
عزہ نے بھی سیم آنا جیسا ہی سوٹ پہنا تھا بس کلر چینج تھا پنک کلر کے سوٹ میں وہ بھی گلابی لگ رہی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد فوٹو سیشن ہوا پھر کھانے کا دور چلا۔۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو جان۔۔۔۔۔۔۔عاشر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر تعریف کی۔۔۔۔عزہ تو اسکی اتنی سی تعریف پر ہی کھل گئی۔۔۔شادی کے بعد اس نے کب اس کی تعریف کی تھی
شکریہ عاشر ۔۔۔۔۔اس نے دھیمے سے اس کا شکریہ ادا کیا۔۔۔
دل کر رہا ہے کھا جاؤں تمہیں ۔۔۔۔عاشر کی بات پر عزہ کے ہاتھ لرزے ۔۔۔۔
عاشر نے مسکراتے ہوئے اس کے گال پر بوسہ دیا۔۔۔۔
سب کے سامنے اتنی بے باکی پر عزہ کانوں کی لو تک سرخ ہو گئی ۔۔۔۔۔۔اس نے گھبرا کر چاروں طرف دیکھا کہ کہیں کسی نے دیکھ تو نہیں لیا۔۔۔۔ شکر ہے کہ کوئی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا ۔۔۔۔اس نے جلدی سے اپنا دوپٹہ صحیح کیا اور وہاں سے بھاگ گئی نا جانے آج ایسی حرکتیں کیوں کر رہا تھا وہ۔۔۔
اس کے جاتے ہی ایک شاطرانہ مسکراہٹ عاشر کے ہونٹوں پر بکھر گئی ۔۔۔۔۔اور وہ دلشیر کو دیکھنے لگا۔۔۔۔جو لائٹ گرے تھری پیس میں اس سے کہیں گنا خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔
اس کی آنکھوں میں عزہ کے لیے جزبات تو وہ شادی والے دن ہی دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اب اسے جلانے میں اسے الگ سکون مل رہا تھا
دلشیر کی جو بے دھیانی میں ان پر نظر پڑی عزہ کے شرماتے روپ اور عاشر کی بے باک حرکت پر اندر تک لہو لہان ہوا تھا
آنکھیں میچ کر کھولیں اور چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود کو نارمل کیا۔۔۔۔
اور زریان سے ملتا ڈرائیور کے ساتھ شہر کے لیے نکل گیا اس سے مزید برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
پورا راستہ بس وہ ایک لمحہ اس کی آنکھوں میں گھومتا رہا آنکھیں ظبط سے لال ہو گئی ۔۔۔۔وہ ونڈو سے باہر گزرتے مناظر کو دیکھنے لگا لیکن دھیان اس کا ابھی بھی اسی ٹیبل پر تھا جہاں عزہ اور عاشر بیٹھے تھے۔۔۔۔
………………………………………………………………….
ولیمہ سے فارغ ہو کر وہ سب حویلی آگئے تھے رائمہ بیگم واپس جا چکی تھی سب نے ان کو روکنے کی کوشش کی لیکن وہ حویلی جانے کو تیار نہیں تھی پھر زریان نے ان کو اپنے گارڈز اور ڈرائیور کے ساتھ بجھوا دیا تھا
ابھی سب لوگ لاؤنج میں بیٹھے تھے عاشر بھی آج داماد ہونے کے فرائض نبھا رہا تھا عزہ بھی پر سکون سی بیٹھی تھی
ہالے بھی وہی ابھی تک ا سی حالت میں بی جان کی گود میں سر رکھے سو گئی تھی کیونکہ ہیل کی وجہ سے اس کے پاؤں میں موچ آگئی تھی تو اس میں چل پانا مشکل تھا۔۔۔۔
مرد باہر کے سارے کام نمٹا کر ابھی وہاں آکر بیٹھے تھے۔۔۔۔
عزہ آنا بیٹا اپنے کمروں میں جاؤ تھک گئیں ہونگی دونوں اس حالت میں زیادہ بیٹھنا ٹھیک نہیں ۔۔۔
روحان جاؤ ہالے کو روم میں لے جاؤ اس سے چلا نہیں جا رہا اس کے پاؤں میں درد ہے بچی تھک گئی ہے ۔۔۔۔
بی جان نے روحان کو مخاطب کیا جو خود شاید اسی انتظار میں تھا
مسکراتے ہوئے جلدی اٹھا اور اسے بازوؤں میں اٹھا لیا
خود کو ہوا میں محسوس کر کے اس کی جھٹ سے آنکھ کھلی اور اس نے جلدی سے روحان کی گردن میں بازو ڈال دیئے کہیں گر نا جائے ۔۔۔
اچھے تھام لو خرگوش آج تو میں تمہیں اچھے سے کھانے والا ہوں ۔۔۔۔۔اس نے ہالے کے کان میں سرگوشی کی
مام۔۔۔۔۔ہالے نے گھبرا کر فائزہ بیگم کو آواز دینے کی کوشش کی
روحان نے جلدی سے اس کی کمر میں چیونٹی کاٹی تو وہ
سیی کر کے رہ گئی ۔۔۔۔۔
سب کے چہرے پر دبی دبی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
رک جاؤ روحان عالم ۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی وہ آگے بڑھتا کہ اس آواز پر چونکا ۔۔۔
اور مڑ کر دیکھا ۔۔۔۔
سب کی نظریں بھی دروازے پر ٹکی تھی کچھ چہروں پر حیرانی تو کچھ میں پریشانی واضح تھی ۔۔۔۔
……………………………………………………………………………..
بی جان کے کہنے پر وہ کمرے میں آگئی تھی عاشر پہلے سے ہی کمرے میں موجود کسی سے فون پر محو گفتگو تھا
اسے آتے دیکھ کر فون بند کر دیا اور سیدھا ہو کر لیٹ گیا ۔۔
عزہ سےاس کی حرکت پر ابھی تک نظر اٹھانا مشکل ہو گیا تھا۔۔۔۔وہ جلدی سے اپنے لئے ایک سادہ سا سوٹ لے کر واش روم میں گھس گئی ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ جب باہر آئی تب بھی عاشر ایسے ہی لیٹا ہوا تھا۔۔۔۔وہ جا کر دوسری سائیڈ پر لیٹ گئی۔۔۔۔
عاشر کی نظریں اسے گھبرانے پر مجبور کر رہی تھی
اس کے لیٹتے ہی اچانک وہ عزہ پر جھک آیا اور خمار آلود نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
عزہ کے پسینے چھوٹ گئے وہ لاکھ اس کے ساتھ نارمل رہنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس کی وحشیانہ قربت برداشت کرنا اس کے نازک وجود کے بس کی بات نا تھی
ڈر سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔۔
عاشر جھکا ان آنکھوں پر نرمی سے لب رکھے ۔۔۔۔عزہ نے ایک سسکی لی۔۔۔۔اسے عجیب سی گھٹن ہونے لگی تھی عاشر سے
وہ ابھی مزید کوئی حد پار کرتا کہ باہر سے دادا جان کی گرجدار آواز پر گھبرا کے اٹھ گیا اور باہر بھاگا
عزہ بھی اس کے پیچھے بھاگی۔۔۔
صبح سات بجے کے قریب وہ کراچی پہنچا تھا
وہ اپنے محل نما گھر میں داخل ہوا تو عائزہ بیگم سامنے ہی بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔
وہ جا کر ان کے گلے ملا پھر صوفے پر ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا…
عاشر اٹھو بیٹا جا کر چینج کرلو پھر ناشتہ کر کے سو جانا
عائزہ بیگم نے اسے پیار سے اٹھاتے ہوئے کہا
نہیں موم سکون مل رہا ہے یہاں وہ آنکھیں موندے لیٹا رہا
اور عائزہ بیگم اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی رہیں ۔۔۔۔
فراز خان( عاشر کے والد)کے آنے پر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا
تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعدوہ کمرے میں چلا گیا
……………………………………………………………………….
سب کی نظر دروازے پر کھڑے وجود پر تھی۔۔۔۔۔۔
زریان نے پریشان نظروں سے روحان کو دیکھا جو خود بھی پریشانی سے دروازے پر کھڑی زائش کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ااس کا آنا اسے سمجھ نہیں آیا تھا آخر وہ وہاں کیوں آئی تھی۔۔۔۔۔
زائش نے اس کی گود میں موجود ہالے کو زہر ہند نظروں سے دیکھا
کون ہو بیٹا آپ ۔۔۔۔سب سے پہلے فائزہ بیگم آگے بڑھی انہیں روحان کا چہرہ دیکھ کچھ انہونی کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔
میں آپ کے بیٹے روحان کی بیوی ہوں یہ رہا نکاح نامے ۔۔۔۔
اس نے روتے ہوئے نکاح نامی ان کے ہاتھ میں دیا ۔۔۔۔۔جو پتھر بن گئی تھی ۔۔۔۔۔
اس کے الفاظ وہاں سب کے سروں پر پہاڑ کی طرح گرے تھے۔۔۔۔سب نے بے یقینی سے روحان کو دیکھا
اس کا چہرہ اس وقت زلزلے کی زد میں تھا ۔۔۔۔۔۔
اس نے ہالے کو نیچے اتارا اور جارحانہ تیور لئے آگے بڑھا۔۔۔۔۔۔۔
کیوں آئی ہو تم یہاں تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے گھر میں قدم رکھنے کی اس نے زائش کو بازو سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔۔۔۔
میں تمہاری بیوی ہوں تم کیسے کسی اور سے شادی کر سکتے ہو۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے چیخ پڑی ۔۔۔۔۔اس کی حالت دیکھ کر کسی کو بھی ترس آ جاتا ۔۔۔۔۔
نہیں ہو تم میری بیوی میری بیوی صرف ہالے ہے نکلو یہاں سے ابھی اور اسی وقت ۔۔۔۔وہ اسے بازو سے دبوچ کر نکالنے لگا۔۔۔۔
سب حیرانگی سے یہ سب تماشہ دیکھ رہے تھے دادا جان نے فائزہ بیگم کے ہاتھ سے وہ پیپر لیا اور جیسے جیسے پڑھتے گئے انہیں اپنا وجود بہت بھاری سا محسوس ہونے لگا۔۔۔۔
دیکھو تم مجھے ایسے نہیں نکال سکتے میں تمہاری بیوی ہوں تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے میں تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہوں ۔۔۔۔۔۔وہ چیخے جا رہی تھی
رک جاؤ روحان دادا جان کی گرجدار آواز پوری حویلی میں گونجی۔۔۔۔
اس نے بے یقینی سے دادا جان کو دیکھا۔۔
وہ قدم قدم چلتے اس کے پاس آئے اور پیپر اس کے سامنے لہرایا ۔۔۔۔۔یہ کیا ہے ان کا لہجہ بہت سرد تھا
روحان کو سب کچھ اپنے ہاتھ سے نکلتا محسوس ہوا ۔۔۔۔
دادا جان م میں آپ کو سب سمجھاتا ہوں۔۔۔۔
یہ سچ ہے یا جھوٹ اب کے ان کی دھاڑ پر سب نے دل تھام لیا
دادا جان آپ ریلیکس ہ۔۔۔۔۔۔زریان نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔
انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کروا دیا ۔۔۔
سچ یا جھوٹ وہ اب بھی روحان سے مخاطب تھا۔۔۔۔
سچ ہے لیکن میں اسے۔۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا فائزہ بیگم کا ہاتھ اس کے گال میں پڑا تھا
اور اس نے بے یقینی سے ان کو دیکھا ۔۔۔۔۔
آنا اور عزہ نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخ کا گلا گھونٹا تھا۔۔۔
کیا یہ بھی سچ ہے کہ یہ تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہے
۔۔۔۔۔۔فائزہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو کے ساتھ کچھ بہت دکھ بھی تھا۔۔۔
نہیں ماما یہ جھوٹ ہے ۔۔۔۔
یہ سچ ہے یہ رہی میری رپورٹ آپ چاہیں تو ابھی میرا چیک اپ کروا سکتے ہیں اس سے پوچھیں کیا اس رات وہ میرے ساتھ نہیں تھا کیا اس نے مجھ سے بیوی ہونے کا حق نہیں لیا تھا…..اس کی اس قدر بے باکی پر روحان
اس سے پہلے جا کر اسے تھپڑ لگاتا
دھڑام سے کچھ گرنے پر سب نے پیچھے مڑ کر دیکھا وہ جو سب اس کو بھلائے بیٹھے تھے ایک دم اس کی طرف بڑھے
بی جان کا سینے پر ہاتھ پڑا تھا ۔۔۔۔۔
عزہ اور آنا تو اسے اٹھاتے ہوئے رونے لگی۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ روحان بے تابی سے اس کی طرف بڑھتا دادا جان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
خبردار ایک قدم بھی آگے بڑھایا ورنہ ہم بھول جائیں گے کہ تم ہمارے پوتے ہو۔۔۔۔۔سرد لہجے میں کہتے وہ آگے بڑھ گئے
زریان نے ہالے کو اٹھایا اور باہر بھاگا سب اس کے پیچھے بھاگے بی جان وہی بیٹھ گئی آنسو ان کی آنکھوں سے رواں تھے۔۔۔
روحان بھی اپنی گاڑی میں بیٹھتا ان کے پیچھے بھاگا
کاش کوئی اس سے پوچھتا خود کو مرتے دیکھنا کیسا ہوتا ہے۔۔۔۔
وہ سب ہاسپٹل میں موجود تھے فائزہ بیگم تو باقائدہ سجدے میں پڑی رو رہی تھی
روحان کو کسی نے بھی پاس نہیں آنے دیا تھا ۔۔۔۔۔وہ وہاں سے کچھ قدم کے فاصلے پر بے چینی سے چکر کاٹ رہا تھا
آنکھیں ظبط سے لال تھی جیسے کسی بھی وقت چھلک پڑیں گی ۔۔۔۔
ڈاکٹر روم سے باہر نکلا تو سب بے چینی سے ان کی طرف بڑھے۔۔۔۔روحان بھی ان کے ساتھ تھا
ک کیا ہوا ڈاکٹر صاحبہ میری بچی ٹھیک تو ہے نا۔۔۔
دادا جان نے تفکر سے پوچھا ۔۔۔
جی ابھی تو وہ بہتر ہیں لیکن انہیں کوئی گہرا صدمہ پہنچا ہے جس وجہ سے بے ہوش ہوگئی تھی اس ایج میں بچیوں کے لیے یہ سب ٹھیک نہیں ہے
وہ دلہن کے لباس میں ہے کیا آپ لوگوں نے زبردستی ان کی شادی کروائی ہے۔۔۔۔اگر ایساہے تو بہت غلط کیا ہے ۔۔۔
اب کوشش کریں کہ ان کو مزید کوئی تکلیف نا ہو بچیاں اس ایج میں برداشت نہیں کر پاتی کوئی بھی صدمہ۔۔۔۔اس لیے خیال رکھیے گا ان کی مرضی کے خلاف اب کچھ بھی نا ہو۔۔۔آپ لوگ ان سے مل سکتے ہیں ڈرپ ختم ہونے کے بعد آپ انہیں گھر لے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔
ڈاکٹر کو جو اس کی حالت دیکھ کر سمجھ میں آیا بول دیا
اور آگے بڑھ گئی۔۔۔
روحان نے سب سے اندر جانا۔ چاہا تو دادا جان نے روک لیا ۔۔۔۔وہ نا چاہتے ہوئے بھی رک گیا۔۔۔۔۔ اور بے بسی سے زریان کی طرف دیکھا ۔۔۔
زریان کی آنکھوں میں اس کے لیے صرف غصہ اور افسوس تھا۔۔۔۔ایک غلطی کی وجہ سے اس سے سب کچھ چھن گیا تھا۔۔۔۔ہالے کا ٹھیک ہونے کا سن کر وہ وہاں سے نکل آیا ۔۔۔
فائزہ بیگم آنا آور عزہ سب سے پہلے اندر گئیں اور اس کے ارد گرد بیٹھ گئیں ۔۔۔۔
ہالے فائزہ بیگم کی آواز میں بے انتہا تڑپ تھی۔۔۔عزہ اور آنا کے آنسو نکل آئے ۔۔۔۔۔
بچے اپنی ماما کو معاف کر دو ہالے جو آنکھیں بند کئے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔
انکی آواز میں تڑپ گئی جھٹ سے آنکھیں کھولیں اور انکے ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے ۔۔۔۔۔ماما نہیں کریں پلیز مجھے گھر جانا ہے مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے مجھے گھر جانا ہے بس
وہ بچوں کی طرح رونے لگی۔۔
……………………………………………………………………………………..
جب وہ گھر آیا تو زائش لاؤنج کے ایک صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی اور بی جان بھی ابھی تک اسی حالت میں بیٹھی تھی۔۔۔
چٹاخ
چٹاخ
وہ زائش کی طرف بڑھا اور کھینچ کر تھپڑ اس کے دونوں گالوں پر جھڑ دئیے۔۔۔
بی جان بھی گھبرا گئی ۔۔۔۔زائش ابھی بھی ڈھٹائی سے اسی کو دیکھ رہی تھی
تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔۔۔۔روحان بالوں سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا اور اپنی سرخ آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑھ دیئے ۔۔۔۔۔
ایک پل کو زائش بھی گھبرا گئی ۔۔۔
میں تمہاری بیوی ہوں ۔۔۔۔۔۔
تم میری بیوی نہیں ہو میں تمہیں طلاق دے چکا ہوں اگر پھر بھی تمہیں لگتا ہے تم میری بیوی ہو تو میں روحان عالم تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق ۔۔۔۔
اس کی دھاڑ حویلی میں داخل ہوتے سب نے سنی تھی۔۔۔
ہالے نے زور سے سہارے کے لیے زریان کا بازو دبوچا جو اسے سہارا دے کر اندر لا رہا تھا۔۔۔
میرے پیٹ میں تمہارا بچہ ہے روحان عالم تم مجھے بھلے طلاق دے دو لیکن اپنی اس اولاد کا کیا کروگے۔۔۔۔۔۔
زائش نے ایک نظر ہالے پر ڈالی پھر روحان کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے پوچھا ۔۔۔
نا جانے کیوں روحان کو اس کی آنکھوں میں تمسخر صاف نظر آیا۔۔۔۔
بھیا ان سے کہیں ی یہاں سے چلے جائیں ور ورنہ م میں خود کو ختٹ ختم کردونگی۔۔۔
ہالے نے روحان کی طرف انگلی کرتے اٹکتے ہوئے زریان سے التجاء کی ۔۔۔۔۔
حویلی کا ہر فرد پریشان تھا ۔۔۔۔
ہالے میری بچی ایسا مت بولو ۔۔۔۔بی جان نے اٹھتے اس کے پاس آتے کہا۔۔۔
بی بی جان اگر یہ یہاں رہیں گے تو میں خود کو ختم کردوں گی ۔۔۔اس نے سرد مہری سے کہا
سب نے اپنی چھوٹی سی ہالے کو دیکھا یہ ان کی ہالے تو نہیں تھی ۔۔۔۔
روحان اس کی عقل ٹھکانے لگانے جارحانہ انداز میں اس کے پاس پہنچا اس سے پہلے کہ اس کو ہاتھ لگاتا
زریان نے روحان کو دور کیا۔۔۔۔۔۔
تم ابھی جاؤ روحان یہاں سے بعد میں بات کریں گے ۔۔۔۔زریان نے فلحال معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔
نہیں بھیا میں نہیں جاؤں گا ہالے کے بغیر سانس نہیں لے پا
رہا ہوں میں کیوں نہیں سمجھ رہے آپ لوگ مجھ سے غلطی ہوئی ہے میں مان رہا ہوں نا
لیکن یہ کیسے اپنی جان دینے کی بات کرسکتی ہے یار
اسے بولیں مجھے خود سے دور نا کریں
جو سزا دینی ہے دے دے لیکن خود سے دور نا کریں اس نے بے۔۔۔۔۔۔
اس کے لہجے میں تکلیف تڑپ دکھ ڈر کیا کچھ نا تھا۔۔۔۔
لیکن اس دشمن جان نے ایک نظر اسے دیکھا پھر زریان کو
بھیاااا ان سے کہیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔
ہالے کی چیخ پر اسنے بے یقینی سے ہالے کو دیکھا
سب کی نظریں ہالے پر تھی
جس نے آج تک کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی وہ آج سب کے سامنے چیخ رہی تھی۔۔۔۔
روحان یہاں سے نکل جاؤ اب تب تک تم شکل مت دکھانا جب تک ہالے نہیں چاہے گی۔۔۔۔۔ورنہ تم میرا مرا منہ دیکھو گے۔۔۔۔
ماما نے روحان کو بنا دیکھے اپنی بات مکمل کی اور ہالے کو لئے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
