Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

ناول: دل سکون.

رائٹر: زرناب چاند

قسط_سینتیس


لیکن بیٹا عزہ نہیں مانے گی پہلے ہی زندگی میں بہت دکھ جھیلے ہیں میری بچی نے اسے مزید امتحان میں مت ڈالو
فائزہ بیگم رنجیدگی سے بولیں ۔۔۔۔

لیکن بہو جوان بچی ہے اسے ایسے تو نہیں گھر بٹھا سکتے خوشیوں پر اس کا بھی حق ہے اور دلشیر دیکھا بھالا بچہ ہے مجھے تو وہ اپنی عزہ کے لیے بہتر لگتا ہے۔۔۔ آگے اب بچی کی اپنی مرضی ہے پہلے ہی بہت تکلیفیں جھیلی ہیں اب کی بار کوئی زبردستی نہیں کریں گے ۔۔۔

بابا جان اور دادا جان بلکل خاموش بیٹھے تھے جیسے کہنے کے لیے کچھ بچا ہی نا ہو عزہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کے بعد بی جان نے اپنی بیٹی سے بھی ہر رشتہ توڑ دیا تھا۔۔۔۔

ماما آپ فکر مت کریں میں عزہ سے بات کرتا ہوں مجھے یقین ہے وہ خوش رہیں گی دلشیر کے ساتھ۔۔۔۔زریان ان سے کہتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔

جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو رواحہ بےبی کاٹ میں ہاتھ پاؤں ہلانے میں مصروف تھی اور واش روم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی مطلب آنا واش روم میں تھی اس نے رواحہ کو اٹھایا اور بیڈ پر بیٹھ گیا

رواحہ اسے دیکھ کر مسکرانے لگی منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکالنے لگی جیسے اسے پہچان لیا ہو
زریان کو بے ساختہ اپنی شہزادی ہر پیار آیا اور اس کے دونوں گالوں کو چوم لئے ۔۔۔۔

زریان بیڈ پر لیٹا اور رواحہ کو اپنے سینے پر لٹا لیا ۔۔۔۔اور آہستہ آہستہ اس کی پیٹھ تھپکی دینے لگا کچھ ہی دیر بعد ہی وہ سو گئی تھی۔۔۔

تھوڑی دیر بعد آنا ٹاول سے اپنے بالوں کو رگڑتی باہر آئی کپڑے گیلے ہو کر ا سکے جسم سے چپکے ہوئے تھے۔۔۔۔زریان پر اس کی نظر پڑی اس نے جلدی سے اپنا دوپٹہ ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن وہ اسے
زریان کے نیچے نظر آیا اس نے جلدی سے اپنا رخ موڑ لیا ۔۔۔۔

زریان قدم قدم چلتا اس کے پاس آیا اور پیچھے سے اسےاپنی بانہوں میں بھر لیا
اس کی گرم سانسیں اپنی گردن میں محسوس کر آنا نے جھجھری لی اور خود کو اس سے چھڑانے کی کوشش کی۔ زریان چھوڑیں نا۔۔۔

زریان نےاس کی کوشش ناکام بنا کے اسے موڑ کر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا۔۔۔۔اور قطرہ قطرہ اپنی سانسیں اس کے سینے میں انڈھیلنے لگا ۔۔۔۔

آنا نے اس کے سینے میں ہاتھ رکھے دور کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے ہاتھ مزید گستاخیاں کرنے لگی۔۔۔

وہ ایسے مدہوش ہو رہا تھا جیسے نا جانے کب سے پیاسا ہو
اس کو سانسیں نا لیتے دیکھ زریان نے ایک منٹ کے لیے اسے چھوڑا
سانسیں نارمل ہوتے ہی وہ دوبارہ اس پر جھک گیا اور اسے ایسے ہی اٹھا کر بیڈ پر آگیا۔۔۔۔
اسے بیڈ پر لٹا کر رواحہ کو بیڈ سے اٹھایا اور بےبی کاٹ میں لٹا کر ڈور اچھے سے لاک کیا اور لائٹ آف کر دی

اسے اپنی طرف آتے دیکھ آنا سمجھ گئی آج اس کی خیر نہیں اس نے جلدی سے اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی
لیکن زریان نے اسے کمر سے پکڑ کر بیڈ پر پھینکا اور شرٹ اتار کے پھینک دی اور اس پر جھک گیا
زریان نہیں رواحہ اٹھ جائے گی پلیز ن نہیں نا۔۔۔۔انا نے اسکی بے باکی پر اسے روکنے کی کوشش کی ۔۔۔
لیکن زریان کے گھورنے پر جلدی سے چپ ہو گئی اور زور سے آنکھیں میچ لی۔۔۔

پھر زریان نے اسے آس پاس کا کچھ بھی یاد رکھنے نہیں دیا
اور خود میں گم کرتا چلا گیا۔۔۔۔

………………………………………………………………………..

آپو ان دونوں میں سے کون زیادہ کیوٹ ہے مجھے سمجھ نہیں آتا رواحہ اور بہرام کے ساتھ کھیلتے ہالے نے کہا ۔۔۔۔ہالے نے رواحہ کے گال پر بوسہ دیا تو وہ منہ بسور گئی اور کیوٹ کیوٹ فیس بنانے لگی ۔۔۔۔
ہالے نے پھر بہرام کے گال پر ایک زور دار بوسہ دیا تو وہ اس کی کھلکھلاہٹ پورے کمرے میں گونجی ۔۔۔۔

عزہ نے ایک اداس نظر اپنے بیٹے پر ڈالی اور پھر رواحہ پر ۔۔۔۔پھر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔۔۔
اتنے الزامات اور تشدد کے بعد بھی اس نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ اسے طلاق ہو ۔۔۔۔۔کیونکہ وہ اپنے بچے کو ماں اور باپ دونوں کا پیار دینا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔کہاں اس سے کمی رہ گئی تھی اس نے اپنا سب کچھ اس شخص کے حوالے کردیا۔۔۔اس نے جو کہا جیسا کہا سب کیا لیکن بعد میں یہ رسوائی اسی کے مقدر میں کیوں تھی۔۔۔۔کہاں عاشر کو اس کے کردار میں جھول نظر آیا اس بات کا جواب اسے بارہا سوچ کر بھی نہیں ملتا تھا۔۔۔۔۔
ایک باغی آنسو اس کی آنکھ سے نکل کر گال پر بہہ گیا۔۔۔

کسی کے اپنے ساتھ بیٹھنے پر وہ چونکی اور سامنے زریان کو دیکھا بہرام اب اس کی گود میں تھا اس نے کمرے میں نظر دوڑائی تو ہالے اور رواحہ کہیں نہیں تھی شاید زریان نے انہیں بھیج دیا تھا۔۔۔

میری گڑیا کیسی ہے؟اس نے محبت سے پوچھا
میں ٹھیک ہوں بھیا۔۔۔عزہ نے اپنا گال صاف کیا۔۔۔اور مسکرانے کی کوشش کی ۔۔۔۔
اس کی مسکراہٹ بھی کھوکھلی تھی زریان نے عزہ کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔۔
میں آج اپنی گڑیا سے کچھ مانگنے آیا ہوں امید ہے مجھے خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گی۔۔۔اس کے لہجے میں اپنی بہن کے لیے ایک مان تھا۔۔۔۔

جی جی بولیں بھیا۔۔۔۔
کیا مجھے آپ کی زندگی کا ہر فیصلہ لینے کی اجازت ہے
زریان کی بات پر اس کا دل اندر سے بے ساختہ دھڑکا وہ کس بارے میں بات کر رہا تھا۔۔۔۔

لیکن وہ اپنے بھائی کو کبھی بھی کسی بات کے لیے منع نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔

آپ مجھ پر پورا حق رکھتے ہیں بھائی۔۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے اس کی زبان لڑکھڑائی تھی….نا جانے کیا مانگ لے اس کا بھائی۔۔

میں نے دلشیر کو آپ کے لیے پسند کیا ہے اور میں چاہتا ہوں اسی جمعہ آپ کا نکاح اس کے ساتھ ہو جائے وہ آپ کو بہت خوش رکھے گا۔۔۔۔۔

زریان کے الفاظ تھے یا کوئی پگھلا ہوا سیسہ جو اسے اندر تک زخمی کر گیا اس نے بے یقینی سے اپنے بھائی کو دیکھا

ل لیک لیکن بھیا م میں کیسے ۔۔۔۔۔۔۔

مجھے امید ہے میری گڑیا مجھے انکار نہیں کرے گی۔۔۔۔

وہ جو کچھ کہنا چاہتی تھی زریان کی بات پر خاموش ہو گئی اور درد بھری آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔
زریان نے اس سے اپنی نظریں پھیر لیں اور بہرام کو اٹھاتا کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔

چلو میں بہرام کو نیچے لے کر چلتا ہوں آپ بھی فریش ہو کر آجاؤ
وہ عزہ کو بولتا کمرے سے نکل گیا ۔۔۔۔۔

پیچھے وہ کچھ سوچنے کے قابل ہی نہیں رہی ۔۔۔۔

………………………………………………………………………..

دوپہر کو جب آنا عزہ کو اٹھانے آئی تو وہ بخار میں تپ رہی تھی وہ جلدی بھاگتی ہوئی سب کو بلا کر لائی ۔۔۔

دادا جان اور بابا جان کسی پنچائیت میں گئے ہوئے تھے
فائزہ بیگم کی شکوہ کناں نظروں سے اس نے نظریں چرائی اور ڈاکٹر کو کال ملائی۔۔۔۔۔

بی جان تو اس پر دعائیں پڑھ پڑھ کر پھونک رہی تھی

ہالے نے رواحہ کو اٹھایا ہوا تھا بہرام شاید بی جان کے کمرے میں سو رہا تھا

آنا اس کے سر میں ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھنے لگی۔۔۔

تھوڑی دیر پہلے ہی ڈاکٹر اسے چیک کر کے گئی تھی ۔۔۔
اب فائزہ بیگم زریان پر غصہ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔میں نے تمہیں کہا تھا اس پر زور مت ڈالو وہ ابھی تک اس ٹراما سے نکلی نہیں ہے وہ اتنی جلدی یہ سب قبول نہیں کر پائے گی۔۔۔

لیکن ماما شروعات تو کرنی پڑے گی نا پچھلے چھ مہینوں میں میں نے ایک بار بھی ان کو ہنستے نہیں دیکھا آپ کیا چاہتی ہیں ہم ان کو اس غم میں پوری زندگی گزارنے دیں
میری بہن ہیں وہ میں ان کے لئے غلط نہیں سوچوں گا۔۔۔

اس نے فائزہ بیگم کو سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔
لیکن اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ دلشیر اس کو بہرام سمیت قبول کر لیں۔۔۔انہوں نے ایک اور مدہ رکھا

اس بات کی فکر آپ مت کریں اور اس رشتے کی خواہش دلشیر کی اپنی ہے ہم میں سے کسی نے اسے فورس نہیں کیا مجھے یقین ہے وہ بہرام کو آگے باپ سے بڑھ کر پیار دے گا
میں اسے اچھے سے جانتا ہوں ماما پلیز میرا ساتھ دیجئے مجھے یقین ہے وہ عزہ کو سب بھولنے پر مجبور کردے گا وہ جیسا باہر سے خوبصورت ہے اندر سے بھی اتنا ہی خوبصورت ہے۔۔۔۔اس نے فائزہ بیگم کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر انہیں پیار سے سمجھایا
اور وہ تو ماں تھی اپنی اولاد کو گھٹ گھٹ کر جیتے کیسے دیکھ سکتی تھی اس لئے حامی بھر لی۔۔۔

………………………………………………………………………..

مسٹر خان سے زریان اور دادا جان کی ساری باتیں ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔تین دن بعد انہوں نے اپنی فیملی کے ساتھ گاؤں آنا تھا اور دس دن بعد عزہ کو رخصت کروا کر لے جانا تھا۔۔۔۔

گھر میں سب اس کی نئی زندگی کے لیے دعا گو تھے۔۔۔
تین دن بعد آج اس کا بخار اترا تھا وہ باہر آکر گارڈن میں بیٹھ گئی۔۔۔

زریان کی گاڑی پورچ میں آکر رکی تو نظر عزہ پر پڑی
اس نے عزہ کے ساتھ جگہ بنائی ۔۔۔۔

بخار اتر گیا میری جان کا زریان نے اس کا ماتھا چھو کر دیکھا۔۔۔
لیکن عزہ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔۔
ناراض ہیں مجھ سے۔۔۔۔زریان نے اسے دیکھ کر پوچھا چہرے پر اداسی اور کم مائیگی کے سوا کوئی احساس اس وقت زریان کو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملا۔۔۔۔۔۔
وہ بنا کچھ کہے اٹھ کر وہاں سے چلی گئی زریان اسے نظروں سے اوجھل ہونے تک دیکھتا رہا….
وہ اپنی بہن کی یہی اداسی تو دور کرنا چاہتا تھا اسے یقین تھا دلشیر سب سنبھال لے گااس لیے اسے منانے کا ارادہ کینسل کیا اور خود بھی اٹھ کر اندر چلا گیا۔۔۔۔

شام چار بجے کے قریب وہ لوگ گاؤں پہنچے تھے
جس شان کے ساتھ وہ لوگ آئے تھے بی جان کا دل خوشی سے بھر گیا تھا دلشیر ان کے ساتھ نہیں تھا ۔۔۔

مسٹر خان اور مسز خان ان کے ساتھ ہمنہ اور اس کا بیٹا شاہ زر تھا۔۔۔۔۔
بلیک لینڈ کروزر میں بہت ساری مٹھائیاں پھل تحفے تحائف کے ساتھ وہ لوگ آئے تھے ۔۔۔۔ان کے چہرے پر خوشی دیکھ بی جان اور فائزہ بیگم کو جو ڈر تھا کہ ان کی بیٹی کو شاید وہ لوگ دل سے قبول نا کر پائے ان کا وہ ڈر وہی ختم ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

سب نے بہت خوشی سے ان کا استقبال کیا تھا ۔۔۔۔۔۔

عزہ اپنے کمرے میں ان سب سے بے خبر نیند کی گولی کھا کر سو گئی تھی ۔۔۔۔۔
عائزہ بیگم نے آتے ہی ہالے کی گود سے بہرام کو لے لیا تھا اور اسے پیار کرنے لگی۔۔۔۔۔۔ان کی گود میں جا کر بہرام کی کھلکھلاہٹ ہی عروج پر تھی۔۔۔۔
جس پر سب مسکرا دئیے ۔۔۔۔۔
آنا جاؤ عزہ کو بلا کر لاؤ۔۔۔۔۔بی جان نے اسے اشارہ کیا تو وہ جی بی جان کہتی اوپر بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔

کمرے میں اندھیرا کئے وہ سو رہی تھی آنا نے لائٹ جلا کر پردے ہٹا دیے اور اسے جگانے لگی۔۔۔۔
عزو اٹھو جلدی سے تیار ہو جاؤ۔۔۔۔بی جان بلا رہی ہیں تمہیں ۔۔۔۔
عزہ نے مندی مندی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔آنسوں کے مٹے مٹے نشان دیکھ اس کا دل کٹ گیا ۔۔۔۔
میری جان اٹھو نیچے سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔۔عزہ کے دوبارہ کہنے پر وہ اٹھی عزہ نے ایک بلیو کاٹن کا سوٹ نکال کر اسے دیا
وہ خاموشی سے واش روم چلی گئی تھوڑی دیر بعد وہ باہر آئی اور دوپٹہ اچھے سے پھیلایا اور بنا کچھ کہے باہر نکل گئی۔۔۔۔

آنا نے بھی اسے کسی چیز کے لیے فورس نہیں کیا اور خود بھی اس کے ساتھ باہر آگئی ۔۔۔۔

لاؤنج میں بیٹھے لوگوں کو دیکھ اس کے قدم تھم گئے اسے نہیں پتہ تھا کہ کوئی آیا ہے ۔۔۔۔
ہمنہ اٹھی اور اسے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔۔نیلی آنکھوں والی وہ اداس شہزادی بنا میک اپ کے بھی بے حد حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔
ہمنہ اسے لئے سب کے پاس آئی اور عائزہ بیگم کے برابر بٹھا دیا عائزہ بیگم نے بہرام کو مسٹر خان کے حوالے کیا اور اٹھ کر اس کا ماتھا چوما یہ لڑکی ان کے بیٹے کا عشق تھی ۔۔۔۔۔

پورے دیڑھ سال بعدان کا بیٹا پھر سے مسکرایا تھا جو خوشی اب بات کرتے اس کے چہرے پر نظر آتی تھی وہ اسی لڑکی کے بدولت تھی ۔۔۔۔

عائزہ بیگم کا پیار اور اخلاق دیکھ سب کو زریان کا فیصلہ صحیح لگا۔۔۔
عزہ اب بھی بلکل خاموش تھی ۔۔۔۔۔۔عائزہ بیگم نے بیگ میں سے ڈائمنڈ کی ایک رنگ نکالی اور اجازت طلب نظروں سے بی جان اور دادا جان کو دیکھا ۔۔۔۔۔

انہوں نے مسکرا کر سر ہلا دیا ۔۔۔۔عزہ نے اب نظریں اٹھا کر سب کو دیکھا کہ شاید وہ یہ سب روک دے اس میں ہمت نہیں تھی نا گنجائش تھی کسی بھی رشتے کی وہ پوری زندگی بس اپنے بیٹے کے ساتھ گزارنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔

لیکن سب نے اس کی طرف دیکھنے سے گریز کیا۔۔۔۔۔
عائزہ بیگم نے خوشی سے وہ رنگ اسکے دودھیا ہاتھ کی تیسری انگلی پر ڈال دی سب نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی لیکن وہ ایسے ہی پتھر ہوئی بیٹھی رہی ۔۔۔۔۔

بی جان کے کہنے پر ہالے اور آنا اسے اپنے کمرے میں لے گئی۔۔۔۔۔پھر ان کے جانے کے بعد بھی وہ کمرے سے نہیں نکلی
۔۔۔۔۔۔۔۔

سب اس کے ساتھ ہوئے حادثے سے واقف تھے اور سب سے بڑی گواہ تو ہمنہ تھی اس لیے کسی نے بھی اس بات کا برا نہیں مانا۔۔۔۔۔
کھانے کے بعد وہ ایک ہفتے کے بعد بارات لانے کا کہہ کر واپس شہر کے لیے نکل گئے ۔۔۔۔۔۔زریان خود ان کے ساتھ گیا تھا ۔۔۔۔۔کیونکہ صبح اس کی ایک بہت اہم میٹنگ بھی تھی۔۔۔۔

………………………………………………………………………..
پچھلی پانچ دن سے وہ سو نہیں پائی تھی گھر میں اس کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھی لیکن وہ اپنے کمرے میں بیٹھی سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی کہ کیا کریں دو دن بعد اس کی شادی تھی۔۔۔۔۔
وہ یہ شادی ہر گز نہیں کرنا چاہتی وہ دلشیر کی زندگی برباد نہیں کرنا چاہتی تھی وہ سوائے دکھ اور تکلیف کے اسے کچھ نہیں دے سکتی تھی۔۔۔

وہ اس پر ترس کھا کر اس کو اپنا کر اس کے بھائیوں پر احسان کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ اپنی فیملی کو منع نہیں کر سکتی تھی وہ بہت بزدل تھی ۔۔۔۔۔

اچانک اس کے دماغ میں کچھ کلک ہوا وہ اٹھی اور بی جان کے کمرے میں آگئی شکر تھا کہ وہ کمرے میں نہیں تھی۔۔۔۔

اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو اسے اپنی مطلوبہ چیز مل گئی وہ اسے لے کر اپنے کمرے میں آگئی اور دروازہ اچھے سے لاک کر لیا۔۔۔۔۔

کانپتے ہاتھوں سے اس نے نام سرچ کیا تو سامنے ہی اس کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔۔۔۔

اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ کلک کر کے فون اپنے کان سے لگا لیا۔۔۔۔۔
دوسری ہی بیل پر کال اٹھا لی گئی عزہ
اسلام علیکم بی جان ۔۔۔۔فون پر اس کی بھاری آواز گونجی۔۔۔
عزہ نے جلدی کال کاٹ دی۔۔۔۔اس کا دل گھبراہٹ کے مارے بری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔۔
اچانک فون بجنے لگا تو موبائل اس کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا ۔۔۔۔۔۔لیکن اس نے ہمت کر کے کال اٹھا لی۔۔۔۔

اسلام علیکم ۔۔۔۔۔اس بار اس نے بی جان کہنے سے گریز کیا نا جانے کیوں اس کا دل کہہ رہا تھا فون کے اس پار وہی دشمن جان ہوگی۔۔۔۔

و وعلیکم السلام ۔۔۔۔کانپتے لہجے سے اس نے جواب دیا۔۔۔

وہ جو میٹنگ میں تھا اس دل سکون کی آواز سن کر بنا کچھ کہے سنے میٹنگ روم سے باہر نکل آیا اور اپنے آفس میں آکر سکون سے آنکھیں موندے بیٹھ گیا۔۔۔۔

دوسری طرف خاموشی محسوس کر عزہ نے فون کان سے ہٹا کر دیکھا تو کال چل رہی تھی اس نے دوبارہ فون کان پر لگایا ۔۔۔۔۔
ہ ہیلو۔۔۔۔ہممم بولیں میں سن رہا ہوں
عزہ کی آواز پر اس نے سکون سے جواب دیا ۔۔۔۔
م مجھے ش شادی نہیں کرنی آپ آپ۔ بھیا کو منع کر دیں۔۔۔
ایک ہی سانس میں اس نے اپنی بات رکھی۔۔۔دلشیر کو اس سے کچھ ایسی ہی بات کی امید تھی ۔۔۔۔۔

لیکن میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ اتنے ہی سکون سے دلشیر کا جواب آیا
عزہ کو اس کی ڈھٹائی پر غصہ آیا پہلی بار غصے سے اس کا چہرہ لالا ہو گیا ۔۔۔۔۔
لیکن میں نہیں چاہتی آپ سے شادی کرنا مجھ پر ترس کھانے کی ضرورت نہیں ہے میں آپ کو سوائے دکھ کے کچھ نہیں دے سکتی میرا ایک بیٹا بھی ہے ۔۔۔۔۔
آپ کی منگیتر مجھ سے بھی بہت حسین اور اچھی ہیں جو آپ کے ساتھ سوٹ کرتی ہیں
اس لئے شرافت سے آپ خود انکار کر دیں۔۔۔۔۔پلیز پلیز آپ منع کر دیں ۔۔۔۔۔

شاید ہی پہلی بار عزہ نے کسی سے اس لہجے میں بات کی تھی۔۔۔۔
دھمکی کے ساتھ ساتھ آخر میں اس کے لہجے میں التجاء تھی۔۔۔۔
چہرہ اس کا لال ہو رہا تھا اسے امید تھی دلشیر اب خود منع کر دے گا۔۔۔۔۔

آپ کی ہر بات کا جواب میں آپ کودو دن بعد اپنے کمرے اس وقت دوں گا جب آپ میری محرم بن کر میرے کمرے میں آئیں گی۔۔۔۔

تب تک کے لئے خود کو ان ساری سوچوں سے آزاد رکھیں اور پر سکون رہیں ۔۔۔۔۔۔دلشیر کی بھاری گھمبیر آواز پر اس کے ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا ۔۔۔۔
نا جانے اسے کیوں لگا کہ دلشیر مسکرایا ہو۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔