Dil Sakoon By Zarnab Chand Readelle50038 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
ناول ۔۔۔۔۔دل سکون
رائٹر ۔۔۔۔زرناب چاند
قسط انیس
شام چار بجے تک زریان اسے لینے آچکا تھا
آنا نےاس سے کوئی بات نہیں کی لیکن رائمہ بیگم نے اسے زبردستی کھانے پر روک لیا کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا تھا زریان نے کھانے کی بہت تعریف کی
جاؤ آنا چادر لے کر آؤ رائمہ بیگم نے اسے گھور کر کہا جو کب سے اپنے شوہر کو اگنور کر رہی تھی اور رائمہ بیگم ہر چیز نوٹ کر رہی تھی
وہ پیر پھٹکتی اندر چادر لینے چلی گئی تھی
تھینک یو چاچی بہت بڑا مسئلہ حل کردیا ہے آپ نے میرا
ورنہ اس کو منانا میرے بس میں نا تھا ۔۔
اس نے رائمہ بیگم کا شکریہ ادا کیا تو انہوں ں نے بھی مسکرا کر اس کےسر پر ہاتھ رکھا
اسی وقت فز ا( رشیدہ کی بیٹی) بھی بیگ پہنے ٹیوشن سے گھر آئی تھی اور فوراً جا کر زریان کو سلام کیا
زریان نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا اور اس سے پڑھائی کے بارے میں پوچھنے لگا وہ بھی خوشی خوشی اپنے اسکول ٹیچرز اور دوستوں کے بارے میں اسے سب بتانے لگی
تھوڑی دیر بعد ہی آنا سر پر اچھے سے چادر لئے باہر آگئی تھی منہ اس کا ابھی تک پھولا ہو ا تھا
پھر وہ رائمہ بیگم سے ملتا کچھ پیسے فزا کے ہاتھ میں پکڑا کر آنا کا ہاتھ پکڑے گھر سے نکل آیا ۔۔۔
…………………………………………………………………………….
سائیں خرم بلوچ کی گاڑی سے بہت زیادہ مقدار میں ڈرکس برآمد ہوئی ہے سنا ہے دو دن سے وہ جیل میں بند ہے
کیونکہ ابھی جو ایس ایچ او آیا ہے وہ بہت ایماندار ہے اس لیے اسے خرید نہیں سکا اور ساری کوشش بیکار ہو رہی ہے
ان کی
عالم صاحب کا منشی انہیں خرم کے بارے میں بتانے لگا
عالم صاحب کے دل میں ڈھیروں سکون اتر گیا
نیہا فائزہ بیگم کے ساتھ کچن میں زبردستی گھسی انکی ہیلپ کررہی تھی انہوں نے منع بھی کیا تھا کہ اپنا کر سبکے ساتھ بیٹھو لیکن اس کا کہنا تھا اپنے گھر میں کام کرنے میں شرم کیسی۔۔۔اور اسے اچھا لگتا ہے بڑوں کی ہیلپ کرنا
فائزہ بیگم کو نیہا بہت اچھی لگی تھی۔۔۔۔۔
زریان کی شادی کا ابھی تک سارہ بیگم اور ان کے بچوں کو خبر نہیں تھی ۔۔
تھوڑی دیر بعد باہر سے گاڑیوں کی آواز آنے لگی اس کا مطلب زریان حویلی آچکا تھا
لیکن بی جان ماما ہالے اور عزہ کے علاوہ کوئی بھی انہیں ریسیو کرنے نہیں گیا تھا باقی سب اپنے کمرے میں تھے
یکے بعد دیگرے تین گاڑیاں آکر رکی تھی پورچ میں
…………………………………………….
پورے راستے وہ سوتی آئی تھی کراچی سے نواب شاہ کا سفر خاموشی سے کٹا تھا جب حویلی میں گاڑی اینٹر ہوئی اس نے آنا کو دھیرے سے پکارا
ہم پہنچ گئے ہیں آنا آٹھ جاؤ اس نے دھیرے سے اسے ہلایا
تو ہڑ بڑا کر اٹھ گئی
اور آس پاس دیکھنے لگی
سوئی جاگی آنکھوں سے وہ اسے اتنی حسین لگی کہ
بے ساختہ جھک کر زریان نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا
وہ سانس تک روک گئی تھی
زریان نے اس کی چادر درست کی اور آنا کے سائیڈ سے آکر دروازہ کھولا اور اس کا ہاتھ تھام کر نکالا
سامنے ہی بی جان فائزہ بیگم ہالے اور عزہ کھڑی تھیں
عزہ نے ایک نظر ان سب کو دیکھا اور سختی سے زریان کا بازو پکڑ لیا عزہ کے علاوہ وہ کسی کو نہیں جانتی تھی
زریان نے انگھوٹے سے اس کے ہاتھ کی پشت سہلائی یہ ایک طریقہ تھا اپنے ساتھ کا احساس دلانے کا
اور دھیرے دھیرے قدم بڑھاتے وہ دونوں بی جان کے آگے رکے بی جان نے زریان کا ماتھا چوما اور اپنے سینے سے لگا لیا وہ بھی جھک کر ان کے سینے سے لگ گیا
اس کے بعد بی جان جان نے آنا کا ماتھا چوما اور اسے بھی اپنے سینے سے لگا لیا نا جانے کیوں یہ بچی انہیں بلکل اپنی لگی تھی ہالے سے ملتا نین نقش وہی خوبصورتی وہ انہیں اپنے آپ کا حصہ لگی
جب کے آنا اپنے احساسات سمجھنے سے قاصر تھی اسے ان کے گلے لگ کر سکون ملا تھا لیکن وہ ان سے نفرت کی دعوےدار بھی تھی وہ دھیرے سے ان سے الگ ہوئی
زریان سب سے ملا اور ماما تو اپنے بچوں کے ساتھ اتنی خوش تھی کہ وہ بتا نہیں پا رہی تھی اور ساتھ ساتھ انہیں روحان پر بھی غصہ تھا جو اچانک چلا گیا تھا
آنا بھی سب سے ملی اور ویسے بھی اسے رائمہ بیگم نے سمجھایا تھا
کہ وہ اس گھر کی بہو ہے تو یہ بات یاد رکھے اور زریان کی فیملی کو عزت دینا اس پر فرض ہے وہ مرزا خاندان کو اپنے باپ کا گھر سمجھ کر نا جائے بلکہ اپنا سسرال سمجھ کر جائے
وہ سب اندر بڑھ گئے تھے
یہ ایک نیو طرز کی بنی بہت بڑی حویلی تھی جو بہت خوبصورت تھی ۔۔۔۔اس کے دل میں ہوک سی اٹھی تھی
مرد حضرات اور سارا بیگم پہلے ہی کھانا کھا کر اپنے روم میں جا چکے تھے
گھر کی خواتین اور نیہا ہی جاگ رہی تھی کیونکہ اس نے بھی زریان کے آنے کا سنا تھا
اس لیے وہ تیار ہونے چلی گئی تھی تیار ہو کر وہ لیٹی تو کب نیند آگئی اسے پتہ نہیں چلا اور ان کے آنے کی خبر ہی نہیں ہوئی
آنا بہت نروس تھی وہ سب اسے بہت پیار سے ٹریٹ کر رہے تھے لیکن پہلی بار اتنے لوگوں کے ساتھ بیٹھتے اسے جھجھک ہو رہی تھی
فائزہ بیگم کھانا لگانے جا چکی تھی عزہ بھی ان کی ہیلپ کروا رہی تھی
ہالے اور زریان بی جان کے ساتھ باتوں میں مصروف تھے
وہ صوفے کے ایک کونے پر نظریں جھکائے بیٹھی تھی
بھیا۔۔۔۔ اس نے اپنے طور پر بہت آہستہ آواز میں زریان کو پکارا
وہ الگ بات تھی کہ سنی سب نے تھی اس کی آواز
ہاں۔۔۔ زریان کی اس کی طرف متوجہ ہوا
آپ کو اتنی پیاری بھابھی کہاں سے ملی اس نے بہت راز داری سے پوچھا
اس کی بات پر دادی مسکرا دی۔۔۔
آپ کی بھابھی جب سے پیدا ہوئی ہیں اسی دل میں تھی مجھے ڈھونڈنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی زریان نے آنا کو نظروں کے حصار میں رکھ کر جواب دیا
جبکہ سب کے سامنے ایسے اظہار پر آنا کے گال سرخ پڑ گئے
بی جان بہت خوش تھی جو بھی تھا ان کا پوتا خوش تھا بہت
فائزہ بیگم نے کھانے کے لیے آواز دی تو سب اٹھ کر ڈائننگ ٹیبل پر پہنچ گئے سب نے مل کر کھانا کھایا ہر کوئی کوئی نا کوئی چیز اٹھا کر بار بار اس کی پلیٹ میں دیتا رہا
وہ کچھ بھی سوچ نہیں پا رہی تھی
عزہ ۔۔۔بی جان نے عزہ کو پکارا
جی بی جان
بیٹا بھابھی کو اپنے کمرے میں لے جانا جب تک شادی کا فنکشن نہیں ہو جاتا وہ آپ کے کمرے میں رہیں گی
لیکن بی جا ۔۔۔زریان نے اعتراض کرنے کی کوشش کی لیکن بی جان کی ایک نظر سے ہی چپ ہو گیا
جب کہ آنا اندر سے پر سکون ہو گئی تھی
کل رات کے بعد اس کے ساتھ ایک ہی کمرے میں سوچتے ہوئے اس کے کانوں سے دھواں نکلنا شروع ہو جاتا تھا
جاؤ بیٹا عزہ کے ساتھ جاؤ بی جان نے آنا کو اشارہ کیا تو ہالے بھی جلدی سے ان کے پیچھے بھاگ گئی
زریان نے شکایتی نظروں سے بی جان کی طرف دیکھا لیکن وہ اگنور کرتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
ابھی ابھی تو اسکی بیوی راضی ہوئی تھی لیکن اسکی دادی ہی دشمن کا رول پلے کررہی تھی
………………………………………………………
صبح سب معمول کے مطابق اٹھ گئے تھے لیکن رات دیر سے سونے کی وجہ سے لڑکیوں کی نیند ابھی تک پوری نہیں ہوئی تھی اس لیے وہ تینوں ایک ہی بیڈ پر گھوڑے گدھے
سب بیچ جر سو رہی تھی
دادا جان بی جان اور عالم صاحب سب لاؤنج بیٹھے باتیں کر رہے تھے سارہ بیگم اور عاشر بھی ان کے ساتھ ہی بیٹھے تھے
زریان نک سک سا تیار کالے شلوار قمیض پہنے کندھوں پر کلی ہی شال لیے شاہانہ انداز میں سیڑھیاں اترتے لاؤنج میں سب کے پاس چلا آیا تھا
اور بلند آواز میں سب کو سلام کیا اور دادا جان کے پاس صوفے پر بیٹھ گیا
جب کے اس کے بیٹھتے ہی عالم صاحب وہاں سے اٹھ کر چلے گئے تھے ۔۔جو سب نے محسوس کیا تھا لیکن کسی نے کچھ کہا نہیں
زریان عاشر اور سارہ بیگم سے بہت خوش دلی سے ملا تھا
وہ تو اپنے بھتیجے کے صدقے واری جارہی تھی
ہاں تو برخوردار کیا سوچا ہے پھر آپ نے ۔۔۔دادا جان نے اسپاٹ انداز میں پوچھا
کس بارے میں دادا جان۔۔۔ وہ جیسے انجان بنا
شادی کے بارے میں انہوں نے شادی پر زور دیا۔۔۔۔
جیسا آپ چاہیں ۔۔۔اس نے فرمانبرداری کا ثبوت دیا
دادا جان تو اس کے ڈرامے پر اسے گھور کر رہ گئے لیکن مجبور تھے انہیں اپنی اولاد سے زیادہ اولاد کی اولادوں سے محبت تھی ۔۔۔
بابا جان اگر زریان کے لیے رشتہ ڈھونڈ ہی رہے تو میں ۔۔۔۔اس سے پہلے کے سارہ بیگم بات مکمل کرتی دادا جان بول اٹھے
آپکا بھتیجا اپنے لیے لڑکی خود پسند کر چکا ہے اور اس سے نکاح بھی کر چکا ہے !دادا جان نے چبا چبا کر کہا۔
ان کی بات پر سارہ بیگم کے ساتھ ساتھ تیار ہو کر سیڑھیاں اترتی نیہا کے قدم رک گئے غصہ اس کی آنکھوں میں نظر آنے لگا
جس سے شادی کے لیے وہ اتنے دن سے ڈرامے کر رہی تھی وہ کسی اور سے ہی نکاح کر چکا تھا اسے اپنی ماں پر بے انتہا غصہ آیا جس نے یہاں آنے میں اتنا وقت لگایا تھا کہ وہ دونوں ہی بھائی کسی اور سے نکاح کر چکےتھے
وہ الٹے قدموں اپنے کمرے کی طرف مڑ گئی جو عاشر نے بخوبی نوٹ کیا تھا اسے زریان پہ غصہ تو بہت آیا لیکن یہ غصہ دکھانے کا ٹائم نہیں تھا تو خاموشی سے بیٹھا رہا سارہ بیگم وہاں سے اٹھ کر چلی گئی ۔۔۔
اب جب تم نکاح کر ہی چکے ہو تو شادی تمہیں طریقے سے کرنی پڑے گی میں تمہاری شادی میں پورے گاؤں کو بلانا چاہتا ہوں اور میں چاہتا ہوں ہالے کی رخصتی بھی تمہاری شادی کے ساتھ کر دی جائے اس لئے روحان کو بولو اپنا کام وام سب چھوڑ کر شرافت سےواپس آ جائے ۔۔۔
اُنہوں نے اپنا فیصلہ سنایا۔۔۔جو زریان کو بھی پسند آیا
عاشر کا فون بجا تو وہ معزرت کرتا اٹھ کر چلاگیا
عاشر عزہ کے لیے تمہیں کیسا لگتا ہے…دادا جان نے زریان سے پوچھا تو اس نے حیران کن نظروں سے ان کی طرف دیکھا
کیا مطلب ہے دادا جان اس بات کا۔۔۔اس نے سنجیدگی سے سوال کیا..
مطلب عاشر کے لیے تمہاری پھپھو نے عزہ کا ہاتھ مانگا ہے ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں باقی تم دیکھ لو۔۔۔دادا جان نے
اس کی طرف دیکھا۔۔
وہ پوری طرح دادا جان کی طرف متوجہ ہوا
دیکھیں دادا جان میرے یا آپ کے دیکھنے سے کچھ نہیں ہوگا زندگی عزہ کی ہے اگر وہ راضی ہوتی ہے دل سے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں اور اسے کوئی بھی فورس نہیں کرے گا۔۔۔۔
میں خود بات کروں گا اس سے مجھے میری بہن کی خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں۔۔۔۔
اس نے سارا فیصلہ عزہ پر چھوڑ دیا تھا۔۔۔
دادا جان کو بھی اس کی بات ٹھیک لگی
………………………………………………………….
فائزہ بیگم نے ان تینوں کو گیارہ بجے کے ٹائم اٹھایا تھا پھر ایک ایک کر کے تینوں فریش ہو گئی تھی ماما نے آنا کا بیگ بھی وہاں بھجوا دیا تھا جو کل آتے ہوئے ساتھ لایا تھا
ہالے بھی اپنے روم سے تیار ہو کر آ چکی تھی وہ بہت جلد ہالے سے گل مل گئی تھی وہ تھی اسے وہ چھوٹی سی لڑکی بہت پسند آئی تھی
فائزہ بیگم نے ان کا ناشتہ روم میں بھجوا دیا تھا پھر نوک جھوک میں وہ ناشتہ انجوائے کرنے لگیں ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد آنا کو دادا جان کا بلاوا آیا
نا چاہتے ہوئے بھی وہ۔ فائزہ بیگم کے ساتھ ان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔۔
دستک دے کر وہ کمرے میں داخل ہوئی اور سلام کیا
تو سامنے سفید داڑھی اور سفید ہی شلوار قمیض پہنے لگ
بگ ستر سال کے قریب عمر کے ایک ضعیف مگر خوبصورت شخص بیٹھے ہوئے تھے ان کی آنکھیں زریان کی طرح تھی
یقیناً یہی اس کے دادا تھے وہ بچپن سے ہی ان رشتوں کے لیے ترسی تھی اور آج ان رشتوں سے سامنا ہوا بھی تو کسی اور کے توسط ۔۔۔بے ساختہ اس کی آنکھیں جھلملانے لگی۔۔۔
بی جان نے اسے اپنے پاس بٹھایا
جاری ہے ۔۔۔
