Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
ناول: دل سکون
رائٹر: زرناب چاند
قسط : چھبیس
وہ گھر آیا تو بلکل خاموشی تھی وہ سیدھا اپنے کمرے میں داخل ہوا اور بنا لائٹ جلائے بستر پہ ڈھے گیا
کانوں میں بس ہالے کی آواز گونج رہی تھی اس کی میٹھی آواز میں سرگوشی اسے بہت سکون دے رہی تھی وہ نیند کی وادیوں میں اترتا چلاگیا
اسے اپنے سینے پر کسی کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوا
لیکن وہ مدہوش پڑا رہا کوئی اس کی شرٹ کے بٹن کھولے
اس کے سینے میں پیار کر رہا تھا
روحان نے نیند میں ہی اسے کھینچ کر اپنے پاس کیا اور اس کی گردن میں سر چھپا کے سو گیا
زائش ایک ہاتھ اس کے بالوں میں اور دوسرا ہاتھ اس کی پیٹھ پر پھیرنے لگی
اپنے پاؤں سے روحان کی ٹانگوں کو سہلانے لگی۔۔۔۔
روحان کے دل و دماغ پر نیند میں بھی بس ہالے سوار تھی
زائش نے اس کا سر تھوڑا پیچھے کیا
اور اس کے ہونٹوں پر جھک گئی
ایک دم بھک سے روحان کی نیند اڑی یہ خوشبو ہالے کی نہیں تھی اس نے زائش کو خود سے دور جھٹکا اور جلدی سے لائٹ آن کی
پورہ کمرا روشنی سے نہا گیا
اس نے سرخ آنکھوں سے زائش کی طرف دیکھا
بلیک سلک کی سلیو لیس نائٹی جسے ڈوری کی مدد سے کندھوں سے تھام رکھا تھا
جو بمشکل گھٹنوں تک تھی
اس بے ہودہ نائٹی میں اسکا جسم چھپنے کے بجائے اس کے نشیب و فراز واضح ہو رہے تھے اس نے نفرت سے سر جھٹکا
یہاں کیا کر رہی ہو تم اس حلیے میں۔۔۔۔اس نے دانت بھینچ کر اپنے غصے کو کنٹرول کیا تھا
روحان بیوی ہوں تمہاری تو یہی رہوں گی نا تمہارے پاس
اور رہی حلیہ کی بات تو آج ہماری ویڈنگ نائٹ ہے اسے ہم کسی بھی ٹینشن میں ضائع نہیں کرسکتے
زائش اس کے پاس آکر اسے کندھوں سے تھام کر بے باکی سے بولی۔۔۔
وہ اس سے دو قدم دور ہوا اور جا کر صوفے پر بیٹھ گیا
دیکھو زائش فلحال میں بہت ٹینشن میں ہوں مجھے ابھی کچھ سمجھ نہیں آرہا اس لئے کسی چیز میں جلد بازی مت کرو مجھے لگتا ہے ہمیں ایک دوسرے کو اسپیس دینا چاہیے فلحال۔۔۔۔۔اس نے بہت تحمل سے زائد کو کہا
زائش نے سرخ آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا
اور جاکر اس کی گود میں بیٹھ گئی روحان کا چہرہ غصہ سے لال ہوگیا اس کا بس نہیں چلا کہ وہ زائش کو اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دے لیکن وہ خود پر ظبط کئے بیٹھا رہا۔۔۔۔
میں تمہاری بیوی ہوں میرا حق ہے روحان تم پہ تم مجھے یو اگنور نہیں کر سکتے ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں
تو آخر یہ گریز کیوں ۔۔۔وہ اس کے سینے سے لگی پوچھنے لگی ۔۔۔
روحان اٹھا اور اس بیڈ پر دھکا دیا
فار گاڈ سیک زائش نہیں کرتا میں تم سے پیار سمجھ آئی بات نہیں کرتا
اب میرا دماغ گھمانے کی ضرورت نہیں ہے جب تک میں سب ٹھیک نہیں کر دیتا تم اسی کمرے میں رہنا میں دوسرے کمرے میں رہ لونگا
مجھے سب ٹھیک کرنے دو اس سے پہلے مجھے کسی قسم کی ٹینشن مت دو ورنہ سب برباد ہو جائے گا۔۔۔وہ غصے میں دھاڑتا کمرے سے نکل گیا۔۔۔
پیچھے زائش نے غصے میں کمرے کی ہر چیز پھینک دی۔۔۔اتنی بے عزتی اہانت کے احساس سے اس کا چہرہ لال ہو گیا
میں اپنی بے عزتی کا بدلہ تم سے لے کر رہونگی روحان عالم یاد رکھنا تم ۔۔۔۔
…………………………………………………………………………..
وہ جب کمرے میں داخل ہوا تو وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی
وہ اسکے پاس جا کر بیٹھ گیا
شکریہ جاناں مجھے اتنا پیارا تحفہ دینے کے لیے زریان نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا
اس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں زریان کو خود پر جھکے پایا
میں بہت خوش ہوں جاناں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا
زریان نے جھک کر اس کی دونوں آنکھوں پر پیار کیا وہ حیرانگی سے زریان کو دیکھنے لگی۔۔۔
آپ اتنے خوش کیوں ہیں زریان ۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں بے خبری صاف نظر آرہی تھی زریان مسکرایا
اس سے پہلے کے وہ بتاتا ہالے آندھی طوفان کی طرح اس کے کمرے میں داخل ہوئی زریان کو دیکھ کر اس کے قدموں کو بریک لگی
زریان بوکھلا کر دور ہوا
ہالے شرمندگی سے واپس جانے لگی۔۔سوری بھیا بھابھی مجھے لگا آپ کمرے میں نہیں ہیں ۔۔۔
ہالے اندر آجاؤ بچے زریان اسے کہتا جا کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔
آنا بے وجہ ہی شرمندہ ہو گئی
ہالے جلدی سے آکر آنا کے گلے لگی بہت بہت مبارک ہو بھابھی ۔۔ہالے نے مبارک باد دی آنا اب بھی اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی یہ سب اس کا حال پوچھنے کے بجائے مبارک باد کیوں دے رہے تھے
جبکہ زریان اسے دلچسپی سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
میں پھوپھو بننے والی ہوں میں بہت خوش ہوں لیکن اگر بےبی ہوئی تو اس کا نام میں رکھونگی اور اگر بابا ہوا تو عزہ آپو رکھے گی میں پہلے بتا رہی ہوں آپ لوگ نام سوچ کر مت رکھنا
آنا تو بےبی کے نام پر ہی تھم گئی اچانک اٹھ کر بیٹھ گئی کیا وہ پریگننٹ تھی اس نے زریان کی طرف دیکھا جو اسے ہی مسکرا کر دیکھ رہا تھا
اس کی دھڑکنوں نے دھڑکنے سے انکار کردیا یہ خیال ہی جان لیوا تھا کہ وہ ماں بننے والی ہے اس کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو نکل آئے
م میں سچ سچ میں مام ماما بنوگی اس نے جھلملاتی آنکھوں سے باری باری دونوں کی طرف دیکھ کر تصدیق چاہی
زریان نے سر کو خم دیا دل تو کر رہا تھا اسے سینے میں بھینچ لیں پر ہائے یہ ہالے کی اینٹری بیت غلط ٹائم ہر ہوئی تھی
ہالے نے اسے سینے سے لگا لیا جی بھابھی آپ سچ میں ماما بنے گی اور میں پھوپھو کتنا مزا آئے گا نا
خوشی اس کے چہرے سے واضح تھی
تھوڑی دیر بعد ایک ایک کر کے نیہا کے علاو سب کمرے میں آگئے سب نے اسے دعائیں دی سارا بیگم کے علاوہ
بی جان نے ڈھیر ساری ہدایت دی
ماما اس کے لیے سوپ بنا کر لائی اور اسے پلانے لگی
زریان بھی فریش ہونے واش روم چلا گیا۔۔۔
ویسے اماں آپ کے پوتے کی بہو نے خوشخبری دینے میں بہت جلدی نہیں کردی ڈاکٹر سے پوچھ لیجئے گا کون سا مہینہ چل رہا ہے
آنا ان کی بات کا مطلب سمجھ کر اندر تک جل گئی ابھی وہ جواب دیتی کہ
سارا اپنی زبان کو لگام دو کیا کیا بول رہی ہو بی جان نے بیٹی کو جھاڑ پلائی فائزہ بیگم بھی افسوس سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔۔۔ہالے خاموشی سے دیکھنے لگی کیونکہ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
ارے اماں کیا غلط کہہ رہی ہوں خاندان کی اتنی لڑکیاں آپ کو نظر نہیں آئی
آپ کا پوتا خاندان سے باہر کی لے آیا جس کا نا خاندان کا پتہ نا باپ کا تو۔۔۔
بس پھپھو۔۔۔۔ میں اپنی بیوی کے بارے میں ایک لفظ نہیں سنوں گا میں میرا خاندان ہی میری بیوی کا خاندان ہے لیکن آپ کو اتنا ہی شوق ہے اس کے باپ کے بارے میں جاننے کا تو میں آپ سب کو بتا دوں سکندر مرزا کی بیٹی ہے جلال مرزا کی پوتی ۔۔۔۔اتنا کافی ہے یا کچھ اور سننا باقی ہے۔۔۔
وہ فریش ہو کر نکلا تھا کہ ان کی آخری بات سن کر وہ آپے سے باہر ہو گیا اور ان کے سامنے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حقیقت کا آئینہ دکھایا
بی جان کا چہرہ ایسا تھا جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں
ہالے بے یقینی سے آنا کو دیکھنے لگی آنا نظریں جھکائے آنسو بہانے لگی
سکندر بھائی کی بیٹی ہالے ہے یہ سکندر بھائی کی بیٹی نہیں ہو سکتی سارا بیگم نے اس کی بات کی نفی کی۔۔۔
اچھااااا کیا آپ بھول گئی ہیں کہ آپ کے نام نہاد بھائی نے صالحہ چچی سی پہلے بھی ایک شادی کی تھی کراچی میں اگر بھول گئ ہیں تو میں یاد دلا دوں رائمہ نام تھا ان کا بیٹی ہونے کے جرم میں آپ کے بدقسمت بھائی نے ان کو طلاق دے دی تھی اور بیٹی سمیت انہیں گھر سے نکال دیا تھا ۔۔۔۔یہ ہے وہ بیٹی آنا اب یہ میری بیوی ہے آنا زریان مرزا۔۔۔
اس نے چبا چبا کر ایک ایک لفظ ان کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا سارا بیگم کے پاس الفاظ ہی نہیں بچے کہ کچھ کہہ سکے وہ خاموشی سے کمرے سے نکل گئی دروازے میں کھڑے دادا جان اور بابا نے زریان کی ایک ایک بات سنی تھی
وہ ابھی آنا کے بارے میں سن کر اسے مبارک باد دینے آئے تھے لیکن یہ کیا حقیقت تھی۔۔۔جس سے وہ واقف نا تھے
بی جان آنا کو سینے سے لگائے رونے لگی ہائے میرا بدقسمت بیٹھا اپنی پھول سی بچیوں کے سر پر ہاتھ نا رکھ سکا
ارے بیٹیاں تو رحمت ہوتی ہے وہ کیوں اس بات کو سمجھ نا سکا وہ کیسے ان بچیوں کی ہائے برداشت کرے گا
بی جان روئے جا رہی تھی
دادا جان اس کے پاس آئے اور بیڈ پر بیٹھ کر اسے سینے سے لگا لیا وہ بلکل خاموش سے بس آنسو بہا رہی تھی
چپ میرا بچہ مت رو مجھے پتہ ہوتا میری ایک اور پوتی بھی ہے تو میں کبھی تمہیں یتیمی کی زندگی نہیں گزارنے دیتا ارے اس نے تو تمہاری ماں سے شادی کر کے ہمیں مڑ کر بھی نا دیکھا نا ہمیں بتایا مجھے تو باہر سے پتہ چلا میں انتظار کرتا رہا کہ وہ آکر اپنی شادی کا بتائے گا اور ہمیں منانے کی کوشش کرے گا لیکن اس نے نہیں بتایا نا منایا
اگر مجھے تمہارا پتہ ہوتا تو میں ہالے کی طرح ہمیشہ تمہیں بھی سینے سے لگا کر رکھتا ارے سکندر تو نا سمجھ ہے اللّٰہ نے اسے جنت کمانے کا اتنا اچھا موقع دیا تھا لیکن اس نے گنوا دیا لیکن یہ تمہارا دادا کبھی تم دونوں کو کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دے
دادا جان نے اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر کہا
بابا نے بھی اسے پیار دیا۔۔۔
اس کے دل میں جو نفرت مرزا خاندان کے لیے نفرت تھی وہ تو اسی دن ختم ہوگئی تھی جب رائمہ بیگم نے اسے کہا کہ ان کے ساتھ جو بھی ہوا اس میں سکندر کے علاؤہ کسی کا کوئی قصور نہیں ۔۔۔۔لیکن پھر بھی ایک خلش تھی کہ انہوں نے رائمہ بیگم کو قبول کیوں نہیں کیا
آج وہ خلش بھی ختم ہو گئی ۔۔۔
ہالے آنکھوں میں آنسوں بھرے یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی بس نا کچھ کہا نا پوچھا
آنا نے جب اسے دیکھا تو اپنے بازو واں کر دئیے وہ روتے ہوئے
آنا کے سینے سے لگ گئی وہ دونوں وہ بیٹیاں تھی جسے ان کے باپ نے دیکھنا بھی گوارا نا کیا
لیکن ہالے کو کبھی باپ کی کمی محسوس ہی نہیں ہوئی
مرزا ہاؤس کے ہر فرد نے اسے اتنا پیار دیا تھا
اس کی آنکھوں میں آنسو تو آنا کے لیے تھے جو باپ کے زندہ ہوتے بھی یتیموں جیسی زندگی گزار رہی تھی
چلو بچو چپ ہو جاؤ اب رونا دھونا بند کرو ہالے چلو
فریش ہو جاؤ خوشی کے موقع پر آنسو نہیں بہاتے
آنا تم بھی فریش ہو کر زریان کے ساتھ نیچے آجانا میں اچھا سا ناشتہ بنواتی ہوں
ماما سب کو اشارہ کر کے ہالے اور بی جان کو لئے کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔
آنا اٹھی اور زریان کے گلے لگ گئی تھینک یو تھینک یو زریان مجھے اتنا پیار اور عزت دینے کے لیے
زریان نے مسکرا کر اسے خود میں بھینچ لیا ۔۔۔۔۔۔
……………………………………………………………….
اگلے دن جب وہ اٹھا تو اسے کمرہ دیکھ کر سب یاد آگیا
وہ رات دلشیر کے کمرے میں ہی سو گیا تھا
وہ باہر نکلا تو وہ کچن میں شاید چائے بنا رہی تھی سادے سے شلوار قمیض پہنے وہ بلکل کل والی زائش سے الگ رہی تھی
بنا میک اپ کے وہ بہت اداس لگی
روحان کو اپنی حرکت پر شرمندگی ہوئی اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ جلد ہی کوئی صحیح وقت دیکھ کے زائش سے بات کرے گا
وہ اس رشتے کو نہیں نبھا سکتا تھا وہ اس کے لیے ایک بہتریں حل تلاش کر کے اسے اس رشتے سے آزاد ہو جائے گا
زائش کی نظر اس پر پڑی تو اس نے روحان کو سلام کیا جس کا اس نے سر ہلا کر جواب دیا اور اپنے کمرے میں گھس گیا تھوڑی دیر بعد اپنے کچھ کپڑے اور ضروری سامان لے کر اپنے کمرے سے نکلا اور دلشیر کے کمرے میں گھس گیا
زائش اس کی ایک ایک کاروائی غور سے دیکھ رہی تھی
تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ کمرے سے نکل سک تیار نکلا
بلیو فارمل پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ اور بلیو ہی کوٹ ہاتھ
میں لئے وہ بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا
زائش کے لیے اس پر سے نظریں ہٹانا مشکل تھا لیکن اس نے خود پر قابو پایا
روحان ناشتہ لاؤ تمہارے لیے اس نے مشرقی بیویوں کی طرح پوچھا
روحان نے ایک نظر اسے دیکھا وہ سمجھ رہا تھا زائش اس کے لیے خود کو بدل رہی تھی
نہیں مجھے بھوک نہیں میں چلتا ہوں وہ اپنا لیپ ٹاپ اور گاڑی کی چابی اٹھائے گھر سے نکل گیا
زائش نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھینچ لی۔۔۔۔آج رات تمہیں ایک ایک چیز کا حساب دینا ہوگا اس نے دل میں عہد کیا
اور اپنی ماں کو کال ملائی ۔۔۔۔۔
رات جب روحان آفس سے آیا تو زائش ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی
وہ اسے نظر انداز کر کے جانے لگا ۔۔۔۔وہ جلدی سے کھڑی ہوئی اور اس کے سامنے آئی۔۔۔۔
آئی ایم سوری روحان کل کے لیے اس نے جھکی نظروں سے روحان سے معافی مانگی ۔۔۔۔۔اس کے لہجے میں ندامت تھی
روحان کو اپنا آپ مجرم سا لگنے لگا ۔۔۔۔۔۔سوری مت کرو تم یار بس بھول جاؤ کل کی رات کو ہم دوست بھی تو ہے نا
میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ مجھے سمجھو ۔۔۔۔
روحان نے اس کی شرمندگی دور کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
تم ٹھیک کہہ رہے ہو میں کوشش کروں گی میری طرف سے تمہیں کوئی تکلیف نا ہو۔۔۔زائش نے مسکرا کر کہا
روحان نے محض سر ہلایا
تم فریش ہو جاؤ ساتھ کھانا کھاتے ہیں زائش نے اسے جاتے ہوئے کہا۔۔۔
روحان سر ہلا کر کا گیا۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ دونوں کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے تھے
یہ بریانی تم نے بنائی ہے ڈش سے بریانی نکالتے وقت اس نے سر سری سا پوچھا
ہاں میں نے تمہارے لئے سیکھی تھی تمہیں بہت پسند ہے نا کھا کر بتاؤ۔۔
تھینکس یار اس نے بریانی کھاتے ہوئے کہا تم بھی لو نا زائش
نہیں روحان مجھے چاول نہیں پسند تم کھاؤ میں یہ پاستہ کھا لوں گی۔۔۔۔۔اس نے منع کیا
ابھی وہ بریانی ختم کر کے اٹھنے ہی لگا تھا کہ اسے چکر آگئے وہ وہی چئیر پر بیٹھ گیا
روحان تم ٹھیک ہو شاید جلدی سے اس کے پاس آئی اور پوچھنے لگی۔۔۔۔۔۔
روحان نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے کی کوشش کی اسے ہالے خود پر جھکی ہوئی نظر آئی۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
