Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20 ( Part 2)

ناول ۔۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط۔۔۔۔۔بیس (پارٹ ٹو)

روحان اور دلشیر سامنے آتے نظر آئے روحان نے گرے کاٹن کے شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی جبکہ دلشیر وائٹ کاٹن کے سوٹ میں تھا دونوں ہی ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہے تھے
وہاں موجود ہر بندہ انہیں اشتیاق سے دیکھ رہا تھا اونچے لمبے قد ایک ہلکی ہلکی سی بئیرڈ ایک کے گال پہ ڈمپل اسے خوبصورت بنا رہا تھا تو دوسرے کی پر کشش آنکھیں اور انگریزوں کی طرح رنگ اسے سب سے نمایا کر رہا تھا

روحان کو اسٹیج کی طرف آتے دیکھتے ہی ہالے گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوئی تھی اس میں ہمت نہیں تھی اس کا سامنا کرنے کی اس لئے پردے کے پیچھے چپ گئی تھی

اسٹیج کے پاس پہنچتے ہی دلشیر کی آنکھوں میں حیرانی اتری کیونکہ اسے لگا تھا صرف زریان کی شادی ہے لیکن دوسرا جوڑا کون تھا دونوں دلہنیں گھونگھٹ میں تھی لیکن اگر وہ غور سے دیکھتا تو ضرور پہچان جاتا لیکن اس نے دلہنوں کی طرف دیکھنے کی زحمت نہیں کی

اور اگنور کرتا زریان کی طرف بڑھا اور اس سے بغلگیر ہوا اور اسے مبارک باد دی ابھی وہ دوسرے دلہے کی طرف دیکھتا
کہ اسے وہی آواز اپنے بہت پاس سے سنائی دی جس نے کئی دنوں سے اس کی راتوں کی نیند اڑا دی تھی
جو ہر پل اس کے دل و دماغ پر حاوی رہنے لگی تھی

بھیا۔۔۔۔وہ روحان کے سینے سے لگی رو رہی تھی
دلشیر نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی تھم گیا گولڈن شرارے میں سجی سنوری بھاری زیورات سے لدی وہ اسی کی عزہ تو تھی جسے اس نے ان دنوں خود سے بھی زیادہ یاد کیا تھا لیکن وہ دلہن کیوں بن کے بیٹھی تھی

جب نظر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے عاشر پر پڑی تو اسے لگا وہ سانس نہیں لے پائے گا تو کیا وہ اسے پانے سے پہلے ہی کھوچکا تھا جسم سے روح نکلنا کیا ہوتا ہے کاش کوئی
اس سے پوچھتا
اس کے جسم نے ہلنے سے انکار کر دیا تھا آنکھیں ظبط سے لال ہو رہی تھی

وہ تو یہاں اسے صرف ایک نظر دیکھنے کی خاطر زریان کی شا دی اٹینڈ کرنے آیا تھا

لیکن اسے کیا پتہ تھا یہاں اس کے جنازے کی تیاری مکمل تھی

دلشیر ایوری تھنگ اس اوکے۔۔۔۔زریان نے اسے ایک جگہ رکے دیکھ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
اس نے مڑ کر خالی خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھا
زریان تو پریشان ہو گیا
کیا ہوا ہے تم ٹھیک ہو اس نے پھر پوچھا
تو جیسے وہ ہوش میں آیا
اس نےآس پاس سب حویلی والوں کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہے تھے

اس نے پھر دوبارہ روحان کے سینے سے لگی عزہ کی طرف دیکھا

میں تمہیں اتنا دیکھنا چاہتا ہوں !!
کہ تمہارے چہرے کے تمام نقش میری آنکھوں میں حفظ ہو جائیں
کیونکہ میں جانتا ہوں پھر مجھے تمہیں دیکھے بغیر ایک عمر گزارنی ہے۔۔۔۔
اس نے گہری سانسلی

عاشر اسے ہی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا

لیکن اس ظالم نے ایک عام نظر بھی اس پر نہیں ڈالی۔۔۔

وہ مر کر بھی اس کی عزت پر آنچ نہیں آنے دے سکتا تھا اس نے تو کبھی خواب میں بھی اس کا برا نہیں چاہا تھا

اس کا وہاں کھڑے رہنا مشکل ہو گیا
اگر مزید رکتا تو ظبط کھو دیتا
بنا کسی کی طرف دیکھے وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرتا نکلتا چلا گیا
دلشیر کو کیاہوا ہے زریان نے روحان سے استفسار کیا جو خود بھی پریشان تھا
اس نے لا علمی کا اظہار کیا اور بھاگتا ہوا وہ بھی نکل گیا تاکہ دیکھ سکے کیونکہ دلشیر پہلی بار گاؤں آیا تھا

اس کے نکلتے ہی ہالے بھی اسٹیج پہ آگئی تھی
ایک نظر پیچھے سے اس کے گرے سوٹ اور اپنے گرے شرارے کو دیکھ کر خود ہی شرما گئی
تھوڑی دیر بعد ہی رخصتی کی رسم ہوئی تو بی جان نے بہت ساری نصیحتیں اور دعائیں دی تھی عزہ اور آنا کو

عاشر عزہ کو آج اپنے ساتھ فارم ہاؤس لے کر جانا چاہتا تھا تو وہ عزہ کو لے کر فارم ہاؤس روانہ ہو گیا تھا

رخصتی کے وقت وہ بہت روئی تھی سب کی آنکھیں نم ہوگئی تھی
آنا کو بھی فائزہ بیگم زریان کے روم میں چھوڑ کر آئی تھی
ایک نظر اس نے کمرے کی چاروں طرف دوڑائی کمرہ بہت کشادہ تھا پورا بیڈ پھولوں سے ڈھکا ہوا تھا کمرے کا رومانوی ماحول اسے گھبراہٹ کا شکار کر رہا تھا

اس کا دل چاہا یہاں سے بھاگ جائے اور رائمہ بیگم کے بازوؤں میں چپ جائے

بی جان نے خود رائمہ بیگم کو شادی میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن انہوں نے بہت خوبصورتی سے معزرت کر لی تھی یہ کہہ کر کہ ڈاکٹر نے سفر سے منع کیا ہے
جس پر بی جان مزید کچھ نہیں کہہ سکی
لیکن وہ بہت اچھے سے جانتی تھی کہ انہوں نے کیوں منع کیا تھا

روحان ابھی دلشیر کو ڈھونڈ کے کسی کام سے حویلی آیا تھا وہ اسے کہیں نہیں ملا اس نے اپنے بندے بھیجے تھے
اور کچھ سامان لے کر خود بھی واپس جانے والا تھا
کہہ سامنے فائزہ بیگم نظر آئی تو ان کے کے پاس جانے لگا

ارے فائزہ ماشاء اللّٰہ تمہاری دوسری بیٹی ہالے بھی بہت خوب صورت ہے مجھے بھی ایک ایسی ہی بہو کی تلاش تھی آج فہد نے اسے دیکھا تو فہد کو بھی وہ پسند آئی

تم زرا عالم صاحب سے مشورہ کر کے مجھے بتاؤ تا کہ میں باقاعدہ رشتہ لے کر آسکوں میرے بیٹے کو تو تم جانتی ہو کتنا۔۔۔۔

آنٹی بہت شکریہ آپ کا لیکن ہالے میری بیوی ہے آپ اپنے لیے بہو کہیں اور ڈھونڈ ے اور اپنے بیٹے کو سمجھا دیجئے گا کہہ دوبارہ میری بیوی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھے ورنہ اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔

اس نے بہت سرد لہجے میں اپنی مٹھیاں بھینچ کر انہیں کہا تھا کہ وہ منہ بنا کر وہاں سے چلی گئی تو وہ بھی اپنی ماں کو کندھوں سے تھام کر آگے بڑھ گیا ۔۔

…………………………………………………………………..

گاڑی میں مکمل خاموشی تھی اتنی ٹھنڈ میں بھی اسے پسینہ آرہا تھا
عاشر خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا
وہ ایک نظر اس کی طرف اٹھا کر دیکھتی لیکن پھر گھبرا کر نظریں جھکا لیتی
اللّٰہ اللّٰہ کر کے وہ فارم ہاؤس پہنچے تھے
چوکیدار نے ان کی گاڑی کو دیکھ کر دروازہ کھول دیا تھا
عاشر نے گاڑی روکی اور اسے ہاتھ سے تھام کر گاڑی سے نکالا اور ایک کمرے میں آکر بیڈ پر بٹھا دیا اور خود باہر نکل گیا
اکیلے اسے گھبراہٹ ہو رہی تھی ہر لڑکی کی طرح اس کے خواب بھی شادی کو لے کر سیم تھے لیکن وہ جلدی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی وہ آگے پڑھنا چاہتی تھی
لیکن جس طرح کے حالات پیدا ہو گئے تھے یہ شادی ضروری تھی اس نے دل سے اس رشتے کو قبول کیا تھا

بیٹھے بیٹھے پتہ نہیں کتنا وقت ہوا تھا کہ اس کی آنکھ لگ گئی تھی
اچانک اپنے سینے میں جلن کے احساس سے اس کی چیخ نکلی اور جھٹ سے آنکھیں کھول کے دیکھا تو وہ اس پر جھکا مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ایک ہاتھ سے وہ اس کے بال سنوار رہا تھا اور دوسرے سے وہ سگریٹ پکڑے پی رہا تھا ایک نظر اپنے سینے کی طرف دیکھا
تو گولڈن شرٹ پر سوراخ بہت واضح نظر اور دھواں اس کے چہرے پر چھوڑا
آنسوں اس کے آنکھوں سے نکل کر گالوں پر بہہ گئے
وہ بری طرح کھانسنے لگی
وہ ابھی ٹھیک سے سنبھلی بھی نہیں تھی کہہ عاشر نے اسے بہت سختی سے اس کے ہونٹوں کو لوک کیا تھا کہ وہ
جھٹپٹا بھی نہیں پائی
اپنے منہ پر کسی گندی بدبو کو محسوس کر اسے ابکائ آئی تھی اور سختی سے اسے دور جھٹکا تھا کہ عاشر ہنس کر دور ہٹا
عزہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے منہ پر ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہی تھی یہ کس بات کی سزا تھی آخر

وہ دوبارہ اس کے پاس آیا اور آرام آرام سے اسکی ایک ایک جیولری اتارنے لگا
اب کی بار بہت نرمی تھی وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی
وہ اس کے بالوں میں اپنا چہرہ چھپانے لگا۔۔۔۔۔
عزہ بہت گھبرائی ہوئی تھی اس نے آنکھیں بند کرلی وہ شروع سے ہی بہت ڈرپوک تھی بہت جلدی ڈر جانے والی
اچانک اسے اپنی زپ کھلتی ہوئی محسوس ہوئی تو اس نے بیڈ شیٹ کو مٹھی میں بھینچ لیا ۔۔۔

اپنی پیٹھ پر وہی جلن اسے محسوس ہوئی جو کچھ دیر پہلے اسے اپنے سینے پر ہوئی تھی وہ چیختے ہوئے خود کو چھڑانے لگی
لیکن اس نے عزہ کو سختی سے جھکڑا ہوا تھا
اور جگہ جگہ پیٹھ پر سگریٹ سے جلانے لگا

پلیز خدا کے لیے چھوڑ دیں پلیز وہ روتے ہوئے چیخی

آہاں۔۔۔ کیوں چھوڑوں ابھی تو تمہارے اس وجود سے خود کو سکون دینا ہے ۔۔۔۔ وہ اس کے گردن پر جگہ جگہ دانتوں سے نشان چھوڑنے لگا۔۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔